مشی کا آخری دن کربلا کی سمت سفر

فائزہ ساسانی خواہ

مترجم: سید نعیم الحسن شاہ

2019-11-07


یہ سن ۲۰۱۸ کی بات ہے۔ کربلا کی جانب مشی (پیدل چلنا) کا آخری دن تھا۔ صبح کی نماز ادا کرکے ہم آستانہ حضرت عباس علیہ السلام سے نکلے اور پول نمبر ۱۱۱۰، سے جو حضرت عباس علیہ السلام کے حرم سے منسوب ہے، ہم نے مشی کا آغاز کیا۔ آستانہ کے باہر زائرین کی ایک بڑی تعداد کربلا کی جانب رواں دواں تھی۔

ہم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تھوڑا آگے جاکر ہم ناشتے کے لئے رکے اور ناشتہ کرکے دوبارہ روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک ایرانی موکب پر نگاہ پڑی جو اصفہانیوں کا تھا۔ یہ لوگ ایرای قہوہ دے رہے تھے اور ساتھ قند بھی۔ وہاں رک کر ہم نے چائے پی۔ ایرانیوں کی کارکردگی اور ان کا جوشیلا انداز ہمارے لئے باعث افتخار تھا کیوں کہ اس سے یہ حقیقت عیاں ہو رہی تھی کہ اقتصادی بحران، مہنگائی، ڈالر کا مہنگا ہونا اور نئی پابندیوں کے بعد ایرانی مارکیٹوں میں تناو کی شدید لہر کے باوجود ایرانی قوم کے ارادے ذرا ماند نہیں پڑے تھے اور یہ سب کچھ دیگر ممالک کی لوگ بھی مشاہدہ کر رہے تھے۔ کربلا میں اس سال ایرانیوں کی آمد کے اعداد و شمار گذشتہ سالوں سے زیادہ تھے اور جوش و جذبہ اس قدر قابل ذکر تھا کہ میرے ایک عربی زبان خوزستانی دوست کا کہنا تھا کہ اس نے دو عراقیوں کو گفتگو کرتے سنا، ایک عراقی دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ ’’یہ روڈ ایرانیوں کا ہے۔‘‘

ابھی چند دن قبل میں نے ایک ایسی بات نوٹ کی جو گزشتہ سالوں میں مشاہدے میں نہیں آئی اور وہ یہ کہ وہ دو سڑکیں جو ہر سال پیدل زائرین کے ساتھ مختص ہوتی ہیں ان کے علاوہ پیدل زائرین کا ایک جم غیر ایک اور سڑک پر جا رہا تھا جو گاڑیوں کے لئے مختص تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر تعداد ایرانی اور عراقی زائرین کی تھی۔ یہ ہجوم دیکھ کر میری حالت پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہوگئی تھی زائرین کا یہ لشکر،عالمی میڈیا کی گہری خاموشی یا پھر منفی پروپیگنڈے کے باوجود اس بیابان میں کربلا کی طرف بڑھتا چلا جا رہا تھا اور ہر سال اس لشکر کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہم ابھی چائے ہی پی رہے تھے کہ عراقیوں کا ماتمی دستہ (یزلہ کناں) آن پہنچا۔ یہ لوگ عزاداری کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ انھوں نے ماتمی حلقے کے اردگرد مربع شکل میں ایک رسّی کھینچ رکھی تھی۔ یہ انداز مجھے اچھا لگا البتہ ان کے نوحہ کی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ میرے ایک ایرانی دوست جو اصل میں کویتی تھے، کو ان کی عزاداری بہت اچھی لگی اور وہ ان کی وڈیو بنانے لگے۔ اس ماتمی دستے کے پیچھے جو ہم روانہ ہوئے تو احساس ہوا کہ ہماری رفتار کم ہوگئی ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اس سڑک سے نکل کر اس روڈ پر چلنے لگے جہاں کوئی موکب تھا نہ کوئی کیمپ۔

تھوڑا آگے جاکر سڑک کی بائیں جانب ہماری نگاہ چند عراقیوں پر پڑی جو ان شہدا کی تصاویر کی نمائش لگائے ہوئے تھے جنہوں نے مرجعیت کے فتوے کی پیروی کرتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ کے دوران جام شہادت نوش کیا تھا۔ یہ نمائش ایران میں شہدا کے حوالے سے لگنی والی نمائش جیسی تھی۔ ایک بڑے  سے بینر پر شہدا کی تصویر نصب تھی۔ زمین پر مٹی پھیلائی گئی تھی اور مٹی سے بھری بوریاں جنھیں تقریباً آدھا میٹر کے اندازے سے اوپر نیچے رکھ کر جنگی مورچے کا منظر پیش کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ گولیوں کے کھوکھے، بسیجی رومال، سعودی گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں، شہدا کے خون آلود کپڑے اور ایک جوان شہید کا لیپ ٹاپ اور ویس کوٹ زمین پر رکھا ہوا تھا۔ دائیں طرف ایک شہید کمانڈر کی بہت بڑی تصویر رکھی ہوئی تھی جس پر بڑا بڑا لکھا ہوا تھا: ’’بالحسین انتصرناہ‘‘۔

اس سال کے اربعین میں سیاسی جھلک دکھائی دی۔ عراقیوں نے بینرز پر مختلف جملات لکھ کر سڑکوں پر نصب کر رکھے تھے مثلاً ’’الحشد حشدک یا حسین (ع)‘‘، ’’بسیج فقط بسیجِ تو یا حسین (ع)‘‘ یا ایک جملہ لکھا ہوا تھا جس کا مطلب تھا ’’انقلاب، حسین (ع) کے نام سے شعلہ ور ہوتے ہیں‘‘۔

گذشتہ سال بھی اسی راستے میں کچھ ایسی ہی نمائش دیکھنے کو ملی تھی۔ اُس نمائش میں آیت ا۔۔۔ سید علی سیستانی کی تصویر بینر پر چھپوائی گئی تھی اور اس کے اردگرد شہدا کی تصاویر نسبتاً چھوٹے انداز میں لگائی گئی تھیں اور اسی طرح زمین پر بھی ترتیب سے شہدا کی تصاویر رکھی گئی تھیں۔ یہ لگانے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر سے آنے والے کربلا کی مشی کرنے والے زائرین کو یہ بتلایا جائے کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر مشی کیسی کیسی قربانیوں کی مرہون منت ہے۔ اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زائرین کا تعلق ایران، عراق سے ہو یا کویت، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور لبنان سے ہو یا انگلینڈ یا کسی اور ملک سے ہو۔

نمائش دیکھنے کے بعد ہم آگے بڑھنے لگے۔ جوں جوں کربلا سے نزدیک ہوتے چلے جا رہے تھے موکب اور کیمپوں کی تعداد کم اور زائرین کے جم غفیر میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا۔ سڑک کچھ زیادہ پختہ نہ تھی۔ بہت سی جگہوں پر ٹوٹ پھوٹ کے سبب گرد و غبار ہوا میں پھیلا ہوا تھا۔ کربلا سے نزدیک ہوتے ہی میرا دل گہرے رنج و الم میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ مشی جو ایک سہانے خواب اور ایک دمدار ستارے کی مانند تھی کہ جو کبھی کھبار ہی آسمان پر ظاہر ہوتا ہے، ختم ہونے کو تھی۔ اب اگلے سال تک ان قیمتی لمحات کے  تکرار کا حسرت بھرا انتظار کرنا تھا۔ بشرط اینکہ اگلے سال بھی مولا امام حسین علیہ السلام دوبارہ بلائیں۔

لوگوں کی عجیب حالت تھی۔ تین لبنانی خواتین جنھوں نے پلاسٹک کی چپل پہن رکھی تھی مجھ سے آگے جا رہی تھیں بلکہ ان میں سے ایک پا برہنہ تھی۔ میں بھی ان سے کچھ کم نہ تھا۔ اپنے قیمتی جوتے اتار کر سادہ چپلوں میں جا رہا تھا! تب مجھے خیال آیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں اچھے اچھے جوتے اور کپڑے بھی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔

راستے کے بہت سارے نشیب و فراز کو طے کرنے کے بعد ہم کربلا شہر میں داخل ہوئے اور حضرت فاطمۃ الزہرا علیہا السلام کے نام پر بنے پل پر پہنچے۔ پل ختم ہونے سے پہلے ہم دائیں طرف چلے۔ مختلف شہروں سے آئے ہوئے ایرانی زائراین نے اپنے موکب ساتھ سا تھ لگا رکھے تھے اور زائرین کی پذیرائی میں مشغول تھے۔ ہم ان کے پاس سے گزر کر پل حضرت عباس علیہ السلام کی طرف مڑ گئے یہاں پہلے سے طے تھا کہ ہم مہمان کے طور پر کربلا میں بصرہ کے شیعوں کے ہاں رکیں گے جنھوں نے وہاں بہت بڑی اور صاف ستھری امام بارگاہ بنا رکھی تھی۔ یہاں پہنچنے میں ہمیں گھنٹے سے کم وقت لگا۔ وہاں پہنچنے تک میرے دل میں وہ پرانی  حسین یادیں تازہ ہوگئیں جب میں پہلی بار اربعین کے موقع پرآیا تھا۔ اُس وقت کی عراقیوں کی مہمان نوازیاں میرے لیے  بہت حیران کن تھیں۔ یہ پانچ سال کا عرصہ کس قدر جلدی گزرا پتہ ہی نیہں چلا۔ عراق میں اربعین کے موقع پر اتنے بڑے پیمانے پر پذیرائی اور پیادہ روی تنہا اہمیت کی  حامل نہیں بلکہ جو چیز اہم اور قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہاں کے عوام الناس سے مربوط ہے اور لوگ یہ سب کچھ اپنی خوشی اور مرضی سے کرتے ہیں۔ اور یہ ایک قدرتی سی بات ہے کہ جب لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے اتنا کچھ کر رہے ہوں تو خواہ مخواہ آپ کا دل چاہے گا کہ ہر سال اس سفر میں شریک ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایسے میں حکومتی مداخلت یا بڑی بڑی مشینریوں سے مدد لینے سے اس مشی کے قدرتی اور روحانی حسن میں کمی آجاتی ہے اور پھر عین ممکن ہے کہ اس اتنے بڑے کارخیر میں وہ عراقی غریب فقیر اور زحمت کش طبقہ ثواب اور خدمت کے اعزاز سے مکمل طور پر محروم ہوجائے جو سال بھر اپنے روزمرہ اخراجات میں صرف اسی لئے کمی کرتا ہے تاکہ اربعین کے دنوں میں زائرین کی خدمت میں خرچ کرسکے۔

مجھے کربلا کی طرف اپنا پہلا سفر یاد آیا۔ واقعی بے چارہ وہ نہیں ہے جو جوانی میں لقمہ اجل بن جائے بلکہ بے چارہ وہ ہے جو اربعین کی مشی میں شرکت کئے بغیر دنیا سے چلا جائے!

ایک زائر کی زبان سے اربعین کی مشی میں ایک رات دن کی داستان سفر۔



 
صارفین کی تعداد: 54


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

دعا کیجئے کہ یہ ہوائی جہاز صحیح و سالم اتر جائے
میری آواز بیٹھ گئی تھی ، جتنا بھی گرم پانی پئوں سود مند نہ تھا۔میرا ہمیشہ کا دستور یہی تھا کہ ہر احتجاج میں اس طرح نعرے لگایا کرتی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور احتجاج میں شریک ہی نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔