یادوں بھری رات کا۳۰۴ واں پروگرام – تیسرا حصہ

ایسا آپریشن جو دوسرے آپریشنوں کی طرح نہیں تھا

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2019-11-26


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۴  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۵ جون ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں بخشعلی علیزادہ، ابراہیم خدا بندہ اور محمد ہاشم مصاحب نے مجاہدین خلق آرگنائزیشن(منافقین) اور مرصاد آپریشن سے متعلق اپنے واقعات کو بیان کیا۔ اس رپورٹ کے پہلے  اور دوسرے حصے میں آپ بخشعلی  علیزادہ  اور ابراہیم خدا بندہ کے واقعات پڑھ چکے ہیں۔

محمد ہاشم مصاحب، یادوں بھری رات کے ۳۰۴  ویں پروگرام کے تیسرے راوی تھے۔ وہ اس وقت اٹھارہ سال کے جوان اور بسیجی تھے جب انھوں نے دفاع مقدس کے معرکہ میں قدم رکھا۔ وہ کربلائے ۵، کربلائے ۱۰ اور مرصاد جیسے آپریشنوں میں بھی شریک ہوئے ہیں۔  مصاحب نے کہا: "میں مرصاد آپریشن سے چند ہفتے پہلے سے شروع کرتا ہوں، جس زمانے میں ہم دو کوھہ چھاؤنی میں تھے ۔ صبح کو اعلان ہوا کہ آپ لوگ اپنا جنگی ساز و سامان اٹھالیں۔ لوگوں نے اپنے اپنے ہتھیار اٹھا لئیے۔ عام طور سے آپریشنوں پر جانے کیلئے، بسوں کو لاتے تھے اور اُن کے شیشوں پر کیچڑ والی مٹی لگا دیتے تھے اور فریب دینے والا آپریشن انجام پاتا۔ مثال کے طور پر بسیں خرم شہر کی طرف روانہ ہوتیں اور ہم ٹرک پر سوار ہوکر مغرب کی طرف چلے جاتے۔ عراق سمجھتا کہ شاید جنوب میں کوئی آپریشن ہونے جا رہا ہے، لیکن ہم مغرب میں آپریشن انجام دیتے۔ یعنی کوشش کرتے تھے کہ عراقیوں کو چکر دے دیں۔  معمول کے مطابق کمپریسر آئے اور ہم بجری کی بوریوں کی طرح کمپریسر کے اندر چلے گئے۔ سارے کمپریسر دو کوھہ چھاؤنی میں کھڑے ہوئے تھے۔ ہم نے جتنا بھی انتظار کیا، اس کے باوجود گاڑیاں ٹس سے مس نہیں ہورہی تھیں۔ درجہ حرارت تقریباً ۴۹ ڈگری پر تھا۔ ہم اُن ایلومونیم کے بنے ہوئے کمپریسروں کے اندر پسینے میں شرابور ہوچکے تھے۔ تقریباً ۱۱ بجنے لگے۔ ہم نے پوچھا: آگے کیوں نہیں بڑھ رہے؟ انھوں نے کہا: برادران آپ لوگ نیچے تشریف لے آئیں، فی الحال اسلحہ کو واپس کر دیں اور تھوڑا آرام کرلیں۔ شام کو چلیں گے۔ ہم نے پوچھا: کیا آپریشن کینسل ہوگیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم  بتاد دیں گے۔ ہم نے اسلحوں کو  تحویل میں دیا اور انتظار کرنے لگے کہ اب کیا ہوگا۔

تقریباً اُس زمانے سے جب سے میرے اندر شعور آیا اور میں جنگ میں وارد ہوا، میں انقلاب اسلامی کی کمیٹیوں میں تھا  اور میں بہت شرارتیں کرتا تھا۔ میری والدہ مجھ سے کہتی ہیں: تم بہت زیادہ سرگرم تھے۔ تمہیں کنٹرول کرنا بہت مشکل تھا۔ میں بالکل بھی سکون سے  ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔ میرے لیے یہ کام بہت مشکل تھا۔ میں حبیب ابن مظاہر بٹالین کے کمانڈر حاجی حسن محقق کے پاس گیا۔ ابوذر بٹالین کے کمانڈر حاجی علی صادقی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے حاجی علی سے کہا: کوئی خبر ہے؟ انھوں نے کہا: تم  پھر آگئے؟ میں نے پوچھا: اچھا تو اب کیا کریں؟ ہمارا حوصلہ ختم ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا: تم دو منٹ آرام سے نہیں بیٹھ سکتے؟ میں نے کہا: اس وقت کیا کریں؟ انھوں نے کہا: ہم تمہیں بتا دیں گے۔ میں نے پوچھا: کیا آپریشن کینسل ہوگیا ہے؟ انھوں نے کہا: جائیے جناب! ہم آپ کو اطلاع دیں گے۔ میں واپس آگیا اور لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: نہیں معلوم۔ شام کو لاؤڈ اسپیکر کھلا اور خبریں پڑھنے والے نے امام خمینی کا بیان پڑھا ۔ جنگ ختم ہوجانے کی وجہ سے ہم ناراض نہیں تھے۔ شاید ہم جنگ ختم ہونے سے خوشحال بھی ہوتے، لیکن امام  کا بیان ہمارے لئے بہت سخت تھا۔  امام ہماری دلجوئی کی کوشش کر رہے تھے۔ دو کوھہ چھاؤنی کی دیواریں اور دروازے بھی رو رہے تھے۔ یہ کہ امام تمام ذمہ داریوں کو اپنے اوپر لینے کی کوشش کر رہے تھے، اُس لمحہ ہمارے لئے بہت سخت تھا۔ ہم نے پوچھا: کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: کچھ نہیں! جنگ ختم ہوگئی۔ ہم نے کہا: ہم اس وقت کیا کریں۔ انھوں نے کہا: ہمارے اطلاع دینے تک یہیں رہیں۔ ہم دو دن تک وہیں رہے ، پھر انھوں نے کہا کہ آپ لوگ آکر اپنے حساب کا فارم لے جائیں۔ ہمارے ذہن میں بہت سارے سوالات تھے۔ ہم تہران واپس آگئے کہ ہمیں پتہ چلے کہ اب ہماری کیا ذمہ داری ہے۔

میں نے اس مقدمہ کو بیان کیا کہ آپ لوگ جان لیں کہ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ خدا مغفرت کرے، شہید علی رضا توکلی  جو بحری فوج سے تھے، وہ بہت تیزی سے آئے اور کہا: میں جا رہا ہوں۔ ہم نے پوچھا: کہاں جا رہے  ہیں؟ انھوں نے کہا: منافقین نے اگلی صفوں پر حملہ کردیا ہے۔ ہم نے پوچھا: مگر کیا جنگ ختم نہیں ہوئی؟ انھوں نے کہا: نہیں!کہا گیا ہے کہ افراد تیار ہوکر آجائیں۔ میں اُس زمانے میں جیسا کہ تربیتی ا مور اور جنگی اسٹاف کے تعلیمی ادارے میں تھا، میں فوراً مرکزی ادارے میں گیا  اور انہیں جاکر بتایا کہ ہم جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو ابھی تک اطلاع نہیں تھی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ جنگی اسٹاف کے مسئول جناب غلام علی اصغریان تھے۔ انھوں نے کہا: میرے اور جناب حسین مظفر کیلئے بھی فارم لے لو، ہم بھی  چلیں گے۔  جناب  مظفر اُس زمانے میں تہران تعلیمی بورڈ کے سیکریٹری جنرل تھے اور بعد میں وزیر تعلیم بن گئے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اس وقت ہمارے ساتھ آئیں گے؟ انھوں نے کہا: نہیں، ہم آپ کے بعد آئیں گے۔   ہم نے فارموں کو لیا اور علاقہ نمبر ۱۵ کے تعلیمی ادارے کے سربراہ جناب عزت اللہ عباسی، تعلیمی امتحانات کے سیکریٹری جنرل جناب محمد توتونچیان اور جناب محمد جواد صدیقیان جو جنگی اسٹاف کے مسئول تھے، ہم پانچ یا چھ افراد نے ایک لینڈ کروزر گاڑی لی  اور کچھ میڈیکل سامان کے ساتھ جنگی علاقے کی طرف نکل پڑے۔

ہم جیسے ہی دو کوھہ چھاؤنی میں داخل ہوئے، ہم نے دیکھا کہ بہت سے افراد آئے ہوئے ہیں اور جنگی سامان لے رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا: ہم کیا کریں؟ کہا گیا: آپ لوگ اپنا جنگی سامان لیں، احتمال یہ ہے کہ آج شام کو روانہ ہوں گے۔ منافقین اللہ اکبر چھاؤنی کے نزدیک ہیں اور ایلام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شاید وہ پہلا ڈویژن جو منافقین سے لڑنے کیلئے وارد عمل ہوا، ۲۷ واں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن تھا۔ ہم نے اپنا سامان لیا۔ انھوں نے کہا: کچھ بسیں اور ٹرک آگئے ہیں۔ جیسا کہ جنگ ختم ہوچکی تھی، دھوکہ دینے والا آپریشن انجام نہیں  پایا۔ میرے اور کچھ دوستوں کی قسمت میں بس آئی۔ کہا گیا کہ وھب گروپس کے افراد بس کے اندر جائیں۔ جب ہم پہنچے تھے تو اُس کے تین چار گھنٹے بعد، جناب مظفر بھی وھب گروپس میں آگئے اور ہمارے ساتھ مل گئے۔ جناب مظفر نے پوچھا: کون سے چیز اٹھائی ہے؟ میں نے کہا: معمول کے مطابق آر پی جی لی ہے۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے میں تمہارا مددگار بن جاتا ہوں۔ میں نے کہا: نہیں! برا لگے گا۔ انھوں نے کہا: نہیں! ہم ایک ساتھ  چلتے ہیں۔ جناب عالی میرے آگے بیٹھ گئے۔ بس ۴ بجے سے لیکر ۸ بجے تک اپنی جگہ کھڑی  رہی اور ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی۔ بالآخر ہم نے حرکت کی اور ایک بیابان کے وسط میں پہنچے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا ہم کہاں ہیں۔ کھانا لائے۔ پہلا اور آخری گرم کھانا تھا جسے ہم نے ۱۰ سے ۱۵ دنوں کے دوران کے بعد کھایا تھا۔ اُن دنوں کے دوران ہمیں یا بچوں والا بسکٹ یا مچھلی کے ڈبے یا لوبیا کے ڈبے دیتے تھے۔ روٹی بھی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا: رات کا کھانا لانا چاہ رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا: کیا ہے؟ بتایا گیا:  گرم کھانا ہے۔ میں نے جناب مظفر کی طرف رُخ کیا اور کہا: جناب قصہ تمام ہے! انھوں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آج یا کل سب شہید ہوجائیں گے۔ عام طور سے جس رات کو گرم کھانا آتا تھا اور کھانا بھی کچھ اچھا ہوتا، اگلے دن حتماً کچھ افراد شہید ہوتے۔ پلاسٹک کے چھوٹے ظرف میں گرم چاول تھے۔ میں نے جناب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: میں اس طرح کھانا نہیں کھا سکتا۔ میری پیٹھ پر آر پی جی کا بیگ اور میری کمر کے گرد ہینڈ گرینڈ لگے ہوئے تھے۔ آر پی جی گن بھی میرے ہاتھ میں تھی۔ بسوں میں لگی کرسیوں کے درمیان فاصلہ بھی کم تھا۔ میں چاہ رہا تھا کہ نیچے جاکر کھانا کھاؤں کہ بس انچارج نے کہا: کوئی بھی نیچے نہیں اتر سکتا۔ یہیں پر کھانا کھائیں۔ ہم چلنے والے ہیں۔ ایک فرد نے کہا: بس کی آخری کھڑکی کھلی ہوئی ہے، آؤ وہاں سے باہر نکل جاتے ہیں۔ ہم دونوں بس کے آخر میں موجود کھڑکی سے باہر نکل گئے۔ ہر جگہ اندھیرا تھا اور ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہم گاڑی کے پاس بیٹھ گئے اور کھانا کھایا۔ اچانک دیکھا کہ گاڑی چل پڑی ہے۔ ہم نے شور مچایا تو گاڑی کا انچارج نیچے آیا۔ اس نے پوچھا: تم لوگ کہاں تھے؟ ہم نے کہا: ہم کھانا کھانے کیلئے گاڑی سے باہر آگئے تھے۔ اُس نے پوچھا: تم لوگ منافقین میں سے ہو؟! ہم نے کہا: نہیں حضرت عباس (ع) کی قسم! ہم بٹالین کے افراد کا حصہ ہیں اور ہم کھانا کھانے کیلئے باہر آگئے تھے۔ جب تک وہ لوگ کسی ایک فرد کو ڈھونڈ کر لاتے جو یہ ثابت کرتا کہ ہم منافقین میں سے نہیں ہیں، اس میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ بعد میں کہنے لگے: سب  لوگ نیچے آجائیں۔ سب سے اٹھک بیٹھک کروائی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ ہماری وجہ سے سب کو سزا دی جا رہی ہے۔ سب جانتے تھے کہ جب بھی رات کے وقت اٹھک بیٹھک کروائی جاتی ہے یا کوئی حکم دیا جاتا ہے، تو اس پر عمل کرتے وقت نعرہ نہیں لگایا جاتا۔ جناب توتونچیان جو میرے پیچھے کھڑے تھے، انھوں نے زور سے کہا: اللہ اکبر! کمانڈر اُن کے اوپر چلائے اور کہا: بیٹھ جائیں آغا! خاموش! آپ دشمن کی خطوط سے ۵۰۰ یا ۶۰۰ میٹر کے فاصلے پر ہیں! چلّائیں گے تو وہ سمجھ جائیں گے اور یہاں آکر آپ لوگوں پر گولیاں کی بوچھاڑ کردیں گے۔ تمام لوگوں کو سفید کپڑا دیا گیا اور کہا: اس کپڑے کو آپ لوگ اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی پر باندھ لیں۔ ہم نے اس کام کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ منافقین نے بالکل آپ کی طرح کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ بالکل آپ کے حلیہ میں، اسی ترکیب اور اسی رومال کے ساتھ آپریشن شروع کیا ہے، حتی اُن میں سے بعض نے آپ لوگوں کی طرف اپنے لباس کے پیچھے کچھ لکھوایا بھی ہے۔ یہ پہچاننے کیلئے کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے، یہی باندھا جانے والا سفید کپڑا کہ جسے آپ  اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی  پر لپیٹیں گے، ہم متوجہ ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کپڑا تمام بٹالینوں کو دیا گیا ہے۔

محاذ کے نزدیک گولی اور بندوق کی آواز آرہی تھی۔ عام طور سے جو محاذ ہوتے ہیں یہاں ایسا نہیں تھا کہ ہم مورچے کے پیچھے ہوں۔ ہم مین ہائی وے پر چل رہے تھے  اور مرصاد اور چہار زبر  کے موڑ کے نزدیک تھے۔ ہم اور آگے گئے۔ آواز دور سے آرہی تھی۔ ہم ایلام شہر کے قریب پہنچے۔ گاڑیوں کو خالی کردیا گیا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ مورچے سنبھال لیں۔ رات کا وقت تھا اور ہمیں بالکل بھی پتہ نہیں تھا کہ ہم نے کہاں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ جب تھوڑا سا اُجالا پھیلا، ہم نے دیکھا ہم ہائی وے کے ساتھ مٹی والے روڈ کے پیچھے ہیں۔ ہم وہاں پوزیشنیں سنبھال لیں، ہم نے دیکھا کہ گولی اور فائرنگ کی آواز بہت زیادہ ہے۔ سامنے سے مارٹر کی آواز آرہی ہے۔ مسلم ابن عقیل بٹالین نے دشمن کی فرنٹ لائن پر حملہ کیا ہوا تھا۔ ہم سے کہا گیا کہ حبیب ابن مظاہر بٹالین مسلم بٹالین کے بعد  فرنٹ لائن پر حملہ کرے گی؛ مقداد اور مسلم بٹالینز گئی ہوئی ہیں، آپ لوگ اعلان ہونے تک یہیں ٹھہریں۔ ہم مٹی والی روڈ کے پیچھے تھے اور ہمارے سروں پر مسلسل گولیوں  کی آواز آرہی تھیں۔ ہم اپنے آپ سے کہہ رہے تھے کہ اگر منافقین پیچھے ہیں اور مسلم بٹالین آگے ہے، تو پھر گولی ہماری طرف کیوں آرہی ہے؟ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مسلم بٹالین کو مار کر آگے آگئے ہوں؟

صبح کے ۸ یا  ۹ بجے کا وقت تھا۔ بٹالین کے افراد سمجھ گئے تھے کہ جناب مظفر  جو ہمارے ساتھ آرہے ہیں، تعلیمی ادارے کے سیکریٹری جنرل ہیں اور یہ ا فراد جو ہمارے ساتھ ہیں، ان میں سے اکثر افراد تعلیمی ادارے کے اندر کسی بڑے عہدے پر ہیں۔ وہ لڑکے جو میرے قریب تھے، ۱۵، ۱۶ یا ۱۷ سال کے تھے۔ وہ لوگ مسلسل میرے کان میں یہ پوچھ رہے تھے: یہ جو تمہارے ساتھ آئے ہوئے ہیں، یہ تعلیمی ادارے کے سیکریٹری جنرل ہیں؟ کیا آپ ان سے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے نمبر دے دیں؟ میں اُن سے کہتا: یہاں، مورچے  کے پیچھے، گولیوں کے سائے میں کہوں کہ وہ تمہیں کتنے نمبر دیں؟! ہم نے مختلف علاقوں میں جیسے دو کوھہ، اروند  اور ھور کے وسط میں ایک تعلیمی سینٹر کھولا ہوا تھا  جس کا عنوان سپاہیوں کا تعلیمی مرکز تھا۔ ھور سینٹر میں ہم نے چند ہوائی پلوں کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر اُن کے اوپر  خیمہ  بنایا ہوا تھا۔ جب لوگوں کو کسی آپریشن  پر نہیں جانا ہوتا تھا وہ وہاں آجاتے تھے اور کچھ پڑھائی بھی کرلیتے تھے۔ بعض لڑکوں کو پتہ تھا کہ میں استاد ہوں۔ وہ مجھ سے کہتے: کیا میں اس وقت آپ سے کچھ دیر کیلئے تاریخ پڑھ سکتا ہوں؟ میں اُن سے کہتا: ارے بابا رہنے دو، اس وقت ان گولیوں اور فائرنگ میں پڑھنے کا موقع نہیں ہے۔ حاج علی صادقی نے مجھے پکار کر کہا: جناب مظفر سے کہو کہ وہ واپس آجائیں اور پیچھے چلے جائیں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ اُس نے کہا: وہ تعلیمی ادارے کے سیکریٹری جنرل ہیں  اور اُن کا محاذ پر جانا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کہا: وہ فتح خرم شہر  کے سپاہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں اور تم محاذ پر آتے، وہ یہاں تھے اور اُنھوں نے قربانی دی ہے۔ وہ اس وقت نہیں آئیں؟ اُس نے کہا:  قضیہ یہ نہیں ہے۔  اُن کے بھائی شہید ہوچکے ہیں۔ میں نے پوچھا: اُن کے بھائی؟ کون سے ؟ اُس نے کہا: میرے خیال سے اُن کے تین چار بھائی شہید ہوچکے ہیں۔ میں نے تعجب سے پوچھا: یہ کس نے کہا ہے؟ اُس نے کہا: ہیڈ کوارٹر نے کہا ہے کہ اس ایک آدمی کو آگے نہیں جانا چاہیے، چونکہ اگر وہ بھی شہید ہوگئے، اُن کے گھر والوں کیلئے بہت کٹھن ہوجائے گا۔ جاؤ جاکر اُن سے کہو کہ واپس آجائیں۔ میں گیا اور میں نے جنگ کے سپورٹنگ اسٹاف کے  مسئول جناب اصغریان سے کہا: ہمیں جناب مظفر صاحب کو حتماً پیچھے لانا ہوگا، گویا اُن کے  تین چار بھائی شہید ہوچکے ہیں۔ طے پایا تھا  جناب قاسم کارگر اور جناب قاسم سلیمانی آکر جناب مظفر کو قانع کریں۔ میں نے جناب مظفر کو آواز دی اور اُنہیں مورچے کے پیچھے لے آیا۔ ہمارے مورچے کے پیچھے ایک گاؤں تھا۔ ہمیں کھانا نہیں مل رہا تھا اور اس صورت حال سے سب تکلیف میں تھے۔  جناب مظفر کہہ رہے تھے: بس اب میں بسکٹ نہیں کھا سکتا۔  بسکٹ کھا کھا کر واقعاً میری حالت خراب ہوگئی ہے۔  میں اُس گاؤں کے اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ باڑا تو ہے لیکن کوئی حیوان نہیں ہے۔ میں نے وہاں کچھ کچرا پڑا ہوا دیکھا۔ قریب جاکر دیکھا تو روٹیوں کے کچھ ٹکڑے اُس میں پڑے ہوئے تھے۔ میں نے اُسے سونگھا تو اُس میں سے بدبو نہیں آرہی تھی۔ میں نے اُسے پینٹ سے صاف کیا اور اپنے ساتھ لے آیا۔ میں جیسے ہی واپس پہنچا، جناب مظفر نے تعجب سے پوچھا: یہ تم نے کہاں سے ڈھونڈ لیا؟ ایک اورفرد نے زور دیتے ہوئے کہا: ہاں ہاں بتاؤ تم وہ کہاں سے لائے ہو؟ میں نے کہا: کچھ نہیں ہے جناب، اُس نے کہا: یہ گیا تھا اور اس نے جاکر بھینسوں کے سامنے سے چرایا ہے! جناب مظفر نے کہا: تم نے بڑی زحمت کی، ہمارے لئے بھینس کا چارا لا رہے ہو؟! میں نے کہا: جناب  میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا  تو پھپھوئی نہیں  لگی تھی اور کھانے کے قابل ہے۔ ان بسکٹوں کی جگہ تو انہیں کھایا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہماری اس طرح کی داستانیں تھیں۔

ہم حاجی صاحب کو پیچھے اور اُسی گاؤں کی طرف واپس لے آئے۔ جناب کارگر اور جناب سلیمانی نے کہا: آپ کے جانے کو ممنوع قرار دیا ہے۔ ہیڈ کوارٹر کی طرف سے دستور آیا ہے کہ جناب مظفر کو واپس آنا چاہیے  اور وہ آپریشن کیلئے نہیں جاسکتے۔ جناب مظفر نے کہا: یعنی کیا؟ یہ کیسی باتیں کر  رہے ہیں؟ میں نے وزیر کو بھی بتادیا ہے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم سب کے دل بھر آئے تھے۔ حاجی صاحب واپس آئے ، ہم پر نگاہ ڈالی اور پوچھا: کچھ ہوا ہے؟ حاج قاسم سلیمانی نے کہا: ہمیں کچھ وضاحتیں پیش کرنی ہیں۔ حاجی صاحب نے کہا: میرے بھائیوں، میرے والد  یا کسی اور کے ساتھ کوئی حادثہ  پیش آیا ہے تو میں اُس کیلئے آمادہ ہوں۔ اُس دن جب جناب مصاحب محاذ پر جانے کا دستور لینے گئے، میری والدہ نے میرے چار بھائیوں اور میرے والد کو آواز دی اور کہا: آپریشن شروع ہوگیا ہے، منافقین نے حملہ کردیا ہے اور ملک کے اندر داخل ہوگئے ہیں،  میں تم لوگوں سے راضی نہیں ہوں  کہ تم لوگ جاکر صحیح و سلامت واپس آجاؤ۔ تم سب جاؤ گے اور اُس وقت واپس نہیں آؤ گے جب تک سرحدیں آزاد نہیں ہوجاتیں۔ انھوں نے  کہا: حاجی صاحب! رضا و حسن و علی شہید ہوچکے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: میرے والد کیسے ہیں؟ جواب دیا: آپ کے والد صاحب بھی زید چیک پوسٹ میں ہیں اور ابھی تک نہیں آئے ہیں۔ ہمارے پاس ایک دھوتی تھی۔ ہم نے اُسے آدھا کرلیا تھا۔ حاجی اُس سے خود کو بار بار ہوا کر رہے تھے اور ہم بار بار رو رہے تھے  اور حاجی صاحب صرف ہمیں دیکھے جا رہے تھے۔ حاجی صاحب نے کہا: میں نے اپنے دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ میں آخر تک ساتھ ہوں۔ قاسم سلیمانی نے کہا: ہمیں بالکل بھی اجازت نہیں ہے اور ہم آپ کو آگے جانے نہیں دے سکتے۔ ہمیں آپ کو اسی جگہ سے واپس بھیجنا پڑے گا۔ آخر میں حاج قاسم سلیمانی نے کہا: ہم جنازوں کو بھی پیچھے لے آئے ہیں، تم آکر کم سے کم ان کی پہچان کرلو اور انہیں واپس لے جاؤ۔ جناب مظفر نے کہا: میری ماں نے کہا ہے جب تک آپریشن ختم نہیں ہوجاتا، میں نہیں چاہتی کے تمہارے جنازے واپس آئیں۔ آپ جنازوں کو بھیج دیں۔ میں یہیں پر ہوں۔ ہماری طرف سے اصرار ہو رہا تھا اور حاجی مظفر کی طرف سے انکار۔ بالآخر زور زبردستی کے ساتھ ہم نے اُنہیں جناب اصغریان کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ وہ پہنچے تو اُنہیں پتہ چلا کہ صرف رضا کا جنازہ لائے ہیں، حسن اور علی رہ گئے ہیں۔ حسن اور علی دفاعی عقب نشینی میں پھنس گئے تھے۔ جنازوں کو لانے میں ایک دن بعد تک  کا وقت لگا۔  جب حاجی مظفر واپس چلے گئے، ہم آگے کی طرف بڑھے۔

ہم نے مورچے میں پوزیشن سنبھال لی۔ حاج علی صادقی نے کہا کہ دس منٹ بعد آر پی جی سے فائر کرنے والے کھڑے ہوں۔ جس وقت بکتر بند گاڑیاں سامنے سے آئیں، یہ لوگ فائر کریں۔ کچھ گاڑیاں لائے ہوئے تھے جو برازیلی تھیں۔ ہمارے ساتھ موجود ایک طالب علم، جس کا سن تقریباً ۱۶ یا ۱۷ سال کا تھا۔ وہ مجھ سے بار بار سوال کر رہا تھا اور میں اُس سے کہہ رہا تھا: جب ہم پیچھے واپس جائیں گے تو ایک دوسرے سے بات کریں گے۔ جب حاج حسین مظفر چلے گئے، کہنے لگے: وہ آر پی جی چلانے میں تمہارے مددگار ہیں۔ ہم جو آر پی جی چلاتے ہیں، عام طور سے ایک بیگ ہمارے پاس ہوتا  اور ایک بیگ مددگار کے پاس ہوتا۔ سب سے پہلے مددگار کے بیگ سے آر پی جی چلاتے تھے۔ آر پی جی فائر کرنے والوں کے درمیان مشہور تھا کہ اگر تم نے اپنے بیگ سے آر پی جی کی گولیاں فائر کردیں اور بعد میں تمہارے اور تمہارے مددگار میں دوری ہوگئی، اُس وقت تم کچھ نہیں کرسکتے اور وہ تم تک گولیاں نہیں پہنچا سکتا۔ میں نے اس لڑکے کو سمجھا دیا کہ میرے برابر میں سے ہلنا بھی نہیں تاکہ میں تمہاری گولیوں سے استفادہ کرلوں اور جب اُس کی گولیاں ختم ہوجائیں، وہ یہیں رہ جائے اور میں آگے چلا جاؤں۔ وہ اچانک سے کھڑا ہوا اور میں نے دیکھا کہ ایک گولی اُس کی آنکھ پر لگی۔ میں نے طبی امداد پہنچانے والے افراد کو آواز دی اور وہ اُسے پیچھے لے گئے۔ مجھے ہول اٹھ رہے تھے۔ اُس کی عمر بہت کم تھی۔ بتایا گیا: گولی اُس کے سر کے پاس سے گزری ہے۔ میرا بھائی طبی  امداد پہنچانے والا کارکن تھا۔ وہ لوگ ایک بس کے ساتھ چہار زبر پر کھڑے ہوئے تھے۔ جن افراد کی حالت بہت زیادہ خراب ہوتی تھی اُن کو بس پر لے جاکر ہیلی کاپٹر پر سوار کردیتے اور اُنہیں پیچھے بھیج دیا جاتا۔ مجھے بعد میں اُس سے پتہ چلا: ایک لڑکا کہ جس  کی آنکھ میں گولی لگی تھی – اور میں سمجھ گیا کہ یہ حتماً ہمارا سپاہی تھا – جب اُس کو لائے، ہم نے اُس کی آنکھ پر جتنی بھی پٹی اور روئی رکھی، خون نہیں روک رہا تھا۔ وہ ہیلی کاپٹر اڑنے سے پہلے ختم ہوچکا تھا۔ ہم اُسے بس پر سوار کرنے پر مجبور ہوگئے اور دوسرے افراد جن کی حالت خراب تھی ہم نے اُنہیں ہیلی کاپٹر میں چڑھالیا ۔

آپریشن کے بعد والے مرحلے میں، اس پہلے کہ ہم فرنٹ لائن پر حملہ کریں اور حبیب ابن مظاہر بٹالین آپریشن کو شروع کرے۔ کہا گیا کہ سب لوگ زمین پر دراز ہوجائیں اور لیٹ جائیں۔ سردار رشید اسلام شہید صیاد شیرازی کی سربراہی میں سول ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کا ایک گروپ آیا۔ منافقین ایک لائن میں آگے بڑھ رہے تھے جو بہت ہی مسخرے والاکام تھا۔ وہ لوگ چاہ رہے تھے کہ ایک لائن میں ہی تہران تک آئیں اور وہاں قبضہ کرلیں! اُن کی تمام گاڑیاں ہائی وے کے وسط میں تھیں۔ سول ایوی ایشن نے اُن کی تمام گاڑیوں کو اُڑا دیا۔ دھماکوں کا حجم اتنا زیادہ تھا کہ ہم چند منٹوں تک زمین پر ہی لیٹے رہے تاکہ دھماکوں سے  لگنے والی آگ بجھ جائے۔ بعد میں کہا گیا کہ بہت تیزی کے ساتھ پیچھے کی طرف جائیں، چونکہ ممکن ہے جن گاڑیوں میں پیٹرول لایا گیا ہے وہ دھماکے سے اڑ جائیں اور پورے علاقے میں آگ لگ جائے۔ ہم تھوڑا پیچھے ہٹ گئے۔ تقریباًٍ ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ یہ آگ بجھ گئی اور کہا گیا: آپریشن ختم ہوگیا ہے۔ منافقین بھاگ گئے ہیں اور ایلام میں داخل ہوگئے ہیں، اُنہیں ایلام سے نکالنے کیلئے چلیں۔ ہم ایلام شہر میں داخل ہوئے، جنازوں سے  بھرا ہوا تھا۔ میں نے ایک بوڑھے آدمی سے پوچھا: یہ لوگ جو مارے گئے ہیں، منافقین ہیں یا عام لوگ ہیں؟ اُنھوں نے کہا: جس وقت منافقین آئے، جس کی بھی داڑھی تھی، وہ کہتے کہ یہ حزب اللھی یا پاسدار ہے، وہ یا تو اُس کا سر کاٹ دیتے یا اُسے مار دیتے۔ ہم ایلام کے ہسپتال کی طرف گئے ، ہم نے دیکھا کہ وہاں پر بہت ظلم و بربریت مچائی ہے۔ ہمیں اسٹریچروں کو حتماً خالی کرنا تھا۔ جنہیں موت کی نیند سلا کر چلے گئے تھے، ہم  اُنہیں پیچھے رکھ رہے تھے تاکہ ہم کچھ زخمیوں کو لا سکیں۔ بعد میں کہنے لگے: یہاں تو بالکل بھی وسائل اور ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے ہم تمام زخمیوں کا علاج کریں، صرف ایسے زخمیوں کو لایا جائے جو کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جن کی حالت زیادہ تشویشناک ہے اُنہیں پیچھے لے جائیں تاکہ اُنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران لے جایا جائے۔ وہاں پر مجھے بتایا گیا کہ شہر اسلام آباد کے غرب سے مریم رجوی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار کر گئی ہے، لیکن میں نے بعد میں پڑھا کہ مسعود اور مریم رجوی، ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا تھا اور یہ لوگ دور سے ہی اپنی افواج کی ہدایت کر رہے تھے۔ اسلام آباد سے دشمن کی صفائی کا کام ختم ہونے والا تھا کہ ہمیں کہا گیا: جیسا کہ ان کے گروپ نے ہمارے افراد  کے لباس پہنے ہوئے ہیں،  اُن افراد کو اس علاقے سے نکالنے کیلئے دو سے تین دن تک یہاں رکنا پڑے گا۔ وہ اپنی گاڑیوں کو ایک ٹیلے پر چھوڑ کر فرار کر گئے تھے جو  مرصاد موڑ کے شروع میں شہر کے قریب تھا۔ ان کی کچھ گاڑیاں بھی ہائی وے پر تھی جو دھماکے سے تباہ ہوگئی تھیں۔ ہمیں اُن گاڑیوں سے کوئی سروکار نہیں تھا اور ہم کہہ رہے تھے کہ جب ہم صفائی کرنا چاہیں گے تو اُن کو دیکھ لیں گے۔ وہ لوگ رات کے پچھلے  پہر آئے تھے۔ گویا اُن کے ڈاکومنٹس، معلومات اور وسائل اُن میں تھے یا وہ یہ چاہتے تھے کہ اس علاقے سے فرار کرنے کیلئے اُن گاڑیوں سے استفادہ کریں۔ وہ گاڑیوں پر بیٹھے۔ جیسے ہی انھوں نے اُن گاڑیوں کو اسٹارٹ کیا، اُن کی لائٹیں بھی جل اٹھیں اور افراد فوراً سمجھ گئے کہ کچھ منافقین آئے ہیں اور گاڑیوں کے  پاس گئے ہیں۔ رات کی جھڑپیں شروع ہوگئیں اور ہم لوگ تقریباً دو سے تین گھنٹے ٹیلوں پر پھنسے رہے۔ ہم اُنھیں نہیں دیکھ رہے تھے، لیکن گاڑیوں کی طرف فائرنگ ہو رہی تھی۔ جب جھڑپیں ختم ہوئیں، ہم نے آگے جاکر دیکھا تو پتہ چلا  گاڑیوں میں جگہ جگہ سوراخ ہیں، لیکن اُن افراد کا کچھ پتہ نہیں تھا۔

طے پایا کہ ہم لوگ اُسی علاقے میں سو جائیں۔ گرمیوں کے موسم میں ملک کے اُسے حصے کا موسم بہت گرم ہوتا ہے  اور وہاں بہت زیادہ مچھر ہوتے ہیں۔ جب ہم سونا چاہ رہے تھے، مچھروں نے لوگوں پر حملہ کردیا۔ صبح سے لیکر رات تک آپریشن انجام دے رہے تھے اور رات کو مچھروں نے صبح تک ناک میں دم کرکے رکھا ہوا تھا۔ میرا  ایک اورکوٹ تھا جو میرے بیگ میں تھا۔ میرے ذہن میں ایک یہی خیال آیا کہ میں اُسے بیگ سے باہر نکالوں  اور اُس گرمی میں اُسے پہن لوں۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو بھی اُس کی آستینوں کے اندر ڈال لیا تھا۔ میری جنگی ٹوپی بھی  جو میرے سر پر تھی، میں نے اُسے بھی اورکوٹ کے اندر کرلیا تھا۔ میں ایک بوری کی طرح ہوگیا تھا۔ میں سو گیا۔ عام طور سے دوست احباب مجھے ایک اچھی نیند کرنے والا شخص کے عنوان سے پہچانتے ہیں۔ میں ہر طرح کے حالات میں  بہت سکون سے سوجاتا ہوں؛ فائرنگ ہورہی  ہو، میزائل آرہے ہوں،  پتھر کے تخت پر، پہاڑ پر ۔۔۔ اُس رات بھی میں اُس حالت میں گہری نیند میں تھا کہ اچانک کسی دوست نے بہت زور سے مارا اور کہا: تم نے ہمیں  حواس باختہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمیں ان مچھروں کی وجہ سے نیند نہیں آرہی، تم کیسے سو گئے؟ میں نے کہا: تم لوگوں کو نیند نہیں آرہی، تو کیا مجھے بھی نہیں سونا چاہئیے؟کچھ منٹوں بعد جناب عباسی نے مجھے آواز دی اورکہا: تم واقعاً سو گئے تھے؟  اگر اس طرح ہے تو ہم تمہیں سونے ہی نہیں دیں گے، چونکہ سب پریشان ہوگئے ہیں اور تم نہ صرف یہ کہ سکون سے سوئے ہو بلکہ خراٹے بھی لے رہے تھے! میں ایک پتھر پر لیٹا ہوا تھا۔ میری پیٹھ پر ایک بیگ تھا اور میں سو گیا تھا! صبح ہم سے کہا گیا کہ مغربی اسلام آباد کے مجموعہ سے دشمن کا صفایا ہوگیا ہے، یہاں پر ایک یا دو دن رہیں گے، اُس کے بعد واپس لوٹ جائیں گے۔ کچھ دنوں کے بعد ہم دو کوھہ چھاؤنی میں واپس آگئے اور وہاں استراحت کی۔ استراحت کے زمانے میں، میرا حوصلہ بہت جلدی ختم ہوجاتا، میں نے کمانڈر سے کہا: عزاداری کا پروگرام  رکھ لیں۔ محرم کا مہینہ نزدیک تھا۔ میں نے کہا: میں دزفول جانے کیلئے موافقت کرلوں گا اور ہم لوگوں کو عزاداری کیلئے سبز قبا لے جائیں گے۔  کمانڈر مان گئے۔ جعفر محتشم، ڈویژن کے لاجسٹک کمانڈر تھے۔ میں نے اُن سے کہا: کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ حبیب، مقداد اور سلمان بٹالینز کا کھانا تیار کروالیا جائے؟ ہم سبز قبا میں عزاداری کا پروگرام رکھنا چاہ رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: کس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: میں نے حاج حسن محقق اور حاج علی صادقی سے موافقت کرلی ہے اور سب اس بات سے آگاہ ہیں۔ انھوں نے کہا: تم جاکر اس کی تیاری کے کام مکمل کرو۔  ہم بہت تیزی کے ساتھ گئے اور سبز قبا کے مسئولین سے موافقت کرلی۔ انھوں نے ہماری بات کو قبول کرلیا اور کہا کہ ہم تمام وسائل فراہم کریں گے، آپ صرف خام مال ہم تک پہنچا دیں۔ ہم نے اُنہیں خام مال لاکر دے دیا اور اُنھوں نے کھانا بنا لیا۔ خلاصہ یہ کہ دو کوھہ چھاؤنی میں جتنی بٹالینز کے افراد تھے ہم سب کو دزفول لے گئے۔ افراد راستے میں اتر گئے، ہم نے عزاداری کی اور رات کا کھانا کھایا۔ اگلے دن حاج علی صادقی  کی بھی سرزنش ہوئی اور میری بھی۔ مجھ سے کہا گیا: تم کس کی اجازت سے دس ہزار افراد کو لے گئے تھے؟ اگر صدام کی افواج کو پتہ چل جاتا اور وہ پورے ہائی وے پر بمباری کردیتے، تمہیں پتہ ہے کیا قیامت ٹوٹ پڑتی؟ حاج علی صادقی کو مجھ سے پہلے سرزنش کیا گیا۔ اگر اُس دن فوجیوں کو مار دیتے، دشمن دوبارہ آپریشن کرسکتا تھا چونکہ اُس کو پتہ ہوتا کہ اُس نے وہاں پر بہت زیادہ بسیجی سپاہیوں کو شہید کردیا ہے!"

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۴ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۵ جون ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۹ اگست کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 73


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – نویں قسط

میں اُس حال میں کہ موٹر سائیکل سوار رہنما کے پیچھے حرکت کر رہا تھا اور ایسے راستے سے گزر رہا تھا جو سرحدی پٹی کے ساتھ بنا ہوا تھا، یہ بات میرے لئے قابل یقین نہیں تھی کہ میں نے اسلامی جمہوری ایران کی سرزمین پر قدم رکھا ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔