تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پہلی قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-07-12


 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہم اس ہفتہ سے " تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات " نامی کتاب کو پڑھیں گے۔ اس کتاب کو ڈاکٹر مجتبیٰ الحسینی نے لکھا ہے اور محمد حسین زوار کعبہ نے اس کا فارسی ترجمہ کیا ہے۔ "تیسری ریجمنٹ" سب سے پہلی مرتبہ، سن ۱۹۹۱ء میں دفتر تبلیغات اسلامی کے مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز  سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب دفتر تبلیغات میں پرنٹ کے مراحل طے کرنے والی ۷۲ ویں کتاب ہے اور اس دفتر کی ۲۳ ویں کتاب ہے جو واقعات کی صورت میں شمار ہوتی ہے۔

میں اس کتاب کو خدا  کا نام بلند کرنے کی راہ میں جدوجہد کرنے والے اور اپنا پاکیزہ خون بہانے والے انسانوں؛  اور ایسے لوگ جنھوں نے شہادت کے سرخ راستے کا انتخاب کیا اور کافر بعثی  حکومت سے مقابلے کیلئے اپنے جبڑوں، دلوں اور بازؤں سے مدد حاصل کی؛ نیز قوم کے بیدار ضمیروں، شہداء اور توبہ کرنے والے آزاد  انسانوں کے نام ہدیہ کرتا ہوں۔ ڈاکٹر مجتبیٰ الحسینی۔

فہرست:

مؤلف کی یادداشت/ وہ سال جو حوادث میں غرق تھے/ بھرپور عطوفت سے موت کی قبروں تک / جھڑپوں کی حقیقی علامات / ایک دفعہ پھر جفیر / جفیر ریلیف سینٹر / غیر اعلان شدہ آپریشن / جفیر حصول سینٹر / طولانی گرمیاں / گرمیوں کے واقعات / شو ق اور لالچ دلانا / خوزستان سے رہائی کی ہوائیں آرہی ہیں / فروری کی جنگیں اور خصوصی مشنز کا خوف / سعدون التفگ دیہات پر حملہ /  کراسنگ پوائنٹ / خرم شہر میں عراقی افواج / خرم شہر کی آزادی / اسرائیلی مثلث/ شب قدر، رہائی کی رات۔

مؤلف کی یاد داشت

الحمدلله رب العالمین... علیه توکلت و به استعین و افضل الصلاه و التسلیم علی المصطفی الامین محمد و علی آله الطاهرین.

جب سے انسان اس زمین پر آیا ہے تب سے ہی الٰہی تہذیب اور جاہلیت کی تہذیب میں  تضاد اور جھڑپ کا آغاز ہوا اور طول تاریخ میں نیکی اوربرائی کے مظاہر کے مابین، یعنی ایک طرف سے انبیاء اور اولیاء اور دوسری طرف سے طاغوت اور فرعونیوں نے اپنے کام کا آغاز کیا۔ قرآن کریم نے اس جھگڑے کو بہترین انداز میں اپنی آیات میں بیان کیا ہے۔

تقریباً چودہ صدیوں پہلے، عرب کی وادی اور حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل کی سرزمین پر خدا کا نور ظاہر ہوا اور پیغمبر اکرم (ص) اور اُن کے ساتھیوں کا مشرکین، منافقین اور یہودیوں سے کہ جو بے شرمی سے سازشیں کرتے تھے، جھگڑا شروع ہوا۔ خوش قسمتی سے اسلام چند ہی سالوں میں شرک و نفاق کے عوامل کو دبانے میں کامیاب ہوا اور دو عظیم قدرتوں روم اور ایران کو اطاعت پر مجبور کر دیا ، کرہ ارض کے وسیع علاقے کو اپنے نور سے روشن کردیا۔ اُس دن کے بعد سے، پیغمبر اکرم حضرت محمد (ص) کے چاہنے والوں  کی تعداد میں بیشمار اضافہ ہوا کہ شروع میں جو انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ نہیں تھے۔ لیکن اس کامیابی کے بعد بھی لڑائی جھگڑے ختم نہیں ہوئے، بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں کبھی ہلکے انداز میں اور کبھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے۔

اس تنازع کی واضح مثال، صلیبی جنگیں ہیں جو مسیحیت کے نام پر مسلمانوں کے خلاف شروع ہوئیں اور سالوں تک جاری رہیں؛ جو آخر میں مسلمانوں کی فتح اور صلیبیوں کی شکست پر ختم ہوئی۔ یہ بات اَن کہی نہ رہ جائے کہ اُس زمانے میں مسلمان  تہذیب اور یک جہتی سے مالا مال تھے۔ در واقع، صلیبی جنگیں ایسا مفید تجربہ تھا جس سے مسلمانوں سے زیادہ دشمنوں نے فائدہ اٹھایا۔

عیسائی، شکست سے دوچار ہونے کے بعد، اپنے ملکوں میں واپس چلے گئے  اور اس سوچ کے ساتھ کہ مسلمانوں کو کس طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں آہستہ آہستہ خود کو تیار کرنے لگے اور بھرپور اقدامات کے ساتھ علم اور ٹیکنالوجی کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ جبکہ مسلمان خواب و خیال اور مستی  میں لگے ہوئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، بیسویں صدی کے آغاز میں، مغربیوں نے علم اور جدید اسلحہ سے لیس ہوکر مسلمان علاقوں پر حملہ کیا ہے اور عثمانی سلطنت جو اسلام کا آخری سیاسی قلعہ اور چھاؤنی سمجھی جاتی تھی، اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔ اُس تاریخ کو، جب جنرل لنبی بیت المقدس میں داخل ہوا، اُس نے اعلان کیا: "آج صلیبی جنگوں کا خاتمہ  ہوگیا ہے۔"

مسلمانوں کی جائیداد اور زمینیں صلیبی کافروں اور اُن کے بچوں کے درمیان تقسیم ہوگئیں۔ ایسے واقعات کے رونما ہونے  میں کسی تعجب کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ مغرب نے ایسے تجاوز کیلئے سینکڑوں سال کوشش کی تھی؛ جبکہ مسلمان خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف چلے  گئے تھے۔ دونون طرفین کے درمیان ایک عجیب طرح کا مقابلہ تھا۔ دو طرفین  دوسرے کی راہ پر چل پڑے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، مغربی عظمت و قدرت کی طرف اور مسلمان تنزلی، تقسیم بندی اور پیچھے کی طرف حرکت کر رہے تھے۔ سر انجام مسلمانوں کی سرزمینیں، خاص طور سے عرب، سایکس پیکو کے منحوس معاہدے کے تحت، جو لندن اور پیرس کے درمیان ہوا تھا، چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئے اور استعمار نے علاقے میں اپنے دست پروردہ ایجنٹوں –جو آنکھیں اور کان بند کرکے اپنے مالک کی اطاعت کرتے تھے- کو ظاہری طور پر حکومت کی باگ ڈور  دیدی اور ان ملکوں کو چھوڑ دیا۔

دست پروردہ ایجنٹوں نے زندگی کے تمام مسائل، چاہے وہ اقتصادی، سیاسی، فوجی مسائل ہوں، ان میں استعماری حکومت کے نفوذ کے راستوں کو کھولا، آزادی، ترقی اور قومیت کے نعرے کے سائے میں اسلام سے مقابلہ کیلئے کھڑا ہوا اور پٹرول اور دوسرے قدرتی وسائل کو اپنے آقاؤں کے اختیار میں دیدیا۔ ایسے میں، کروڑوں مومن اور متدین انسان، جن کے دل اسلام کیلئے دھڑکتے تھے اور جو نئی تہذیب کی جھوٹی شکل  اور اپنے حکمرانوں کی وابستگی سے آگاہ تھے، یہ لوگ ایک ایسے نجات دہندہ کے انتظار میں بیٹھ گئے کہ جو آکر انہیں اس شرمسار حالت سے نجات دلائے۔

استعماری پٹھوؤں اور اسلامی تحریکوں  کا آغاز کرنے والوں میں جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے، جدوجہد کرنے  والے اکثر مسلمان گروپس کے افراد سے جیلوں کو بھرا گیا اور کچھ علماء اور عام لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ آہستہ آہستہ ان بکے ہوئے حکمرانوں کے چہروں سے وطن پرستی کا جھوٹا نقاب اتر گیا اور اسلام اور امت اسلام کے خلاف اُن کی دشمنی واضح ہوگئی۔

سن ۱۹۷۹ء  میں اسلامی جمہوریہ ایران سے ایک طوفانی لہر اٹھی اور علاقے میں ایک ظالم ترین حکومت کے تخت تاج اور مغرب کے اہم ترین پٹھو کو جدوجہد کرنے والی مرجعیت اور انقلابی مسلمان عوام کے ہاتھ شکست کا سامنا ہوا۔ جب عالمی استکبار نے اپنے اس قلعہ کو ہاتھ سے جاتے دیکھا، اُس نے اس انقلاب سے مقابلہ کرنے اور اس نوپا طفل کو زندہ دفن کرنے کیلئے ایران اور ایران سے باہر اپنے تمام اقتصادی، تبلیغاتی اور فوجی وسائل اور ایجنٹوں کو اکٹھا کیا۔

انقلاب اسلامی حقیقت میں ایک ایسا زلزلہ تھا کہ جس نے علاقے اور دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور جس نے ایران کے پڑوسیوں کے سیاسی نقشوں کو درہم برہم کردیا تھا۔ کچھ چہرے مخفی ہوگئے اور کچھ چہرے آشکار ہوگئے۔ منعقدہ معاہدے اور قرار دادیں ناکام ہوگئیں۔ مشرق اور مغرب وقتی طور پر اپنے اختلافات  بھول گئے اور انھوں  نے اس طوفانی لہر کے سامنے ایک نئی صف تشکیل دی۔ علاقے کے حکمران بھی جو الجھن کا شکار ہوگئے تھے، وہ اپنے آقاؤں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس لہر کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔ اس دوران، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد خوشی سے مسرور تھی اور اپنی حقیقی شناخت حاصل کرکے اُن میں اعتماد بہ نفس پیدا ہوگیا تھا۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے، نئے آنے والے اسلامی انقلاب کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہوا اور انقلاب کے خلاف نفسیاتی جنگ، پروپیگنڈے اور معاشی اور فوجی دباؤ کا سلسلہ چل نکلا۔ یہاں تک کہ سر انجام عراق کی بعثی حکومت نے ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ والے دن ایران کی شمال مغربی سرحدوں سے لیکر جنوب مغربی سرحدوں تک حملہ کردیا۔ یہ حقیقت سب پر آشکار ہے کہ جنگ امریکی منصوبہ بندی اور چاہت، سعودی عرب اور خلیج فارس کے دوسرے ممالک کی لا محدود مالی مدد، ملحد مشرق اور کافر مغرب کی حمایت اور پشت پناہی سے شروع ہوئی اور عراق کی مسلمان عوام کو نہ چاہتے ہوئے ایران کے انقلابی اور مسلمان بھائیوں کے خلاف جنگ پر مجبور کیا۔ اس جنگ کی وجہ سے دو مسلمان ملتوں ایران و عراق اور عام مسلمانوں میں ایک فکری اور سیاسی تضاد پیدا ہوا اور بہت سے لوگوں کیلئے حق و باطل  کی شناخت کرنا مشکل ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے ایران کا ساتھ دیا، کچھ لوگ اس ملک کے دشمن کی  صفوں میں چلے گئے اور بالآخر کچھ لوگوں نے اسے لا تعلقی کا موقف اپنایا۔

اس جنگ میں ہزاروں لوگ اسیر ہوئے، لاکھوں عراقی اور ایرانی مسلمانوں کے دلوں پر چوٹ لگی اور بہت زیادہ معاشی اور اجتماعی نقصان اٹھانے کا باعث بنی۔ ان سب باتوں کے  علاوہ، اس جنگ کے آثار شاید ایک طولانی مدت تک ختم نہ ہوں اور امت واحدہ کے فرزند سالوں تک ایک دوسرے کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے رہیں۔

تقدیر کا کرنا ایسا تھا کہ میں بھی اس جنگ کی قربانیوں میں سے ایک ہوں۔ اس کے باوجود کہ میں حقائق کو درک کرچکا تھا، لیکن خاص شرائط کی وجہ سے کہ جن کا میں شکار تھا، میں نے اپنے اعتقادات اور ذاتی دلچسپی کے برخلاف، اس جنگ میں عراقی حکومت کی طرف سے شرکت کی۔ اس طرح کہ میں نے نہ چاہتے ہوئے میدان جنگ میں قدم رکھا، لیکن دو سال مصیبت اور دربدری سہنے کے بعد، اپنی مرضی سے میدان جنگ سے باہر نکل گیا اور ۱۴/ ۷/ ۱۹۸۲ والے دن خداوند متعال کی مدد سے صحیح سالم  نکل گیا تاکہ میرے جسم اورروح کو آرام اور سکون میسر آجائے۔

میں اس وقت، ایک اسیر ڈاکٹر کے عنوان سے، اپنے واقعات پر مشتمل ایک ناچیز کتابچہ کی تحریر کر رہا ہوں جو ایران کی عوام اور انقلاب اسلامی کی مظلومیت پر گویا ایک سند کی حیثیت رکھے؛ اور نیز اس پلید جنگ کی ماہیت کے ایک چھوٹے سے حصے کو سب پر عیاں کردے اور مسلمان نسلوں کیلئے عبرت حاصل کرنے والا سبق ہو۔ میں خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ وہ میری توبہ قبول کرلے، مجھے پر اپنی رحمتوں اور عنایتوں کی بارش کرے اور مجھے صراط مستقیم پر خدمت کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ اِنَّه سَمیعُ مُجیب ۔ڈاکٹر مجتبیٰ الحسینی۔ دسمبر ۱۹۹۱۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 167


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں
اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔