تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اٹھارھویں قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-03-12


غیر دستاویزی آپریشن

سن 1980ء کے آخر میں عراقی فورسز کی اساسی ترین فوجی کاروائیاں اپنے اختتام کو پہنچیں اور ایرانی دفاعی فورسز نے درج ذیل کامیابیاں حاصل کیں:

-  تجاوز کو روکنا اور ہماری فورسز کے پہلے حملے کو ناکاره بنانا۔

-  جارحانہ کاروائیوں کو روکنا اور کئی اہم محازوں پر ہماری فورسز کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کرنا۔

ایران کے اسلامی انقلاب کے لئے جنگ کا یہ مرحلہ، خطرناک اور تقدیر ساز تھا۔  کیونکہ یہ ملک عسکری، سیاسی اور معاشی لحاظ سے میدان جنگ میں اترنے کے لئے تیار نہیں تھا۔  اس کے علاوه عراق نے اچانک جو عسکری ضرب ایران پر لگائی تھی وه نسبتاً شدید تھی۔  اس کے باوجود کہ ایران اپنے کئی شہر اور گاؤں گنوا چکا تھا اور اس کی سرزمین کے بڑے علاقے، عراقی فورسز کے قبضے میں چلے گئے  تھے۔  لیکن ایرانی محافظوں نے اہم شہروں جیسے "اہواز"، "آبادان"، "دزفول" اور "شوش" کو قبضے  سے بچالیا۔  اس مقاومت کے نتیجے نے عراق کو اپنے خطرناک اور عسکری اہداف کی تکمیل سے روک دیا۔  جنگ شروع ہونے کے کچھ وقت بعد ہی عراقی حکومت نے ان اہداف کا اعلان کردیا، جن کا خلاصہ کچھ یوں تھا: انقلابی نظام کا خاتمہ اور ایران کی چھوٹے علاقوں میں تقسیم۔

ہمارا آپریشنل ایریا "اہواز"کے مشرقی جنوب سے "ھویزه" شہر کے مغرب تک پھیلا ہوا تھا۔  اس علاقے میں ایرانی محافظوں نے دریاؤں اور جنگلات جیسی قدرتی رکاوٹوں سے فائده اٹھاتے  ہوئے، حملہ آور فوجوں پر ہر قسم کی پیش قدمی کا راستہ بند کردیا تھا۔  ایرانی فورسز نے اس ایریا کو "کارون" اور "کرخہ" جو اس وقت ان کے پاس تھے، کے پانی سے بھر دیا تھا۔  ان دو دریاؤں کے پانی کے تیز بہاؤ نے ہماری فورسز کی "اہواز"، "سوسنگرد" اور "حمیدیہ" کی جانب پیش قدمی کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کیا، اس طرح سے کہ اکثر اوقات یہ پانی انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتا  تھا۔  پانی کی اس رکاوٹ کا فوجیوں پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اپنے پہلے سے طے شده اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اسی چیز نے ایرانی فورسز کو موقع دیا کہ وه اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنائیں اور ہماری فورسز کو بند اور راستے بنانے میں لگادیں۔ اس وجہ سے انہیں زیاده وقت لگانا پڑا اور زیاده مشقت اٹھانی پڑی۔ عراقی فوج نے بند اور راستے بنانے  کے لئے سول اداروں اور ساتھ ساتھ پانی کو فورسز کی جانب آنے سے روکنے کے لئے "جنگی انجینئرنگ فورسز" کو بھی تعینات کیا۔

یہاں پر میں کتاب کے اس حصے کے عنوان"غیر دستاویزی آپریشنز" میں داخل ہونے کے لئے عارضی طور پر محاذ کے ماحول کو چھوڑ کر سیاست اور انقلاب کی دنیا میں واپس آتا ہوں۔

اسلامی انقلاب، انقلابی گروہوں اور ان کے حریفوں کے مابین، سیاسی اور نظریاتی تناؤ کا مشاہده کر رہا تھا۔  وہی چیز جو ہر عوامی انقلاب کے دوران پیش آتی ہے۔ ان تصادموں میں سب سے اہم  تصادم "امام خمینی" کے حامیوں اور "بنی صدر" اور "مجاہدین خلق آرگنائزیشن" کی قیادت میں لبرلسٹ عناصر کے مابین تھا۔  دونوں فریق، ملک میں جاری اکثر مسائل، جن میں خارجہ پالیسیاں اور خاص طور پر جنگ کا مسئلہ اور اسی طرح اندرونی اور بیرونی سطح پر جنگ سے نمٹنے کے معاملے پر اختلاف رائے رکھتے تھے۔

جنگ کے ابتدائی ایام میں متعدد عوامل کی وجہ سے عراق کو متعدد سیاسی اور فوجی فوائد حاصل ہوئے۔  ان عوامل میں سے سب سے اہم عوامل یہ تھے: انقلابی حکومت کا اپنی اندرونی ہنگامہ خیز صورتحال سے دوچار ہونا،  انقلابی پیشرفت اور تبدیلیوں کی وجہ سے  ایرانی فوج کی کمزوری، بنی صدر کی،  ملک کا صدر ہونے کی حیثیت سے بدنظمی اور آخرکار اندرونی مشکلات کا پیدا ہونا۔

جنگ کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی بنی صدر کی شخصیت پر آہستہ آہستہ سوالات اٹھتے جا رہے  تھے اور ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔اسی لیے انھوں نے ہر قسم کے شکوک و شبہات کو اپنے آپ سے دور کرنے کے لئے کچھ سیاسی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کا صرف فوج پر انحصار کرنا اور عوامی اور انقلابی فورسز خاص طور پر سپاه پاسداران انقلاب اسلامی پر انحصار نا کرنا، ان کا نمایاں ترین نظریہ اور خیال تھا۔  بنی صدر نے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ہونے کی حیثیت سے اپنے پوزیشن سے فائده اٹھاتے ہوئے اپنے خیالات اور اہداف کو پورا کرنے  کی کوشش کی۔  اس کے برعکس ، امام خمینی  ؒ کے حامی اور ان کے آس پاس کے لوگ فوج، عوام اور انقلابی اعضاء کی تمام تر توانائیوں کو استعمال کرنے پر اصرار کر رہے تھے۔ اس گروه کے نظریے کا صحیح اور کارآمد ہونا جنگ کے بعد کے مراحل میں ثابت ہوگیا اور فوج، سپاه پاسداران اور عوامی فورسز کا اتحاد، باعث بنا کہ آپریشنل مورچوں پر اہم اور نمایاں فتوحات سامنے آئیں۔

نیز، فوج کو درپیش متعدد مسائل نے بنی صدر کی بصیرت کی کمی کو درج ذیل منطقی دلیلوں کی بنا پر ثابت کردیا:

-  عراق کی تجربہ کار اور پوری طرح اسلحے سے لیس فوج کے مقابلے کے لئے ایران کی اس وقت کی فوج کی کمزوری اور تیاری کا نہ ہونا اور ایران کی منظم فورسز کو منصوبہ بندی کرنے اور اپنی جنگی صلاحیتوں بڑھانے کے لئے طولانی وقت درکار ہونا۔

-  عوام اور انقلابی تنظیموں کو وسائل کی فراہمی اور عدم توجہی جس نے عوامی انقلاب کو ابھارا  اور شاه کو برطرف کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان وسائل اور ماہر فورسز کو بھیجنے کے لئے زیاده وقت کی ضرورت نہیں تھی۔  اگرچہ یہ بات بنی صدر جیسے انسان کے لئے پوشیده نہیں تھی، لیکن چونکہ وه اپنی ذاتی خواہشات اور اپنے اردگرد کے لوگوں یعنی مجاہدین خلق اور دوسرے لبرلسٹوں کے دباؤ میں گرفتار تھا، وه محاذ پر  بر وقت اسلحہ اور ساز و سامان بھیجنے سے گریز کرتا تھا۔

کیونکہ بنی صدر کوشش کرتا تھا کہ اپنی بات منوائے، اس نے ایران کی ملٹری فورسز سے کچھ لشکر تشکیل دیئے اور انہیں عراقی فورسز پر فوری اور غیر دستاویزی حملے کرنے کے لئے روانہ کردیا۔  ان تمام اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا که "سوسنگرد"، "اهواز" اور "دزفول" کے علاقوں میں ایرانی فوج کو فوری شکست ہوئی اور بھاری نقصان ہوا۔  اسی طرح اس وقت اسلامی جمہوری کو درکار فورسز اور ساز و سامان کا ضیاع، عراقی فورسز کے حوصلے مضبوط کرنا، ایرانی سرزمین کے لئے ان کے لالچ میں اضافه کرنا اور ان کی فوجی اور سیاسی پوزیشن کو تقویت دینا، بنی صدر کے اقدامات کے دوسرے نتائج تھے۔ در حقیقت، اس وقت کے حالات کا تقاضا یہ تھا کہ بنی صدر کی کمانڈ میں فوج اور حکومت کے ساتھ ساتھ تمام انقلابی قوتیں، عراقی حملے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں؛ اور یہ وہی چیز ہے جس پر امام اور ان کے پیروکار تاکید کرتے تھے۔

سیاست اور اس کے  پیچ و خم کو چھوڑ کر محاذ کے  مورچوں کی طرف واپس آتا ہوں جو دھویں اور بارود سے بھرےہوئے تھے۔

5 جنوری سن 1981ء، سردیوں کی ایک دھوپ والی صبح، میں جفیر کے علاقے میں واقع زخمیوں کو نکالنے والے ہیڈکوارٹر میں موجود تھا۔  دن نکلنے کے ساتھ ہی درجہ حرارت بھی بڑھ گیا تھا۔  پورے محاذ پر امن و امان قائم تھا۔ یہ خوشگوار حالات صبح 8 بجے تک باقی رہے پھر اچانک ان توپوں اور ٹینکوں کی گولہ باری کی آوازیں سنائی دیں جو سوسنگرد کی طرف سے ہماری جانب بڑھ رہے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آوازوں میں شدید اضافه ہوتا جا رہا تھا، اس طرح سے کہ توپ کے گولوں کی آگ عام آنکھ سے دیکھی جاسکتی  تھی۔

اس خوفناک ماحول سے ایسا محسوس ہوتا تھا که ایک بڑا حملہ شروع ہو چکا ہے اور موت نے ہمیں چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ ہم کچھ ڈاکٹرز تھے جو نہیں جانتے تھے که ہمارے آس پاس پیش آنے والے واقعات کا سامنا کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے۔  تاہم، ہم خطره محسوس کر رہے تھے اور ہمارا اپنے آپ کو پہلے سے تیار رکھنا ضروری تھا۔ ہائی الرٹ کا حکم جاری کردیا گیا تھا۔ ہم انتظار کر رہے تھے کہ میدان جنگ سے جو پہلا آدمی واپس آئے گا، اپنے ساتھ ایک امید بھری خبر لائے گا۔ اچانک ایک زخمی آدمی، لیفٹیننٹ کرنل آپہنچا جس کے ذمے 43 ویں ٹینک آرمڈ بریگیڈ کی ایک بٹالین کی کمانڈ تھی  اسے پچھلی طرف سے ٹانگ میں گولی لگی تهی اور وه بہت گھبرایا ہوا تھا ۔ دقیق معائنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ اسے بھاگتے ہوئے گولی لگی ہے،  اسے ایک تعمیراتی گاڑی کے ذریعے زخمیوں کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا تھا۔  میں نے اس سے کہا:  "جناب کیا ہوا ہے۔"

اس نے جواب دیا: " صبح سویرے ایرانی فورسز نے 9 ویں آرمرڈ ڈویژن کے پڑاؤ کی جگہ، "سوسنگرد-هویزه" محور سےایک زبردست اور غیر متوقع حملے کا آغاز کیا اور انھوں نے کافی پیشرفت کی ہے۔ "

کچھ ہی دیر بعد چند بھاگے ہوئے فوجی، مٹی سے اٹے ہوئے حلیے میں آئے جن میں اکثر "14 ویں مکینیکل بریگیڈ" کے فوجی تھے۔ اکثر افراد کے فرار ہونے، مسلسل گولہ باری اور زخمیوں کی بڑی تعداد نے ہمیں شدید خوف و ہراس میں مبتلا کردیا۔ یہ لوگ اپنا سارا سامان جمع کرکے فرار ہونے کے لئے تیار تھے۔ ہر طرف افرا تفری پھیلی ہوئی تھی۔ میں اس سب سے بہت خوش تھا کیونکہ مجھے ایک ایسے ہی دن کا انتظار تھا جب اسلامی جمہوریه "بعثیوں" کے حملے کا بھرپور جواب دے۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 184


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح؛ گیارہواں حصہ

اس وقت تک میں کبھی ایران سے باہر نہ گئی تھی۔ کوئی اور زبان مجھے آتی نہ تھی
عید الفطر کے اگلے دن، فہیمہ سادات کی ولادت ہوئی۔ علی کی امی کے بقول بہت اچھی صابرہ بچی ہے سارا ماہ رمضان المبارک صبر کیا کہ ہم روزہ رکھ لیں

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔