یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – پہلا حصہ

اُس نے اپنی جان انقلاب، اسلام اور ایرانی عوام پر نثار کردی

مریم رجبی
مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2020-06-26


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۳ جنوری ۲۰۲۰ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں حجت الاسلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرہنگی اور مجید یوسف زادہ نے اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے حاج قاسم سلیمانی اور شام میں دفاع کے بارے میں بتایا۔ پروگرام کے پہلے راوی، سپاہ قدس میں ولی فقیہ کے نمائندے، حجت الاسلام و المسلمین علی شیرازی تھے۔ انھوں نے کہا: "میں جنگ کے واقعات بتاؤں گا، اُن دنوں کے بارے میں جب عراقیوں نے سردار سلیمانی کو اسیر کرلیا تھا۔ وہ عراقیوں کی قید میں تھے۔ ایک بلڈوزر مٹی کا ٹیلہ بنانے میں مصروف تھا۔ اس بلڈوزر کی آواز بہت زیادہ تھی۔ انہیں ایک مورچے کے اندر قید کیا ہوا تھا۔ مورچے میں ایک ٹیپ ریکارڈر تھا۔ انھوں نے بلڈوزر کی آواز کو ریکارڈ کرلیا تھا اور بعد میں جس کیسٹ میں اسے ریکارڈ کیا تھا، اُسے تیز آواز کے ساتھ لگادیا۔ یہ آواز دشمن کی تمام صفوں میں گونجی۔ وہ اُسی بلڈوزر پر بیٹھ کر اپنے فوجیوں کے پاس واپس آگئے۔ اُن کے دل میں ذرّہ برابر بھی خوف نہیں تھا۔ میں نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا ہے کہ ہم جان لیں کہ حتی جب وہ دشمنوں کے نرغے میں گھرے ہوئے تھے، خلاقیت کے حامل تھے، منصوبہ بنانے کی سوچ رکھتے تھے، خدا سے متصل تھے۔ وہ ہر طاقت و قدرت کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ایک دفعہ بھی نہیں کہا میرا کام تھا؛ چاہے جنگ کے دوران ، چاہے جنگ کے بعد، چاہے لبنان میں ہوں، چاہے شام میں ہوں، چاہے عراق میں۔ وہ اصلی طاقت و قدرت کو خدا سے مربوط سمجھتے تھے۔ سن ۱۹۸۶ء میں جب دشمن نے دوبارہ مہران پر قبضہ کرلیا۔ کربلا ہیڈ کوارٹر مہران کو آزاد کرنے کے لئے منصوبہ بنانے میں مصروف تھا۔ میٹنگ چل رہی تھی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دشمن قلاویزان کے ٹیلوں کے نزدیک ہے، کون سا ڈویژن قلاویزان کو آزاد کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اُس دن سردار سلیمانی نے ہیڈ کوارٹر کی میٹنگ میں کہا: ہمارے پاس دو بٹالینز ہیں، ان دونوں بٹالینز میں نماز شب پڑھنے والے، توسل کرنے والے، مناجات کرنے والے، دعا کرنے والے، شب بیداری کرنے والے، اشک بہانے والے لوگ ہیں، میں ان دو بٹالینز کے ساتھ قلاویزان کو آزاد کراسکتا ہوں۔ انھوں نے ان دو بٹالینز کے ساتھ آپریشن انجام دیا۔ دشمن کی صفوں کو چیرا اور قلاویزان کو آزاد کرالیا۔ چالیس سالوں میں دشمن کے ساتھ جنگ میں اُن کی نگاہ یہ تھی۔ وہ جنگ کے دوران فوجیوں پر توجہ دیتے؛ اُن کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ آپریشن سے پہلے کا وقت ہے یا آپریشن کے دوران یا آپریشن کے بعد کا وقت ہے۔ جنگ کے کسی آپریشن میں کربلائے ۵ آپریشن کی طرح گولہ بارود نہیں برسایا گیا۔ دشمن نے کربلائے ۵ آپریشن میں ہمارے سپاہیوں پر شدید ترین گولہ بارود برسایا۔ وہ آپریشنوں میں لڑائی کی شدت کے وقت گرم کھانا، اچھے فروٹ حتی کولڈ ڈرنک بھی فوجیوں تک پہنچانتے۔ اُن کا دل اپنے بچوں سے زیادہ جنگی سپاہیوں کے لئے تڑپتا تھا۔ وہ جنگی فوجیوں کے عاشق تھے۔ جس سپاہی اور جس کمانڈر کا بھی پرچم زمین پر گر تا اور وہ شہید ہوجاتا، ان کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں ہوجاتا۔ ہر آپریشن کے بعد ہونے والے اُن کی تقاریر موجود ہے۔ جیسے ہی آپریشن ختم ہوتا، لوگ تیار ہوتے کہ حاج قاسم آئیں اور تقریر کریں گے۔ اُن دنوں سے لیکر آج تک وہ اپنی شہادت کے لمحات گن رہے تھے۔ جس دن اُن کی بریگیڈ کے کمانڈرز جیسے حاج یونس زنگی آبادی اور قاسم میر حسینی کربلائے ۵ آپریشن میں شہید ہوئے، انھوں نے آپریشن کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا: اب مجھ میں رہنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ اسی وجہ سے تو ایسا ہوتا تھا جب حاج قاسم چاہے آپریشن سے پہلے یا چاہے آپریشن کے بعد ڈویژن کے امام بارگاہ میں بٹالین کے لئے تقریر کرنے آتے تھے، سپاہی انہیں امام بارگاہ کے دروازے سے مائیک تک اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جاتے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک انہی سپاہیوں اور مدافعین حرم کے عاشق تھے۔ اب حاج قاسم کا اپنی ذات سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا؛ اُن کا تعلق مزاحمتی محاذ سے تھا، اُن کا تعلق تمام ایرانیوں سے تھا۔ وہ اپنی قدرت کی بلندی پر صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتے، کام صرف خدا کے لئے۔ اُن کے لئے دن و رات کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ شام، عراق اور لبنان، دو ہفتہ یا تین ہفتہ کے لئے سفر پر جاتے تو پورے سفر میں کبھی دس گھنٹے بھی نہیں سو پاتے۔ وہ شہداء کے پاس جانے کے لئے بے چین رہتے۔ میں یہاں پر اس نکتے کی طرف اشارہ کروں اور گواہی دوں کہ حاج قاسم کو محاذ پر رہنے سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ وہ کسی شہید کے گھر جائیں اور شہید کے فرزند کے ساتھ اُنس و محبت سے پیش آئیں، اُن سے باتیں کریں، وہ اِن سے باتیں کریں اور انہیں اپنے بچوں سے ملنا کا عشق کم تھا۔ اُن کا عشق یہ تھا کہ وہ دن رات ایثار و فداکاری کرنے والے سپاہیوں اور شہداء کے گھرانوں کی خدمت میں رہیں۔ میں نے یہ نکتہ ایک دو پروگراموں میں بیان کیا ہے کہ: ایک دن ایک نشست رات کے آٹھ بجے تک چلی۔ نشست کو جاری رکھنے کیلئے اگلے دن صبح ساڑھے چھ بج کا وقت دیا گیا، صبح جب ہم نشست میں آئے، انھوں نے مجھ سے کہا: میں کل رات نشست ختم ہونے کے بعد تہران سے اصفہان چلا گیا تھا، جنگ کے زمانے میں ثار اللہ ڈویژن کے ایک فدا کار تھے کہ میں کل رات اصفہان میں اُن کے گھر گیا۔ میں نے اُن کی زیارت کی اور آج صبح نشست میں شرکت کرنے کے لئے واپس آگیا ہوں۔ وہ فداکار سپاہی سن ۲۰۱۳ء میں شہید ہوگئے۔ جب وہ کسی شہید یا فدا کار کے گھر جاتے، اب حاج قاسم سلیمانی، سپاہ قدس کے کمانڈر انچیف جن کی دنیا میں اتنی شہرت ہے، وہ نہیں ہوتے تھے، وہ شہداء کے گھرانے کی خدمت کرنے والے ایک خادم بن جاتے، اُن سے ہمدردی کرتے، اُن کے ساتھ اشک بہاتے، اُن کے ساتھ زندگی گزارتے۔ شہداء کے فرزند کبھی اُن کے گھر یا اُن کے دفتر آجاتے اور کوئی ایسا دن نہیں ہوتا تھا کہ حاج قاسم سلیمانی کسی شہید کے فرزند یا شہید کے گھر والوں سے بات نہ کریں، اس میں کوئی فرق نہیں تھا کہ وہ لبنان، شام یا ایران میں ہوں۔ وہ شہداء کے بچوں کے اختیار میں تھے۔ انھوں نے آخر کے ایک دو ماہ میں کرمان میں شہید فاؤندیشن کے انچارج کو یہی تاکید کی تھی کہ شہداء کے فرزندوں کو اپنے فرزندوں کی طرح سمجھو۔ اُن کی مشکل کو اپنی مشکل سمجھو، اُن کے لئے دن و رات کو اہمیت نہ دو۔ انھوں نے بھی شہداء اور شہداء کے بچوں کے لئے دن و رات کو اہمیت نہیں دی، مقام کو اہمیت نہیں دی، سیکیورٹی کو اہمیت نہیں دی۔ جب وہ شہداء کے بچوں کو دیکھتے تو بغیر کسی سیکیورٹی کے شہداء کے بچوں کا ہاتھ پکڑ لیتے اور انہیں تہران کے زیارتی مقام پر لے جاتے۔ وہ ان کے ساتھ ایک باپ کی طرح پیش آتے تاکہ اُنہیں باپ نہ ہونے کا احساس نہ ہو، لیکن پوری زندگی میں، ان تمام دنوں میں خاص طور سے ان آخری ایام میں، اُن کا شہادت سے عشق سب سے زیادہ تھا۔ میں اُن کے وصیت نامہ میں سے کچھ جملوں کی طرف اشارہ کروں: "خداوندا! اے مہربان! کئی سال گزر گئے میں اپنے قافلے والوں سے پیچھے رہ گیا ہوں اور مسلسل لوگوں کو اُن کی طرف روانہ کر رہا ہوں، لیکن میں خود، پیچھے رہ گیا ہوں۔ میرے خالق! میرے محبوب! میرے عشق! میں نے ہمیشہ تجھ سے یہ دعا کی ہے تو میرے وجود کو اپنے عشق سے لبریز کردے، مجھے اپنی جدائی میں جلا کر مار ڈال۔ میں نے بیقراری اور پیچھے رہ جانے کی رسوائی میں بیابانوں کے چکر لگائے ہیں۔ میں اُمید کا دامن تھامے سردیوں اور گرمیوں میں اس شہر سے اُس شہر، اس صحرا سے اُس صحرا جاتا ہوں۔ کریم! حبیب! میری نظر تیری کرم نوازی پر ہے۔ تو خود جانتا ہے میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ تو اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھے تیرے علاوہ کچھ نہیں چاہئیے۔ مجھے خود سے متصل کردے۔ میرے محبوب! میرے عشق! اور میرے معشوق! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں میں نے تجھے کئی مرتبہ دیکھا ہے اور حس کیا ہے، میں تجھ سے دور نہیں رہ سکتا۔ بہت ہوگیا! بس! مجھے قبول کرلے، لیکن اُس طرح کہ میں تیرے لائق ہوں۔" ۲۳ ستمبر ۲۰۱۸ء کو، میں نے انہیں ایک رپورٹ پیش کی کہ: امریکا اور اسرائیل نے تمہیں دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ تمہیں جہاں دیکھیں گے قتل کردیں گے۔ حاج قاسم نے اس رپورٹ پر لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خدایا! میں اُمید کرتا ہوں کہ میں تیرے دین کے بدترین دشمنوں کے ہاتھوں مارا جاؤں۔ یہ اُن کی دیرینہ آرزو تھی۔ انھوں نے شہادت سے تین گھنٹے پہلے لکھا: خدایا! تم سے ملاقات کے لئے میرا عشق، اُس لحظہ کی مانند ہے جب موسی تیری جدائی میں جلے اور اُس کو برداشت نہ کرسکے۔ میں تمہاری جدائی میں جل رہا ہوں۔ انھوں نے دستخط کئے لیکن مطمئن نہیں ہوئے، دوبارہ لکھا: خدایا مجھے پاکیزہ قبول فرما۔ اُس وقت بھی جب وہ شہید ہوئے، ایک نکتہ اُس وصیت نامہ میں ہے جو انھوں نے اپنی زوجہ کے لئے لکھا اور وہ یہ ہے کہ: مجھے کرمان میں شہداء کے قبرستان میں دفن کیجئے گا، جس جگہ ثار اللہ کے شہداء دفن ہیں۔ وہ لوگ جن کے لئے وہ ایک عرصہ تک تڑپے، جنگ شروع ہونے والے دنوں سے لیکر ایران میں رہنے کے آخری دنوں تک، اُن کا دفتر بھی اور اُن کے گھر کا ڈرائنگ روم بھی شہداء ثار اللہ، شہدائے مدافعین حرم اور شہدائے لبنان کی تصاویر سے بھرا رہتا تھا۔ وہ اُن کے ساتھ زندگی گزارتے، اُن سے باتیں کرتے، اُن کے لئے تڑپتے تھے، اُن کے گھر جاتے تھے۔ آخری لمحے بھی یہ لکھا: خدایا میں شہدائے کرمان کے پاس دفن ہونا چاہتا ہوں۔ شہید یوسف اللہی کی قبر کے برابر میں، ثار اللہ ڈویژن کے یہ عظیم عارف، جنہوں نے آٹھویں و الفجر آپریشن میں جام شہادت نوش کیا اور پھر لکھا مجھے دوسرے شہداء کی طرح دفن کیا جائے۔ میری قبر کا کتبہ دوسرے شہداء کی طرح ہو اور میری قبر کے کتبے پر لکھا جائے: قاسم سلیمانی کا سپاہی۔ قاسم سلیمانی کا سپاہی ہونا القابات والا عنوان نہیں ہے۔ اگر ہم اس سپاہی کے عنوان کو واضح کرنا چاہیے، ہم اس بات کا جواب اس خط میں پالیں گے جو انہیں لکھا گیا۔ تقریباً دو تین سال پہلے، ایک ایرانی جوان نے سردار سلیمانی کو ایک خط لکھا۔ اُس خط میں اُس نے سردار سلیمانی سے چاہا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کیلئے نامزد ہوں، انھوں نے جواب دیا: میرے محترم بھائی! میں آپ کی محبت کا بہت شکر گزار ہوں۔ الحمد للہ ہمارے ملک میں ایسی بہت سی گمنام اور نامدار شخصیات موجود ہیں کہ ضرورت نہیں ایک معمولی سپاہی اپنی پوسٹ کو چھوڑ دے۔ میرا افتخار ہے کہ میں اپنی قوم کے دفاع کے لئے ایک معمولی درجہ کا سپاہی رہوں کہ امام خمینی نے فرمایا: میری جان اُن پر قربان ہوجائے۔ اس پوسٹ کو ایسے حالات میں چھوڑ دینا کہ بھیڑئے گھات لگائے بیٹھے ہیں، خیانت ہے۔ سردار سلیمانی اس زاویے سے دیکھتے تھے۔ وہ خود کو ایک سپاہی سمجھتے تھے کہ کہا میری اس فکر کو میری قبر کے کتبہ پر بھی لکھیں: سپاہی قاسم سلیمانی۔ جب انسان نے خود کو اہمیت نہیں دی، تو ایک قوم اُن کے لئے کھڑی ہوئی۔ ایران جوش میں آیا۔ عراق تڑپا، لبنان نے فریاد کی۔ شام والوں نے قاسم سلیمانی کے لئے آنسو بہائے۔ ہر صوبہ میں اُن کے لئے آنسو بہایا گیا چاہے وہاں پر اُن کا جنازہ نہ گیا ہو۔ وہ تمام صوبوں کے فرزند تھے۔ وہ انقلاب کے فرزند تھے۔ وہ امام خمینی کے فرزند تھے۔ آخری نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی بات کو ختم کروں، وہ نکتہ واضح ہے اور واضح ہوجائے گا۔ وہ کس چیز کے لئے تڑپتے تھے؟ کس چیز کے لئے کوشش کرتے تھے؟ اُن کی فکر کیا تھی؟ حاج قاسم نے اپنے وصیت نامہ میں لکھا: "خداوند! میرا تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے اپنے صالح بندہ عزیز از جان خمینی کے بعد، اپنے ایک اور صالح بندہ کی راہ پر گامزن رکھا کہ جس کی مظلومیت بہت زیادہ ہے، ایسا انسان جو آج اسلام، تشیع، ایران اور اسلام کی سیاسی دنیا کا حکیم و دانا ہے، ہر دل عزیز خامنہ ای، کہ میری جان اُن پر قربان ہوجائے۔ میرے محترم ایرانی بہن بھائیوں! میری اور مجھ جیسی ہزاروں جانیں آپ پر قربان ہوجائیں؛ جیسا کہ آپ نے اسلام اور ایران پر سینکڑوں جانیں نچھاور کیں۔ اصول کا دفاع اور حفاظت کریں۔ اصول یعنی ولی فقیہ، خاص طور پر اس مظلوم دانا شخص کو جو دین، فقہ، عرفان و معرفت پر تسلط رکھتا ہے، خامنہ ای عزیز کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں۔ سیاسی مسائل میں جہاں پر اسلام، جمہوری اسلامی، مقدسات اور ولایت فقیہ کی بحث پیش کی جاتی ہے، یہ خدائی رنگ ہیں۔ خدا کے ہر رنگ کو ہر دوسرے رنگ پر ترجیح دیں۔ ولی کی نصیحت کو سنیں، صحیح راستہ یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو مدنظر رکھے بغیر انقلاب، جمہوری اسلامی اور ولی فقیہ کی حمایت کریں۔ جمہوری اسلامی، اقدار اور ولایت فقیہ امام خمینی کی میراث ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان کی حمایت ہونی چاہیے۔" سردار سلیمانی کی نگاہ یہ تھی۔ ولایت سے عشق کرتے تھے، عوام سے عشق کرتے تھے، اسلام اور جمہوری اسلامی سے عشق کرتے تھے اور انھوں نے اپنی جان اسلام، انقلاب اور ایرانی عوام پر نچھاور کردی۔"

 
صارفین کی تعداد: 33


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔