ایک استاد کے عجیب واقعات

محمد علی فاطمی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-04-22


قدیانی پبلیکیشن فاؤنڈیشن نے حال ہی میں (دسمبر ۲۰۱۸) عزیز محمدی منش کی زندگی پر مبنی  ایک کتاب جس کا نام " نقشہ سے باہر کی سرزمین: ایک استاد کے عجیب واقعات " ہے، جو ۶۵۶ صفحات پر مشتمل ہے اُسے  کتابوں کی مارکیٹ میں  بھیجا ہے۔

جناب علی نور آبادی نے اس کتاب کو ۱۶ فصلوں میں لکھ کر مرتب کیا ہے۔ کتاب میں فصلوں کے عناوین گویا معین زمانے کو مشخص کر رہے ہیں۔ سن  ۲۰۰۰ اور سن ۲۰۰۱ – کوہ شرقی کے درمیان کا علاقہ – سیرم قلاوند کا دیہات ، سن ۲۰۰۲ – کرناس کا علاقہ – مِنہ گاؤن، سن ۲۰۰۳ – کول راد کا علاقہ – سرتنگ لیشہ گاؤں، سن ۲۰۰۴ – کول راد کا علاقہ – سہ گردہ اور پلنگ کوہ دیہات، سن ۲۰۰۵ – کول را د کا علاقہ – سرتنگ لیشہ گاؤں، سن ۲۰۰۶ – ماہرو بختیاری کا علاقہ – چال ریدوہ گاؤں، سن ۲۰۰۷- قاپی کا علاقہ – بلند نرگس گاؤں،  سن ۲۰۰۸- کول راد کا علاقہ – سرتنگ لیشہ گاؤں، سن ۲۰۰۹ – کول راد کا علاقہ – سرکانہ گاؤں، سن ۲۰۱۰- المان سرد کا علاقہ – درھونہ گاؤں، سن ۲۰۱۱- المان گرم کا علاقہ – چوب کوہ گاؤں، سن ۲۰۱۲- المان گرم کا علاقہ – کومیہ گاؤں، سن ۲۰۱۳- المان گرم کا علاقہ – گرہ ای گاؤں، سن ۲۰۱۴- ماہرو بختیاری کا علاقہ – گرم (پاچُل گرم) گاؤں، سن ۲۱۰۵- ماہرو بختیاری کا علاقہ- کادوہ گاؤں۔

ہر فصل کے اندر ذیلی اور دوسرے عناوین  ہیں جو ایسے واقعات پر مبنی ہیں  جنہیں راوی نے بیان کیا ہے۔

کتاب بغیر کسی مقدمے اور راوی کی اپنی آب بیتی کو بیان کرنے سے آغاز ہوتی ہے۔ واقعات کی دوسری کتابوں میں تحریر  کا انداز یوں رہا ہے کہ مقدمہ میں واقعات کو لکھنے اور ریکارڈ کرنے کی کیفیت کو بیان کیا جاتا  اور اس روش پر کتاب لکھی جاتی۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنا کہ کتاب میں مقدمہ نہیں ہے، وہ اسی وجہ سے ہے۔ شروع میں ایسا لگ رہا تھا کہ شاید یہ بات کتاب کے ناشر  کے مزاج سے مربوط ہے۔  چونکہ یہ ناشر عام طور سے داستانوں والی کتابیں شائع کرتا ہے  اور شاید اُن کتابوں کے مزاج کی وجہ سے اس کتاب میں بھی مقدمہ نہیں ہے اور کتاب کھلتے ہی قارئین روایت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی ایسا ہی ہوا ہے اور راوی نے اس طرح سے شروع کیا ہے: "میرے شناختی کارڈ میں میری تاریخ پیدائش  ۲۳ ستمبر ۱۹۷۸ء درج ہے۔۔۔" لیکن واقعات کے درمیان ایسی باتیں موجود ہیں جو عزیز محمدی منش اور علی نور آبادی کی واقفیت اور ایسی باتوں کو برملا کرتی ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ یعنی جس بات کی مقدمہ میں آنے کی توقع کی جارہی تھی، وہ حقیقت میں واقعات کا ایک حصہ بن گیا ہے۔

تحریر، پڑھنے والے سے کہتی ہے کہ تم ایک ایسے شخص کے واقعات پڑھ رہے ہو جو ایک استاد اور سپاہی بھی ہے جو اجتماعی تجربے کی ایک فیلڈ میں داخل ہوا ہے؛ ایک ایسی فیلڈ جس میں مختلف طرح کے کام ہیں اور اُس کے نہ ختم ہونے والے مشاہدے، خاص طور سے اگر راوی کی نگاہ تیز ہو۔ عزیز محمدی منش کی کوشش ہے کہ وہ ان تجربوں کے مختلف پہلوؤں کو تقسیم کرے اور قاری ایسے مناظر کی قدم بہ قدم ہمراہی کرتا ہے جو راستوں، جغرافیائی علاقوں اور  علاقائی رویوں میں راوی کی آنکھوں کے سامنے رہے۔ فطری طور پر راوی کی حسی ہمراہی بھی سامنے آتی ہے، چونکہ اُن کی باتوں اور جملوں میں اُن جگہوں کا ذکر آتا ہے جہاں انھوں نے  اپنی ڈیوٹی کے دوران زندگی گزاری ہے۔ لوگوں کی زندگی کے بارے میں لکھنے کی فطرت، ہمراہی کو خود بخود ایجاد کر دیتی ہے۔ اب یہ بات کہ راوی نے لوگوں کے درمیان اپنی دن و رات انجام دینے والی سرگرمیوں میں قابل توجہ جزئیات کی طرف اشارہ کیا ہے ، یہ بات روایت کے پہلوؤں کو وسیع کرنے کا باعث بنی ہے: "جب پہلا سال گزرا تو میری سمجھ میں آیا کہ قبائلی علاقوں کا استاد فقط  استاد نہیں ہوتا؛ اُسے ایک ساتھ کئی دوسرے کام بھی انجام دینے ہوتے ہیں۔ میں نہ صرف اُس گاؤں کا قاضی اور فقیہ تھا بلکہ پورے علاقے کا تھا ۔۔۔"

"جب سپاہی کی حیثیت سے ڈیوٹی انجام دینے کی مدت ختم ہوئی، اُس وقت ہمیں تنخواہ دار استاد کے طور پر رکھ لیا گیا؛ اُن لوگوں کو ضرورت تھی اور ہمیں  بھی دلچسپی تھی ۔۔۔"یہ ٹکڑا اس بات کی علامت ہے کہ اس کام کو جاری رکھنے کیلئے راوی کا ارادہ مضبوط اور پکا ہے، اگرچہ سختیاں بھی اٹھانی پڑیں گی جس کے لحاظ سے اعلیٰ برداشت کا حامل ہونا ضروری ہے، لیکن ایسا لگتا ہے ہر سختی کے بعد ایک ایسی محبت و مہربانی کا سامنا ہوتا ہے جو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ وہ اپنے راہ کو جاری رکھنے میں کسی شک و  تردید کا شکار نہ ہو۔

اس کتاب کا ایک اور منظر جس نے روایت بیان ہونے کے عمل میں اپنی جگہ بنائی ہے وہ آداب و رسومات کو توجہ دینا ہے۔ خود راوی کی پیدائش صوبہ لرستان کے کسی گاؤں میں ہوئی ہے اور وہ آداب و رسومات سے آشنا ہے، کیونکہ حقیقت میں وہی زندگی گزارنا کا طریقہ ہے، لیکن طولانی مدت کیلئے اور شاید اس وجہ سے کہ ایسے علاقوں میں خاص طور سے شہری علاقوں میں زندگی گزارنے کا طریقہ تبدیل ہوجاتا ہے، اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ زندگی گزارنے کے قدیمی انداز کے آداب و رسومات کو بیان کیا جائے۔ کتاب کا یہ رُخ حتی ناموں، رویوں اور دیہاتی و قبائلی  ضرب المثلوں میں بھی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتا ہے۔

واقعات بیان کرنے کا طریقہ قاری کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ عزیز محمدی منش، اب صرف ایک استاد نہیں ہے؛ استاد ہونا شاید ایک بہانہ ہے جس کے ذریعے وہ صعب العبور اور پیچیدہ علاقے کے لوگوں سے واقفیت حاصل کرے  اور اُنہیں ڈھونڈ کر اُن کی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے  کا حل نکالے۔ اس رُخ سے کتاب کی جلد پر "نقشہ سے باہر کی سرزمین" اور "ایک استاد کے عجیب واقعات" کی عبارتوں کو اس عنوان سے لایا گیا ہے تاکہ وہ مخاطب کو اپنی طرف جذب بھی کرے اور اُس کے ذہن میں بھی نقوش چھوڑ جائے اور اُن کے یقین میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا جائے گا۔

"میں دو سال تک استاد فرائض انجام دیتا رہا، آٹھ سالوں تک پڑھائی کی تنخواہ لیتا رہا اور اُس کے بعد میں نے معاہدہ کرلیا ۔۔۔" یہ ٹکڑا، اس عنوان "میرا کوئی دعوی نہیں"کے شروع میں  ہے جو کتاب کے آخری صفحات پر ہے؛ راوی کے واقعات پر مشتمل دیگر فصلوں کی ورق گردانی کے بعد کہ پوری کتاب اُسی طرح صریح اور واضح متن اور لحن سے لبریز ہے جو واقعات کے بیان میں ہے۔ اس عمل میں قاری کو اس بات کا پتہ چلے گا کہ عزیز محمدی منش ظاہری طور پر اب کوئی گمنام آدمی نہیں، چونکہ پورے ملک کے میڈیا نے اُن کو متعارف کروا دیا ہے، لیکن حقیقت میں وہ کسی اور آسمان کی تلاش میں ہے  کہ جو وہی استاد ہونا ہے اور بس استاد۔ اُس نے اس کام کیلئے بہت سے گورنمنٹ اداروں اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات اور ایسے لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہے جو پس ماندہ ترین علاقوں میں تعلیمی اداروں کی حمایت کرسکتے ہیں۔ اُن کی وضاحت اور حاصل ہونے والے نتائج اور حتی جن کے نتائج ابھی حاصل نہیں ہوئے، اُن کا واقعات میں مشاہدہ  ہوتا ہے۔

کتاب کے آخر میں راوی کے وظائف انجام دینے والوں سالوں کی رنگین تصاویر ہیں۔ ناشر کو اس بات پر خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اُس نے بعض ناشران کے رائج طریقہ کار کے پیش نظر تصویروں کو بلیک اینڈ وائٹ اور پھیکے پن کے ساتھ نہیں چھپوایا؛ اگرچہ راوی کے کام کرنے والے سالوں کی نسبت تصاویر کی تعداد کم ہے لیکن وہ اپنے حد میں رہتے ہوئے راوی کے حالات اور وہ جن علاقوں میں رہے اور وہاں پر کارکردگی انجام  دی اور دوسرے کاموں کے حالات کو بیان کر رہی ہیں۔

شاید آج کل کی کتابوں اور تحریروں کو پڑھنے والوں کو کتاب کا حجم نہ بھائے اور وہ انہیں ایک طولانی کتاب لگے، لیکن یہ ایک ایسی کتاب ہے جو اس استاد کی ہمت کو سراہنے کیلئے لکھنے اور شائع ہونے کا حق رکھتی ہے۔ اسی طرح واقعات کو صفحات پر منتقل کرنے کے دوران، موضوع کے اعتبار سے لوگوں کا تعارف اور تحقیقی بحث زیادہ ہے۔ کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایران میں انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس کے واقعات کو صفحات پر منتقل کرنے میں جو باب کھلا ہے، اس سے واقعات اور دوسرے موضوعات کو لکھنے اور ریکارڈ کرنے کا ایک محکم انگیزہ پیدا ہوا ہے؛ خاص طور سے ایک استاد کے واقعات کہ جس کا شمار انقلابی اور مقدس کارکردگیوں میں ہوتا ہے۔ عزیز محمدی منش کے واقعات  صراحت کے ساتھ ایسے انگیزے کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 372


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

علی کے ساتھ میری شناسائی اور ہماری ذمہ داریاں انقلاب کے ایام میں
اس کی مسکراہٹ کھانے سے اٹھتے دھویں کے پیچھے کھو گئی تھی اس نے فنگر چپس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ڈرانے کے لئے چمچہ اٹھا لیااس نے گرم گرم چپس اپنی انگلیوں میں دبایا اور مسکراتے ہوئے باہر کی راہ لی میں نے اس کا پیچھا کرنا چاہا مگر نہ کرسکی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔