ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ایک آدمی دروازے پر ہے آپ سے کوئی کام ہے

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2019-12-15


کمیٹی [مجلس] کے انتخابات سر پر تھے اور طے یہ پایا تھا کہ انتظامات کے لئے انجمن کے اراکین سے مدد لی جائے گی۔ خدا کرنی تھی کہ میں بھی صبح تڑکے ہی مسجد جا پہنچی۔ میری خواہش تھی کہ ووٹوں کی گنتی میں مدد کروں لیکن میں جانتی تھی کہ اگر گھر گئی  اور اجازت طلب کی تو مشکل میں پھنس جاوں گی میرے بھائی  مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیں چہ جائیکہ ووٹوں کی گنتی کے لئے مسجد کی صلاح دیں۔ اسی لئے میں انجمن کی ایک محترم شخصیت کے ہمراہ گھر آئی تاکہ وہ میرے بڑے بھائی سے اس کام کی اجازت لے لیں، گاڑی سے اتر کر میں پہلے گھر میں داخل ہوئی بھائی گھر پر ہی تھے۔

ایک آدمی دروازے پر ہے آپ سے کوئی کام ہے۔۔۔

یہ کہہ کر میں سیدھی گلی میں جا کھڑی ہوئی اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ بھائی مجھ سے کچھ پوچھے۔ وہ بھی ناچار میرے پیچھے باہر آگئے۔ جن صاحب کے ساتھ میں گھر آئی تھی وہ وجیہ اور رکھ رکھاو والی شخصیت کے مالک تھےانہوں نے بھائی سے دعا سلام کی اور بات شروع کی میں ان دودنوں کی باتوں پر کان لگائے گاڑی کے پاس کھڑی تھی ، انہوں نے کہا  " میں خود آپ کی بہن کو لے جاوں گا اور خود گھر چھوڑنے آوں گا آپ مطمئن رہیں یہ بھی میری بہن کی طرح ہی ہے''۔ بھائی نے سر جھکا لیا ۔ پسینہ کے قطرے ان کے بالوں پر چمک رہے تھے  وہ ان صاحب کی گفتگو اور میری خواہش کے زیر اثر کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ میں کنارے کھڑی  تھی اور آنکھیں اس کے ہونٹوں پر جمی تھیں۔ میںجانتی تھی کہ میری واپسی پر بھائی مجھے بے بھاو کی سنائے گا مگر اس وقت تو میرا سارا ہم و غم صرف جانا تھا۔ گنتی صبح تک جاری رہی، صبح دم ،جن صاحب نے  میرے لئے بھائی سے اجازت لی تھی ، انہی کے ساتھ گھر آ گئی۔ میری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں سارا دن پڑے سوتے رہنے کا من تھا مگر گھر میں داخل ہوتے ہی بھائی  کچھ اس طرح دہاڑا کہ نیند رخصت ہوگئی۔

-میں کتنا بے غیرت ہوں، ایک آدمی کی بہن ساری رات گھر واپس نہ آئے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟؟

وہ چلائے جا رہا تھا اور میں جو بخوبی مہم سر کر چکی تھی، صرف سننے پر اکتفاء کر رہی تھی جواب دینے سے گریز۔

یہی مسئلہ بہانہ بنا کہ میرا اور مسجد و انجمن کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ بھائیوں نے میری تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی ضد کرنا بے سود تھا۔  ایک دوست کے ہاتھ  علی کو پیغام بھجوا دیا کہ اب میں انجمن  کے لئے کام کرنے سے قاصر ہوں۔ اس نے بھی بھِی ایک چھوٹا سا رقعہ لکھ بھیجا '' انقلاب کو ہمارے ان کاموں کی ضرورت ہے اور اگر یہ ثقافتی امور انجام نہ دئیے جائیں تو انقلاب پائیدار نہ ہوگا''۔  علی کی تحریر کو بڑی حسرتوں سے کئی بار پڑھا، دل کہتا تھا کہ کسی بھی طرح بھائیوں کو راضی کروں  مگر یہ کام ہونے والا کب تھا۔

کافی عرصہ تک میں صرف پڑھائی میں مصروف رہی بارہا دل چاہا کہ مسجد چلی جاوں کتابخانہ میں گھوموں اور کتابیں تلاش کرکے مجلے کے لئے کچھ تحریر کروں مگر اس کی ہمت نہ تھی۔  ہر روز دل اکساتا کہ انجمن کے دفتر چلی جاوں لوگوں سے ملوں مگر اتنی جرات کہاں تھی۔ اب گرم ہوا میں گھر سے نکلنے کی کوئی وجہ میرے پاس نہ تھی۔  اسکول آتے جاتے راستے میں دیواروں پر ٹوٹے پھوٹے نعرے پڑھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا  کہ اسکول کے در و دیوار پر بھی تو پوسٹرز لگانا ضروری ہیں ۔۔۔ یہ انجمن کے ساتھ دوبارہ جڑ جانے کا بہترین راستہ تھا۔

ایک دن دوپہر کے وقت بھائیوں کی غیر موجودگی  سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں انجمن کے دفتر جا پہنچی ۔ اب انجمن کا نام  انجمن اسلام ی مبین ہوچکا تھا۔ حسنِ اتفاق، علی بھی چار پانچ لوگوں کے ساتھ وہیں تھا اور حسب معمول سر کھکائے میز کے کنارے کرسی پر بیٹھا تھا۔ تمازت آفتاب سے جھلسی ہوئی اس کی صورت میں صرف پیشانی اور لمبے بال میری نظروں کے احاطہ میں  آ سکے۔ اراکین انجمن میں سے ایک نے خاموشی توڑی اور اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے گویا ہوئے۔

-پوسٹر اور دیگر چیزیں آپ کو دینے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں  آپ فقط یہ بتائیں کہ آپ مجاہدین کے ادارہ [ سازمان مجاہدین]  کو قبول کرتی ہیں؟

میں جو سرجھکائے ان کی بات سن رہی تھی چونک پڑی اور تعجب سے ان کو دیکھ کر کہا سازمان مجاہدین؟؟؟؟

انواع و اقسام کے تفکرات میرے ذہن میں ابھرے ۔ میں سوچنے لگی کہ یہی دو تین ماہ جو میں انجمن سے لا تعلق رہی اس میں انجمن کا عقیدتی ڈھانچہ ہی تبدیل ہوگیا  ہے۔ میں ابھی لب کھولنے ہی والی تھے کہ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے:

-یہ بہن ہم ہی میں سے ہیں۔

اب میں سمجھی کہ یہ الفاظ در اصل میرا امتحان تھے۔ اس طرح میری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں ۔ جیسے بھی ممکن ہوتا میں بھائیوں کے گھر پہچنے سے پہلے گھر پہنچ جاتی تھی اور اپنی آمد و رفت مین اس قدر محتاط تھی کہ بھائیوں کی میری سرگرمیوں کی بھنک بھی نہ پڑے۔

انجمن نے ہمارے اسکول میں اسلحہ چلانے اور آئیڈیالوجی کی کلاسوں کا اہتمام کیا اور میں ٹھہری ان کلاسوں کی ذمہ دار۔ ہر چند  دن میں، میں ایک بار انجمن کے لوگوں سے ضرور ملاقات کرتی تھی۔ بعض اوقات علی پر بھی نظر پڑجاتی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکائے ہوتا تھا۔ اس کی دھان پان جسامت اور گھنی داڑھی سے میں سے دور سے ہی پہچان لیتی تھی ۔وہ بس زیر لب سلام کرتا اور جلدی سے گذر جاتا تھا۔ میں ان سرِ راہ ملاقاتوں سے بھی تہہ دل سے لطف اندوز ہوتی تھی۔



 
صارفین کی تعداد: 106


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – چودہویں قسط

میں ہیڈ کوارٹر کی اکیلی خندق میں داخل ہوا جو دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی ایک کلینک اور دوسرا بریگیڈ کے سیکریٹری کا آفس۔ باقی لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے نیچے مضبوط اڈوں میں زندگی گزار رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔