یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام – تیسرا حصہ

کربلائے چار آپریشن کا راز فاش ہونے میں منافقین کا اہم کردار

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2020-06-20


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۹  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶  دسمبر ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں عبد الرحیم فرخ سہراب، سید یحیی رحیم صفوی اور فتح اللہ جعفری نے اپنی تقاریر میں اپنی اسیری کے زمانے، فاو اور کربلائے ۵  آپریشن کے بارے میں بیان کیا۔

پروگرام کے تیسرے راوی سردار فتح اللہ جعفری نے کہا: "کربلائے چار آپریشن جس پر ایک سال کام کیا گیاتھا، دو گھنٹہ بعد رک گیا۔ عراق نے ہمارے علاقے میں ہماری پوزیشنوں پر شدید بمباری کی۔ وارئرلیس کے ذریعے ہمیں اطلاع دی گئی کہ آپ اہواز  کےعلاقے گلف میں جنگ کے کمانڈنگ اسٹاف پہنچیں۔ لہذا ہم صبح گلف چلے گئے۔ جنگی کمرے میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی بیٹھے ہوئے تھے۔ خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے کمانڈرز آ گئے۔ چار ہیڈ کوارٹرز نجف، قدس، کربلا اور نوح کے کمانڈرز بھی آگئے۔ اُس ہیڈ کوارٹر میں موجود تمام یونٹوں کے کمانڈرز بھی آگئے اور پہلے تو آپریشن سے متعلق بحث ہوئی کہ آپریشن کیوں نہیں ہوا اور حالات کیسے تھے؟ البتہ یہ جو کہا جاتا ہے کربلائے چار آپریشن شکست سے دوچار ہوا اور آپریشن کا راز فاش ہوا، تو یہاں پر بہت سی باتیں بعد میں کھلیں اور اس آپریشن میں منافقین کا کردار بہت پر رنگ تھا۔ اس آپریشن میں ایک شخص جس کا نام جناب عباس داوری تھا اُس نے رحمان کے عرفی نام سے عراق کے لئے کام کیا تھا اور عراق نے اس آپریشن کی پوری معلومات حاصل کرنے کے لئے منافقین کو ۷۵ ملین ڈالر دیئے تھے۔ یہ سب باتیں فاش ہوچکی ہیں اور جنگی اسناد میں موجود ہیں۔ میٹنگ تقریباً صبح دس سے گیارہ بجے شروع ہوئی اور رات تک چلتی رہی اور رات کو جب تمام رپورٹیں پیش کردی گئیں، تو پتہ چلا آپریشن کے بہترین یونٹ  صحیح و سالم ہیں  اور تمام سہولیات موجود ہیں، وہ نجف ہیڈ کوارٹر تھا جہاں ۱۹ ویں فجر ڈویژن نے جناب نبی رودکی کی کمانڈ میں شلمچہ  کو شکست دینے میں  کامیابی حاصل کی تھی  اور وہ پنج ضلعی میں داخل ہوگیا تھا  اور لرستان کی ۵۷ ویں ابو الفضل بریگیڈ بھی جناب روح اللہ نوری کی کمانڈ  میں پہنچ چکی تھی؛  لہذا یہاں پر کچھ راستہ کھلا کہ جنا ب محسن رضائی نے کہا ہم نا اُمید نہیں ہیں  اور کچھ راہ حل بھی موجود ہیں۔ ہم اب بھی آگے بڑھ سکتے ہیں، ہمارے تازہ دم یونٹ  اور بٹالینز تیار ہیں۔ کربلائے چار آپریشن میں نجف ہیڈ کوارٹر میں صرف دو بریگیڈ تھیں، ایک بریگیڈ اور ایک ڈویژن تھی، لیکن وہ پنج ضلعی کے محاصرے کو توڑنے میں کامیاب ہوئے۔ نوح ہیڈ کوارٹر بھی رات میں عبور کر گیا۔ حتی عراق کے ساحل پر قبضہ کر لیا اور البحار ہائی وے کو بند کردیا اور وہاں پوزیشن سنبھال لی، حتی جناب حسین علائی نے کہا کہ ہم جا رہے ہیں اور پہنچ گئے۔ کربلا ہیڈ کوارٹر نے بھی جزیرہ سہیل اور جنوب کو حاصل کرلیا اور ہائی وے تک بھی پہنچ گئے۔ ہم نے حتی رات میں چھ سو فوجی گاڑیاں تیار کی ہوئی تھی کہ یہ صبح کی نماز کے بعد روانہ ہوں اور ابو خصیب اور ام القصر کی طرف جائیں  اور علاقہ میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔ حتی ہم نے ان کے  گزرنے والا راستہ بھی معین کرلیا تھا۔  ہمیں قدس ہیڈ کوارٹر اور جزیرہ بوارین کے علاقے میں مشکل کا سامنا ہوا اور اس علاقے میں ہمارے بہت سے غوطہ خور ناکام رہے۔ میں نے آج ہی سن ۱۹۸۶  کی یاد داشت پڑھی ہے اور میں نے دیکھا کہ ہمارے ہیڈ کوارٹرز کامیاب رہے  تھے۔ لیکن یہاں پر ہماری افواج دریائے کبیر اروند اور دریائے صغیر اروند  کو عبور  نہ کرسکیں اور خود کو ام  الرصاص  اور بوارین سے ہائی وے تک نہ پہنچا سکیں۔ آپریشن کا راز بھی فاش ہوگیا تھا اور میرے خیال سے عراق کو ہمارے آپریشن کی وسعت کا بھی نہیں پتہ تھا؛ یعنی ہم  شمال شلمچہ کے سیلاب زدہ علاقے سے شعیرات آبادان کے سامنے تک، ایک بہت ہی وسیع علاقے  کی حدود میں وارد عمل ہوئے۔ بہت بڑا آپریشن تھا جس میں ہماری کوشش تھی کہ ابوخصیب تک پہنچ کر بعد والے مرحلہ میں بصرہ کی طرف جائیں۔ اگر یہ آپریشن کامیاب ہوجاتا تو جنگ کا ایک اہم آپریشن شمار ہوتا۔ جنگی تاریخ میں یہ وہ واحد آپریشن ہے جس کی مدت صرف دو گھنٹے تھی اور دو گھنٹے بعد یہ آپریشن رک گیا۔ ہمارا اہم ترین آپریشن جو فتح المبین تھا، اُس میں چھ دن لگے۔ گلف نشستیں ہوئیں، یونٹوں کی جانچ پڑتال ہوئی، جناب ہاشمی رفسنجانی نے کہا آپ کے پاس تیار ہو کر وارد عمل ہونے کیلئے دو ہفتوں کا وقت تھا ۔ تمام یونٹس کام کے لئے تیار تھے، لیکن ہمیں ایک جعلی آپریشن کرنا چاہیے تھا۔ اس وقت ہماری ساری تیاریاں اروند سے عبور کرنے کے لئے تھیں۔ اواخر اگست سن ۱۹۸۲، جب عراق نے شلمچہ میں پانی بہا دیا تھا اور ہمارے خلاف پانی کی جنگ شروع کی، شہید حسن باقری جو سپاہ کے آرمرڈ انچارج تھے، انھوں نے کہا  آپ لوگوں کو ایسی فوجی گاڑی کی تلاش میں رہنا چاہیے جو پانی پر سے  گزر سکے، چونکہ اس کے بعد اب ہمیں پانی کی جنگ کا سامنا رہے گا اور ہمیں ایسا کام کرنا چاہئیے کہ ہم  پانی کی رکاوٹوں سے عبور کرسکیں۔ ہم نے تحقیق کی تو پتہ چلا انقلاب سے پہلے شاہ نے روس کو گیس فروخت کرنے کے بدلے، اُس سے ایک ہزار ایسی فوجی گاڑیاں لی تھیں جو پانی اور خشکی پر چلنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، جن کا نام بی تی آر – ۵أ تھا،  لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر ان سے استفادہ نہیں کیا گیا تھا اور انہیں چھاؤنیوں میں لے جایا گیا اور ان سے چھاؤنی کی دیوار کے طور پر استفادہ کیا گیا؛ لہذا ہم نے شہید صیاد شیرازی سے بات کی  اور کہا کہ یہ فوجی گاڑیاں ہم سونپ دی جائیں، ہم انہیں دوبارہ بنائیں گے، یہ ہمارے کام آئیں گی۔  سن ۱۹۸۲ء سے لیکر خیبر آپریشن تک  ہم ان ہزار گاڑیوں میں سے ، جناب بہزاد نبوی کی مدد سے کارخانوں میں چھ سو گاڑیوں تعمیر کرنے میں کامیاب ہوئے؛ ہم نے روسی انجن نکال کر اُس کی جگہ ماک انجن لگادیا۔ ہم  نے اس کے پارٹس کو بدل دیا۔ کربلائے چار آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہمارے پاس ہزار فوجی گاڑیاں اور عراق سے غنیمت میں آئے ٹینک تھے اور اس کے علاوہ وہ تعمیر ہونے والی چھ سو گاڑیاں جو ہم نے فوج سے لیکر دوبارہ بنائی تھیں، جو  بسیج کی میکانائزڈ بٹالین کے اختیار میں تھیں۔ میں نے ان میں سے ایک بٹالین جس کے پاس دس گاڑیاں تھیں، اُسے شلمچہ کے ایسے علاقے میں لایا جہاں پانی بھرا ہوا تھا۔  جناب محسن رضائی، رحیم صفوی اور جناب غلام علی رشید کو بلایا، یہ لوگ آئے اور ہم نے ان فوجی گاڑیوں کو پانی میں اتار دیا۔ یہ گاڑیاں مشرقی بصرہ سے کوت سواری کی چیک پوسٹ تک پانی میں تیرتی رہیں، اسی جگہ کربلائے ۵ آپریشن ہوا۔ ان گاڑیوں کی رفتار دس کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ان میں دو طاقتور ٹربائن تھے جو کیچڑ  اور پانی میں چلتے تھے۔ ہم نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسی چھ سو فوجی گاڑیاں تیار ہیں۔ اُس کے بعد ہم جفیر کے علاقے میں کانال سلمان نامی محلے میں آئے۔ ان تمام تعمیر شدہ فوجی گاڑیوں کو لائے  اور دس دنوں تک مشقیں اور کربلائے ۵ آپریشن کی پریکٹس کی۔ یہ ساری چیزیں کمانڈنگ اسٹاف کے لئے بھی قوت قلبی کا باعث تھیں کہ ہم علاقے میں وارد ہوسکتے ہیں اور ان شاء اللہ یقینی کامیابی ہوگی۔ یہ بٹالینز تیار ہوئیں، ہمارا مواصلاتی نظام قائم ہے، ہماری فوجی گاڑیاں پیادہ بٹالینز کے ساتھ سازگار ہوکر علاقے میں جانے  اور پنج ضلعی میں داخل ہونے کیلئے روانہ ہوسکتی ہیں۔ وہ بٹالین جس نے جاکر پنج ضلعی کو شکست دی، وہ ۱۹ ویں فجر ڈویژن اور صوبہ فارس کے فوجیوں کی بٹالین تھی، جس کا نام امام حسین (ع) بٹالین تھا۔ اس بٹالین کے کمانڈر کا نام مہدی زارع تھا۔ ہمارے پاس شلمچہ کے شمال میں سات کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قلعہ تھا کہ قلعہ کے اس طرف، ہماری جگہ پر خشکی تھی اور قلعہ کے اُس طرف، پانی تھا اور جناب مہدی زارع نے اپنی تیراکوں کی بٹالین کو قلعہ سے عبور کروایا، ایک سرحدی سڑک تھی جو قلعہ کے ساتھ چل رہی تھی جو عراقی چیک پوسٹ تک جانے والی سڑک تھی۔ انھوں نے اس سات کلومیٹر  کی سڑک پر اپنے فوجیوں کو ڈالا اور رات کے وقت، پانی تقریباً ان کے سینہ تک آرہا تھا، یہ لوگ آگے بڑھ رہے تھے اور انھوں نے  پنج ضلعی کے شمالی قلعہ کو شکست دی۔ لیکن یہ خود اُسی پہلے قلعہ میں شہید ہوگئے۔ عراقیوں نے ساتھ دفاعی پوزیشنیں بنائی ہوئی تھیں۔ پہلے مقام پر ۱۵۰۰ میٹر تک رکاوٹیں اور مائنز کا میدان تھا، اُس کے بعد  پانی کی نہر، اُس کے بعد اصلی قلعہ تھا کہ اس قلعہ پر  کنکریٹ کا مورچہ بنایا ہوا تھا۔ حتی ان کے فردی مورچے بھی کنکریٹ کے تھے۔  یہاں پر سات مختلف رکاوٹیں لگائی ہوئی تھیں کہ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ہمارے فوجیوں کو ۶۵ دن لگے۔ ۶۵ ویں دن ہم بصرہ سے چھ کلومیٹر کے فاصلہ پر پہنچ گئے۔ وہاں پر  ۵۹۸ قرار داد پیش ہوئی اور عراق نے جنگ روک دی، اُس نے  خاردار تاریں ڈال دیں۔ ہم نے شلمچہ کے اندر، چھ کلومیٹر تک پیش قدمی میں بارہ ہزار شہید دیئے؛ یعنی ہر آدھے میٹر کے بعد ایک شہید۔"

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۹ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۶ دسمبر  ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۳ جنوری کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 67


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چھبیسویں قسط

اس منحوس رات میں ایک پیرامیڈکس نے مجھے دو پین کلر انجکشن لگائے۔ اگلے دن صبح میں نڈھال بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر "یعقوب" یونٹ کمانڈر کے پاس گئے اور اسے میری حالت سے آگاہ کیا۔ انھون نے مشورہ دیا کہ مجھے علاج اور آرام کے لئے ہسپتال بھیجا جائے۔ لیکن اس نے منع کردیا اور کہا: "اسے یہیں رہنے دو اور اس کا علاج ہونا چاہیے۔ آخرکار وہ ایک ڈاکٹر ہے!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔