"الف لام خمینی" نامی کتاب کی تقریب رونمائی

مریم رجبی

مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2019-04-14


انقلاب اسلامی کمیونیکیشن بیس کی رپورٹ کے مطابق کتاب "الف لام خمینیؒ" کی تقریب رونمائی کی جو تفصیلات ہمیں موصول ہوئیں ان کے مطابق اس کتاب کے مصنف ہدایت اللہ بہبودی صاحب ہیں اور "سیاسی تحقیقاتی و مطالعاتی ادارے" نے اس کتاب کو نشر کیا ہے۔

ہمیں امام خمینی کو صرف ایک پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیے

اس پروگرام کے پہلے مقررخانہ کتاب فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر  نیک نام حسینی پور تھے۔ انھوں نے کہا: ایک ایسے دَور میں جب مشرق اور مغرب میں بڑی طاقتیں موجود تھیں اور ن کے مابین سرد جنگ بھی چل رہی تھی، ایران کی سرزمین سے ایک شخص اٹھا جو ایک تحریک کا رہبر بن کر سامنے آیا۔ حضرت امام خمینی ؒ نے سماج، سیاست، فقہ اور فلسفہ کو ایک نئے زاویہ سے پیش کیا۔ اگر ہم امام خمینی ؒ کی سیاسی شخصیت کا جائزہ لینا چاہیں تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ امام ہمارے لیے اور ہماری نسلوں کے لیے ایک بڑے فقیہ، جدت پسند فلسفی، عرفانی شخصیت کے مالک اور بہت عظیم استاد تھے، سو ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم امام ؒ کو ایک جامع شخصیت کے طور پر دیکھیں۔ امام جو اپنی ہستی میں ان بے شمار خصوصیات کا مجموعہ لیئے ہوئے تھے اب ان کو اگر کسی ایک ہی محدود زاویے سے دیکھا اور پرکھا جائے تو یہ ان کے حق میں نا انصافی ہے ۔ چاہے سیاست کا میدان ہو یا فقہ کا موضوع ہو یا پھر چاہے عرفان اور عرفانی اشعار کی بات ہو آپ ملاحظہ کریں گے کہ سیاست کو ولایت فقیہ میں ضم کرکے ایک جدید نظریئے کے طور پر پیش کیا، فقہ کے میدان میں خلاقیت کے جوہر دکھائے اور اسی طرح عرفان میں بھی ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ اب ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ امام کو جامع شخصیت کے ساتھ ساتھ حکیم امت اور اُس زمانے کے تمام تر علوم پر بہ قدرکافی آگاہی رکھنے والے عالم کے طور پر دیکھیں۔ اور اس عظیم اوقیانوس سے ہم اپنی اپنی ظرفیت کے مطابق مستفید ہوں۔

امامؒ کی نظریاتی اور عملی شخصیت

جامعہ روحانیت مبارز کے  سیکریٹری جنرل حجت الاسلام و المسلمین جناب مصطفی پور محمدی صاحب اس پروگرام کے اگلے مقرر تھے ۔ انھوں نے کہا: "امام خمینی ؒ کی شخصیت "کلمہ طیبہ" کا مصداق تھی،  وہ کلمۃ اللہ تھے، روح اللہ تھے اور اللہ بھی قرآن پاک میں یہ مثال دیتا ہے۔ " کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ" ایک پاکیزہ د رخت کی مانند جس کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں، شاخیں بلند و بالا اور آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں اور ہر زماے میں ہر اس شخص کے لیے جو اس شجرہ طیبہ کی زینت اور پھل سے فائدہ اٹھانا چاہے اٹھائے اور خدا نے بھی اجازت دے دی ہے کہ یہ پاکیزہ درخت ہمیشہ اور سب کو فائدہ پہنچاتا رہے۔" امام کی نظریاتی شخصیت بھی غیر معمولی ہے، امام حقیقی معنی میں ایک ایسے فلسفی ہیں جو فلسفہ میں صاحب رائے ہیں، ید طولی رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ عرفان کے میدان میں صاحب مکتب و مسلک بھی ہیں جنھوں نے اپنی جوانی کے آغاز میں ایسی کتابیں لکھیں جو درسی نصاب میں شامل ہونے کے لائق ہیں اور انہیں مدرسہ میں پڑھا اور پڑھایا جائے کیونکہ وہ محض مطالعہ کرنے  کی  حد و حدود سے بالاتر ہیں۔ اور یہی نہیں  بلکہ ان کتابوں کو پڑھانے کے لئے منجھے ہوئے استاد کی ضرورت ہے۔  امام ایک ایسے حساس اور نازک دور میں فلسفے اور عرفان کے محاٖذ کو فتح کرتے ہیں جب فلسفہ چندان اہمیت کا حامل نہیں اور ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور وہ بھی گہرے اصولی مسلک کے ساتھ اُس دور کے نامی گرامی اصولی حضرات کے علمی اور فنی اکھاڑے میں امام نمایاں انداز میں سامنے آتے ہیں۔ امام  کا زمانہ، اصولی ہم عصر اور بزرگ شخصیات کا زمانہ تھا۔ اگر آپ اسلامی اصول فقہ کی تاریخ کو دیکھیں تو ملاحظہ کریں گے کہ بارہویں صدی کے وسط سے تیرہویں صدی کے وسط تک کا زمانہ نامور اصولی شخصیات کے اوج و کمال کا زمانہ ہے۔ اس میں بھی امام ؒ تیزی دکھاتے ہیں اور ان چیدہ شخصیات میں بھی نمایاں تر ہوکر منظر عام پر آتے ہیں۔  مختلف موضوعات پر امام کی نظریاتی شخصیت بھی ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور انھوں نے ہر میدان میں بلند مرتبہ حاصل کیا یہاں تک کہ کہیں امام اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں تو کہیں کسی اور نظریئے پر تنقید کر ر رہے ہیں اور کہیں نئے نظریئے کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ امام ؒ کے ان نظریاتی پہلوؤں کو مجموعی طور پر اگر دیکھیں تو یہ امر بذات خود امام کی فکری، علمی اور نظریاتی میدانوں میں ایک امتیازی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے لیکن جس چیز نے امام کو "امام" بنایا؛ امام، دوسرے رُخ سے بھی اوج و کمال تک پہنچے اور حوزے کے اندر موجود عملی شخصیات کی فہرست میں نظر آئے۔ امام جس بات پر یقین رکھتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ امام اپنی ذات کی بہ نسبت سچے تھے، اپنے رب کی بہ نسبت سچے اور شفاف تھے۔ علوم و معارف کی بہ نسبت صادق تھے۔ اپنے لوگوں کی بہ نسبت سچے تھے اور امام کی اس انداز کی  واضح اور شفاف شخصیت نے عملی اور نظریاتی ابعاد میں نمایاں شخصیت کی نئی تاریخ رقم کی کہ آج ہم مختلف شعبوں میں امام کی نورانی شخصیت کی ضیاء پاشی کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم آج ہم عصر زمانے میں ہونے کی وجہ سے بہت ساری باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام کی شخصیت کا سایہ ابھی "امام" کو سمجھنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اور یہ اجازت پانے کے لئے وقت چاہیے۔  وقت گزرتا چلا جائے تاکہ یہ ہم عصر ہونے کا پردہ ہٹ جائے اور زندگی کے یہ حاشیے محو ہوجائیں تب کہیں جاکر امام کی شخصیت بہتر طور پر نکھر کر سامنے آئے گی۔  ہم مکتب تشیع  میں جو امام شناسی کے موضوع کی تعریف کرتے ہیں، تب کہیں  جاکر امام ؒ کی درست شناخت تک پہنچ پائیں گے۔ میری نظر میں یہ وہی قدم ہے جو جناب ہدایت اللہ بہبودی نے اٹھایا اور اس سلسلے میں امام کی نظریاتی اور عملی شخصیت کی پہچان کروانے میں اور جو کچھ بھی ان کے متعلق ہے اس کو روشناس کرانے میں موثق تحریری مواد کو دلچسپ انداز میں پیش کیا۔ امام امت کی پہچان کے سفر میں یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔ امام خمینی ؒ خود ایک بڑی تاریخ کا نکتہ آغاز ہیں۔ میں اگر اپنی گفتگو کو مختصر کروں تو یوں کہوں گا کہ دنیا کے اقتصادی حالت ایک بڑی تبدیلی کے دھانے پر ہیں۔  دنیا کی ثقافت اب تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک تمدن ساز شخصیت ان تبدیلیوں کا سبب بنی ہے، نہ فقط سبب بنی ہے بلکہ ان تبدیلیوں کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی معاشرے کو ایک نئے مستقبل کی نوید بخشی  ہے۔ اگر ہم اس عظیم امام خمینی ؒ کے انقلاب کو پہچان لیں اور اپنی آج کی نسل کو بھی اس سے روشناس کروالیں اور انقلاب کو بھی اپنی نسل سے متعارف کرو ا دیں تو عالمی تبدیلیوں کا مستقبل، امام خمینی ؒ کے زمانے اور تاریخ سے آگے کی فہم و فراست کا مرہون منت ہوگا۔ اور دلچسپ بات جو بہبودی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھی ہے وہ یہ ہے کہ امام ؒ نے زمانے کی آبرو کو صحیح پہچاناہے۔"

اس پروگرام کے تیسرے مقرر حجت الاسلام و المسلمین رسول جعفریان تھے جو مصنف، محقق ہونے کے ساتھ ساتھ تہران یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری کے ہیڈ بھی تھے۔ انھوں نے بہبودی صاحب کی کتاب کے حوالے سے نیز تاریخ نگاری اور  زندگی نامہ لکھنے پر روشنی ڈالی۔  پروگرام کے چوتھے مقرر علی رضا کمری صاحب تھے جو مصنف اور محقق تھے۔ انھوں نے کہا: "اس کتاب کے نام میں "الف لام" شاید (تلمیح) اشارہ ہے قرآن پاک میں حروف مقطعہ کی طرف، اور اسی  بنا پر شاید یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک مرموز  موضوع ہے جو زیادہ واضح نہیں۔ شاید یہ موضوع کلمہ اور کلام سے بالاتر ہو۔ یہ الف لام مسمی کے پُر اسرار ہونے اور واضح ہونے یعنی دونوں متضاد صفات پر بھی دلالت کرتا ہے۔ البتہ ظہور و خفا سے حاصل شدہ یہ صورت تاریخ کے نامور سپوتوں کی کسی ایک زاویے سے عکاسی کرتی ہے۔ زندگی کے احوال لکھنا بہت آسان اور سادہ کا م ہےخصوصاً ان لوگوں کے بارے میں جو بذاتہ کچھ نہیں ہیں۔ حضرت امام ایک ایسی مثالی شخصیت ہیں کہ جن کے ساتھ دوسروں کو تو شباہت دی جاسکتی ہے لیکن وہ خود اپنی مثال آپ ہیں۔"

ہدایت اللہ بہبودی جو کتاب "الف لام خمینی" کے مصنف ہیں، اس پروگرام کے پانچویں مقرر تھے۔ وہ اٹھ کر اسٹیج پر گئے اور دو جملوں میں بات کرکے سب کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس کتاب کی تصنیف کی علت اس خدشے کو ظاہر کیا جو ان کو تاریخ کی عقب نشینی، تاریخ کے حافظے کی کمزوری اور قومی حیثیت کی فراموشی کی بہ نسبت تھا۔ اور پھر انھوں نے گفتگو ختم کردی۔

امام کا خط علی محمد وزیری کے نام

حجت الاسلام و المسلمین جناب علی اکبر ناطق نوری صاحب جو تشخیص مصلحت نظام کابینہ کے رکن بھی ہیں، اس پروگرام کے آخری مقرر تھے۔ انھوں نے کہا:  جناب جعفریان صاحب نے ایک خط کی طرف اشارہ کیا جو حضرت امامؒ نے علی محمد وزیری کے نام لکھا تھا۔ یہ موقع مناسب لگ رہا ہے کہ میں ایک یادگار واقعہ کے طور پر اس خط کی د استان آپ کی سماعتوں کی نذر کروں۔  میں اور جناب سید حمید روحانی زیارتی قم میں اکٹھے رہتے تھے اور کتاب مکاسب کی کچھ ابحاث پر ایک ساتھ مباحثہ  کرتے تھے۔ پھر میں کسی واقعے میں  گرفتار ہوگیا جبکہ زیارتی صاحب  فرار ہوکر نجف جا نکلے۔ وہ نجف میں اتنا رکے کہ حتی جب امام ایران واپس آئے تو اُس وقت وہ امام کے ساتھ واپس پلٹے۔ خیر، نجف سے ہی انھوں نے مجھے کچھ عرصہ بعد خط لکھا اور کہا: میں " امام کی تحریک" پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں" اور مزید مجھ سے یہ کہاکہ یزد میں جناب علی محمد وزیری کے پاس ایک خط ہے جو میں یزد جاکر اُن سے لوں اور پھر اِن کو پوسٹ کروں تو یہ اس کتاب کی تحریر کے حوالے سے بہت ہی اچھا رہے گا۔ اب میں نہ تو جناب وزیری کو جانتا تھا اور نہ ہی اس وقت تک یزد گیا تھا۔ اور چونکہ میں رفسنجان میں مجالس میں خطابت کے فرائض انجام دیتا تھا اور حاج شیخ عباس پور محمدی (جو مصطفی پور محمد کے چچا ہیں) کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ سو میں نے ان کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا یزد میں آپ کا کوئی جاننے والا ہے تاکہ میں یزد جاکر آپ کی وساطت سے وہ خط لے لوں؟ تو انھوں نے بتایا کہ جناب وزیری کا داماد، جو لائبریری کا انچارج ہے میرا دوست ہے۔ آپ اس کے پاس جائیے اور کہیے کہ پور محمدی نے مجھے بھیجا ہے، میں بھی انھیں فون کردوں گا۔ خیر، میں یزد گیا اور تلاش کرنے کے بعد بالآخر اس لائبریری اور جناب وزیری تک پہنچ گیا اور رات کو بھی وہیں ٹھہرا، جناب وزیری ایک ایسے قابل قدر سید مولانا تھے جنھوں نے اپنی تمام تر جمع پونجی اس وقت کے حساب سے ایک زبردست لائبریری بنانے میں خرچ کردی اور آج وہ "لائبریری مرحوم وزیری" کے نام سے مشہور ہے۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ بستر  پر آرام کر رہے تھے اور شاید وہ اُس بیماری میں آخری ایام کاٹ رہے تھے جس کی وجہ سے فوت ہوئے۔ ان کے داماد نے اپنی ساس کو جو عمر رسیدہ خاتون تھیں بلایا اور کہا کہ کیا جناب  وزیری کی واقعات والی کتاب لاسکتی ہیں؟ انھوں نے دیکھنی ہے۔ وہ خاتون گئیں  اور صندوق سے وہ کتاب نکال کر لے آئیں اور وہ کتاب بھی اسی کتاب "الف لام خمینیؒ" جتنی بڑی تھی۔ یہ کتاب ان تحریری واقعات پر مشتمل تھی جو جناب وزیری نے جمع کر رکھے تھے۔ اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جب جناب وزیری قم میں جوانی کے زمانے میں تھے امام بھی ایک جوان مولانا روحانی تھے اور جناب وزیری جس استاد یا فاضل شخصیت سے ملتے تھے اس سے ایک یادگار واقعہ تحریر کرنے کی درخواست کرتے تھے اور وہ پھر ان واقعات کو جمع کرتے رہے یہاں تک کہ ایک پوری کتاب بن گئی، ایسی کتاب جس کی ہر تحریر امامؒ پر آکر ختم ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص مسائل کی نسبت امام کی عظمت اور نگاہ کا اندازہ کرنا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ امام کا وہ خط پڑھ لے جو اُس کتاب میں ہے اور اس کا متن اور ان اعلامیوں کا متن ایک ہی ہے جنھیں وہ لکھتے تھے اور ہم چھاپتے تھے۔ امام نے اس کتاب میں لکھا تھا کہ " قُل اِنَّما اَعِظُکُم بِواحِدَةٍ اَن تَقوموا لِلّهِ مَثنی و فُرادی ؛ پیغمبر سے کہہ دو کہ خدا کے لیے قیام کریں چاہے اکٹھے ہو کر یا چاہے انفرادی حالت میں"۔ وہ قیام خدا کے لیے نہیں ہوسکتا جس میں ایک بے شعور فرد ملک کی تقدیر کا مالک بن بیٹھا ہو۔ وہ قیام خدا کے لیے نہیں ہوسکتا کہ جب امام صادق علیہ السلام کی شان مبارک میں گستاخی کی جائے اور اس کے خلاف کوئی آواز بلند نہ ہو۔" ایک صفحہ تفصیل سے لکھا تھا  اور اس کے آخر میں امام نے کہا "آقائے محترم! کیا مختلف علماء سے ملنے اور واقعات اکٹھے کرنے سے زیادہ بہتر یہ نہیں تھا کہ آپ سب علماء کو ہی اکٹھا کرلیتے اور خدا کی خاطر قیام کرتے؟" امام کا یہ خط تھا جو جناب وزیری کے دفتر میں  تھا اور اس کا متن دوسری کتابوں میں بھی آیا ہے۔ امام جیسی شخصیت کو پہچاننا اور انھیں متفاوت کروانا کوئی معمولی کام نہیں۔ امام جہاں ایک جامع شخصیت تھے وہیں پر متضاد صفات کے مالک بھی تھے۔ "

حجت الاسلام و المسلمین ناطق نوری صاحب نے کتاب "الف لام خمینی" کے بارے میں بتایا: "جناب بہبودی کی یہ کتاب میں نے کسی حد تک پڑھی ہے۔ تحریر کا انداز خوبصورت اور قلم میں روانی ہے۔ لکھنے میں صرف و اقعات کی تعداد بڑھانے پر زور نہیں دیا گیا بلکہ جو لکھا ہے مستند اور با حوالہ لکھا ہے۔ واقعات کے کوڈ بھی تحریر ہیں اور امام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جناب بہبودی نے امام کے اخلاقی دروس اور دیگر وجودی، فقہی اور عرفانی پہلوؤں کو بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔

وہ ہمارے بیٹے ہیں

حجت الاسلام  و المسلمین ناطق نوری صاحب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: "امام کی ذہانت اور فطانت کمال کی تھی یعنی اگر انسان غیر خدا کے لئے کام کرے تو یوں ثمر آور ثابت نہیں ہوتا۔ مجھے نوفل لوشاتو میں امام کی خدمت میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ میں اُس وقت ایک انقلابی لیکن تند مزاج جوان تھا۔ میں نے امام سے عرض کی کہ جب میں آرہا تھا تو کچھ جوانوں کا ایک پیغام تھا اور وہ اجازت مانگ رہے تھے۔ امام نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ یہ عصر کا وقت تھا، میرے پاس وقت کم تھا۔ نو محرم اور دس محرم کی ریلی میں تین چار دن ہی باقی تھے۔ میں نے کہا: کچھ جوانوں نے کہا ہے کہ اگر کسی گھر سے اللہ اکبر کی آواز آئی تو ہم ٹینکوں کے گولوں سے اس گھر کو اڑا دیں گے۔ آپ اجازت دیں تو ہم کچھ ٹینکوں کو اُڑا دیں۔ امام نے کچھ سوچا اور پھر سر اٹھا کر کہا: "یہ اجازت نہیں دے سکتا" میں نے جب دوبارہ وہی بات ذرا وضاحت سے پیش کی اور بڑھا چڑھا کر بیان کی  تو امام نے مجھ سے پوچھا کہ میں کب ایران لوٹوں گا؟ تو میں نے کہا: "کل"۔  امام نے فرمایا: روانگی سے قبل مجھ سے مل لینا۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوا اور یہ سمجھا کہ امام نے میری بات مان لی ہے۔ اگلے دن میں دوبارہ امام کی خدمت میں پہنچا  تو امام نے فرمایا: میں نے اس بارے میں بہت زیادہ سوچا ہے میں یہ اجازت نہیں دے سکتا؛ کیونکہ یہ سپاہی اور فوجی جو اِن ٹینکوں اور اور فوجی گاڑیوں میں بیٹھے ہیں، ہمارے بیٹے ہیں" امام کی یہ بات سن کر میرے اندر بہت بڑی تبدیلی آگئی۔

اسی طرح، ایک دن میں مدرسہ علوی میں امام کی خدمت میں پہنچا۔ امام سے ملنے کے لیے صبح کے اوقات خواتین کے لیے اور شام کے اوقات مردوں کے لئے مختص تھے۔ میں نے دیکھا کہ خواتین آرہی ہیں۔ ان کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ انھوں نے چادریں اوڑھی ہوئی ہیں۔ اور ہم بھی ان کی تلاشی نہیں لے سکتے۔ پہلے دن ہی رش اور گھٹن کے باعث کوئی چھ سو کے قریب خواتین غش کھا کر گرگئیں، دوسرے دن ہمیں امام کے حوالے  سے خاطر خواہ سیکیورٹی نہ ہونے پر کافی تشویش تھی کیونکہ سب ہی خواتین کی چادروں میں بیگ تو ہوتے تھے۔ ہم سے یہ جرات تو نہ ہوئی کہ امام سے جاکر سیکیورٹی نہ ہونے کے متعلق کوئی بات کریں۔ البتہ میں گیا اور گھما پھرا کر امام سے کہا : یہ خواتین آرہی ہیں، غش کھا کر گر رہی ہیں، کوئی سنبھالنے والا نہیں اور انھیں اٹھا کر باہر لے جانے کی صورت میں بھی اگر مردوں سے مدد لی جائے تو نامحرم والا مسئلہ درپیش ہے۔ آپ اگر یہ اجازت دیں کہ خواتین کو آنے سے منع کردیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ امام جس انداز میں بیٹھے ہوئے تھے اسی انداز میں انھوں نے اپنا ہاتھ منفی میں ہلاکر مجھے انکار کردیا۔ اور پھر جب دیکھا کہ میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تو امام یوں گویا ہوئے: "کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرے اور آپ کے اعلامیوں نے شاہ کو نکالا ہے؟ یہی لوگ ہیں جنھوں نے شاہ کو نکال باہر کیا ہے۔"

امام ؒ جہاں روشن فکر تھے وہاں خرافات اور توہمات کے بھی مخالف تھے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک سید عمامہ پہن کر کسی دوسرے شخص کے ساتھ آئے ہیں، ان کا رنگ اُڑا ہوا تھا، چہرے سے پریشان لگ رہے تھے۔ وہ کسی خاص موضوع پر امام سے خصوصی ملنا چاہتے تھے، انھوں نے کہا: ہم علوم غریبیہ کے ماہر ہیں، جادو ، سحر اور باطل سحر وغیرہ۔  امام پر جادو کیا گیا ہے اور اگر اس کا سد باب نہیں کیا گیا تو بہت جلد امام کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اور ہم نے اس سحر کے باطل کا کھوج لگالیا ہے اور اسی سلسلے میں ہم خود امام سے ملنا چاہتے ہیں اور یہ سب کچھ سن کر میں بھی پریشان ہوگیا اور امام کی خدمت میں جاکر سارا ماجرا سنا دیا۔ امام بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے کہا کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے اور یہ حضرت "جادو توڑنے کا حل" لے کر آئے ہیں اور آپ سے بذات خود ملنے کے خواہشمند ہیں اور وہ جادو توڑنے کا حل خود آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ امام نے وہیں سے بیٹھے بیٹھے سر اٹھایا اور مسکرا کا کہا: "ان سے کہہ دیں کہ مجھے خود جادو توڑنے کا حل آتا ہے۔۔۔ امام احساسات، نرم دلی اور پیار کے معاملے میں بھی اپنے کمال پر تھے اور یہ ایسے ہی نہیں ہے کہ امام دس سال رہبر انقلاب رہے ہوں اور ان دس سالوں میں بھی جنگ رہی ہو اور دوسری طرف سے لوگوں نے جنازے اٹھائے ہوں، شہید دیئے ہوں۔ روزمرہ ضروریات زندگی  کی خاطر صفوں میں لگ کر کوپن وصول کئے ہوں۔  گولوں اور بموں کی بوچھاڑ میں رہے ہوں۔ اپنے جوان بیٹوں کو بھی اگلے مورچوں میں بھیجتے رہے ہوں لیکن اس سب کے باوجود اپنے امام سے عشق رکھتے ہوں۔ اور یہ عشق  کیوں نہ ہو جبکہ یہ عشق دو طرفہ تھا یعنی خود امام بھی لوگوں سے پیار کرتے تھے، لوگوں سے اُنس رکھتے تھے۔ لوگوں سے محبت کرتے تھے۔



 
صارفین کی تعداد: 152


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔