سفید انقلاب کے خلاف احتجاج میں آیہ اللہ بھبھانی کے گھر پناہ لینا

مترجم: زوار حسین

2020-07-12


سفید انقلاب نامی ریفرنڈم کے خلاف ہونے والے اجتماعات اور مظاہروں میں ایک وہ احتجاجی اجتماع بھی ہے جو آیت اللہ بھبھانی کے گھر منعقد ہوا اور میں خود بھی اس میں شریک تھا۔ آیہ اللہ سید محمد بھبھانی ان مراجع میں سے تھے جن کی رہائش تہران سٹی میں تھی۔ ان کا درخشاں کیرئر فیملی بیک گراونڈ جہاں ان کی قدر و منزلت کا پتہ دے رہا تھا وہاں پہلوی حکومت کے لیے ان کی حرکات و سکنات کے بارے خاص قسم کی حساسیت کا بھی سبب بن گیا تھا۔ جب امام خمینی کی طرف سے سفید انقلاب نامی ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو علماء اور مراجع نے بھی اس کا مقابلہ شروع کیا اور لوگوں کو اعلانات اور انقلابی بیانات کے ذریعے اس ریفرنڈم میں شرکت سے منع کرنے لگے اس ریفرنڈم کے خلاف انتہائی موثر اعتراضات میں سے ایک وہ اعلان بھی ہے جو آیت اللہ سید محمد بھبھانی اور آیت اللہ خوانساری کی طرف سے ریفرنڈم میں شرکت کے حرام ہونے پر مبنی تھا۔ جب پہلوی حکومت نے اس فتوی کو اہمیت نہ دی اور ریفرنڈم کرانے پر بضد نظر آئی تو تہران کی عوام نے فیصلہ کیا کہ 22 جنوری 1963ء کو عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا جائے جس میں دونوں مراجع شرکت فرمائیں۔ دونوں مراجع کا فیصلہ  تھا کہ ان جلسات کے ذریعے حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں ۔ 22جنوری کے دن کے آغاز سے ہی اس پروگرام کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور عظیم الشان احتجاج ریلی تہران میں نکالی گی۔ اس ریلی کی اہم خصوصیات  میں سے ایک ِانتہائی دقیق منصوبہ بندی تھی۔  مذہبی تنظیموں کی طرف سے امام خمینی کی پیروی میں بادشاہ کے خلاف تحریک چلائی جارہی تھی ان مظاہروں کے انتظامی امور   مذہبی انجمنوں کے ذمہ تھے۔ اس احتجاجی ریلی کے آغاز سے  انجام تک اور راستہ میں نعرے بازی تک کی دقیق منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس منصوبہ کے مطابق ہر کام کے لیے ایک انچارج انتخاب کیا گیا تھا۔تہران کا بازار بند ہوگیا اور پورے تہران سے لوگ بازار کی طرف چل پڑے تہران یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ 
منصوبہ بندی اس طرح سے تھی کہ عوام آیت اللہ خوانساری کے گھر جمع ہوں گے اور پھر ان کے ہمراہ آیت اللہ بھبھانی کی رہائش گاہ کی طرف جائیں گے اور پھر ان دو مراجع کے ہمراہ مسجد سید عزیز اللہ کے احتجاجی جلسہ میں شرکت کریں گے۔ ہرسال آیت اللہ بھبھانی کے گھر مجلس ہوتی تھی اور لوگوں کی بڑی تعداد ہمیشہ اس میں شرکت کرتی ۔اس سال مجلس کی نظامت کی ذمہ داری حجت الاسلام و المسلمین آقای فلسفی پر تھی اور اسی وجہ سے اس طرح پروگرام طے پایا تھا۔ اس پروگرام کے مطابق لوگ پہلے آیت اللہ خوانساری کی رہاش گاہ پر جمع ہوئے اور وہاں سے مظاہرین کے ہمراہ آیت اللہ بہبہانی کے گھر اور وہاں سے مسجد سید عزیز اللہ چلنے کا تقاضا کیا آیت اللہ خوانساری نے لوگوں کے تقاضے کا مثبت جواب دیا اور مظاہرین کے ہمراہ آیت اللہ بہبہانی کی منزل کی طرف یہ کارواں روانہ ہوا۔ آیت اللہ خوانساری جیسی مقدس ہستی جو نحیف جسم اور بڑھاپے کے باوجود شرکت کررہی تھی ان کی شرکت عوامی جذبات ابھار رہی تھی۔ آپ کے اردگرد کے لوگ آپ کو ہرقسم کے حادثے یا زمین پر گرنے سے بچانے کے لیے مکمل طور پر آمادہ تھے۔ جب ہم اس جلوس کے ساتھ تہران بازار پہنچے تو اچانک کمانڈوز سامنے آگئے اور عوام پر دھاوا بول دیا، ہم جوان تھے ہمیں نہ تو کمانڈوز سے مقابلہ کرنے کا کوئی ڈر تھا اور اگر ہم چاہتے تو فرار بھی کرسکتے تھے یا کوئی اور راستہ اختیار کرکے ان کمانڈوز سے چھٹکارا حاصل کرسکتے تھے لیکن ہمارا سارا ہم غم یہ تھا کہ آیہ اللہ خوانساری کے ساتھ کیا ہوگا۔ اس خوف سے کہ لوگ مارے نہ جائیں اور کمانڈوز کا پورا لشکر موجود تھا کسی قسم کی مقاومت کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی تھی لوگوں کی بڑی تعداد متفرق ہوگئی۔ بھگدڑ کی وجہ سے آیت اللہ خوانساری زمین پر گرے لیکن ان کے اردگرد افراد نے انہیں فوراً گھر پہنچا دیا۔ کمانڈوز کے ہاتھوں بچ نکلنے والے مظاہرین آیت اللہ بہبہانی کے گھر کی طرف چل پڑے، آپ کا گھر، صحن آس پاس کی گلیاں لوگوں سے کھچا کچھ بھری ہوئی تھیں۔ جناب فلسفی کی تقریر سے آغاز ہوا جنہوں نے مراجع عظام کی نسبت بے توجہی کرنے پر حکومت پر سخت تنقید  کی اس کے بعد آپ نے نعرے لگوائے جن میں کہا گیا کہ "ایران میں سخت گھٹن کا ماحول ہے،  اور یہ گھٹن کا ماحول نامنظور" جناب فلسفی نے خود یہ نعرے لگوائے اور اس کے بعد عوام نے ان نعروں کو دہرایا۔
سرکاری کمانڈوز جو ہر قسم کی حکومت مخالف سرگرمی کو روکنے  کے درپے تھے اس اجتماع کی اطلاع ملتے ہی عوام پر حملہ ور ہوئے ،لاٹھی چارج شروع ہوگیا بھگدڑمچنے کی وجہ سے بہت سارے افراد ایک دوسرے کے پاوں کے نیچے آکر کچلے گئے تھے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ فرار ہونے  میں کامیاب ہوا۔ کمانڈوز آیت اللہ بھبھانی کے گھر کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے جو لوگ ان کے گھر سے نکلتے ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہم چند دوست ایک گلی میں داخل ہوئے تو سامنے ایک فوجی لوگوں کو  ڈندوں سے مارتا ہوا  نظر آیا ہم نے اس کے ہاتھ سے ڈنڈا چھیننے کا منصوبہ بنایا تاکہ اس کے ظلم کو روک سکیں۔ ہم چھپ کر بیٹھ گئے اور موقع ملتے ہی اس پر حملہ کردیا ایک دوست نے پشت سے ایسی لات ماری کہ وہ منہ کے بل زمین پر جا گرا میں نے ڈنڈا ایک دوست کے حوالے کیا اور وہاں سے فرار ہوگیا ،اس کے بعد ہم نے جب بھی وہ ڈنڈا اس دوست سے مانگا اس نے دینے سےانکار کیا لیکن میں جب بھی اس سے ملتا ہوں  اس کا مطالبہ ضرور کرتا ہوں۔



 
صارفین کی تعداد: 116


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، تیرہواں حصہ

شب و روز کی اس گریہ زاری سے میری آنکھیں سوج گئیں تھیں اور ہر وقت لال رہتی تھیں۔ دوسرے لوگ بھی میری حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ۔ مہمان خانہ ہمیں سونپ دیا گیا تھا تاکہ مہدی کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔