حسن کمالیان کے نشیب و فراز سے بھرپور واقعات کی داستان

"آقای کاف میم"

علی رضا خزائی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-02-18


"آقای کاف میم" حسن کمالیان کے اُس زمانے میں نشیب و فراز سے بھرپور واقعات  کی داستان پر مبنی کتاب ہے جب وه مسلط کرده جنگ کے دوران فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز کی حیثیت سے موجود تھے۔  اس کتاب کی تحقیق اور تألیف کی ذمہ داری "رضا پاکسیما" کو دی گئی تھی اور اسے "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"، "راه یار" پبلی کیشنز نے جنوری ۲۰۲۰ء  میں شائع کیا ہے۔

"اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب" کے "زبانی تاریخ یونٹ" کا سماجی، سیاسی، علمی، معاشی اور فوجی شعبوں میں فعال لوگوں کی زبانی یادوں کی جمع آوری کے مقصد کو لوگوں کے اقدامات کو محفوظ کرنا سمجھا جا سکتا ہے، جس نے انقلاب سے پہلے، انقلاب کی کامیابی کے بعد اور مسلط کرده جنگ کے زمانے سے آج تک انقلاب اسلامی کے اہداف کو آگے لے جانے میں مدد کی ہے۔

یہ یونٹ اس بات پر زور دیتے ہوئے که انسانی علوم میں انقلاب کیلئے اس مضمون کو صحیح مطالعے کی ضرورت ہے، انسانی علوم کو 70 اور 80 کی دہائی کے تعلیمی، انتظامی، معاشی، ثقافتی اور سماجی تجربوں سے جدا نہیں سمجھتا۔ لہذا، یہ یونٹ ان عوامی تجربوں کے مطالعے کو قیمتی خزانه سمجھتا ہے اور اپنی کتابوں کو "گنج" کے تجارتی نام سے شائع کرتا ہے۔

"آقای کاف میم" نامی یه کتاب، حسن کمالیان کی انقلاب سے پہلے، مسلط کرده جنگ کے زمانے اور اس کے بعد سے آج تک کی سرگرمیوں کے دوران، ایک فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز فنکار کی حیثیت سے ان کی موجودگی کے تجربے کو منتقل کرنے کے مقصد سے شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب، محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"گنج" کے شعبے "زبانی تاریخ" کے تحت شائع کی گئی ہے جو "عوامی دستاویزی فلم اور سینما اسلامی انقلاب" گروپ کی تیسری تالیف ہے۔

دستاویزی فلم ساز اور مقدس دفاع کے فوٹوگرافر حسن کمالیان نے فوٹوگرافی کے کام کی ابتداء، "حزب جمہوری اسلامی" کے "آڈیو ویژول یونٹ" سے کی اور سن 1980 سے "سپاه پاسداران انقلاب اسلامی" کے "ایڈورٹائزنگ یونٹ" کے رکن بن گئے۔

کتاب کے مؤلف رضا پاکسیما نے مقدمے میں، حسن کمالیان سے پہلی ملاقات، اس موضوع کے انتخاب کی وجوہات اور اس کی تألیف و تدوین کے دورانیے کی وضاحت کی ہے۔ وه مقدس دفاع کے سالوں میں حزب جمہوری اسلامی کے آڈیو ویژول یونٹ اور سپاه کے ایڈورٹائزنگ یونٹ میں سرگرمی سے کمالیان کی یادوں کی دلکشی اور خوش کلامی کو کتاب لکھنے پر اپنی ترغیب کا اصلی عنصر سمجھتے ہیں۔ پاکسیما کے مطابق، راوی کے ساتھ انٹرویو  کی ۱۹ نشستیں انجام پائی ہیں۔

مؤلف انٹرویو کے عمل کی خاکہ نگاری میں، کتاب کی تالیف و تیاری میں، مقدس دفاع کے دوران، کمالیان کی "مولائے متقیان (ع)"، "رمضان"، "مسلم بن عقیل" اور "کامیاران" علاقے کے آپریشنز میں موجودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور راوی کی یادوں کو بغیر کمی بیشی کے محفوظ کرنے کیلئے، خصوصی سوالات اٹھاتے ہیں. انھوں نے انٹرویوز کی ترتیب اور انہیں عنوان دینے کے بعد ان کی تألیف کا آغاز کیا ہے۔

اسی طرح انھوں نے 26 مئی سے دسمبر 2018ء  تک حسن کمالیان کے ساتھ 9 اضافی انٹرویو نشستیں رکھیں تاکہ متن کے نقائص کو دور کیا جاسکے۔

مؤلف نے محض کمالیان کی گفتگو پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ڈاکٹر ناصر کمالیان، جواد اردکانی، احمد بیان اور حمید رضا سہیلی جیسے افراد کا مختصر انٹرویو لیا ہے، جن کی سرگرمیوں کے بارے میں راوی نے کچھ باتیں بتائی تھیں۔ آخر میں انٹرویوز کی پیرافاسنگ کے ساتھ، کمالیان صاحب کی سوانح حیات کے حتمی متن کو 15 ابواب میں اشاعت کیلئے تیار کیا ہے۔

13 جنوری 2020ء کو مشہد میں دسویں عمار فیسٹیول کی مرکزی ریلیزز کی اختتامی تقریب کے ساتھ ہی, شہید شاملو اور شہید بصیر کے اہل خانہ کی موجودگی میں "آقای کاف میم" نامی یہ کتاب منظر عام پر آئی۔

حسن کمالیان کی نشیب و فراز  سے بھرپور سرگرمیوں کی داستان کے کچھ حصے آپ ذیل میں ملاحظہ کریں گے:

"میں اپریل سن1981ء  میں حجت الاسلام علوی کے ساتھ ایک کام سے تہران گیا۔ ہمیں اطلاع دی گئی تھی کہ ہم "یوم مزدور" کی مناسبت سے مزدوروں کے اجتماع میں کی جانے والی امام خمینی (رح) کی تقریر میں شرکت کر سکتے ہیں۔ میں جماران کی سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ امام خمینی (رح) ، امام بارگاہ  میں  داخل ہوئے۔ میں اس قدر امام کے چہرے میں  محو ہو گیا تھا کہ بالکل ہی بھول گیا تھا کہ میں یہاں  ایک فوٹوگرافر کی حیثیت سے آیا ہوں۔  میں منتظر تھا کہ امام اپنے چہرے کو گھمائیں اور میں فوٹو لے لوں۔ ایک لمحے  کیلئے امام گھومے۔ میں نے فیصلہ کیا کی یہی میرا من پسند زاویہ ہے۔ میں نے بھی کیمرے کا فلیش مارکر  آدھے چہرے کی فوٹو لے لی۔  یہ فلیش لائٹ لوگوں کے کیمرے کی طرف دیکھنے اور ان کا دھیان بٹنے کا باعث بنی. مجھے محسوس ہوا کہ امام نے بھی جلالی نگاه کی ہے۔ ان کی ّنکھوں میں اس قدر جلال تھا کہ میں نے اپنا کیمرا رکھ دیا۔"    (صفحه 72)

"میری لیے حزب کے آڈیو ویژول یونٹ اور سپاه کے ایڈورٹائزنگ یونٹ میں ایک مشترک کام، عہدیداروں کے مشہد کے سفر کی تصویریں بنانا تھا۔

رجائی نے اپنی وزارت عظمی کے دوران مشہد کا سفر کیا۔ جس وقت سے شہید رجائی مشہد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے میں ان کے ساتھ تھا۔  دوسری شخصیتوں کے برعکس، رجائی اس خصوصی گاڑی میں سوار نہیں ہوئے جو ان کے لیے تیار کی گئی تھی۔  لوگوں نے جتنا  بھی اصرار کیا  انھون نے قبول نہیں کیا۔ رجائی اور ان کے کچھ ساتھی ایئرپورٹ سے شہر کے اندر بس کے ذریعے  آئے۔  میں بھی شہید رجائی کے محافظ "سید رضا شکری" سپاہ کے عمومی روابط کے ممبر اور حکومت کے چند ارکان کے ساتھ بس میں سوار ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے بس میں وزیر اعظم کی موجودگی کو محسوس کرلیا اور ان کا استقبال کیا۔ رجائی کا بس میں موجود لوگوں کے ساتھ رویہ، میرے لیے ایک دلچسپ بات تھی۔  وه بس کے اگلے گیٹ کے پاس کھڑے تھے اور "میں نوکر، میں خادم، میں مخلص"  کے الفاظ کے ساتھ، لوگوں کے استقبال کا جواب دے رہے تھے۔" (صفحه 67)

" دو جوان ہیوی مشین گن کو اس کے پایے پر نصب کر رہے تھے، جیسے ہی انھوں نے میرے ہاتھ میں کیمرا دیکھا تو کہنے لگے: "ہماری بھی ایک فوٹو لے لو۔"

میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا: "میں موضوع کی تلاش میں ہوں۔" انھوں نے بھی جواب دیا: "موضوع بننے کے لئے ہمیں شہید ہونا پڑے گا؟! چلو ایک فوٹو لے لو۔"  میں نے نظر انداز کردیا۔ میں نے کیمرے کو سیٹ کیا اور ان دو لوگوں کی فوٹو لے لی۔ میں ان سے پانچ چھ قدم ہی دور ہوا تھا که ایک زوردار آواز نے مجھے زمین سے اٹھا کر چند میٹر دور پھینک دیا. جب میں نے مڑ کر دیکھا تو یہ دو سبزواری جوان زمین پر پڑے تھے اور ان کے چہرے خون میں لت پت تھے۔ جب میں ان کے سرہانے پہنچا تو وه دونوں شہید ہو چکے تهے اور میری فوٹوگرافی کا موضوع بن گئے تھے۔

بعد میں، میں نے ان کی شہادت سے کچھ منٹ پہلے اور بعد کی جو فوٹوز میں نے لی تھیں ، وه ان کے اہل خانه کے سپرد کردیں۔"      (صفحه 92)



 
صارفین کی تعداد: 105


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی تصادم دیکھا جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔