تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیرہویں قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-01-09


میں نے کچھ دن اس بیابان میں گزارے اور اس دوران ایرانی طیاروں کے خوف کی وجہ  سے کوئی نواله آسانی سے میرے حلق سے نہیں اترا۔ اس دوران میں لیفٹیننٹ کرنل " رحمان" سے آشنا ہوا جو دیوانیہ کے رہنے والوں میں سے ایک افسر تھا۔ وه ایک با وقار اور روشن خیال شخص تھا اور اسکے ساتھ وه خشک فوجی ضوابط کا پابند تھا که جسکے ہاتھ میں بریگیڈ کی کمانڈ تھی۔  کسی زمانے میں یہ کرنل حکومت کے مخالفوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وه جنگ سے اپنی ناراضگی کو چهپاتا نہیں تھا اور اسکے نظریات اور سیاسی تجزیے، منطقی اور سننے لائق تھے۔

لیکن میجر "مهدی" ٹیلی مواصلات کمپنی کا کمانڈر حزب بعث کے گھٹیا افسروں میں سے تھا جو صرف اپنا پیٹ  بھرنے اور لوگوں کی جائیدادیں چوری کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔ وه چوری اور توهین کرنے کی وجه سے مشہور ہو گیا تھا۔ یہاں تک که اسے "ابو فرهود" کا لقب مل گیا اور یہ اس شخص سے کنایہ ہے جو لوگوں کی جائیداد اور اثاثے لوٹتا ہے۔ خدا نے آخرکار اسے اس کے اعمال کی سزا دی۔ بغداد میں اس کے نو ساختہ گھر میں آگ لگ گئی اور اس کا گھر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ اس گھر کی بنیادیں حرام سے بنائی گئی تھیں۔

24 اکتوبر 1980 کا دن سہانے موسم کے ساتھ ایک پرسکون دن تھا۔ علاقے کا سکون صبح 10 بجے تک برقرار رہا یہاں تک کہ ایک ایرانی جنگی جهاز جفیر کی طرف سے ظاہر ہوا اور اُس نے ہماری چھاؤنی کے قریب اپنے بم گرانے سے چند لمحوں پہلے  کی خاموشی توڑدی اور ہماری فورسز کی فضائی دفاعی فائرنگ کے دوران وه جنگی طیارہ حمید چھاؤنی کی طرف چلا گیا۔ چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ٹینک پر تعینات فوجیوں میں سے ایک فوجی نے اسے نشانا بنایا۔ طیارے نے اپنے آپ کو  اسی حالت میں حمید چھاؤنی کے شمال غرب تک پهنچایا اور نظروں سے غائب هوگیا۔ چند لمحوں بعد ایک دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے بعد ہماری پوزیشن سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر آگ اور دھویں کا ایک غبار بلند ہوا۔ ایرانی لڑاکا طیارہ گر چکا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد، ایک عراقی فوجی،  لیفٹیننٹ کرنل " عدنان" کے پاس آیا۔ میں اس کے برابر میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔ فوجی نے کہا: "جناب، یہ اس ایرانی پائلٹ کا سامان ہے جس کا طیاره گرا ہے۔"

کرنل نے پوچھا : " پس پائلٹ کہاں ہے؟"

فوجی نے جواب میں کہا :" سر میں گولی لگنے کی وجہ سے مارا گیا  ہے اور اس کے ہاتھ کی گھڑی اور ریلوار بھی لوٹ لیا گیا ہے۔"

کرنل عدنان نے سامان لے لیا اور کہا : "جاؤ اور اس کے جنازے کو وہیں دفن کردو!"

اس فوجی کے جانے کے بعد، میرے دوست نے سامان کو کنگھالنا شروع کیا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ سامان میں ایک فوجی نقشہ تھا جس پر پہلے سے طے شده اہداف معین کیے گئے تھے، ایک مائع کی بوتل، ایک سفید پاؤڈر کا ڈبہ اور آخرکار پائلٹ کا شناختی کارڈ۔ کرنل "عدنان"  نے مجھ سےچاہا که جو جملے انگریزی زبان میں بوتل پر لکھے ہوئے تھے انهیں اس کے لیے پڑھوں۔ میں نے بھی پڑھ دیئے۔ بوتل اور ڈبے میں موجود مواد در حقیقت پائلٹ کا کھانا تھا که جیسے هی اس کا طیاره  صحرا میں گرتا تو یه مواد 24 گھنٹے تک اس کے لیے کافی تھا۔ لیکن پائلٹ کی شناخت: فرسٹ لیفٹیننٹ عبدالحسین، جائے پیدایش تهران۔  اس کا طیاره ایف 5 تھا۔ میں نے کوشش کی کہ ان معلومات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھوں۔

جب میں سن 1982 ء میں جنوبی علاقے کے آپریشنز میں گرفتار ہوا اور تہران کے اسیروں کے کیمپوں میں سے ایک کیمپ میں داخل ہوا تو کیمپ کے اہل کاروں میں سے ایک جس کا نام "ابو محمد" تھا ہمارے پاس آیا اور اُس نے محاذ پر شہید هونے والے ایرانیوں کے دفن کی جگہوں کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ میں نے رضاکارانه طور پر ساری معلومات بشمول اس شهید پائلٹ کے دفن کی جگه کے فراهم کردیں۔ کئی سال بعد میں نے اسلامی جمهوریه اخبار کے ایک ایرانی رپورٹر سے ملاقات کی جس کا نام "مرتضی سرهنگی" تھا۔  وه اسیروں کا انٹرویو لیتا تھا اور ان کی جنگ و محاذ کی یادوں کو قلمبند کرتا تھا۔ میں نے اپنی یادیں اور اس پائلٹ کی کہانی اسے سنائیں۔ سن 1987ء  میں بھی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے دو افراد هم سے ملنے آئے تھے اور محاذ پر  شهید ہونے والے  ایرانیوں کے دفن کے مقامات کے متعلق معلومات طلب کیں۔  میں نے کچھ معلومات خصوصاً اس پائلٹ سے متعلق معلومات، حادثه کی جگہ کے نقشے کے ساتھ اور دقیق معلومات جو میں نے ایک بڑے صفحہ پر کھینچی تھی ان کے حوالے کردیں۔ مہینے گزر گئے۔ ایک دن کیمپ کے سیکیورٹی آفیسر نے مجھے اطلاع دی کہ تمہاری کچھ لوگوں سے ملاقات ہوگی ۔ اس نے مجھے ان لوگوں کے نام بھی بتا دیئے۔ میں نے اس سے کہا :"میں ان میں سے کسی کو نهیں پہچانتا" اس نے کہا :" آخرکار تم ان لوگوں سے ملو گے" میں نے یقین حاصل کرلیا که وه لوگ ایرانی اہلکار ہیں۔ میں نے اس سے کہا : "شاید وه میرے دوست ہیں اور عرفی نام کے ساتھ اور بعنوان مهاجر ایران میں داخل ہوئے ہیں۔"  بہرحال میں اس رات نہیں سویا اور اپنے دوستوں اور جاننے والوں کی جو یادیں میرے ذهن میں ره گئی تھیں ان کا جائزه لینے لگا۔ اگلے دن کی صبح میں نے اپنا بهترین لباس پہنا، خوشبو لگائی اور اسیروں کے کیمپ کے کلینک، جو میری روزمره کی سرگرمی کی جگہ تھی چلا گیا اور بے صبری سے ملاقات کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ صبح 9 بجے کیمپ کے سیکیورٹی آفیسر برادر " میرزائیان"  پر رونق چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے اور انھوں نے کہا: "تم سے ملاقات کرنے والے آگئے ہیں۔" میں ان کے ساتھ ان کے دفتر گیا۔ راستے میں انھوں نے مجھے بتایا که وه دو آنے والے ایرانی بھائی ہیں اور چند ماه پہلے تم نے سپاه پاسداران کو اس شهید پائلٹ کے متعلق جو معلومات دی تھی یہ لوگ اسی وجہ سے یہاں آئے ہیں اور انھوں نے مزید کہا کہ :" وه لوگ پریشان نظر آتے ہیں اور انہیں یقین نہیں آرہا ہے که ایک جنگی اسیر انہیں ان کے بیٹے کے سرانجام سے آگاه کرے گا۔" کچھ لمحوں کے  بعد میں سیکیورٹی آفیسر کے دفتر میں داخل ہوا اور دو ادھیڑ عمر کے افراد کو اپنے سامنے دیکھا۔ میں نے سلام کیا اور ان سے ہاتھ ملایا۔ پہلی شخصیت پچاس سال کی لگ رہی تھی جنهوں نے اپنے آپ کو شهید اور ایک لاپته پائلٹ کے والد کے عنوان سے متعارف کروایا۔ ان کے چہرے پر ایمان اور وقار کے آثار نمایاں تھے۔ انھوں نے کہا که وه ایک ہائی اسکول کے پرنسپل ہیں۔ دوسرا شخص چالیس سال کا لگ رہا تھا اور ایئر فورس کا کرنل اور اسی لاپته پائلٹ کا بهنوئی تھا۔ پائلٹ کے والد نے شروع میں کہا: " اس معلومات کے مطابق جو آپ نے ایک شہید پائلٹ کے متعلق سپاه پاسداران کو دی ہیں، انھوں نے اس علاقے میں تلاش کیا اور انہیں ایک پائلٹ کی لاش ملی ہے۔ مجھ سے کہا گیا ہے که وه جنازه آپ کی معلومات کی بنا پر میرا بیٹا ہے، لیکن میں نے ابھی تک کوئی لاش نہیں لی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ واقعے کو آپ کی زبان سے سنوں تاکہ میرے دل کو سکون ملے اور سالوں سے جو تکلیف اور پریشانی میرے دل میں ہے وه ختم ہوجائے"  میں نے واقعے کو پوری تفصیل سے بیان کیا۔ جیسے ہی میری گفتگو ختم ہوئی۔ شہید کے والد نے ایک چیخ ماری  اور بولے:" وه میرا بیٹا ہے" اور رونے لگے۔ کمرے میں موجود تمام لوگ شدید متاثر ہوئے ۔ شہید کے والد جھکے تاکہ میرے ہاتھ کا بوسه  لیں۔ میں نے تیزی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ میں نے انہیں ان کے بیٹے کی شهادت کی تعزیت پیش کی۔ اس آدمی نے اپنے آنسوؤں کو پونچھتے هوئے دل کی گهرائیوں سے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا:" میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا شہید ہوا ہے۔" میں نے ان سے خدا حافظی کی اور صدام اور اس کے آقاؤں پر لعنت کی جو اس ساری قتل و غارت گری کی وجہ تھے، اور  اسیروں کے کیمپ میں واپس آگیا۔

جاری هے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 460


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔