کمانڈوز کے چند واقعات

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-05-20


"سپاہیوں کی زبانی تاریخ" کی چھٹی اور ساتویں جلد کا مجموعہ حسن سلطانی اور علی اصحابی کے زبانی واقعات سے مخصوص ہے۔ یہ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈوز ہیں جنہوں نےایک نشست میں میر عماد الدین فیاضی کے ساتھ بات چیت کی۔

سپاہیوں کی زبانی تاریخ کے چھٹے مجموعہ کی جلد نے "حسن ژیپاد" نام پایا ہے اور اس کے ۲۰۳ صفحات ہیں۔ کتاب کے مؤلف کے بقول یہ کیپٹن حسن سلطانی کے ساتھ ۴۰ گھنٹوں پر مشتمل باقاعدہ اور آزادانہ طور پر ہونے والی گفتگو کا نتیجہ ہے؛ بحری افواج کے ایک پائلٹ کمانڈو کی ٹریننگ حاصل کرنے والے بہترین اور ماہر سپاہی جو خرم شہر میں ہونے والی جھڑپوں اور اُسے آزاد کرانے والی جدوجہد میں موجود رہے ہیں۔

اس کتاب کی ۱۵ ویں فصل کے ابتدائی صفحات پر لکھا ہوا ہے: "میں بوشہر میں تھا کہ خرم شہر اور آبادان سے جنگ کی صدائیں آنے لگیں۔ کمانڈوز پر فوراً ہی خرم شہر پہنچنے کی ڈیوٹی لگادی گئی۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ء کو رات کے وقت ہماری کمانڈوز کی پوری بٹالین آبادان کی طرف روانہ ہوئی۔ ہم وہاں پر شاہراہ برِیم پر واقع گلستان کلب میں ٹھہرے۔ ہم سے قبل، کچھ دنوں پہلے کمانڈوز کے دو گروپ جو خرم شہر گئے ہوئے تھے وہ مختلف جگہوں پر جیسے شلمچہ میں مستقر تھے۔ چونکہ ان کی تعداد کم تھی اس لئے یہ لوگ آکر کوہ دشت کی چھاؤنی میں مستقر ہوگئے تاکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ملحق ہوجائیں اور پھر یہاں پر سب کے وظائف مشخص ہوجائیں۔ گلستان کلب میں، جناب ضرغام جو تمام کمانڈوز کے سربراہ تھے انھوں نے ہمیں جنگ کی صورت حال کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کیں اور اس طرح پتہ چلا کہ ہماری طرف سے دشمن سے مقابلے کیلئے کسی ٹینک یا توپ سے استفادہ نہیں کیا جائے گا، بس ہم لوگ خود ہی ہیں جنہیں علاقے کی حفاظت کرنی ہے۔ یہاں پر گروپ بندی ہوگئی اور گروپ مشخص ہوگئے اور ہمارا مشن جو کہ خرم شہر کی طرف حرکت کرنا تھا شروع ہوگیا۔ ہم یہاں سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ہمارے بھاری ہتھیاروں میں ۱۰۶ اور ۱۲۰ ملی میٹر کی توپیں تھیں – صرف یہی ہمارے بھاری ہتھیار تھے۔ ہم انھیں کمانڈوز کا توپ خانہ کہا کرتے تھے، کہ جب یہ لوگ علاقے میں مستقر ہوگئے  ہم لوگ آسودہ خاطر اور مطمئن ہوگئے اور ہماری امیدیں بڑھ گئیں – وہ کوہ دشت چھاؤنی کی طرف گئے اور ہم جو گن مین تھے ہم شاہراہ برِیم  پر پانی گزرنے والی نالیوں  میں استراحت کرنے لگے۔ چونکہ ممکن تھا کہ کسی بھی وقت گلستان کلب کو نشانہ بنالیں۔ ہم مشن سے بعد والی استراحت کیلئے سڑکوں پر  ہی رہ جاتے۔ حقیقت میں ہم لوگ گلستان کلب سے روانہ ہوتے  اور خرم شہر کی طرف جاتے اور تقسیم بندی کی صورت میں اپنی پوزیشنیں سنبھالتے تھے اور ہم ایک کے بعد ایک گلیوں میں، گلیوں کے دائیں اور بائیں طرف سے گزرتے تھے تاکہ ہم لوگ دشمن کے نزدیک پہنچ جائیں، یعنی جہاں بھی دشمن ہوتا تھا ہم وہاں سے شروع کرتے تھے۔ دشمن نے شلمچہ کے بارڈر سے پیش قدمی کی تھی اور اُس نے چیک پوسٹوں اور دیہاتوں پر قبضہ کرلیا تھا اور خرم شہر  کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ہمارا شہر کے اندر گروپ کی صورت میں سب سے پہلے دن حرکت کرنا، اگر مجھے صحیح سے یاد ہو تو ۲۵ یا ۲۶ستمبر  کا دن تھا۔ ہم ایسی سٹرک پر تھے جو مسجد جامع کی طرف سے ریلوے لائن کی طرف جارہی تھی، ہماری بائیں طرف کسٹم تھا۔ ہم دو دستوں میں بٹ گئے تھے جو سڑک کے دونوں طرف تھے، ایک گروپ بائیں طرف ایک گروپ دائیں طرف۔ کیپٹن رحمان الفتی بائیں طرف والے گروپ کو آگے لے جا رہا تھا اور دائیں طرف والے گروپ کی سرپرستی میں کر رہا تھا۔ حرکت کرتے ہوئے ہمیں احساس ہوا کہ بائیں طرف والے گروپ کے ایک فرد کو گولی لگی ہے۔ ہم بھی اُن کی طرف چلے گئے وہاں جاکر دیکھا تو انزلی کے رہنے والے ایک شخص جواد صفری کو پیچھے سے گولی لگی ہے۔ جیسے ہی ہم پہنچے رحمان نے کہا: "زمین پر لیٹ جاؤ کہ عمارتوں سے فائرنگ کر رہے ہیں۔"

اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ خرم شہر میں "پانچواں ستون"(ایسے افراد جو جنگ میں عراق کا ساتھ دے رہے تھے) پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہے اور ہمیں پہلے ان سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

اوائل میں گن مینوں کے ساتھ جو بھاری اسلحہ ہوتا تھا وہ "بازوکا" تھا جو جنگ عظیم کے زمانے کا تھا۔ بازوکا کو ہمیں آر پی جی گن کی طرح کندھوں پر رکھ کر فائر کرنا ہوتا تھا۔ وہ کمانڈوز کے درمیان "ہیٹر کا پائپ" سے مشہور تھا۔ میں نے تین طرح کے بازوکا دیکھے ہیں۔ اُس کی بہترین رینج پچاس میٹر تھی۔ اس اسلحے کے ساتھ کیا دشمن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اُس سے پچاس میٹر کے فاصلے تک قریب ہوجائیں اور اُس سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو جب ہم نے دیکھا کہ بازوکا  کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اب وہ ہمارے کام کی نہیں رہی اور اُس کی وجہ سے ہمارے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں ہم نے اُسے وہیں پر چھوڑ دیا اور اُس سے کوئی استفادہ نہیں کیا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد پہلے چھ سات دن بہت ہی وحشت ناک تھے۔ ہم میں سے کسی نے بھی جنگ کو نہیں دیکھا تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ جنگوں کی مانند جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن وہ باقاعدہ طور پر جنگ کہ جس میں ہمارے سروں پر طیارے بمب گرائیں، نہیں تھیں۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا سب اُلجھن کا شکار تھے۔ ہم ایرانی لوگ بھی اپنے لوگوں  کے بارے میں ایک خاص قسم کا تعصب رکھتے ہیں، جب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک طیارہ آتا، بمب گراتا یا دشمن کا توپخانہ مسلسل شہر پر گولے برسا تا اور شہر کے لوگ، بچے سے لیکر بوڑھے افراد تک، سب جانیں فدا کر رہے تھے اور مر رہے تھے، گھروں اور دوکانوں میں آگ لگ جاتی اور وہ گر جاتے، سڑکوں پر بدامنی تھی، ہم لوگ جو پہلی دفعہ ان مناظر کو دیکھ رہے تھے ہمارے لیے بہت کٹھن اور دشواور تھا ۔۔۔"

سپاہیوں کی زبانی تاریخ کے ساتویں مجموعہ کی جلد کا نام "عاشقان وطن" ہے اور اس کے ۲۲۴ صفحے ہیں۔ کتاب کے مؤلف کے بقول یہ کیپٹن علی اصحابی کے ساتھ ۴۰ گھنٹوں پر مشتمل باقاعدہ اور آزادانہ طور پر ہونے والی گفتگو کا نتیجہ ہے۔جناب فیاضی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں، انھیں خرم شہر کا دفاع کرنے والے مشہور کمانڈو کے عنوان سے متعارف کروایا ہے۔

اس کتاب کی ۱۸ ویں فصل میں آیا ہے: "جنگ شروع ہوئے تقریباً سات یا آٹھ دن گزر چکے تھے کہ خرم شہر میں سپاہ کے کمانڈر [محمد] جہان آرا،  سپاہ کے ساٹھ افراد کو لائے  اور لیفٹیننٹ سلیمان محمود سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو  آر پی جی ۷ کی ٹریننگ دیں۔ ان لوگوں کو خرم شہر کے پلے گراؤنڈ میں ٹریننگ دی جاتی تھی۔ خوش قسمتی سے ان افراد کے اندر اتنا جوش و ولولہ تھا ، اتنے بلا صلاحیت تھے اور بہت دقت سے کام لے رہے تھے کہ انھوں نے ایک دن میں ہی سیکھ لیا  اور آر پی جی چلانے لگے تھے۔ آر پی جی کیلئے کم سے کم تین ہفتوں  کا ٹریننگ کورس کرنا پڑتا ہے، میدان میں جاکر فائرنگ کرنی ہوتی ، فکسنگ کرنی ہوتی تاکہ ایک اندازے کے مطابق ٹینک کی مسافت کا تخمینہ لگایا جاتا کہ وہ آگے چل رہا ہے تو تمہیں کہاں جاکر کہاں مارنا چاہیے کہ جاکر ٹینک کو لگے؛ یہ سب چیزیں خود ایک فارمولہ ہیں، ۱۰۶ بندوق کی طرح۔ لیکن ان افراد نے ایک دن میں یا زیادہ سے زیادہ اگلے دن ظہر تک اپنا کام ختم کرلیا تھا اور سیکھ چکے تھے۔ آبادان کے امام جمعہ آیت اللہ جمی بھی ہمارے ساتھ بہت تعاون  کر رہے تے۔ ہم اُن سے جس اسلحہ یا سامان کی درخواست کرتے جہاں تک اُن کیلئے ممکن ہوتا وہ ہمیں مہیا کرتے اور کہتے کہ لوگوں کو ٹریننگ دیجئے۔

اس عرصے میں گیلان کے کچھ لوگ کہ میرے خیال سے جو رود سر کے رہنے والے تھے وہ خرم شہر آگئے تھے ، ہمیں بتایا گیا کہ ان کے ایک دوست کا انتقال ہوگیا تھا  اور یہ لوگ اس کو دفنانے کے بعد ہی منی بس کے ذریعے یہاں آگئے ہیں اور سب نے کالے لباس پہنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ ایک مولاناصاحب کے ساتھ تھے جن کا نام غفاری تھا جنھوں نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا تھا۔ کچھ لوگ تہران سے بھی آئے ہوئے تھے جن کے گروپ کا نام جناب نواب تھا جو آکر ہم سے ملحق ہوگئے تھے اور جہاں تک ہوسکا ہم نے عراقیوں کا مقابلہ کیا اور اُن کا  راستہ روکے رکھا۔  ہمارے پاس صرف جنگی سازو سامان کے لحاظ سے کمی تھی۔ آبادان اور خرم شہر کے جوانوں نے بھی ہماری بہت مدد کی، حتی خواتین نے۔ یہ لوگ آئے اور ان میں سے بعض لوگوں نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے، وہ کہتے کہ یہ اس لئے پہنے ہیں تاکہ عراقی یہ سمجھیں کہ ہم کمانڈروں کا ایک پورا بریگیڈ ہیں۔ جب سترہ دنوں کے بعد عراقیوں کا ایک میجر گرفتار ہوا اُس نے کیپٹن صمدی سے کہا آپ کمانڈروں کے کتنے بریگیڈ ہیں؟ کیپٹن صمدی نے کہا ہم تو پوری ایک بٹالین بھی نہیں ہیں۔ عراقی نے کہا لیکن ہمارے کمانڈروں نے تو ہم سے کہا ہوا تھا کہ یہاں لڑاکا کمانڈروں کا ایک بریگیڈ موجود ہے تم لوگ دھیان رکھنا۔ جب اُسے پتہ چلا کہ ہم ایک بٹالین سے بھی کم ہیں تو اُسے تعجب ہوا کہ اتنے کم کمانڈروں کی تعداد میں کس طرح اتنے سارے عراقیوں کو قیدی بنالیا گیا۔ خود میں نے خرم شہر کے کسٹم پر اُن کے سترہ لوگوں کو قیدی بنایا تھا کہ جن میں سے ایک معمولی سپاہی تھا اور باقی سولہ افراد کمانڈوز  تھے جو کمانڈو لباس پہنے ہوئے تھے۔ ہم دو لوگ تھے۔ البتہ ہم لوگ ان سے جھڑپ کرنے کے ارادے سے نہیں گئے تھے، دو لوگ جاکر کسی بھی صورت میں  ایک بریگیڈ یا ایک بٹالین سے جنگ نہیں کرسکتے۔ ہم لوگ وہاں پر جنگی حالت میں چھپتے چھپاتے گئے تھے۔ میرے پاس دو جیپ تھیں ، دونوں ہی میزائل وغیرہ لگنے سے تباہ و برباد ہوگئی تھیں۔ جیسا کہ ہمارا جنگی سامان اور اسلحہ بھاری تھا، میرے ادارے کو  دو گاڑیاں دینی چاہئیے تھیں۔ ہماری تیسری گاڑی جو کہ کمانڈروں کی گاڑی تھی ہم نے اُس کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ میں نے اپنے ایک دوست کے سامنے تجویز رکھی کہ ہم لوگ خرم شہر کے کسٹم جاتے ہیں اور وہاں سے ۱۸۰۰ مزدا سوزوکی لیکر آتے ہیں، وہ ایران کی ہیں، یا تو وہ تباہ و برباد ہوجائیں گی یا عراقی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ چونکہ وہ لوگ نئے پل پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد آگے آنے اور ہمیں چکر دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ خرم شہر میں اب عملی طور پر جھڑپیں خرم شہر کے ریلوے اسٹیشن اور کسٹم پر ہو رہی تھیں۔ میں اور میرے دوست گئے اور ہم خرم شہر کے اندر  ایک سوزوکی لانے میں کامیاب ہوئے۔ ہم ٹیکنیکل صورت میں آگے بڑھ رہے تھے۔ جب میرا دوست حرکت کرتا، میں کھڑا رہتا، پھر میں آگے بڑھتا، وہ کھڑا ہو جاتا۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ کچھ کمانڈوز جو قوی ہیکل بھی تھے وہ اپنے سروں پر ہاتھ رکھے ہوئے باہر آگئے۔ ہمارے پاس جی تھری بھی تھی اور ریوالور بھی۔  اُن میں سے ایک نے خاکی رنگ کا فوجی لباس پہنا ہوا تھا۔ وہ بہت ہی رو رہا اور چیخ چلا رہا تھا: "دخیل الخمینی ۔۔۔ الموت لصدام ۔۔۔ المسلمین ۔۔۔" بہت خوب ہمیں عربی نہیں آتی تھی لیکن ہم اس کا مفہوم سمجھ گئے، لیکن وہ سولہ افراد کچھ نہیں بول رہے تھے۔ سپاہی آگے آتا تو میں کہتا "آگے نہیں آؤ ، وہیں ٹھہر جاؤ۔" اُس نے اپنی جیب سے کوئی چیز نکالی، حضرت علی علیہ السلام سے منسوب کوئی چیز تھی۔اُس نے ہمیں دکھایا کہ یعنی میں شیعہ ہوں۔ میں نے کہا: "ٹھیک  ہے، وہیں کھڑے رہو" میں نے اپنے دوست سے کہا: "جواد، خیال رکھنا یہ لوگ بہت زیادہ ہیں۔ اگر ان میں سے ایک بھی قربانی دیکر آگے آگیا، پھر ہمارا کام تمام ہے سمجھے۔"

پھر ہم نے اُنھیں جمع کرکے ایک جگہ پر بٹھا دیا اور اُن سے کہا کہ اگر کوئی چیز ہے تو وہ نکال دیں۔ خوش قسمتی سے کچھ نہیں تھا اور اُن کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ ہم اس فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ کیا کریں اور ان لوگوں کو کس طرح لیکر جائیں، کہ ہم نے دیکھا کہ بہت دور سے سپاہ کی ایک گاڑی  گزر رہی ہے۔ ہم نے سیٹی بجائی، ہر طرح کا کام کیا لیکن اُن لوگوں نے نہیں سنا یہاں تک کہ ہم فائرنگ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اچانک اُس نے ہمیں دیکھ لیا جو ٹرک کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگ آئے اور اسیروں کو سوار کرکے اپنے ساتھ  لے گئے۔

ہم خرم شہر کے کسٹم سے ایک ۱۸۰۰ مزدا باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ زیرو میٹر تھی۔ اُس کے ڈیش بورد میں اُس کے کاغذات رکھے ہوئے تھے اور اُس کے اوپر اُس کی چابی۔  اُس میں تھوڑا پٹرول تھا کہ ہم نے اُسی کے ساتھ گاڑی چلائی۔ یہ گاڑی ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۰، جب میں زخمی ہوا ، جب تک میرے پاس تھی۔  اُسی گاڑی میں مجھے آبادان کے طالقانی ہسپتال لے گئے تھے۔"

ان دونوں کتابوں میں کچھ خصوصیات مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں  کمانڈوز کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے واقعات کے بیان کے دوران اپنی کمانڈو ٹریننگ کے بارے میں بات کی ہے۔ یہ خصوصیت قاری کو ایک طرح سے اُن کی مہارتوں سے واقفیت دلاتی ہے۔

اُن کے واقعات کا دوسرا حصہ ملک کے مغربی علاقے اور صدامی افواج کی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ سے پہلے کی جھڑپوں سے متعلق ہے۔ جنگی واقعات میں خرم شہر کے دفاع کے واقعات نمایاں ہیں کہ انتخاب شدہ حصے اس خصوصیت سے مربوط ہوتے ہیں۔

"حسن ژیپاد" اور ـعاشقان وطن"  نامی کتابیں صوبہ گیلان کے  آرٹ شعبے میں تیار ہوئیں اور مطبوعات نکو آفرین  نے سن ۲۰۱۸ میں اُن کا پہلا ایڈیشن شائع کیا ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 224


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔