حمید حسام سے اُن کی زندگی اور اُن کی تالیفات کے بارے میں انٹرویو

محمد علی فاطمی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2020-02-18


"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" ایسی کتاب کا نام ہے جو حسین قرائی کے انٹرویو سے تشکیل پائی ہے۔  سوالات و جوابات کی صورت میں تالیف ہونے والی اس کتاب کے ۱۷۵ صفحات ہیں ، اس کتاب کو مطبوعات شہید کاظمی نے ۲۰۱۹ء کے آخر میں شائع کیا ہے۔

کتاب کا آغاز ایسی فہرست سے ہوتا ہے جس میں زیادہ تر مشہور ثقافتی شخصیات کے نام ہیں۔ اُن کے نام، حسین قرائی کے حمید حسام سے لئے جانے والے انٹرویو کے عناوین قرار پائے ہیں، چونکہ انٹرویو دینے والے نے اُس کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ فہرست کے بعد، دو صفحوں پر "کیلنڈر، کتابیات اور عناوین" کا عنوان ہے۔ حمید حسام کا مختصر تعارف ہے، سن ۱۹۶۱ء سے لیکر جس سال وہ ہمدان میں پیدا ہوئے سن ۲۰۱۹ء تک  کہ مدافعین حرم کی انعام پانے والی سب سے پہلی کتاب (تحفہ شہید ہمدانی) کے تعلیمی سیکریٹری  بنے ہیں۔ اس مدت میں، دفاع مقدس میں دلاوری، ایثار گری، تعلیم اور اُن کی دفاع مقدس سے متعلق ثقافتی کارکردگی، خاص طور سے اس بارے میں اُن کی تالیفات شایان ذکر ہیں۔

حسین قرائی نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ "در جستجوی مہتاب" نامی کتاب حمید حسام سے ہونے والے پانچ مفصل انٹرویو کا ما حصل ہے کہ جن میں سے ایک انٹرویو ہمدان میں تین تہران میں اور ایک دفعہ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ۔۔۔ اور ان پانچ انٹرویوز میں تقریباً تین مہینے کا عرصہ لگا۔" مقدمہ کے بعد، حمید حسام سے ہونے والے انٹرویو کا متن ہے اور اُس کے شروع میں لکھا ہوا ہے: "زندگی اور تحریر"۔ آگے چل کر بھی پتہ چل جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بھی بتایا ہے، اپنی کتابوں  کے بارے میں اور اُن کی تالیف کی کیفیت، اور انھوں نے دفاع مقدس سے متعلق تالیفات اور دفاع مقدس کے مؤلفین اور محققین کے بارے میں بھی اظہار نظر کیا ہے۔

جناب  حسام کی سوالات کے جوابات کے بارے میں گفتگو بھی اُن کی زندگی کے خاص لمحات کی طرف اشارہ کرتی ہے  - جو اُن افراد کیلئے بھی جو اُنہیں پہچانتے ہیں اور اُن افراد کیلئے بھی جو اس کتاب کو پڑھ کر اب اُنہیں پہچان رہے ہیں،  توجہ طلب ہوسکتی ہے – اور اُن کی موضوعات اور شخصیات کے بارے میں رائے بھی جو کتاب کے مختلف مخاطبین کیلئے، ہر کسی کیلئے ایک طرح سے  توجہ طلب اور مورد تحقیق قرار پا سکتی ہے۔ بہرحال انھوں نے اپنی گفتگو سے، سننے والے کیلئے ایک ایسا ماحول فراہم کیا ہے کہ انھوں نے ایک طرح سے گفتگو کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے چاہے وہ مستقیماً ہو یا چاہے  وہ غیر مستقیم طریقے سے ہو۔

"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" نامی کتاب کے صفحہ نمبر ۹۶ اور ۹۷ پر نقل ہونے والے اُن کے اظہار نظر کی ایک مثال کو پڑھئیے: "بہت سے لوگ تالیف (واقعات کے مطالب) کو راوی کی دی گئی معلومات کو انتخاب کرنا سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بغیر کسی کمی و کاستی کے جو چیز بیان کی گئی ہے، ٹھوٹی پھوٹی زبان میں جو گفتگو ہوئی ہے اُس باقاعدہ زبان میں تبدیل کردیں، یہ تالیف ہوجاتی ہے۔ یہ موضوع ہماری کتابوں میں بہت رائج ہے ۔۔۔ لیکن مجھے یقین ہیں شاید وہ پہلا فرد جس نے اپنی کتابوں میں کلمہ "تحریر" کو "تالیف" کے بعد ذکر کیا ہے، میں ہوں۔ میں لکھتا ہوں: "انٹرویو، تالیف اور تحریر۔" اتفاقی تحریر، تالیف سے الگ ہوتی ہے۔ یعنی  تالیف  میکنیکل ڈھانچہ اور راوی کی بیان کردہ باتوں کا انتخاب ہے۔ تحریر راوی کی اَن کہی باتوں کو اُبھارنا ہے کہ وہ اُسے حتماً کہے، لیکن واقعات رونما ہوئے تیس سال گزر گئے جسے وہ بھول گیا ہے اور لکھاری کو اس طرح سے اُس شخصیت کے اندر غوطہ لگانا چاہئیے کہ اُس کے اندر سے اَن کہی باتوں کے موتیوں کو  نکال کر لے آئے۔ اب یہ کام کیسے ہوگا؟ اسی وجہ سے ہمیں اُس کے بارے میں لکھنا چاہئیے جس کو ہم  نے نہ فقط دیکھا ہو، بلکہ اُس کے ساتھ زندگی گزاری ہو ۔۔۔ میں  تین عوامل [اُسی تحریر میں جو تالیف سے بڑھ کر ہے]پر شدت سے اعتقاد رکھتا ہوں: ۱۔ گفتگو یا وہی ڈائیلوگ۔ ۲۔ ماحول بنانا یعنی حقیقت میں زمان و مکان کو لمس کرتے ہوئے بیان کرنا۔ ۳۔ مثالیں یعنی حادثات کا سامنا کرتے وقت انسانوں کے اندرونی عمل اور عکس العمل کو بیان کرنا۔

حمید حسام نے جو یہ عبارت کہی"انٹرویو، تالیف اور تحریر۔"، اس متن نے "اُس کی آنکھوں میں میرا حصہ: حمید حسام کے واقعات" نامی کتاب کی یاد کو زندہ کردیا۔ یہی عبارت مصطفی رحیمی کے نام کے ساتھ، اُن کے اس کتاب کو خلق کرنے کی ذمہ داری کے عنوان  سے آئی ہے۔ یہ کتاب صوبہ البرز میں مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی آرٹ گیلری میں تیار ہوئی اور سن  ۲۰۱۲ء میں مطبوعات سورہ  مہر نے اس کا پہلا ایڈیشن شائع کیا۔ سن ۲۰۱۸ء کے آخر تک تیسرے ایڈیشن تک بھی پہنچ گئی ہے۔

" اُس کی آنکھوں میں میرا حصہ " نامی کتاب دفاع مقدس کے محاذوں پر حمید حسام کے واقعات پر مشتمل ہے؛ دوسرے لفظوں  میں کہا جائے وہ تمام مشاہدے شامل ہیں جو اُنھوں نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ میں دیکھےاور صدام کی جارحانہ فوج سے مقابلہ کیلئے محاذ پر جو اُن کی ذمہ داری تھی اُن سب کا بیان ہے۔ "در جستجوی مہتاب" نامی کتاب اور اس کتاب میں  سات سال کا فاصلہ ہے۔  اگر کسی مخاطب نے "اُس کی آنکھوں میں میرا حصہ" کو پڑھا ہے وہ نئی کتاب میں دونوں کتابوں کے راوی کی شخصیت کے ایک نئے پہلو سے آشنا ہوگا جو زیادہ تر اُن کے نظریہ پر مبنی ہے۔ اگر کسی مخاطب نے "در جستجوی مہتاب" کو پہلے پڑھ لیا، وہ " اُس کی آنکھوں میں میرا حصہ" کی طرف بھی رجوع کرسکتا ہے تاکہ وہ حمید حسام کی زندگی اور اُن کی شخصیت کی تاثیر سے اور زیادہ آگاہ ہوجائے۔



 
صارفین کی تعداد: 100


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی تصادم دیکھا جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔