تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-03-12


ڈاکٹر"احمد مفتی" نے، جو سب سے زیاده ڈرے ہوئے تھے، ہمیں ان مشکل حالات میں زخمیوں کے علاج کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔ میں نے اس تھوڑی سی فرصت کو غنیمت جانا جب زخمیوں کی منتقلی رکی اور  میں ڈاکٹر"صباح ربیعی" کے ساتھ مل کر انہیں ڈھونڈنے لگا۔ آخرکار میں نے انہیں ڈاکٹروں کی رہائش گاه سے متصل پناه گاه میں ڈھونڈ ہی لیا۔ وه خندق کے ایک کنارے سے چپکے ہوئے تھے اور بے چینی اور پریشانی کی حالت میں سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا: "باہر آجائیں۔ علاقہ بالکل محفوظ ہے۔ آئیں اور زخمیوں کے علاج میں ہماری مدد کریں۔"

لیکن انہوں نے اس درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: خدا کی قسم! میں اس ڈرپوک کا مذاق اڑاؤں گا۔ میں خندق سے نکلا اور مجھے ایک خالی ڈرم پڑا ملا۔ میں نے اسے اٹھا کر پوری طاقت سے خندق کی چھت پر دے مارا۔ پھر میں چیخا: "بمباری... فضائی حملہ... بمباری..."

اس کا مذاق اڑایا اور پھر ہم ایمرجنسی روم کی طرف چل دیئے۔

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی جھڑپ دیکھی جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی  طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ایرانی پائلٹ نے ہماری فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے میں اور عراقی طیاروں سے بچ نکلنے میں بہت بہادری اور مہارت کا مظاہره کیا۔

تقریباً دوپہر کے 12 بجے کا وقت تھا۔ زخمیوں کی قطاریں ہیڈکوارٹر لائی گئیں جن کے پاس ہماری فورسز کی شکست اور ہار کی رپورٹیں اور خبریں تھیں۔ ان میں سے ایک خبر جو خوشی کی خبر تھی وه آرمرڈ لشکر-9 کے کمانڈر، کرنل اسٹاف"طالع الدوری" کے زخمی ہونے اور اسے بصره کے ملٹری ہسپتال منتقل کیے جانے اور لشکر کے صحرائی بیس تک ایرانی فورسز کی پیش قدمی کرنے کی خبر تھی۔ آہسته آہسته لڑائی کی آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اسی لیے کیپٹن ڈاکٹر"جبار" نے علاقہ چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری کرنے کا حکم دے دیا۔ روانگی کی تیاریاں ہوگئیں۔ ہم آرڈر ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ دوپہر 12  بج کر کچھ ہی منٹ ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ کچھ  بھاری ٹرالرز جن پر کچھ ٹینکس لوڈ تھے، ہماری طرف آرہے ہیں۔

ٹرالرز نے فوراً ہی روسی ساخت کے " ٹی-72 " کے جدید ٹینکس ان-لوڈ کردیئے۔ کچھ دیر بعد یہ ٹینکس، آپریشن کے علاقے کی جانب روانہ ہوگئے۔ جب ہم نے سپاہیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا:" یہ کاروان در حقیقت جدید ترین روسی ٹینکوں سے لیس آرمرڈ بریگیڈ-10 ہے۔  اس کے افراد حزب اور حکومت کے حامی ممبرز ہیں اور یہ براه راست صدارتی محل سے احکامات لیتے ہیں۔ انہیں بہترین طریقے سے ٹریننگ دی گئی ہے۔"

یہاں اس بات کا تذکره ضروری ہے کہ اس سے پہلے اس بریگیڈ کو بصره میں ایک ریزرو فورس کے طور پر رکھا گیا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اسپیشل فورسز، بریگیڈ-31 آپہنچی اور بریگیڈ-10 سے ملحق ہوگئی۔ یہ دو بریگیڈز، آرمرڈ بریگیڈ-30 کے ساتھ ایرانی فورسز کے مقابلے پر دفاع اور جوابی حملہ کرنے والی فورسز تھیں۔   آرمرڈ لشکر-9 کے باقی افراد کو ہماری حملہ آور فورسز کی پشت پناہی کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔  آدھے گھنٹے بعد  دونوں طرف کی فورسز میں لڑائی شروع ہوگئی۔  ایرانی فورس، آرمرڈ لشکر-16 قزوین اور ایک دوسری پیاده فوج پر مشتمل تھی۔  جدید ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ہونے والی اس لڑائی کے دوران کئی بکتری وسائل تباه ہوگئے اور سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ آسمان پر دھویں کے بادل چھا گئے اس طرح سے کہ سورج نظر نہیں آرہا تھا۔ آہسته آہسته لڑائی کی آوازیں کم ہونے لگیں اور شام 4 بجے جنگ کی آگ مکمل طور پر ٹھنڈی ہوگئی۔  آرمرڈ بریگیڈ-10 اور اسپیشل فورسز بریگیڈ کے کچھ زخمی افراد کے آنے سے ہمیں پتا چلا که ایرانی فورسز کو شکست ہوگئی ہے اور عراقی، سوسنگرد شہر کے دروازوں تک ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔  حالات پرسکون ہونے کے بعد، میں نے زخمی افسران سے جنگ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان افسران کے مطابق، ایرانی فورسز نے سوسنگرد اور ہویزه کے علاقے میں تین مراکز سے ایک حملہ شروع کرنے کے ساتھ ہی، اهواز کے جنوب میں واقع، بریگیڈ-20 کے پڑاؤ کی جگہ پر ایک فرضی حملے کا بھی آغاز کیا اور ابتدا ہی میں سوسنگرد کے مرکز میں کچھ کامیابیاں حاصل کیں اور آرمرڈ لشکر-9 کے جنگی ساز و سامان کو تہس  نہس کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے افراد اور آرمرڈ بریگیڈ-9 اور بٹالین-101 کے  افراد کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اس حملے کے دوران 800 عراقی فوجیوں کی گرفتاری کے علاوه، بے شمار غنیمتیں بھی ایرانی فورسز کے ہاتھ لگیں۔ وه اپنی سرزمین میں 20 کلومیٹر پیش قدمی کرکے آرمرڈ لشکر-9 کے صحرائی بیس تک پہنچ گئے، لیکن اہواز کے محور میں پیش قدمی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور انہوں نے 9 ٹینک گنوادیئے اور ان کے کچھ افراد، زخمی اور جاں بحق ہوئے۔

حملے والے دن، دوپہر کے بعد آرمرڈ بریگیڈ-10 اور اسپیشل فورسز بریگیڈ-31 کی آمد کے ساتھ ہی جنگ کے حالات ہمارے حق میں ہو گئے اور ایرانی فورسز نے جانی اور مالی نقصان اٹھانے کے بعد عقب نشینی کی اور آخرکار شہر سوسنگرد کا محاصره ہو گیا۔ شہر ہویزه بھی ایرانی فورسز کی عقب نشینی کے بعد ہماری فورسز کے قبضے میں آگیا۔  اس جنگ سے حاصل شده نتائج درج ذیل ہیں:

1۔  آرمرڈ لشکر-16 قزوین اور اس کی پشت پناه پیاده فوج کی تباہی۔

2۔ "چیفٹن"ماڈل کے 50 ٹینکوں کا غنیمت بن جانا اور اس تعداد کے دو برابر ٹینکوں کی تباہی۔

3۔ ہماری فورسز کے ہاتھوں شہر سوسنگرد کا محاصره اور شہر ہویزه پر قبضہ۔

4۔ ایرانی فورسز نامنظم عقب نشینی کے باعث جنگی غنیمتوں کو منتقل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں اور  مجبوراً ان غنیمتوں کو چھوڑنے اور ان میں سے کچھ کو دھماکے سے اڑانے پر مجبور ہوگئیں۔

5۔ عراقی حکومت نے اس لڑائی کے نتائج سے سیاسی اور فروغی اعتبار سے زیاده فائده اٹھایا،  یہاں تک کہ پہلی بار خود صدام فرنٹ لائن کے  مورچوں کے معائنے کے لیے آیا۔

ان تمام عوامل نے ہماری فورسز کے حوصلے بلند کیے اور لڑائی کو اور زیاده جوش و جذبہ بخشا۔

اس کے باوجود کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں نہ ایک ماہر اور تجربہ کار فوجی ،میں اس لڑائی کے بارے میں اپنی سمجھ کو کچھ یوں بیان کرسکتا ہوں:

الف: یہ ثابت ہوگیا کہ ایرانی فوج اس دن عراقی فوج پر ایک فوری اور شدید حملہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی، وه ناکام حملہ ایرانی فوج کی بد انتظامی کی وجہ سے مناسب وقت سے پہلے واقع ہوا۔

ب: ایرانی حکومت نے اس دن آپریشنل ایریا میں موجود غیر جنگی سہولیات سے فائده نہیں اٹھایا، جبکہ وه ان سہولیات کو عراقی فورسز کے خلاف استعمال کرسکتی تھی۔

ج: ایران کی زمینی حملہ آور فورسز کے لیے مناسب فضائی مدد کا نہ ہونا، اس سے ہمارے لیے حملے کو پسپا کرنے کی راه ہموار ہوگئی اور ایرانی فورسز با آسانی عراقی طیاروں کی رینج میں آگئیں۔  بعض لوگ اس امر کی وجہ، اس بھاری نقصان کو مانتے ہیں جو ایران کی فضائی فورسز کو ہوا تھا، کیونکہ بنی صدر نے جنگ کی ابتدا میں اس فورس کو حد سے زیاده استعمال کیا۔ البتہ اسپیئر پارٹس اور گولہ بارود کی کمی بھی اس کی وجہ بنے۔

د: کمیوں اور کچھ غلطیوں کے باوجود، پہلے حملے کی کامیابی سے فائده اٹھانا اور آپریشن جاری رکھنے کے لیے معاون فورسز بھیجنا ممکن تھا۔ مگر بدقسمتی سے، ریزرو فورسز تیار کرنے کے بارے میں کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ بھی ایک آشکار غلطی تھی جو فوجی کمانڈروں اور متعلقہ عہده داروں سے ہوئی۔

ه: جنگ کے عمل سے اس کے جنگی پہلو پر اس کے سیاسی پہلو کا غلبہ روشن ہوگیا. کیونکہ بنی صدر نے امام خمینی کو کامیابی کی مبارک باد کا ٹیلی گرام بھیجنے میں جلد بازی سے کام لیا، جبکہ جنگ ابھی تک اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور اس کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوا تھا۔

مختصر طور پر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس لڑائی نے جنگ سے نمٹنے کے لیے بنی صدر کے خیالات کی شکست کو ثابت کردیا اور اسی چیز نے ان کی اندرون ملک سیاسی حیثیت کو مجروح کیا۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 72


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی تصادم دیکھا جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔