ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2019-08-26


جنگی جہازوں کی آزاوں سے میرا دماغ چکرا رہا تھا۔ مسلسل رونے کے سبب میرا گلا رندھ گیا تھا اور میری پلکیں بھاری ہو گئی تھیں ۔ میں بچوں کے ہمراہ تختہ جہاز پر بیٹھی تھی اور علی جہاز کی زمین پر ہماری آنکھوں کے سامنے۔یہاں ، بادلوں کے اوپر سے میری ایک آنکھ علی پر تھی اور دوسری بچوں کے ماتمی چہروں پر جو مردنی کی مبہوت حالت م یں مجھے دیکھ رہے تھے۔ وہ اس   کوتاہ مدت کی ناگہانی آفت میں مبہوت تھے جس نے ہماری زندگی کو تہہ و بالا کر دیا تھا۔علی کا چہرہ   اپنی سیاہ  اور عمیق آنکھوں ، گھنی اور کالی داڑھی، نرم  و لمبے بال جن کے درمیان ہاتھ داخل ہوکر ان کو علی کی پیشانی سے اوپر اٹھا کے کے ساتھ ،لحظہ بھر کے لئے میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا تھا۔

میں ایکسیلیٹر پر پیر رکھے بیٹھی تھی ۔ جلیز و ولیز فنگر چپس ، باورچی خانہ سے اٹھا لائی تھیں ۔ علی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر پتیلی کا ڈھکن کھول دیا ۔ عمانی لیموں اور قیمہ کی بو  میرے مشام تک پہنچی اور میری بھوک بھڑکا دی۔

اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس  اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی۔ جیسے میرے پیر وں میں وزنی بیڑی بندھ گئی ہو علی دور اور مزیددور ہوتا گیااور میں اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔ وہ جیسے جیسے دور ہوتا گیا میں تاریکی میں ڈوبتی گئی ، وہ اس قدر دور ہو گیا کہ ہر جگہ اندھیرا چھا گیا۔

جس وقت میری آنکھ کھلی میں دوبارہ ہوئی جہاز میں تھی، ایسے میں میری نظر علی پر پڑی اور میرا دل غم سے بھر آیا ۔ اس پر ایک گتے کا ٹکڑا ڈالا ہوا تھا تاکہ میں اس  کو دیکھ کر پھر بے حال نہ ہو جاوں۔ اس وقت آسمان اور زمیں کے درمیان، اتنے سالوں کی غریب الوطنی میری جان لے رہی تھی، بچے خود میں سہمے بیٹھے تھے اور ان کے غمزدہ چہرے میری جسم و جان میں آگ لگا رہے تھے؛ لیکن میں بے بس تھی، اتنی بے بس کہ مجھ میں بات کرنے تک کی سکت نہ تھی۔ مہدی جہاز کی دیوار سے سر ٹکائے کسی نامعلوم چیز کو تک رہا تھا وہ اس ایک گذشتہ رات میں کئی سال بڑا ہوگیا تھا۔ اب میرے اس تازہ جوان، پندرہ سالہ بیٹے کے لئے کوئی چیز بھی کل جیسی نہ تھی۔ کثرت گریہ اور بے خوابی سے فہیمہ کی آنکھوں میں حلقے پڑ گئے تھے  اس نے اپنی ہتھیلی سے اپنے آنسو صاف کئے  اور  اپنی چادر کے پلو کو اپنے پیروں پر ڈال ایسے ہی بیٹھ گئی  جیسا علی دیکھنا چاہتا تھا۔میری چادر کا ایک کونہ اب بھی محمد کے ہاتھوں میں تھا وہ خطرے کو محسوس کر رہا تھا اور ایک لمحہ کے لئے مجھ سے دور نہ ہوا تھا۔ آنسووں کے سیاہ پانی نے اس کے سفید گالوں کو دھندلا دیا تھا۔ وہ رونے کے سبب لال ہوجانے والی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھااور اس بات پر مصر تھا کہ میں پریشان نہ ہوں۔ پریشانیاں میری روح میں سرائیت کر گئی تھِیں مگر میں نے اس کے سر پر ہاتھ تک نہ پھیرا تاکہ وہ  اس خیال سے کہ میں سو رہی ہوں، آسودہ خاطر ہوجائے۔



 
صارفین کی تعداد: 78


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔