دفاع مقدس کے بارے میں اہل قلم حضرات کے واقعات

محمد علی فاطمی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-12-15


"تا پلاک ۱۴۰: دفاع مقدس کے بارے میں اہل قلم حضرات کے واقعات" نامی ایک ایسی کتاب جس کے ۵۴۳ صفحات ہے۔ کتاب کے پچھلے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے کہ: "یہ کتاب مؤلف (آذر خزاعی سرچشمہ) کی تین سالہ کوشش کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے ۱۴۰ آرٹسٹوں اور لکھاریوں کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا ہے  کہ دفاع مقدس کے زمانے میں ایرانی عوام  کی زندگی کو بامقصد دکھانے کیلئے غیر داستانی روایتوں، دل کی باتوں اور اُن کی یادوں سے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ میں قرار پانے والے راویوں نے خود اپنے نکتہ نگاہ سے، وہ خود جن حوادث میں گرفتار تھے  اور جنہیں انھوں نے اپنی جلد اور گوشت سے محسوس کیا ہے، ان واقعات کو بیان کیا ہے۔"

"تا پلاک ۱۴۰" نامی کتاب کےمشخصات کے بقول، یہ کتاب صوبہ تہران میں دفاع مقدس کے تمام قیمتی آثار کی حفاظت  اور نشر  کرنے والے ادارے اور صریر مطبوعات کے توسط سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب سن ۲۰۱۹ کے آخر میں کتابوں کے بازار میں آئی  اور ۳۰ نومبر کو انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس کے میوزیم  کے قصر شیریں ہال میں اس کی تقریب رونمائی ہوئی۔

کتاب کے مقدمہ کا عنوان "واقعہ، جنگ اور محاذ سے نزدیک تر ہونے کا ادبی طریقہ" جسے "پویہ پایداری" کتاب سے لیا گیا ہے، جسے مؤلف اور تاریخ ادبیات کے محقق جناب علی رضا کمری نے لکھا ہے۔ آذر خزاعی سرچشمہ نے بھی مقدمہ میں لکھا ہے کہ "تا پلاک ۱۴۰" کس طرح تشکیل پائی۔ انھوں نے ذکر کیا ہے: "اس مجموعہ کے بعض واقعات کو گفتگو اور انٹرویو کی صورت میں مرتب کیا گیا تھا کہ راویوں سے موافقت کے بعد اُن کی گفتگو کرنے والی زبان کو تحریری زبان میں ڈھال دیا گیا ہے۔ بعض ایسے واقعات تھے جنہیں یاد داشت کی صورت میں بیان کیا گیا  کہ جنہیں اس کتاب میں دوسروں سے علیحدہ نہیں کیا گیا ہے۔"

واقعات پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ ہر واقعہ سے پہلے اُس کے راوی کا مختصر تعارف کروایا گیا ہے۔ کبھی یہ تعارف خود اس راوی کے ذریعے لکھا گیا ہے؛ اُس کی روایت کے اُسی منظر سے یا غیر مستقیم طریقے سے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اُس میں راوی کا قلم کار فرما رہا ہے۔ بہت سے راویوں نے بھی اس مجموعے میں ایک سے زیادہ واقعات بیان کئے ہیں۔ کتاب کے اندر واقعات کو راویوں کے خاندانی ناموں کی حروف تہجی کے لحاظ  ترتیب دیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں بعض راویوں کے ہاتھوں تحریر کردہ مطالب کی تصاویر ہیں؛ اُس متن کی تصویر جو انھوں نے "تا پلاک ۱۴۰" نامی کتاب کیلئے لکھا ہے۔

کتاب کے راویوں کے نام کی تکرار، واقعات کے اس مجموعہ  کو متعارف کروانے کا ایک اور طریقہ ہے۔ ان ناموں  کے بارے میں لوگ دلچسپی اور تجسس رکھتے ہیں اور وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صدامی افواج کی مسلط کردہ جنگ کے دوران  اُن کے مورد نظر نام  نے کس چیز کو یاد کیا اور کون سے واقعہ کی روایت کی ہے: جعفر ابراهیمی (گواہ )، حبیب احمدزاده، حسن احمدی، محمدکاظم اخوان، اصغر استاد حسن معمار، حسین اسرافیلی، رضا اسماعیلی، علی رضا اشتری، ایرج افشاری اصل، جواد افهمی، احمد اکبرپور، عزت‌الله الوندی، غلام رضا امامی، سیدمحسن امامیان، داؤد امیریان، اسماعیل امینی، امیرحسین انبارداران، طاهره ایبد، امیراسماعیل آذر، علی آقاغفار، محمدعلی آقامیرزائی، خسرو باباخانی، گل علی بابائی، امیرکاؤس بالازاده، عباس‌علی براتی‌پور، مریم بصیری، هدایت‌الله بهبودی کلهری، محمدعلی بهمنی، سعید بیابانکی، موسی بیدج، پرویز بیگی حبیب‌آبادی، کوروش پارسا نژاد، کامران پارسی ‌نژاد، طیبه پرتویی راد، مجید پورولی کلشتری، راضیه تجار، زهرا تعجب، جعفر توزنده ‌جانی، یعقوب توکلی، محمدجواد جزینی، گلستان جعفریان، لیلا جلینی، جمشید خانیان، مصطفی جمشیدی، محمود جوان بخت، مهدی چمران، رضا حاجی‌آبادی، سیدحبیب حبیب‌پور، حمید حسام، ابراهیم حسن‌بیگی، سیدحسن حسینی ارسنجانی، محمد حنیف، گیتی خامنه، محمد خامه‌یار، آذر خزاعی سرچشمه، جهانگیر خسروشاهی، شمسی خسروی، هادی خورشاهیان، حمیدرضا داداشی، علی داؤدی، وارطان داؤدیان، محمد دهدشتی، احمد دهقان، مجید راستی، مجتبیٰ رحمان دوست، مصطفی رحمان دوست، حسن رحیم‌پور، مصطفی رحیمی، علی رستمی، محمدمهدی رسولی، میثم رشیدی مهرآبادی، رحیم زریان، حسین نصرالله زنجانی، زهرا زوّاریان، وجیهه سامانی، مرتضی سرهنگی، عبدالرحیم سعیدی راد، محمدرضا سنگری، سیدعبدالله حاجی‌سیدحسن، صدیقه شاهسون، کامران شرفشاهی، شهرام شفیعی، عبدالرحمان شلیلیان، محمدرضا شمس، محبوب شهبازی، سعید صادقی، اکبر صحرائی، احسان عباسلو، احمد عربلو، افشین علاء، سعید علامیان، یوسف علی خانی، قاسم غلامی، مهناز فتاحی، سعید فخرزاده، حسین فدائی‌حسین، فاطمه فروغی، محمدقاسم فروغی جهرمی، میرشمس‌الدین فلاح هاشمی، ناصر فیض، محمد قاسمی‌پور، علی قانع، یدالله قائم‌پناه، محمد قبادی، محمدحسین قدمی، علی رضا قزوه، فرزانه قلعه‌وند، یوسف قوجُق، مجید قیصری، سیدعلی کاظم‌داور، اصغر کاظمی، عبدالجبار کاکائی، جواد کامور بخشایش، عین‌الله کاوندی، الهه کسمائی، جواد کلاته عربی، سیدمجید گل‌محمد، افسانه گودرزی، محمدعلی گودینی، مصطفی محدثی خراسانی، نصرت‌الله محمودزاده، محمد محمودی نورآبادی، رحیم مخدومی شربیانی، مردعلی مرادی سلیمی، محسن مطلق، بیوک ملکی، محسن مؤمنی شریف، علی مهر، عزت‌الله مهرآوران، سیداکبر میرجعفری، سیدمحمد میرکاظمی، سیداحمد نادمی، ساسان ناطق، عبدالمجید نجفی، محمدسعید نقاشیان، علی‌اکبر والائی، سیمین‌دخت وحیدی، سیدولی هاشمی، سیدیاسر هشترودی، سیروس همتی۔



 
صارفین کی تعداد: 122


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔