۱۵ خرداد کو ہمارا عہد و پیمان

راوی: محمد مہدی کتیبہ

مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2019-05-22


۶ جون سن ۱۹۶۳ کو کیڈٹ کالج میں  الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا۔ تمام ا فسران اور کالج کے لڑکے مسلح ہوکر اعلیٰ افسران کے آرڈر کے منتظر تھے۔ باہر لوگوں سے جھڑپ  ہونے کا امکان تھا اور میں اسی وجہ سے بے چین اور پریشان تھا اور میری اندر کی کیفیت میرے ظاہر سے عیاں تھی۔ جو لڑکے وہاں شاہ کی اینٹی انفارمیشن فورس  کے حامی تھے چونکہ وہ میرے مذہبی اور دیندار ہونے سے آگاہ تھے تو  وہ مسلسل مجھے پر ایسے الفاظ کستے: آپ کے خمینی ؒ کو تو پکڑ لیا ہے؛ میں بھی ان کے جواب میں بات گول مول کر دینے کیلئے کہتا: مجھے کیا۔ اُن میں سے  ایک لڑکا ہمیشہ یہی کہتا : اگر اعلیٰ حضرت تمہیں بندوق دیں اور کہیں کہ آقائے خمینی کو قتل کردو تو تم کیا کرو گے؟ میں جواب میں کہتا : وہ (اعلیٰ حضرت) کبھی بھی مجھے ایسا کرنے کو نہیں کہیں گے۔ وہ پھر کہتا : اگر کہہ دیا تو؟ تو میں کہتا : میں ایسا نہیں کروں گا۔ یہ لوگ اسی طرح مجھے پریشان کرتے رہتے وہ بھی ان حالات میں کہ میں لوگوں کو قتل کرنے کی خبروں  –  جو ریڈیو سے نشر ہوتیں–  سے انتہائی  پریشان ہوجاتا۔

اینٹی انفارمیشن فورس کے اسٹوڈنٹس، آفیسرز کو اس بات پر اُکساتے رہتے کہ وہ مظاہرین پر سختی کریں۔ اُنہی آخری دنوں میں، ۵ جون ۱۹۶۳ کو میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ انہی لڑکوں میں سے ایک لڑکا  آیا اور میرے سامنے امام خمینی ؒ کی توہین کی  اور امام کے بارے میں بدتمیزی کی جس سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں اپنے بیڈ پر جیسے لیٹا ہوا تھا ویسے ہی اٹھا اور میں نے پاگلوں کی طرح چلانا شروع کردیا " چھوڑ دو مجھے بے شرمو، تمہیں مجھ سے کیا لینا دینا؟ میں اپنی نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں۔ اگر امام خمینی ؒ کو پکڑ لیا تو میں کیا کروں؟ کیوں تم لوگ مجھے تنگ کرتے ہو؟ تم لوگ میرا پیچھا کیں نہیں چھوڑتے؟ میرا دماغ خراب کردیا ہے تم لوگوں نے، چھوڑ دو مجھے۔" میں نے کالج کے ریسٹ ایریا میں اچھا خاصا  شور شرابہ مچا دیا۔ سب مجھے خاموش ہوکر دیکھ رہے تھے۔ میں نے صبح سے لیکر اس وقت تک کی تمام بھڑاس نکال دی۔ یہ بھی شاید خدا کی حکمت تھی کیونکہ اس کے بعد مجھے کسی نے تنگ نہیں کیا کیونکہ انھوں نے خود دیکھ لیا تھا کہ یہ تو کوئی پاگل ہی ہے پھر اس کے بعد میرا پیچھا چھوڑ دیا اور کبھی کوئی سوال نہیں پوچھا۔

میں نے چند دیگر کیڈٹس کے ساتھ میٹنگ رکھی اور یہ طے کیا کہ مظاہرین سے آمنا سامنا ہونے کی صورت میں اپنے کسی آفیسر کا آرڈ نہیں مانیں گے۔ نہ فقط یہ بلکہ ہم فوج اور موقع پرموجود مسلح نفری کے خلاف الرٹ ہوجائیں گے۔ جناب فتواریی، محبی، موسوی اورسہرابی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے میرے ساتھ مل کر اس منصوبے پر قسمیں کھائی تھیں۔

خوش قسمتی سے کیڈٹس کو کالج سے باہر ہی نہیں نکالا گیا۔ شاید ان کو انداز ہ تھا کہ یہ لوگ پڑھے لکھے جوان ہیں۔ ایک عام ریکروٹ کی طرح جاہل نہیں کہ انھیں جو حکم دیا جائے یہ اس پر عمل کردیں گے۔ بہرحال اس صورت حال میں کیڈٹ کالج  آمادہ  اور الرٹ تھا،  لیکن باہر کی فضا میں کیڈٹس کو استعمال نہیں کیا گیا۔



 
صارفین کی تعداد: 240


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔