امیر ثامری کی یادوں کے ساتھ – پہلا حصہ

خرم شہر کے ابوذر گروپ کا شہر اور بارڈر پر کردار

فائزہ ساسانی خواہ

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2020-01-11


امیر ثامری کی جوانی کے ابتدائی سال  انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد  انقلاب اسلامی کی کامیابی  اور خرم شہر میں واقع ہونے والے اہم حوادث کے ایام  تھے۔ یہ حوادث خوزستان میں خلق عرب قضیہ سے شروع ہوئے اور مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے اپنے عروج تک پہنچے۔

ثامری جو سن  ۱۹۶۲ء میں آبادان شہر میں پیدا ہوئے  اور اپنی بتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے گھر والے کے ساتھ خرم شہر کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں، وہ اہم اور فعال عوامی گروپ ابوذر کی تشکیل سے آخر تک اُس کے ممبر رہے ہیں۔ یہ عوامی گروپ بحرانی اور حساس ترین حالات میں بھی نوخیز انقلاب کی حمایت کرتا ہے اور اُس کی حفاظت کرتا ہے۔

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار امیر ثامری کے ساتھ گفتگو کرنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں اور عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتائیں۔ اس انٹرویو میں، وہ اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے ابوذر گروپ کو زیادہ متعارف کرواتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس فعال گروپ کے ایک ممبر کا اُس زمانے سے متعلق بیان، صرف ایک شخصی واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک اہم ترین گروپ کی کارکردگیوں کا جائزہ لینا ہے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد خرم شہر میں تشکیل پایا  ہے۔

 

ابوذر گروپ کس زمانے میں بنا تھا؟

ابوذر غفاری گروپ جو ابوذر گروپ سے مشہور ہے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے دوران میرے والد جناب عبد العلی ثامری اور جناب صاحب عَبود زادہ کے توسط سے خرم شہر میں تشکیل پایا۔ اُس زمانے میں میرے والد بہت مشہور تھے  اور وہ نڈر  و بے باک تھے، انہیں بہت سے لوگ جانتے تھے اور لوگوں کو اُن سے بہت توقعات تھیں۔ جیسا کہ میرے والد عرب زبان تھے، وہ بہت زیادہ عرب زبان افراد کو اس گروپ میں جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اُس دن جب لوگوں نے چھاؤنیوں پر حملہ کیا  تھا اور اسلحہ اپنے اختیار میں لے لیا تھا، ہمارا گھر جو دو منزلہ تھا، اسلحہ خانہ بن گیا تھا۔ البتہ شاہ کے زمانے سے، وہ خانہ  بدوش جو آبادان میں رہتے تھے سب مسلح تھے۔ ہم بھی اسلحہ سے واقفیت رکھتے تھے اور ہمیشہ سے میرے والد نے گھر میں  اسلحہ رکھا ہے۔

ہمارے علاقہ جو بہت بڑا او روسیع تھا اس کے علاوہ کوت شیخ کے علاقے کے افراد جو نہر کے اُس پار رہتے تھے وہ ہمارے پاس آئے  اور ہم ایک ساتھ جمع ہوگئے۔ دراصل جناب صاحب عبود زادہ کہ یہ بھی عرب زبان تھے، انھوں نے اپنے سپاہیوں کو میرے والد کے سپاہیوں کے ساتھ ملحق کردیا اور گروپ دن بہ دن  وسیع ہو تا گیا۔ شہر کے بہت سے نوجوان اورجوان جیسے شہید حمید ریحانی اور ان کے بھائی، شہید مسعود پاکی، شہید بیژن طالبی، میرے چچا زاد بھائی شہید  رحیم اورشہید  ریاض ثامری، شہید مرتضی عمادی اور اُن کے بھائی مصطفی، شہید تقی محسنی فر، حمید اور احمد محسنی فر، جنابان جبار بیگی، ملک شاہی، دستگیر زادہ، شہبازی، مرتضی اور مصطفی گُلَک، کاظم سعید زادہ اور اُن کے بھائی، سید رسول اور سید عباس بحر العلوم، محمد حسین کراماتی، عیاد  اور عقیل بہرام زادہ  جو ہمارے محلے میں رہتے تھے اس گروپ کے ممبر بن گئے۔

 

یعنی ابوذر گروپ آپ کے والد اور جناب عبود زادہ کی مرکزیت پر چلتا تھا؟

جی۔ میرے والد اورجناب عبود زادہ گروپ کے فیصلے کرتے تھے اور بہت قدرتمند بھی ہوگئے تھے۔ اُس وقت ابھی تک سپاہ نہیں بنی تھی۔ بعد میں جب جناب جہان آرا نے آہستہ آہستہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو خرم شہر میں تشکیل دیا، ابوذر گروپ کی قدرت، اُسی طرح باقی تھی اور اُن سے زیادہ تھی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ میرے والد انقلاب کی کامیابی سے پہلے  شہید جہان آ را سے  جن کا منصورون گروپ کی تشکیل میں کردار تھا واقف ہوچکے تھے۔

اس گروپ کا نام ابوذر کیوں رکھا گیا؟

یہ کہ اس گروپ کا نام ابوذر کیوں رکھا گیا مجھے دقیق نہیں معلوم۔ جب انقلاب کامیاب ہوا میں سولہ یا سترہ سال کا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم جس شاہراہ پر رہتے تھے اُس کا نام شاہراہ چہل متری سے بدل کر ابوذر غفاری رکھ دیا تھا۔ چونکہ شہر کی مرکزی جگہیں، مثلاً صفا بازار، سیف بازار اور تمام چیزیں اُس کے اطراف کی حدود میں تھیں۔ ہم شاہراہ چہل متری پر مشہور دورقی شاہراہ کے سامنے  ستایش نامی گلی میں رہتے تھے۔ میرے والد کا دفتر بھی تھوڑا سا آگے جاکر تھا  اور وہ اٹلی کی ایک کمپنی سای پِن میں حمل و نقل  کا کام کرتے تھے۔

 

ابوذر گروپ کے وظائف کیا تھے؟

انقلاب اسلامی کی کامیابی کو چند مہینے نہیں گزرے تھے کہ اُس وقت کی عراقی حکومت کی حمایت سے خوزستان کے کچھ عربوں نے علیحدگی کا نعرہ لگایا اور وہ چاہتے تھے کہ خوزستان ایران سے علیحدہ ہوجائے  جو خلق عرب  قضیہ سے مشہور ہوا۔ اس قضیہ کے معاملہ میں، ابوذر گروپ  شہر کے نظم کو محفوظ رکھنے اور اس قصے کو ختم کرنے میں مدد کرتا۔ جبکہ کچھ لوگ کہتے تھے چونکہ آپ لوگ عرب زبان ہیں آپ کا یہ کام خیانت ہے! میرے والد جو اثر و رسوخ رکھتے تھے اُس کی وجہ سے اور ابوذر گروپ کی مدد سے اس   قضیہ کی آگ کو بجھانے میں بہت مدد ملی۔ میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ابوذر گروپ میں ۸۰ فیصد لوگ عرب زبان تھے۔ اس کے بعد سے گروپ کی صورت حال بہتر ہوگئی  تھی اور بہت منظم طریقے سے کام کر رہا تھا، یعنی ہماری باقاعدہ پوسٹیں تھیں۔ انقلاب  کے شروع میں جو اسلحے جمع ہوئے تھے ، وہ اس دوران ہمارے کام آئے۔

 

شہر کے اندر ڈیوٹی دے رہے تھے یا بارڈر پر؟

ابتدائی جھڑپیں شہر کے اندر سے شروع ہوئیں۔ کبھی راتوں میں خلق عرب کا قضیہ اٹھانے والوں سے  درگیر ہوتے اور فائرنگ تک بات چلی جاتی۔ وہ لوگ حملہ کرتے اور ہم اُن کا جواب دیتے تھے۔ چونکہ ہمارے افراد کی تعداد زیادہ تھی اس لئے شہر کی امنیت برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری تھی۔ اسی طرح اُن تمام مظاہروں اور ریلیوں میں بھی حفاظت  کی ذمہ داری ابوذر گروپ پہ تھی جس میں عرب خلق کے  حمایتی گروپ  کی طرف سے بمب نصب کیئے جاتے تھے ۔

ایک دفعہ خرم شہر کی جامع مسجد میں ایک ہینڈ گرنیڈ پھینکا ، میں وہاں کھڑا ہوا تھا۔ گرنیڈ کا ایک ٹکڑا میری شلوار کی جیب میں موجود دو تومان کے سکہ سے آکر لگا تھا  اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ رات کو جب میں نے لیٹنا چاہا تو میں نے دیکھا کہ کوئی چیز مجھے اذیت کر رہی ہے۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ ایک ٹکڑا دو تومان کے سکے پر لگا ہے۔ دو تومان کے سکوں کا سائز بڑا تھا اور سکہ اُس ٹکڑے کے لگنے کی وجہ سے نوکیلا ہوگیا تھا۔ اصل میں سکہ  میں سوراخ ہونے کے بجائے  وہ ٹیڑھا ہوگیا تھا۔

خلق عرب قضیے سے حالات بہت پیچیدہ  ہوگئے تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد پہلے آپ کے دوست  تھے یا کم سے کم ایک دوسرے سے سلام کی حد تک تو واقفیت تھی، کیا ایسا نہیں ہے؟!

جی ہاں ، ایسا ہی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے کیلئے شہرکے کسی عرب نشین علاقے میں  گیا ہوا تھا۔  اُن لوگوں کو پتہ چل گیا تھا کہ میں آیا ہوا ہوں۔ میرا ایک دوست آیا اور اُس نے مجھ سے کہا: "امیر باہر نہیں آنا۔ وہ یہاں پرتمہیں پکڑنے کیلئے آئے ہیں۔ " میرے پاس اسلحہ تھا۔ میں نے کہا: "میں باہر جا رہا ہوں۔" اُس نے کہا: "نہیں جاؤ تمہیں گولی سے اُڑا دیں گے۔" میں نے کہا: "جا رہا ہوں" اور میں اپنے دوست کے گھر سے باہر آگیا۔ میں نے جلدی سے اُن میں سے ایک کو پکڑا  اور اسلحہ سے اُس کا نشانہ لیا اور کہا: "خدا کی قسم، و اللہ! اگر تم ذرا سا بھی ہلے تو میں تمہارے سر میں گولی اتار دوں گا۔" اُس لڑکے نے کہا: "تم عربی ہو، تمہیں ہمارا ساتھ دینا چاہیے!" میں نے کہا: "میں اپنے فارسی دوست اور بھائی کو اپنے گھر سے باہر نہیں نکال سکتا۔ تم لوگ اگر میرے مقابلے میں آؤ گے، میں بھی تمہارے مقابلہ پر آؤں گا۔ پس میں درخواست کرتا ہوں  جب تک یہاں پر میرا ہاتھ کسی کے خون سے رنگین نہیں ہوا ہے، میرا خیال ذہن سے  نکال دو۔ میں بارڈر پر نگہبانی کرتا ہوں، مجھے تم سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر کسی نے مجھ پر اسلحہ تانا، میں اُس پر اسلحہ تان لوں گا۔ آپ لوگ جائیں، مجھے آپ لوگوں سے کوئی سروکار نہیں۔" وہ قانع ہوگئے اور چلے گئے۔

 

آپ کے والد، جناب عبود زادہ اور آپ تمام عرب زبان والے اُن لوگوں سے کیوں موافق نہیں تھے؟

ہم نہیں چاہتے تھے شہر عرب اور عجم کے درمیان تقسیم اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ خرم شہر کے ہم تمام لوگ ایک گھرانے کی طرح تھے، ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور ہم ایک دوسرے سے جدا ہونا نہیں چاہتے تھے۔ ہمارے بہت سے دوست فارسی بولنے والے تھے ، ہم بچپن سے اُن کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے بڑے ہوگئے تھے۔ ہمیں معلوم تھا یہ بات  کہ خوزستان عربوں سے تعلق رکھتا ہے ، اسے ایران سے علیحدہ ہوجانا چاہیئے  ایک غیر منطقی بات ہے اور اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم صرف عرب ہوں۔ مگر کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے بھائی کو اُس کے گھر سے باہر نکال  دے؟

ابوذر گروپ میں آپ کا عہدہ کیا تھا؟

میں اور میرا چچا زاد بھائی رحیم گروپ کے ایگزیکٹو ایجنٹ تھے۔ ہم نے افراد کو دو دستوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔

 

آپ نے فوجی ٹریننگ حاصل کی ہوئی تھی؟

جی۔  میں نے ٹریننگ کے کچھ دورے کیئے ہوئے تھے۔ ایک دورہ خرم شہر میں اور ایک دورہ آبادان میں کیا تھا۔ ایک دورہ میں نے خرم شہر کے سپاہ کے افراد کے  ساتھ اہواز میں  کیا جس میں ۴۵ دن لگے۔ ہمارے مربی کا نام کریم فلسطینی تھا۔ میں ان دوروں میں انفرادی اسلحوں اور فوجی ساز وسامان سے آگاہ ہوا۔ اس کے باوجود کہ ٹریننگ کا مختصر دورہ تھا  لیکن اُن میں مجھے اسٹین گن اور آر پی جی  چلانا آگئی اور میں نے سیکھا کہ  کس طرح لڑا جاتا ہے  اور کس طرح تربیت حاصل کی جاتی ہے۔ ہم جن نکات کو سیکھتے تھے بعد میں دوسرے افراد کو اُن کی ٹریننگ دیتے تھے۔ میں نے بہترین ٹریننگ جو حاصل کی وہ کریم فلسطینی کے زیر نظر حاصل کی تھی۔

 

اُن کو کریم فلسطینی کیوں کہتے تھے؟

چونکہ وہ فلسطینی تھے اور وہ فلسطین سے ہماری مدد کرنے آئے تھے۔

 

خلق عرب کے حامی افراد جو کام انجام دیتے تھے اُن میں سے ایک کام بمب لگانا تھا۔ اُس کی ایک مثال کوت شیخ کے علاقے میں اور دوسری مثال خرم شہر کے سیف بازار میں سن ۱۹۷۹ء میں ملتی ہے۔ اس بارے میں آپ کے پاس کوئی واقعہ ہے؟

جی ہاں، صحیح ہے۔ انقلاب مخالف لوگ شہر کی مختلف جگہوں پر بمب لگا دیتے تھے۔ ہم کبھی  اُنہیں گرفتار کرنے کیلئے جایا کرتےتھے۔ اُس زمانے میں سپاہ نئی نئی بنی تھی اور وہ سپاہیوں کی بھرتی  کر رہے تھے۔ وہ سپاہیوں کے انتخاب میں بہت ہی سخت گیری کر رہے تھے  اور ہر کوئی اُن کا ممبر نہیں بن سکتا تھا۔ افراد کے چھان بین ہوتی تھی اور بہت سے مسائل تھے۔ ابوذر گروپ کے کچھ افراد کو بھی منتخب کیا گیا۔ خرم شہر کی سپاہ کے کمانڈر شہید محمد جہان آرا مجھے بہت پسند کرتے تھے  اور وہ بہت چاہتے تھے کہ میں اُن کے سپاہیوں میں سے ہوں۔ وہ ہمیشہ میرے والد  سے کہتے: "آپ اپنے اس بیٹے کو مجھے دیدیں۔" میرے والد کہتے: "اُس والے کو دیدوں گا۔" جناب جہان آرا کہتے: "نہیں امیر کو دیجئے۔" لیکن  میرے والد نہیں مانتے۔ میرے والد جناب جہان آرا کو سید کہتے تھے۔  ایک دن میرے والد نے مجھ سے کہا: "تم کل صبح سید کے پاس جانا، اُنہیں تم سے کام ہے۔" طے تھا کہ جناب جہان آرا کی ٹیم کوئی آپریشن انجام دے۔ میں نے کہا: "ٹھیک ہے۔" انھوں نے کہا: "اپنا اسلحہ بھی لے جانا۔" میں نے پوچھا: "اپنا بڑا والا اسلحہ لے جاؤ یہ چھوٹا والا؟" انھوں نے کہا: "چھوٹا والا لے جاؤ۔" میں بھی چلا گیا۔ مجھےاچھی طرح یاد ہے کہ عید نوروز کا دن تھا۔ میں جناب جہان آرا کے دفتر میں گیا۔ میں نے کمرے میں داخل ہوکر انہیں سلام کیا۔ انھوں نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو کہا: "یہ کیسا حلیہ ہے؟" میں نے کہا: "کیا کیسا حلیہ ہے؟" انھوں نے کہا: "یہ کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟ مگر  کیا تم جنگ پر جانا چاہتے ہو؟" میں نے کہا: "مگر کیا ہوا ہے؟ میرے لباس کی آستینیں بلند ہیں، اور میری پینٹ جو ہے سادہ ہے!" وہ بولے: "تمہیں اس طرح آنا چاہیے تھا؟!" میں نے کہا: " واللہ میرے والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ اپنا اسلحہ لے کر جانا سید کو تم سے کام ہے، میں بھی آگیا۔" وہ بولے: "جاؤ جاکر اپنا بہترین لباس زیب تن  کرو۔ جینز کی پینٹ اور آدھے آستین کی شرٹ۔" میں نے کہا: "جناب سید آپ صحیح کہہ رہے ہیں یا آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں؟" انھوں نے کہا: نہیں صحیح کہہ رہا ہوں۔ جاؤ بیٹا۔ ہم آپریشن پہ جانا چاہتے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ تم پہچانے جاؤ!"

حاصل ہونے والی دریافت کے مطابق طے تھا کہ خلق عرب کے طرفدار خرم شہر کے پل کے نیچے بمب لگائیں گے اور اس سے پہلے شہر میں یہ کام انجام کیلئے  کامیاب ہوچکے تھے۔ اُس آپریشن میں جو ہم نے انجام دیا تھا ، میں، سید رسول بحر العلوم، جواد بہرام احمدی، احمد فروزندہ اور کچھ دوسرے افراد تھے کہ اس وقت مجھے ان کے نام یاد نہیں، ہماری ڈیوٹی یہ تھی کہ ہم بمب لگانے والوں کو گرفتار کریں اور ہم نے اُنہیں گرفتار کرلیا۔

 

آپ نے اُن لوگوں کو کیسے پہچانا؟

اُن لوگوں کی پہلے  شہید محمد جہان آرا اور احمد فروزندہ کہ توسط سے شناخت ہوچکی تھی کہ وہ لوگ اُس وقت سپاہ کی انٹیلی جنس میں کام کرتے تھے۔ اُس زمانے میں عید کے دنوں میں ایئرپورٹ چوک پر بہت رش لگ جاتا تھا۔ جہان آرا نے کہا: "ہمیں مورد نظر شخص صحیح و سالم چاہیے۔ آپ لوگ دھیان رکھیں کہ عام لوگوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔"

 

آپ کس زمانے سے بارڈر پر نگہبانی کی ڈیوٹی انجام دینے جا رہے تھے؟

کچھ عرصے بعد ہم نے کہا: "جناب صرف شہر میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ہمیں بارڈر کا بھی دھیان رکھنا چاہیے تھا۔ وہ لوگ بارڈر  کے ذریعے اسلحہ یا بمب لیکر آتے ہیں۔" طے پایا کہ ہم بارڈر کو بند کردیں تاکہ وہ  عراق سے اسلحہ یا بمب اسمگل نہ کرسکیں۔

گروپ کے کچھ ممبران، نوجوان تھے۔ وہ صبح کے وقت اسکول جاتے تھے اور اسکول سے چھٹی ہوجانے کے بعد  وہ آکر کھیلتے تھے۔ پھر رات کے وقت میرے والد اُنہیں گاڑی میں بٹھا کر بارڈر لے جاتے اور وہ رات سے صبح تک وہاں نگہبانی کرتے تھے۔ صبح کے وقت اُن لوگوں کو اُن کے گھر کے دروازے   پر چھوڑ دیا جاتا، تاکہ وہ اسکول چلے جائیں۔ خود وہ لوگ اور اُن کے گھر والے واقعا مخلصانہ طور  پر تعاون کرتے تھے۔

 

لوگ آپ کے والد صاحب پر اعتماد کرتے تھے؟

جی ، اعتماد کرتے تھے۔  میں کلی طور پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ خرم شہر کے لوگ آپس میں ایک گھر کی مانند تھے۔ ہمارے پاس شہید بہنام محمد جیسے لوگ بہت تھے جو نگہبانی کیلئے بارڈر پر جاتے تھے لیکن اُن میں سے بعض واقعاً گمنام ہیں۔

 

جو بارڈر پر نگہبانی کرتے تھے  آپ اُن سب کو اسلحہ دیتے تھے؟

نہیں۔ ہمارے پاس اسلحہ زیادہ نہیں تھا کہ ہم گروپ کے تمام افراد کو اسلحہ دیتے۔ اسلحہ کی کمی کی وجہ سے ایک آدمی ڈنڈا، دوسرا آدمی اسلحے، ایک آدمی ڈنڈا،  پھر دوسرا آدمی اسلحے کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ انتخاب کیا جاتا تھا کہ کون اسلحہ اٹھائے گا اور کون ڈنڈا پکڑے گا۔ اُس زمانے میں ان مسائل پر مشکلات ہوتی تھیں کہ ہم اسلحہ کس کو دیں؟  جن کے پاس اسلحہ نہیں تھے ہم اُنہیں ڈنڈا دیتے تھے۔ میرا ایک دوست جس کا نام کامل ہے، کئی سالوں بعد جب  ہم اپنے مشترکہ واقعات کو یاد کر رہے تھے اُس نے مجھ سے کہا: "تمہیں یاد ہے تمہارے بابا ہمیشہ تمہیں یوزی گن اور ہمیں ڈنڈا دیتے تھے؟" مجھے یاد ہے پہلے دن جب مجھے نگہبانی دینے کیلئے لے گئے تھے، میرے والد صاحب نے کہا: "تمہیں قبرستان میں کھڑا ہونا چاہیے!" میں صرف سولہ سال کا تھا۔

 

آپ کا مطلب خرم شہر میں جنت آباد قبرستان ہے؟

نہیں آبادان کا قبرستان۔ میرے ہاتھ میں گن تھی اور اطراف میں نخلستان تھا۔ ہم تاریکی اور اندھیرے میں ڈیوٹی دیتے تھے۔

 

آپ کو وہم یا خوف کا احساس ہوتا تھا؟

بالکل اُن درختوں کا خوف آدمی کو جکڑ لیتا ہے۔ آپ نخلستان کو دور سے  نہ دیکھیں۔ جب بالکل کھجور کی فصل ہوتی ہے آپ درخت کے نیچے جائیں، ایسا لگتا ہے کہ درخت آپ پر حملہ کرنے والا ہے! جب آپ اُس کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو ایسا  لگتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ اسے کہتے ہیں درختوں کے خوف میں جکڑ جانا۔

 

دن  میں نگہبانی کیسا تجربہ تھا؟

چیک پوسٹ کے سپاہی جن کی تعداد کم تھی وہ دن میں نگہبانی دیتے تھے۔ ایک چکر لگانے والی گاڑی آتی اور چکر کاٹ کر چلی جاتی۔ جو کوئی عراقی سرزمین سے ہماری سرحدوں میں داخل ہونا چاہتا  تھا تو وہ کھڑا ہوجاتا، جب چکر لگانے والی گاڑی گزر جاتی پھر وہ ہماری سرزمین پر قدم رکھتا، لیکن ہم راتوں کو بہت زیادہ دھیان رکھتے تھے۔ ہم نے سپاہیوں کو اس طرح سے کھڑا  کیا ہوا تھا کہ کوئی  ہماری سرزمین میں داخل نہ ہو۔  اس طرح ہم نے شہر میں بمب لگانے کے عمل  کو روک لیا۔  اب تخریب کاری کرنے والے افراد رسک نہیں لیتے تھے اور وہ آسانی سے شہر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ اُس زمانے میں واقعاً خرم شہر کے لوگوں نے شہر کی حفاظت کرنے میں بہت سختیاں جھیلی ہیں۔

 

بارڈر پر نگہبانی کا سلسلہ کس زمانے تک جاری رہا؟

ہم باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے تک راتوں کو بارڈر پر نگہبانی کرتے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے عراقیوں سے کچھ مختصر جھڑپیں ہوئیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے دو لوگ شہید ہوئے تھے شہید موسیٰ بختور اور عباس فرحان اسدی۔ اُسی زمانے سے میں نے عراقی بارڈر پر ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرلیا تھا۔ بہت سے عراقی نگہبان شیعہ اور ہمارے دوست تھے اور ہم اُن میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ باتیں کرتے تھے۔ اُنہیں ہمارے افکار اچھے لگتے تھے اور وہ انقلاب کے بارے میں ہم سے سوال کرتے تھے۔ مثلاً ہم سے پوچھتے:"انقلاب لانا اچھا ہے؟" کچھ عرصے بعد ہم نے دیکھا کہ اُن لوگوں تبدیل کردیا ہے اور اُن کے مورچے اور زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ اعلان کرتے: یہ لوگ اپنے فوجیوں کو بدل رہے ہیں۔ جب عباس بہار لو یا جناب محسنی فر گشت لگانے کیلئے آتے تھے  میں اُن سے کہتا: "دیکھیں یہ کچھ عرصہ پہلے کے فوجی نہیں ہیں! ہم یہاں ہر روز دیکھ رہے ہیں، یہ لوگ اپنے فوجیوں کو تبدیل کر رہے ہیں!"

 

آپ نے جو کہا ہمیں احساس ہوگیا تھا کہ وہ مضبوط اور مستحکم ہو رہے ہیں یعنی انھوں نے مورچے بنانے شروع کر دیئے تھے؟

دیکھیں پہلے مورچے نہیں بنائے جاتے تھے۔ اسٹاف کے افراد سادہ سپاہیوں سے بہت فرق کرتے ہیں۔ ہمیں اس کام کا تجربہ ہوچکا تھا۔ میں متوجہ ہوگیا تھا اُن کی افواج اصلاً معمولی افواج نہیں ہیں، بلکہ بہترین فوج ہے ۔ جبکہ ہماری چیک پوسٹوں  پر اس طرح کے سپاہی نہیں تھے۔ آہستہ آہستہ دیکھا کہ عراقیوں نے مورچے بنا لئے ہیں اور جنگی ساز و سامان لے آئے ہیں۔ میں جو چیز بھی  دیکھتا اپنے والد صاحب کو بتا دیتا اور اصرار کرتا: "بابا جلدی کریں، کچھ سوچیں، کچھ تو کریں! یہ لوگ سوچے سجھے منصوبے  کے تحت آئے ہیں۔ فوجی ساز و سامان لیکر آ رہے ہیں!" میرے والد صاحب کہتے: "میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے اپنی میٹنگوں میں اعلان کیا ہے اور کریں گے۔" میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ  جون ۱۹۸۰ء میں ہونے والی جھڑپ اور اس میں مرنے والے ۲۱ افراد کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ ایک بڑی جنگ کیلئے مہیا ہو رہے ہوں اور ایک دن  ہم اپنے گھروں میں بیٹھے ہوں اور غفلت کے عالم میں ہمارے سروں پر بمب گرا دیں۔ اُس وقت سے لیکر جنگ شروع ہونے تک، تقریباً تین مہینے کا عرصہ لگا۔

شہیدان موسی بختور اور عباس فرحا ن اسدی کی تاریخ شہادت  ۱۱ جون ۱۹۸۰ ہے  اور جنگ باقاعدہ طور پر  ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ء کو شروع ہوئی ۔

جی۔  اس صورت حال میں تقریباً تین سے چار مہینے کا عرصہ لگ گیا۔ مجھے دقیق تاریخیں یاد نہیں ہیں۔ اب آپ کو چونکہ تاریخ سے سروکار ہے اور آپ محقق ہیں اس لئے آپ بہتر جانتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 89


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔