یادوں بھری رات کا ۳۰۰ واں پروگرام (۳)

واقعات، افراد کی شخصیت کی اساس پر رونما ہوتے ہیں

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2019-04-22


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۰  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۲ فروری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں مسعود قندی، حسین نوری اور اُن کی زوجہ نادیا مفتونی، عبد الحسین مختاباد اور عبد الحمید قدیریان نے ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔ آپ یادوں بھری رات کے ۳۰۰ ویں پروگرام میں بیان ہونے والے اس رپورٹ کے پہلے اور دوسرے حصے  کو پڑھ چکے ہیں۔

اسی پروگرام میں ایران کی سنتی موسیقی کے گلوگار عبد الحسین مختاباد نے کہا: "آرٹ گیلری ہمارا گھر ہے  اور ہم ۸۰ کے دہائی میں وہاں تھے اور سب دوست احباب بھی جمع تھے۔ میں سینما کے ہدایت کار جناب رسول ملا قلی پور کا ذکر کرتا ہوں کہ ہم جب بھی اُن کے ساتھ ہوتے تھے، ہمیشہ خوش و خرم رہتے تھے۔ میں جناب مرتضی سرہنگی کی کتابوں کا پکا اور مستقل مزاج مشتری تھا اور اُن کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے میں بھی تھا۔" بعد میں، پروگرام میں موجود افراد نے عبد الحسین مختا باد کی دو پرفارمنگ کا مشاہدہ کیا تھا۔

یادوں بھری رات کے ۳۰۰ ویں پروگرام کے آخری راوی، عبد الحمید قدیریان تھے۔ وہ سن ۱۹۶۰ میں تہران میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے مصوری  اور ڈرائنگ کے شعبے میں ماسٹر کیا ہے اور اپنی کارکردگی پر دسیوں میڈیل، یادگاری مجسمے، انعامات، رتبے اور افتخار حاصل کیئے ہیں ،  وہ اسٹیج  ڈیزائننگ، لباس، ڈیکوریشن  اور میک اپ میں مہارت رکھتے ہیں۔ اُن کے کام اور ہنر  دفاع مقدس کی فلموں، تاریخی، دینی اور مذہبی  سیریل میں نظر آتے ہیں۔ جناب عبد الحمید قدیریان نے کہا: "میری زیادہ تر زندگی آرٹ گیلری کے ماحول میں گزری ہے۔ جب انقلاب آیا اس وقت ایک ایسی فضا قائم ہوئی کہ  سب احساس کرنے لگے کہ اُن کا دل نکل گیا ہے۔ اگر میں مثال دینا چاہوں تو چہلم کے حال احوال کی طرح ہے۔ چہلم اس طرح ہے کہ انسان ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو خاص مقصد کی سمت ہے کہ جو اس کا امام ہے، اور وہ اس سمت کھینچا چلا جا رہا ہے، اس راستے میں دشواریاں بھی نظر نہیں آتیں، اتفاق سے پریشانی اور مشکلات اچھی لگتی ہے، چیزوں کا کم ہونا خوبصورت  لگتا ہے۔ جس سال انقلاب آیا تھا اور اُس کے بعد والے سالوں میں اُن سختیوں اور پریشانیوں سے اذیت نہیں ہوتی تھی، بلکہ ایک دوسرے سے ہمدردی کرتے تھے۔ ایسے لوگ جو آپس میں ایک دوسرے سے کسی قسم  کی طبقاتی نسبت نہیں رکھتے تھے، وہ ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتے  اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ ایسے ماحول میں، آرٹسٹوں اور ادا کاروں کے توسط سے آرٹ شعبے اور اندیشہ اسلامی کے نام سے ایک جگہ تشکیل پائی۔ تمام کلیوں کا کِھل جانا کہ آرٹسٹ کے عنوان سے اس فیلڈ کے افراد ملک کے اندر بہت سے شعبوں میں  پہلے درجہ پر ہیں، وہ لوگ نقل کرتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ نصیب ہوا ہے وہ ان ہی دنوں کی وجہ سے ہے۔ وہ ایام جب انھوں نے تجربہ کیا اور گویا اللہ کے نور کے ہمراہ ہوگئے ہوں  اور اللہ کے نور کے ساتھ قدم بڑھا رہے ہوں۔ خدا کے نور کو خاموش کرنے کیلئے تمام دشمن بھی اکٹھا ہوجاتے ہیں، بالکل آج کی طرح، لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتے  اور خدا اپنے نور کو تمام (مکمل) کریگا۔ خدا نے ہم سب کے وجود میں ایک فطرت رکھی ہے اور اُس فطرت کو آگے بڑھانے والی چابی وہی نور خدا ہے۔ انقلاب آنے میں بھی ایسا ہی ہوا اور خدا نے جو نور بھیجا، اُس نور نے تمام دلوں کو حرکت کرنے پر آمادہ کیا۔ لوگ کسی چیز  سے پریشان نہیں تھے۔ وہ تمام یقین نہ کرنے والے اور عجیب شجاعانہ انداز  میں دشمن کی بی رحمی اور شدید مشکلات کا مقابلہ کرنا اسی نور کی وجہ سے تھا۔ اس نور نے اچھے لوگوں کو بلند مقام عطا کیا  اور برے لوگوں کو پستی کی طرف لے گیا۔ ایسے ماحول میں آرٹسٹ لوگوں نے  اپنی حیثیت کو پہچانا اور آرٹ شعبہ اور اندیشہ اسلامی تشکیل پایا۔

ماضی پر نگاہ ڈالنا بہت اچھا ہے۔ واقعات کا  بیان کرنا اُس وقت اچھا ہے جب وہ مستقبل کی راہ میں چراغ کا کام انجام دیں۔ ہر کسی کے واقعات اُس کی شخصیت کی اساس پر رونما ہوتے ہیں۔ میں اس معاملے میں بہت حساس تھا کہ میں کس طرف جا رہا ہوں؟ کیسے جا رہا ہوں؟ میرا مستقبل کیا ہے؟ سن ۱۹۸۶ء سے سن ۱۹۸۸ء تک کا زمانہ تھا جب میں نے احساس  کیا کہ بہت سے فکری ماحول  میں تبدیلی آگئی ہے، اسی وجہ سے میں ایک بحث جو نشستوں میں بیان کرتا وہ یہ تھی: ہم جب تک اس ماحول کے اندر موجود ہیں، ہمیں اسے بیان کرنا چاہیے۔ جس زمانے میں ہماری معلومات کم تھیں، ہم سے کہا  جاتا ابھی رہنے دو وقت گزرنے دو ، وقت آنے پر سب  سمجھ آجائے گا۔ متاسفانہ وقت گزر گیا لیکن ایسا نہیں ہوا اور ماحول بدل گیا ہے۔ آرٹ شعبہ اُس ماحول  اور اُس زمانے میں محاذ کے بارے میں بہت فعال تھا اور اس شعبے کے افراد زیادہ تر محاذ پر رہتے تھے، میں بھی افراد کے ساتھ نشرو اشاعت کے کاموں شرکت کرتا تھا۔ کبھی کبھار حملہ ہونے سے پہلے تبلیغاتی کاموں اور تصاویر کھینچنے کیلئے بھی جاتے تھے۔ ہم آبادان اور خرم شہر کے  لوگوں کے ساتھ جاتے تھے۔ ایک عجیب ماحول تھا اور لوگوں کا یہ ماحول اور کیفیت  میرے لیے  بہت دلچسپ تھی جو ایک آرٹسٹ کے عنوان سے  اس چیز کو اپنے آثار میں ریکارڈ کرنا چاہتا تھا؛ وہ کیفیت جو جاتے وقت ہوتی تھی کہ یہ افراد کس چیز کے لئے  آرہے ہیں؟ وہ یہاں پر آکر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ جس ماحول میں ہم لوگ موجود تھے اُسے بیان کرنا میرے لئے بہت مشکل تھا، لیکن اُن کی کیفیت کو ہم سب سمجھ رہے تھے۔ اگر میں اُس کیفیت کو ایک جملے میں بیان کرنا چاہوں، وہ کیفیت جو مجھے محاذ سے ملی وہی شعر تھا "سب رومال سیدہ (س) حاصل کرنے کیلئے کوشاں تھے ۔۔۔" اس کلام کے اندر موجود کیفیت، محاذوں پر بہت زیادہ نظر آتی تھی  اور میری بھی یہی کیفیت ہوجاتی، اس طرح سے کہ جب میں تہران واپس آرہا ہوتا تو واقعاً ہمیں رونا آرہا ہوتا تھا کہ ہم جنت سے ایسے ماحول کی طرف جا رہے ہیں کہ جسے ہمیں برداشت کرنا پڑیگا۔  میں اُس زمانے میں اسٹوڈنٹ تھا، یونیورسٹی کا ماحول دشمن کی پھیلائی سازشوں سے بھرا ہوا تھا اور اُس کو برداشت کرنا واقعاً سخت تھا۔ جب بھی برداشت کرنا سخت ہوجاتا اور ہمارا دل رونے کو چاہتا، ہم خود  کو پرسکون کرنے اور روح کی غذا حاصل کرنے کیلئے اُس معنوی ماحول کی طرف چلے جاتے۔ ہم مدد کرتے تھے لیکن مدد کرنے  کے ارادے سے نہیں جاتے تھے۔ ہم آرٹسٹوں کیلئے اُس  معنوی فضا میں ٹھہرنا بہت ہی متاثر کن ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ نگہبان نے آرٹ گیلری کے دروازے پر مجھ سے کہا کہ میں اندر جانے کیلئے کارڈ لگا کر جاؤں  تاکہ میرے کام کرنے کے اوقات مشخص ہوں۔ اس وقت میں نے سخت انداز میں برتاؤ کیا کہ بعد میں، میں نے اُس شخص سے معذرت کی۔ میں جناب مسعود قندی کے ساتھ رات دن آرٹ گیلری میں ہوتا تھا اور سب کہتے تھے کہ رجسٹر کے اندر تینوں شفٹوں میں تم دونوں کے نام لکھے ہوتے ہیں؛ یعنی ہم رات کو نگہبانی کرتے تھے اور دن میں کام کرتے تھے۔ میں اس کام (کارڈ لگانے ) سے بیزار تھا اس وجہ سے کہ یہ آرٹ گیلری تھی اور یہاں پر ایسی باتوں کو نہیں اٹھانا چاہیے۔

میں محاذ پر کوئی چیز خلق کرنے کیلئے  نہیں جاتا تھا بلکہ میں زیادہ تر وہاں کی فضا کو درک کرنے جاتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ فضا اور ایسا ماحول باقی رہنے والا نہیں، یہ بات میرے لئے بہت اہم تھی۔ مجھے اس بات کی تشویش تھی کہ ہم بیٹھیں اور اس ماحول کے بارے میں وضاحت دیں، چونکہ اگر اس ماحول میں معرفت نہیں ہوتی، جب یہ ماحول ختم ہوتا تو ہم ہوا میں باقی رہ جاتے۔ میں خود وہاں جاتا تھا تاکہ سپاہیوں کے ساتھ رہوں اور وہاں کی ہوا میں سانس لوں۔ ہم طولانی مدت تک وہاں رہے، ہم مورچوں کے اندر جاتے تاکہ سپاہیوں سے باتیں کریں اور یہ دیکھیں کہ اُن لوگوں کے دن و رات کس طرح گزر رہے ہیں۔ ہم اس چیز کی بنیاد پر تصویری سائن بورڈ تیار کرتے اور ہیڈ کوارٹر میں رکھتے تھے۔ تبلیغاتی کام، پوسٹر اور ایسے کام جو محاذ پر جذبات ابھارنے کیلئے ہوتے ہم ایسی چیزیں بناتے تھے ، ہم اپنے ساتھ میوزیکل گروپ لے جاتے، لیکن یہ سارے کام ہدف نہیں تھے۔ ہدف یہ تھا کہ اُس ماحول سے فائدہ اٹھائیں اور آئندہ کیلئے جب یہ ماحول اور ایسی فضا نہیں ہوگی کچھ ذخیرہ کرلیں۔ دلچسپ واقعات بھی پیش آتے تھے۔ ایک دفعہ ہم جناب حسام الدین سراج کے میوزیکل گروپ کے ساتھ آبادان گئے۔ ہم تیاری کیلئے ہال میں سامان سیٹ کر رہے تھے کہ ہمیں شور شرابہ اور نعروں کی آواز سنائی دی۔  ایک شخص اندر آیا اور اُس نے کہا کہ کچھ لوگ اس وجہ سے اکٹھے ہوگئے ہیں کہ یہ میوزک غنا ہے، وہ لوگ آکر آپ لوگوں کو اس کام سے روکنا چاہ رہے ہیں۔ ہم لوگ ڈر گئے،  چونکہ ہم نے وہاں تک سامان لانے کیلئے بہت زحمت بھی اٹھائی تھی اور وہ سامان بھی بہت مہنگی قیمت کے تھے۔ ہر کسی نے سامان میں سے کچھ نہ کچھ اٹھالیا۔ میں نے سامان میں سے ایک یا دو چیزیں اٹھائیں اور چھت پر چلا گیا اور میں نے دعا مانگی کہ کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوجائے۔ بہر کیف وہ لوگ آئے اور تھوڑا بہت شور شرابہ کیا۔ ہمارے گروپ میں ایک مولانا صاحب تھے جنھوں نے جاکر اُن سے بات چیت کی اور یوں معاملہ ختم ہوگیا۔ جس زمانے میں ہم نے آرٹ ورک کا کام شروع کیا تھا، اُس وقت ماحول بالکل بھی ایسا نہیں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایک طرح سے ہر چیز حرام ہے؛ مصوری، مجسمہ بنانا اور باقی دوسرے آرٹ ورک۔ اس وقت اگر مجسمہ بنانا اور مصوری ہے تو   اس وجہ سے ہے کہ لوگوں نے ثابت کرکے دکھایا کہ یہ آرٹ ورک بھی اہداف تک پہنچنے کیلئے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ اُس وقت شروع میں کسی کے تصور میں نہیں تھا کہ آرٹ ورک کیا ہوتا ہے۔

میں فرنٹ لائن  کے مورچوں پر آرٹ گیلری کے افراد کے بنے ہوئے پوسٹر دیکھ رہا تھا۔ وہاں پر، جب ہم سے پوچھا جاتا تمہارا کام کیا ہے؟ ہم پوسٹرز کو دکھاتے تھے۔ ہمارا علامتی کارڈ ہم سے سے پہلے چلا جاتا۔ ایک تاریخ سے اس طرف ایک تو بیان نہ کرنے کی وجہ سے اور دوسرے اُس فضا اور ماحول  میں کمی آگئی تھی، اب ان آرٹسٹوں سے بنیادی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ یہ بات کہ ہم کام پر تھے، صحیح ہے، لیکن شروع میں آرٹ گیلری کے اندر بننے والی ہر چیز ہدف مند ہوتی تھی اور بننے والے آثار سے ایک عجیب قسم کی ہمدلی اور ایکا  حاصل ہوتا تھا۔ بہت سے آرٹسٹ جو اس وقت ہمیں ناقدری کی نگاہ سے دیکھتے ہی، اُس زمانے میں اُن کی خواہش ہوتی تھی وہ بھی اس جمع میں آجائیں اور آتے تھے۔ اُن میں سے بہت سے لوگ آتے تھے اور کچھ آثار بھی خلق کر تےتھے۔ جب آپ فرنٹ لائن پر جائیں اور وہاں جاکر دیکھیں کہ قرآن اور نہج البلاغہ اور دعاؤں کی دو کتابوں کے برابر میں آپ کا تصویری شاہکار بھی رکھا ہوا ہے؛ ایک اچھا احساس پیدا ہوتا ہے، کیونکہ ان آثار نے تاثیر ڈالی تھی۔ کوئی اُنھیں وہ بورڈ لگانے کا حکم نہیں دیتا تھا۔ یا اسی شہر میں جہاں شہید کے والد تھے، اُس شہید کی تصویر کے برابر میں آرٹ گیلری کا پوسٹر بھی لگایا ہوا تھا۔ ہماری آج کی ثقافتی حالت بھی آرٹ ورک کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ ایسی تاثیر جو آرٹ ورک اخلاقی اور سماجی نظام پر ڈالتا ہے، بہت سنگین ہے۔ یہ ایک بہت تباہی پھیلانے والا اسلحہ بھی بن سکتا ہے اور ایک تعمیر کرنے والا آلہ بھی جو آئندہ کیلئے راستے کو ہموار کرے۔"

جناب قدیریان نے پروگرام کے میزبان جناب داؤد صالِحی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ اگر دفاع مقدس کے دنوں کی تصویریں کو الگ کرنا چاہیے تو کون سی تصویر بنائیں گے، کہا: "میں نے سب سے پہلا بورڈ جو بنایا تھا وہ ایک شہید کی تصویر  ہے جو مولا امام زمانہ (عج) کی آغوش میں شہید ہوا ہے۔ میرا دوسرا بورڈ، بہشت زہرا کا بورڈ ہے  کہ حضرت زہرا (س) شہید کے گھر والوں کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں۔ میرے تیسرے بورڈ میں، کیمرہ دشمن کے درمیان ہے جو ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور آسمان سے ایک نور آیا ہے اور دور سے تازہ نفس سپاہی آتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ میں نے آخری کام جو کیا ہے وہ آسمان حسین (ع) سائن بورڈز کا مجموعہ ہے۔ ان تمام آثاروں میں میری نگاہ اس طرح کی ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے توجہ کم ہے جو اتنی مشکلات کا سامنا ہے؛ یعنی ہماری اصلی زندگی میں آسمان کی موجودگی، یعنی اصل میں حقیقت کا وجود۔ ایک شیعہ کے دیکھنے کا انداز یہ ہے۔ شیعہ بعض دوسرے تفکرات کی طرح خدا کو مردہ نہیں سمجھتا؛  خدا شہ رگ حیات سے زیادہ قریب ہے اور موجود ہے۔ اہل بیت علیہم السلام ہماری زندگی کے تمام مسائل میں موجود ہیں اور اثر رکھتے ہیں؛ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان سالوں کو، اپنی زندگی میں ان کی موجودگیوں کو   اہمیت نہیں دیتے۔ کسی کے ماتھے پر سجدے کا نشان ہونے کے باوجود اُس کے  مالی فساد میں مبتلا ہونے کی اصلی وجہ ، یا یہ کہ فلاں شخص اتنی تنخواہ لے رہا ہے اور اسے اپنا حق سمجھتا ہے، یہ ہے کہ وہ خدا کے حاضر ہونے کو درک نہیں کرتا۔ ہمیں خدا کو اپنی زندگی میں دیکھنا ہوگا۔"

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۰۰ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ فروری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۵ اپریل ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 363


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں
اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔