یادوں بھری رات کا۳۰۶ واں پروگرام – پہلا حصہ

کشمیر کے واقعات

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2020-02-18


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۶  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۶ ستمبر۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں علی سید ناصری، روح اللہ رضوی اور محمد سرور رجائی نے کشمیر اور افغانستان میں انقلاب اسلامی ایران کے اثرات کے بارے میں بتایا۔

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کے ۳۰۶ ویں پروگرام  کے میزبان داؤد صالِحی نے پروگرام کے آغاز میں کہا: "یہ پروگرام دو اہم مسئلوں سے متعلق ہے کہ دونوں ایران کی سرحدی حدود سے باہر کے مسئلے ہیں۔ جس زمانے میں مغلوں نے ایران پر حملہ کیا، میر سید علی ہمدانی نام کی  ایک شخصیت جو بعد میں علی اصفہانی کے نام سے مشہور ہوئے، وہ سات لاکھ ایرانی سادات کے ساتھ کشمیر کی طرف چلے گئے۔ اتنی بڑی تعداد کے کشمیر جانے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئیں؛ زبان، ثقافت اور حتی اُن کے دین اور آئین میں تبدیلی آئی۔ کشمیری مانتے ہیں کہ انھوں نے ایرانیوں کے ذریعہ اسلام قبول کیا ہے، جہاں تک کشمیر کو ایران صغیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کشمیر کے ایک گاؤں میں، ہر دوکان کے اندر امام خمینی (رح) اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ اُن کے اداروں اور اسکولوں کے نام ایرانی شہداء اور امام خمینی کے نام پر ہیں۔ مشترک زبان، مشترک ماحول، مشترک نام، مشترک غذائیں اور مشترک ثقافت، یہ ساری باتیں ایک طرف، انقلاب اسلامی نے کشمیر پر جو تاثیر ڈالی ہے وہ  بھی قابل توجہ ہے۔ ہم  یادوں بھری رات کے اس پروگرام میں کشمیر اور اُن احباب کے بارے میں بیان کریں گے جو آخری دس سال میں ایران اور کشمیر کے درمیان رابطے کو محفوظ  رکھنے کا باعث بنے ہیں؛ مولانا محمد حسین ذاکری جیسی قابل قدر شخصیت۔ یادوں بھری رات کے۳۰۶  ویں پروگرام کے پہلے راوی، سن ۱۹۵۴ میں تہران میں پیدا ہوئے۔ وہ اس سے پہلے محکمہ خارجہ میں ملازم رہےہیں۔ وہ نئی دہلی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کے پہلے سیکریٹری اور ڈپلومیٹ رہے ہیں۔ سفارت خانہ میں اُن کا جو سیاسی عہدہ تھا، اس وجہ سے وہ بہت زیادہ کشمیر آیا جایا کرتے تھے۔ اس رفت و آمد کی وجہ سے اُن کی محمد حسین ذاکری سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ محکمہ خارجہ سے ریٹائر ہونے کے بعد ، وہ ثقافتی کاموں میں مشغول ہوگئے۔ ان ثقافتی کاموں سے حاصل ہونے والی ایک کتاب جس کا نام "کشمیر، ماضی، حال، مستقبل" ہے ایسے افراد کیلئے بہترین کتاب ہے جو کشمیر کے سلسلے میں تحقیقات انجام دینا چاہتے ہیں۔"

پھر پروگرام کے پہلے راوی کے عنوان سے علی سید ناصری نے کہا: "میں بتانا چاہتاہوں کہ مسئلہ کشمیر کیوں اتنی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے؟ یہ مسئلہ جہان اسلام کیلئے کیا اہمیت رکھتا ہے؟ ہم ایرانیوں کیلئے کیا اہمیت رکھتا ہے؟ کشمیر کا مستقبل کیا ہے؟ وہاں پر جن افراد نے خدمات انجام دی ہیں، اُن کی کتنی اہمیت تھی؟  ان سوالات کے جوابات دینے کیلئے پہلے مجھے مجبوراً  مختصر طور پر تاریخ کا جائزہ لینا پڑے گا۔ برصغیر تین ملکوں میں تقسیم ہوا، پاکستان اور بنگلہ دیش الگ ہوگئے۔ اُس علاقے میں آزادی کی جدوجہد کا جو آغاز ہوا، بالآخر سن ۱۹۴۷ ء میں علامہ اقبال کے نظریہ کے مطابق دو قومی نظریہ  پیش ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اب ہم جو آزادی حاصل کر رہے ہیں، ہمیں دو قومیں ہونا چاہئیے؛  مسلمانوں اور ہندوؤں کے دو الگ الگ ملک ہونے چاہئیے۔ پاکیزہ افراد کی عظیم الشان جدوجہد کے بعد، مسلمان الگ ہوگئے اور ملک پاکستان وجود میں آیا۔ کشمیر اُن علاقوں میں سے ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت زیادہ تھی، لیکن آخری وقتوں میں جب تقسیم بندیاں ہو رہی تھیں، ہندوؤں نے کشمیر کو پاکستان سے ملحق ہونے نہیں دیا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ہوئیں۔ دو جنگیں کشمیر کے مسئلے پر اور ایک جنگ مشرقی پاکستان کے مسئلہ پر ہوئی تھی جو وہی حالیہ بنگلہ دیش ہے۔ جو جدوجہد ہوئی، وہ مسلح گروپس کی سطح پر تھی کہ پاکستانی اُن کی حمایت کرتے تھے۔ یہی تین جنگیں باعث بنیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے لئے مختلف قراردادیں جاری کی، جن میں سے وہ اس بات کی قائل ہے کہ کشمیر کی عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق رکھتی ہے؛ یعنی بین الاقوامی لحاظ سے کشمیر کا علاقہ ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس مسئلہ کو کسی دن حل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی لحاظ سے کشمیر کا مسئلہ اس پہلو سے کہ جنوبی ایشیا میں ایک متنازعہ خط ہے، بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ اس علاقے میں رہنے والے زیادہ تر افراد مسلمان ہیں اور وہاں پر جو جدوجہد کر رہے ہیں، دنیائے اسلام اس مسئلہ پر حساس ہے۔ مسلمان کشمیر میں ہونے والے واقعات پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ کہ مسئلہ کشمیر ایرانیوں کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے؟ جیسا کہ اشارہ  کیا گیا، وہاں پر ایرانیوں کے ذریعہ اسلام پھیلا ہے۔ ہماری ایک دفعہ کشمیر حریت پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات تھی،  وہ کہہ رہے تھے کہ ہم ایرانیوں کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ہیں، ہمارے اسلام نے ایرانی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔

ایک زمانے میں ہندوستان پر بہت زیادہ بین الاقوامی دباؤ تھا اور اسی وجہ سے اُس نے شفافیت کے منصوبے کا اعلان کیا کہ باہر سے آنے والا ہر ڈپلومیٹ جو کشمیر جانا چاہتا ہے اور وہاں کے حالات دیکھنا چاہتا ہے وہ جاسکتا ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے بہت سے افراد نے کشمیر کی طرف قدم بڑھائے۔ حتی ہم نے امام خمینی (رح) کی برسی کا پروگرام کشمیر میں  رکھا۔ سرینگر وہاں کا مرکز ہے۔ ہمیں وہاں پر نماز جمعہ کے خطبوں سے پہلے تقریر کرنے کی دعوت دی گئی۔ سفارت خانے میں ہمارے ساتھ کام کرنے والے ایک فرد نے وہاں تقریر کی۔ جس وقت ہم جہاز میں سوار ہو رہے تھے، امریکی ڈپلومیٹ بھی تھے اور ایرانی ڈپلومیٹ بھی تھے۔ جب ہم جہاز سے نیچے اترے، ہم نے دیکھا کہ سرینگر کے تمام انگریزی اور اُردو زبان اخباروں کی سرخیاں کہہ رہی تھیں کہ ایران اور امریکا کی جنگ کشمیر تک پہنچ گئی ہے۔ جموں شہر میں ہماری تقریر تھی۔ کشمیری رہنما کہتے تھے ہم اپنی محافل میں آپ لوگوں کے علاوہ کسی کو آنے کی اجازت نہیں دیں گے، اُن کا اشارہ امریکیوں کی طرف تھا۔ یہ وہ تاثیر ہے جو کشمیر نے انقلاب اسلامی سے لی ہے۔کشمیر میں ایران اور فارسی زبان سے رغبت رکھنا کہ جہاں کے رہنے والے ایرانیوں کے توسط سے مسلمان ہوئے تھے، اس چیز کا باعث بنا  کہ فارسی زبان سالوں تک وہاں کی سرکاری زبان رہی، جیسا کہ ہندوستان میں تھی۔ وہ موضوع جو بہت زیادہ دلچسپی کا حامل ہے، وہ انقلاب اسلامی کی تاثیر کا مسئلہ ہے۔ اُس سے پہلے تک، مسلحانہ جدوجہد تھی  جس کی پاکستان کی طرف سے حمایت ہوتی تھی۔ یعنی ہمیشہ سے وہ افراد جو مسلحانہ جدوجہد کر رہے تھے، خاص طور سے پاکستان اُن کی حمایت کرتا تھا۔ لیکن سن ۱۹۸۹ء  کے بعد وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ مسلحانہ جنگ کشمیر کے مسئلہ کا حل نہیں۔ چونکہ جو لوگ مسلحانہ جنگ کر رہے تھے، بالآخر اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اس حصے کو پاکستان سے ملحق ہونا چاہئیے۔ چونکہ پاکستان اور ہندوستان کی پہلی جنگ میں، کشمیر کے کچھ حصے کو لے لیا تھا جو اس وقت آزاد کشمیر کے نام سے مشہور ہے اور پاکستان میں ہے۔ جو معاملہ شروع ہوا، ایک عوامی اور انتفاضہ کی صورت میں تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہم اپنا حق اور حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں وہ طریقہ کار اپنانا چاہئیے جس طریقہ سے امام خمینی (رح) نے انقلاب کو کامیابی تک پہنچایا۔ مجموعی طور پر کشمیر میں کچھ نئی شرائط وجود میں آئیں۔ جس زمانے میں کشمیر کا مسئلہ اپنے عروج پر تھا، امام خمینی نے کہا کہ کشمیری طیارے ہمارے ایئرپورٹ پر لینڈ  کریں۔ اُن لوگوں کو یہ بات بہت اچھی لگی کہ انقلاب اسلامی کشمیریوں کے اس حق کا دفاع کر رہا ہے، اُن کی حمایت کر رہا ہے۔

جب ہم کہتے ہیں کشمیر، خاص طور سے اس کا مطلب وادی کشمیر اور سرینگر ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر نامی ایک اورحصہ بھی ہے کہ جموں میں زیادہ تر ہندو ہیں۔ ایک اور علاقہ ہے جس کا نام کارگل ہے جو پہاڑوں کے درمیان میں ہے۔ وہاں کے لوگوں کی زندگی سخت ہے۔ وہاں کی فضا اور موسم بہت خشک ہے۔ سال کے چھ مہینے برف باری کی وجہ سے اُن کا رابطہ سرینگر سے منقطع ہوتا ہے۔ وہاں کی عوام معاشی اورثقافتی لحاظ سے بہت غریب ہے۔ وہ کشمیری گروپس جو پاکستان کے طرفدار  تھے، وہ کوشش کر رہے تھے کارگل میں بھی اپنا اثر چھوڑیں۔ جو  کام شیخ حسین ذاکری نے کیا،  یہ تھا کہ انھوں نے کشمیری جوانوں کو پاکستانی گروپس  کا حصہ بننے نہیں دیا۔ اُن کی حریت کے نام سے ایک مزاحمتی شوریٰ تھی جس کے سات اصلی رہنما تھے۔ اُن میں سے ایک رہنما  شیعہ تھا۔ اُن کا نام شیخ عباس انصاری تھا۔ وہ بہت ہی جدوجہد کرنے والے فرد تھے اور انھوں نے انقلاب ہند میں سالوں تک کام کیا۔ وہ بار بار گرفتار ہوتے، چلے جاتے اور واپس آجاتے۔ شیخ حسین ذاکری کوشش کرتے تھے کہ شیخ عباس انصاری اور وادی کشمیر کے شیعیان کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ اگر مستقبل میں کوئی ریفرنڈم ہو کہ کیا کشمیر کا پاکستان میں  الحاق ہو،  یا وہ ہندوستان کی حدود اربعہ میں رہے یا آزاد ہوجائے، کارگل کی عوام اور شیعہ بھی سرینگر اور وادی کشمیر کے شیعوں کے ساتھ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر ہوں  اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کس بات میں عوام کے منافع زیادہ محفوظ رہیں گے۔ جناب ذاکری تعلیم سے مربوط مسائل اور بچوں کی تعلیمی سطح کے بارے میں کوشش کر رہے تھے۔ اُن کی دوسری کوشش یہ تھی کہ کارگل کے لوگوں کو غربت سے نجات دلائیں۔ اس کے باوجود کے مسلمان ہندوستان سے الگ ہوچکے ہیں اور پاکیزہ ملک اور پاکستان کو بنایا ہے، لیکن ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان قوم ہے جو پراکندہ ہے۔ ہندوستان میں دو وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کی معاشرتی سطح نیچے ہے؛ ایک معاشی مسائل، دوسرے ثقافتی اور تعلیمی مسائل۔ جناب ذاکری نے اس سلسلے میں کارگل کے اندر کام شروع کیا۔ ہم نے کوشش کی کہ کالج میں پڑھنے والے کچھ کشمیری جوانوں کو قزوین میں امام خمینی یونیورسٹی میں  داخلہ دلوائیں کہ وہ یہاں آکر اپنی تعلیم مکمل کریں؛ وہ جوان جن کا سفارت خانے  میں انٹرویو لیا گیا۔ اس وقت اُن میں سے کچھ ڈاکٹر اور کچھ انجینئر ہیں۔ وہ سب ایران آئے اور ہماری ثقافت سے اور زیادہ آگاہ ہوئے اور پھر ایران صغیر واپس چلے گئے۔ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ تقریباً وہی کام جو میر سید علی ہمدانی نے اُس زمانے میں کیا تھا، اسلامی جمہوری نے اس زمانے میں انجام دیا ہے۔ جس زمانے میں ہم اسٹوڈنٹس کا انتخاب کرنا چاہتے تھے، کارگل کے چند جوان تھے کہ اُن کے میٹرک کے نمبر اتنے کم تھے کہ ہم انہیں اپنی یونیورسٹی کیلئے انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ جناب ذاکری نے جو زحمات اُٹھائیں اُن زحمات کی وجہ سے، پورے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں کارگلی اسٹوڈنٹس کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تاریخی مسائل اور سیاسی مسائل  کی وجہ سے ہندوستان کا جو کشمیر سے رابطہ ہے، اس کی وجہ سے اجازت نہیں دی گئی کہ ہندوستان  کی طرح وہاں پر بھی بڑی معاشی سرمایہ کاری کی جائے۔ حتی بودائیوں کے اعتراض کی وجہ سے، کارگل ایئرپورٹ کہ جسے حکومت نے بنایا تھا، اُسے دوسرے علاقے میں منتقل کردیا گیا۔ وہ لوگ تعمیری اور وسیع کاموں کے لحاظ  سے بہت غریب ہیں۔ جناب ذاکری کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے لئے جدوجہد نہیں کرتے تھے اور جو کام بھی کرتے تھے، وہ کارگل کے لوگوں کی سربلندی کیلئے کرتے تھے۔  شیخ حسین ذاکری دو موضوع پر زیادہ توجہ دیتے تھے؛ بچوں کی پڑھائی اور اُن کی تعلیمی سطح اور دوسری چیز جس غربت میں وہ لوگ زندگی گزار رہے تھے اُن کو اُس سے نجات دلانا۔  اس کے باوجود کہ اُن کے پاس ہندوستان  کا کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، وہ اپنی تمام کوششوں کو بروئے کام لاتے۔ جب جناب ذاکری اس دنیا سے کوچ کر گئے، لوگوں نے اُن کی تشییع جنازہ میں حق ادا کردیا۔"

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 113


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – اُنیسویں قسط

آدھے گھنٹے بعد ہم نے جفیر گاؤں کے آسمان میں ایک فضائی تصادم دیکھا جس میں دو عراقی طیارے، ایک ایرانی لڑاکا طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وه ایرانی طیاره، عراقی طیاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔