تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2019-07-26


صدام نے مجھ سے مریضوں کے بارے میں سوال کئے۔ میں نے جواب میں کہا: "جناب صدر! میں پانچویں طبقے پر کام کرتا ہوں اور مجھے ان مریضوں کی صورت حال کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔"

اتنے میں وارڈ کے ڈاکٹر اندر داخل ہوئے اور مجھے اُس مشکل سے نجات دلائی۔ میں غمگین اور وحشت زدہ عالم میں ایمرجنسی وارڈ میں اپنے کمرے میں لوٹا۔ صدام نے مریض بچوں  سے ملاقات کی اور تیسرے طبقے پر، غصے کی وجہ سے ڈاکٹر "ہشام سلطان " کی توہین کی اور اُن کے سینے پر مکا مارا – آپ ذرا تصور کریں صدر ایک میڈیکل ڈاکٹر کو لوگوں کے سامنے اس طرح مارے اور پھر اس کے بعد اُسے نکال دے – اُس کے بعد صدام کے گارڈز ظلم کے شکار اس ڈاکٹر کو توہین آمیز حالت میں نچلے طبقے پر لے گئے۔ ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد ڈاکٹر "حیدر الشماع" میرے پاس آئے اور کہا: "صدر صاحب پانچویں طبقے  پر داخل ہوگئے ہیں۔"

میں تیزی کے ساتھ اور اُن سب سے پہلے اس طبقے پر پہنچا۔ صدام ہسپتال کے سربراہ کے ساتھ پانچویں طبقے کے اندر داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا: "اس وارڈ کے ڈاکٹر تم ہو؟"

میں نے جواب دیا: "جی"

وہ آمرانہ لہجے میں بولا: "مجھے مریضوں سے ملاؤ!"

اُس نے مجھ سے بیماریوں کی تشخیص، علاج کے طریقہ کار اور میڈیکل ٹیسٹوں کی انجام دہی کے بارے میں سوالات کئے۔ گویا میں ایک ایسا شاگرد تھا جسے امتحان لینے والے میڈیکل ڈاکٹر کے سوالوں کے جواب دینے ہوتے  ہیں۔ لیکن صدام میڈیکل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اُس کے وجود کو تکبر، جہالت اور نفرت سے بھرپور پایا۔

چند کمروں کا دورہ کرنے کے بعد، ایک خاتون نرس جو اُس وارڈ کی انچارج تھی وہاں آئی اور اُس نے صدر سے ہاتھ ملایا، لیکن ایک گارڈ نے سینے پر ہاتھ مار کر اُسے کمرے کے اندر دھکا دے کر اُسے اندر بند کردیا۔ شاید اس منظر کا تصور پڑھنے والوں کیلئے حیرت انگیز ہو، لیکن یہ ایسے حقائق تھے کہ میں نے نزدیک سے اُن کا مشاہدہ کیا ہے۔

صدام نے ایک کمرے میں مجھ سے سوال کیا: "کیا تم لوگ مریض بچوں کو ڈائپر (Diper) دیتے ہو؟"

میں نے کہا: "نہیں!"

اُس نے کہا: "کیوں؟"

میں نے جواب دیا: "جناب صدر آپ یہ سوال ہسپتال کے ڈائریکٹر سے کرسکتے ہیں۔"

ڈائریکٹر نے جواب دیا: "جناب صدر! وزارت صحت اس طرح کے وسائل ہمیں مہیا نہیں کرتی۔"

صدام نے ناراض اور تمسخر آمیز لہجے میں کہا: "عجیب، وزارت صحت!! میری طرف سے وزارت خزانہ کے حکام سے جا کرکہنا اس طرح کے وسائل مریضوں کے اختیار میں دیئے جائیں۔"

واضح طور پر چھلک رہا تھا کہ راتوں کو جاگنے، شراب خوری اور نشہ آور چیزیں استعمال کرنے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں  غصے اور غضب سے سوجھی  ہوئی ہیں۔

دورہ اپنے اختتام کو پہنچا اور صدام نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے اور کارکنوں سے جبری طور پر ہاتھ ملاتے ہوئے ہسپتال کو ترک کیا۔ وہ سفید رنگ کی ایک "پیجوٹ" کار میں سوار ہوا اور اُس کے ساتھ صدارتی گارڈ نے حرکت کی جو پانچ بلڈ پروف گاڑیوں پر مشتمل تھا۔

میں آرام کرنے کیلئے گھر چلا گیا۔ میرے دوست اس بات پر بہت خوش تھے کہ میں صدام اور اُس کی ساتھیوں کی اُس خطرناک ملاقات جو توہین اور مکوں سے بھرپور تھی میں صحیح و سالم  بچ گیا تھا۔ میں پورے دو دن تک سینہ اور کندھے پر ہونے والے درد  میں مبتلا رہا جو – اُس دورے میں صدام کی ہمراہی میں – مجھے نصیب ہوا تھا اور کبھی کبھی مجھے ایسے وحشت ناک خواب آتے تھے جو مجھے سونے نہیں دیتے تھے!

ایک دوسرا واقعہ جو ٹیلی ویژن سے  دکھایا گیا، وہ مشرقی بغداد کے علاقے میں واقع دیالہ گاؤں سے مربوط ہے۔ اُس علاقے کے کسانوں نے صدام سے ملاقات کے دوران زرعی کمپنیوں اور جماعتوں کے کارکنوں کی شکایت کی۔ صدام نے اُن کمپنیوں اور جماعتوں کو بند کرنے اور ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کسانوں سے کہا: "آج کے بعد اگر کسی کمپنی کا کوئی کارکن آپ کے پاس آئے، آپ اپنی پگڑی کا پھندا اس کی گردن میں ڈال کر اُس کے ہاتھ باندھ کر اُسے بغداد لے آئیں۔"

یہ ایک صدر کا طریقہ کار ہے جو بیسوی صدی کے آخر میں حکومت کر رہا ہے۔ میرے خیال سے صدام لوگوں کی پس ماندہ قبائلی طریقہ کار پر تربیت کر رہا ہے اور ایک قبیلہ کے سربراہ کے عنوان سے اُس کی قابلیت غیر قابل انکار ہے۔

صدام نے قبیلوں کے سربراہوں اور عوام الناس میں سے کچھ اعتراض کرنے والوں کی وفاداری حاصل کرنے کیلئے، اُن کی تنقیدوں اور الزامات کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ایسے عراقی لوگوں کے لئے تحفہ  تحائف بھجوائے۔ لوگ لالچ میں ان تحائف کو حاصل کرنے کیلئے  شور مچا کر اور خوش ہوکر اس کا استقبال کرتے تھے۔ صدام اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے،  تیل سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ کرتا۔ یہ بات کہنے کے قابل ہے کہ انقلاب کے واقعات اور حادثات کی وجہ سے ایران کی طرف سے تیل کی برآمد متوقف ہونے کے بعد عراق روزانہ چار ملین بیرل پٹرول بیچتا تھا اور اُس سے حاصل ہونے والے پیسوں کو اپنی حکومت کو مضبوط کرنے، فوج اور سیکیورٹی فورسز کا اعتماد حاصل کرنے- اُن کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے – اور نیز مشرق و مغرب سے طولانی مدت کی قراردادوں پر اسلحہ کی خرید- کہ جسے ایک دفعہ لندن کے ریڈیو نے عراق کے اسلحہ کے بارے میں جنون سے تعبیر کیا – پر خرچ کرتا۔

خلاصہ یہ کہ صدام ان دوروں سے سادہ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد کو فریب دینے میں کامیاب ہوا اور اُس نے اُن کی حمایت اور طرفداری سے ایران اور انقلاب اسلامی کی سرزمین پر حملہ کرنے میں فائدہ اٹھایا۔

۲۔ قومی تعاون کا منشور

صدام نے ذاتی طور پر  پانچ قرار دادوں پر مشتمل "قومی تعاون کے منشور" کا اعلان کیا کہ جس کے مضمون میں عربوں کو ایک جاہلیت  کے معاہدے پر ملحق ہونے اور اُن کی بیرونی اور اسلامی امت کے خلاف کسی خطرے  کے پیش نظر ایک دوسرے کی حمایت کرنا تھا۔ عرب حکام نے ظاہراً اس منشور کی مخالف کی، لیکن مخفی طور پر اُس کی تائید کی  اور عراق اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اُسے عملی جامہ پہنایا۔ اس منشور سے ایک اہم حادثہ تیار ہونے کی بو آرہی تھی کہ جس کی منصوبہ بندی عراق کر رہا تھا  اور جسے عربوں کی حمایت اور طرفداری کی ضرورت تھی۔ اس بات کی دلیل یہ ہےے کہ اس منشور کو قومی اور عوامی پہلو دیا گیا۔ کارکنان، کسان، اسٹوڈنٹس اور دوسرے بعثی بغداد کی ایک بین الاقوامی اسٹیڈیم میں جمع ہوئے  اور صدام نے منشور کے ایک ایک بند کو پڑھنے کے بعد حاضرین سے پوچھا: " کیا آپ اس منشور سے موافق ہیں؟" لا علم اور غلام صفت حاضرین ایک آواز میں کہتے: " جی آقا! "

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 251


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

دعا کیجئے کہ یہ ہوائی جہاز صحیح و سالم اتر جائے
میری آواز بیٹھ گئی تھی ، جتنا بھی گرم پانی پئوں سود مند نہ تھا۔میرا ہمیشہ کا دستور یہی تھا کہ ہر احتجاج میں اس طرح نعرے لگایا کرتی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور احتجاج میں شریک ہی نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔