دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – ۳۹واں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-03-26


راستے میں جہاں بھی آبادی تھی، وہاں داخل ہونے والے راستے پر لوگوں کا رش ہوتا، خاص طور سے مائیں، جو بسوں سے لٹک جاتی تھیں اور پوری طاقت سے اپنے گم ہو جانے والوں کو پکارتی تھیں۔ حالانکہ کسی بھی حادثے سے بچنے کیلئے بس آہستہ چل رہی تھی،  اچانک سے کچھ لوگ بس کے سامنے لیٹ جاتے تاکہ وہ رکنے پر مجبور ہوجائے؛   شاید اس طرح وہ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈ پائیں۔ کچھ لوگوں نے اپنے گمشدہ افراد  کے ناموں کو بہت بڑا کرکے لکھا تھا اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ کچھ لوگوں نے کسی لکڑی پر اُن کی تصویر لگاکر اُسے اوپر اٹھا کر رکھا ہوا تھا اور سب کو دکھا رہے تھے، وہ روتے ہوئے اور التماس کرتے ہوئے اپنے گمشدہ افراد  کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

بہت ہی عجیب اور افسوس ناک صورتحال بن جاتی  تھی کہ ہمارے لئے اُسے برداشت کرنا واقعاً مشکل ہوجاتا  تھا؛ ہم سب رونے لگتے اور مبہوت، متعجب اور بغیر کسی ارادے کے آنسو بہانے لگتے۔

بس کے ڈرائیور اور ہمارے انچارج نے بتایا کہ جب ہم شروع میں دوسرے اسیروں کو لیکر آتے تھے تو اُس وقت اتنا رش ہوجاتا تھا کہ ہم قصر شیرین سے لیکر اسلام آباد تک کا فاصلہ ۱۲ گھنٹے میں طے کرتے تھے۔ استقبال کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد کی وجہ سے ہمیں بہت سے مواقع  پر مجبوراً رکنا پڑتا ، کئی گھنٹے گزر جاتے اور ہم بڑی مشکل سے آگے بڑھ پاتے تھے۔ پریشان اور سوال کرنے والے لوگوں میں اپنے ماں باپ کی گود میں دودھ پینے والے بچوں سے لیکر بوڑھے مرد و خواتین جو خود چل بھی نہیں سکتے، دکھائی دیتے تھے جو ایک کونے میں بیٹھے ہاتھ میں کوئی تصویر یا کسی نام کا کوئی پلے کارڈ اٹھائے ہوتے تھے۔

قصر شیرین میں رونما ہونے والے تمام واقعات سے گزر کر ہم لوگ کچھ گھنٹوں بعد اسلام آباد پہنچ گئے۔ سپاہ کے افراد – جو ہمیں تحویل میں لینے، ہمارا استقبال کرنے اور خدا حافظ کہنے کے انچارج تھے – اپنی پوری کوشش  میں لگے ہوئے تھے۔ ہم ایک چھاؤنی کے اندر داخل ہوئے۔ سپاہ کے کچھ لوگ ہمارا استقبال کرنے کے بعد ہمیں مسکراتے ہوئے مہربانی اور درود و سلام کے ساتھ ایک بڑے سے ہال میں لے گئے جس  میں کارپٹ بچھا ہوا تھا۔ وہاں پر ایک لمبا سا دستر خوان بچھایا ہوا تھا اور ہم ۵۲ افراد کے گروپ کی بہترین کھانے کے ساتھ پذیرائی کی گئی؛ وہ رات ہم سب کیلئے غیر قابل فراموش تھی۔

اُسی رات، چھاؤنی کے روشن احاطے میں، ٹی وی پر اسیروں کے انٹرویو کو دکھایا گیا جو میڈیکل چیک اپ وغیرہ سے گزر چکے تھے؛ وہ ہمارے لئے بہت دلچسپ تھا۔

رات کے کھانے اور پھلوں سے ہماری پذیرائی کرنے کے بعد ہمیں بس میں بٹھا کر ایک آرام کرنے کی جگہ پر لے جایا گیا اور وہاں پر ہر آدمی کو چند کمبل دیئے گئے۔ ہمیں بالکل بھی ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ ہم مہمان ہیں؛ چونکہ پوری دنیا  میں صرف ایران ہی ہمارے لئے خوبصورت اور مہربان ترین جگہ تھی!اسی لمحے کچھ لوگ ریکارڈنگ کا سامان لیکر ہمارے ایک یزدی دوست کا انٹرویو لینے کیلئے کمرے کے اندر داخل ہوئے؛ شاید پہلے سے طے تھا کہ یہ لوگ ہمارے بہترین اور متقی دوست کے ساتھ اُن کے شہر اور گھر تک  جائیں گے۔

اگلے دن، ظہر سے پہلے ہم لوگ کرمانشاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُسی کم مدت میں، سپاہ کے افراد کی کارکردگی، دوستی کا اظہار اور فداکاری قابل تحسین تھی اور وہ تمام کاموں کو ترتیب سے ایک کے بعد ایک  انجام دے رہے تھے۔

ہم کرمانشاہ  پہنچے اور سیدھا ایئرپورٹ چلے گئے؛ مجھے اپنے وجود میں ایک مخفی اضطراب  کااحساس ہو رہا تھا۔ میں نے اس ایئرپورٹ کو پہلے کئی بار دیکھا ہوا تھا اور میں وہاں کے ماحول سے مکمل طور پر واقف تھا؛ میرے لئے ہوائی جہاز اصل میں ایک کبوتر کی طرح ہے جسے میں نے اپنے ہاتھوں پکڑا ہوا ہو؛ اس کے باوجود ۔۔۔

ایئرپورٹ میں داخل ہوتے وقت میں نے اپنے ایک دوست کو سیکند بریگیڈیئر کے نشان کے ساتھ دیکھا۔ اُس نے گلے ملنے اور خیریت دریافت کرنے کے بعد کہا:

-  شیروین جان! میں یہاں کی پروازوں کے پروگرام کو منظم کرنے کا انچارج ہوں؛ میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو کوئی کام ہے تو میں اُسے انجام دوں، اگر تم مجھے کوئی کام کہو گے تو مجھے خوشی ہوگی۔

-   بہت شکریہ؛ تم صرف اتنی مہربانی کرو کہ میرے ٹیلی فون نمبر پر کال کرو اور میرے تہران آنے کی خبر دیدو۔

میں نے اپنے کچھ اور دوستوں کو بھی دیکھا۔ ہم لوگ بات چیت کرنے میں مصروف تھے کہ  ایک سی ۱۳۰ طیارے کے لینڈ کرنے کی آواز نے میری توجہ کو اپنی طرف  جذب کرلیا؛ ہمیں تہران تک فوج کے اس پرانے اور صبور طیارے پر سفر کرنا تھا؛ ہم طیارے میں بیٹھے اور اُڑ گیا۔

پرواز کے دوران، ہمارے ساتھ رہائی پانے والے ایک فرد جو ابھی تک میرے لئے ناشناس تھے، انھوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا:

- میں اہواز میں پانی اور بجلی کے ادارے کا ڈپٹی دائریکٹر جنرل ہوں، اسیری کے دوران میرا ناشناس رہنا ضروری تھا ۔ میں آپ لوگوں سے معافی کی اُمید رکھتا ہوں!

سب نے اُن کی تعریف کی۔

اے  غمگین خواب!

اے دس سالہ جذام!

خدا حافظ۔

مادر سلام

شہیدوں سلام

فدا کاروں سلام۔

ناگوار و غمین خوابوں سے

امام حسین (ع) کے دشمنوں کی سرزمین سے

ہم آرہے ہیں۔

مادر سلام

آپ کے ساتھ ایک لمحہ گزارنے کیلئے

میں نے دس سال تک خون جگر پیا ہے؛

بغیر کسی شکوہ و شکایت کے! ۔۔۔

ہم نے مشتاقانہ اور روتی آنکھوں کے ساتھ ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔ ہمیں عجیب سا اضطراب ہو رہا تھا؛ صدمے اور پیار کے درمیان کی کوئی چیز!

میں جہاز سے نیچے اُترا اور چاروں طرف دیکھنے لگا؛ ہر چیز جانی پہچانی اور اپنی سی تھی! میں نے ایک گہری سانس لی؛ خدایا تیر شکر ہے!خدایا تیرا شکر کہ تو نے مجھے ایک بار پھر دیدار اور زندگی کی توفیق  عطا فرمائی۔ دوبارہ خدمت کرنے کی توفیق، دوبارہ فدا کاری ۔۔۔

میں نے اسیری کے دس سالوں میں، اُس کی تمام سختی  اور مشقتوں کے باوجود بہت ساری چیزیں سیکھ لی تھیں جو میرے طرز تفکر اور  نقطہ نظر  میں ایک  بڑی تبدیلی لایا تھا۔ میں اپنے لیے اسیری کو  خداوند متعال کی نعمات میں سے شمار کرتا تھا کہ خدا نے اس طریقے سے میرے دل کے بند دروازوں کو کھول دیا تھا کہ جس  کی مدد سے میں پرسکون اور خوبصورت معنوی سرزمین میں داخل  ہوسکتا تھا؛ درحقیقت، میں سب سے زیادہ خود کو پہچاننے میں کامیاب ہوا تھا ۔۔۔

ہم سب لوگ لائن سے ایک کے پیچھے ایک، ایئرپورٹ کے ہال کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دو اطراف میں اتنے زیادہ لوگ کھڑے تھے کہ ایک سرنگ کے راستہ کی صورت اختیار کر گیا تھا؛ کچھ علماء دین، ملکی عہدیدار، فضائی افواج کے کارکن اور افراد، سڑکوں کا وزیر – شاید وزیروں کی نمائندگی میں – اور لوگ کہ اُن کی اس قدر محبت کو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں کبھی نہیں تھی۔ ہر جگہ اور سب کی آنکھوں سے دوستی جھلک رہی تھی اور میں رو رہا تھا؛ وہ ہمیں پھولوں کے ہار پہنا کر ، گلدستوں  پیش کرکے اور گلے لگا کر خوش آمدید کہہ رہے تھے اور گرمی جوشی سے ہمارا استقبال کر رہے تھے۔

ہم ایک ایسے ہال میں داخل ہوئے جسے بہت ہی خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ شادی کے پروگرام کی طرح، میز اور کرسیاں لگائی گئی تھیں جن پر پھل اور مٹھائیاں رکھی ہوئی تھیں۔ چھتیں اور دیواریں مبارک باد کی تحریروں اور رنگ برنگی پھولوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ایسے میں، ایئر فورس کے ڈپٹی کمانڈر کہ جن سے میری پرانی دوستی تھی، ہمارے سامنے آئے اور ہمیں خوش آمدید کہتے ہوئے ہماری احوال پرسی کی۔ اس کے بعد ہم سب لوگ بیٹھ گئے اور استقبال کرنے والوں میں سے ایک نے ہمیں خیر مقدم کہا  پھر ہماری پذیرائی کی گئی۔ تقریب ختم ہونے کے بعد جناب محمودی نے ہم سب کی طرف سے اس قدر توجہ اور پذیرائی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

ہال کے ایک طرف سیڑھیاں تھیں جو ایک چھوٹے سے احاطے تک جاتی تھیں  اور دونوں طرف سے کوریڈور میں داخل ہوتیں اور پردے کی ذریعے اُن کوریڈور کو الگ کیا ہوا تھا۔ اُسی وقت، سیڑھیوں کے اوپر والے حصے  اور سٹیج پر دو نو جوان پردے کے  پیچھے سے باہر آئے۔ ان دو نوجوانوں کے آتے ہی ہمارا ایک ساتھی کہ جس کے ساتھ ہم سالوں اسیری میں رہے تھے، اُس نے ان کے ناموں کو پکارا اور اُن کی طرف دوڑ پڑا؛ ایسے بھاگ رہا تھا جیسے اُس کے پر لگ گئے ہوں۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سب خوشی کے ساتھ اُسے دیکھ رہے تھے۔ اُس نے اُن دونوں کو گلے لگایا، پیار کیا اور آنسو بہائے ۔۔۔

میں اُن لوگوں کو دیکھنے میں مصروف تھا کہ استقبال کرنے والوں میں سے میرے ایک ساتھی نے مجھے آواز دیکر کہا:

-   ہوشنگ، اوپر آجاؤ!

میرا دل بیٹھ گیا؛ جیسے  میرے سینے کو نکال لیا گیا ہو۔ حالات، ماحول، لوگ  اور ۔۔۔ کچھ بھی سوچنے اور کسی بھی چیز کیلئے تیار رہنے کیلئے کوئی موقع نہیں دیتے؛ میں نہر کی روانی میں بہہ جانے والے قطرے کی طرح آزاد اور بے اختیار تھا؛ ہلکا پھلکا، اشک بہاتا ہوا۔

جب میں اوپر گیا تو مجھے پردے کے پیچھے جہاں کوریڈور تھا، وہاں لے گئے۔ میرے اندر ایک عجیب اضطراب اور بے چینی تھی اور بے اختیار  میرے  آنسو بہے جا رہے تھے۔ میں نے اپنی زوجہ کے ماموں کو دیکھا؛ ہم نے ایک دوسرے کو مضبوطی سے گلے لگایا اور پیار کیا۔ میں اپنی حالت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ میں نے اُن کے کانوں میں  کہا:

-   مہری کیسی ہے؟ میری والدہ؟ میری بیٹی؟

انھوں نے میرے ہاتھوں کو دبایا اور کہا:

-   آؤ! ہوشنگ جان، یہ رہی تمہاری بیٹی آزادہ خانم!

میری اشکبار اور پیاسی آنکھیں گھومیں،  میں نے ایک خوبصورت اور باوقار لڑکی کو کھڑے ہوئے دیکھا  جس کی نگاہیں ٹکٹکی باندھ کر مجھ دیکھ رہی تھیں۔  میں اُس کے پاس گیا، اُسے گلے سے لگایا، میں نے اشکبار اور مسکراتے چہرے کے ساتھ کہا:

-  سلام محترمہ! مجھے پہچانتی ہو؟ میں تمہارا بابا ہوں!

آزادہ آہستہ آہستہ رو رہی تھی؛ میں نے اُسے گود میں لیا اور اس کے بھیگے گالوں کو چوما؛ اُس سے مجھے اپنی ماں کی خوشبو آ رہی تھی، میری زوجہ کی خوشبو، خدایا! خدایا! تو کتنا مہربان ہے! ۔۔۔

میری زوجہ کے ماموں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پر جوش انداز میں کہا:

-  ہوشنگ جان! تمہاری والدہ بھی یہاں ہیں؛ لیکن بہتر ہوگا کہ تم ابھی سے جان لو کہ تمہاری بہن فرشتہ ہے۔ ان پورے دس سالوں میں، اُس نے ایک مرد کی طرح تمہارے گھر والوں کی سرپرستی کی اور تمہاری جگہ وہ ضروری کاموں  کو انجام دیتی رہی اور اُس نے کسی بھی فداکاری اور قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اُس نے واقعاً ایثار کی حدوں کو چھو لیا اور دوسروں کی آسائش کی خاطر اپنی زندگی کو پس پشت ڈال دیا۔ ہوشنگ وہ واقعاًٍ قابل احترام اور تحسین  ہے!

کس قدر قابل فخر باتیں! اسی موقع پر جب ہم لوگ باتیں کرتے ہوئے کوریڈور تک پہنچے، اچانک میری والدہ کسی ایک کمرے سے باہر آئیں۔ اس سے پہلے کہ میں اُنھیں سلام کرپاتا وہ مجھ تک پہنچ گئیں، انھوں نے مجھے گلے سے لگا لیا  اور میرے گرد چکر کاٹنے لگیں۔ ہم دونوں بری طرح سے رو رہے تھے اور وہ بلند آواز سے کہہ رہی تھیں تمہاری ماں تم پہ واری، تم پر صدقے۔ میں نے بڑی مشکل سے اُنہیں روکا اور اُنہیں گلے سے لگایا؛ لیکن تھوڑی دیر بعد انھوں نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور دوبارہ میرے گرد چکر لگانے لگیں۔ وہ سر سے پیر تک مجھے چوم رہی تھیں اور میرے پورے وجود پر ہاتھ پھیر رہی تھیں اور خدا کا شکر ادا کر رہی تھیں۔ انھوں نے اشکوں سے بھری آنکھوں، مسکراہٹ اور رنج و انتظار میں گزاری  ممتا سے بھرپور آواز میں کہا:

-   ہوشنگ، میں صرف تمہیں دیکھنے کیلئے زندہ ہوں!

میں آنسو بہا رہا تھا اور اُنہیں پیار کر رہا تھا۔ اُن کے پورے بال سفید اور اُن کا چہرہ بوڑھا اور جھریوں سے بھر چکا تھا۔  اُن سے ملنے پر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔

اسی احوال پرسی میں کچھ وقت گزر گیا کہ ایک انچارج نے آکر کہا:

-   برائے مہربانی بس کریں!

خود وہ اور دوسرے بھی رو رہے تھے۔ میری زوجہ کے ماموں نے، میری والدہ کو مجھ سے جدا کیا اور وہ لوگ آزادہ کے ساتھ ہال سے باہر نکل گئے اور دو لوگ مجھے بھی پذیرائی والے ہال کی طرف لے گئے۔ خدایا! میں کس قدر ہلکا اور آزاد ہوگیا ہوں۔ میرے پاس واقعہ کو بیان کرنے کیلئے نہ کوئی کلام ہے اور نہ کوئی احساس؛ فقط میں اپنے اندر ایک فریاد کو محسوس کر رہا تھا اور آنسو تھے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ میں ایک خالی جسم سے زیادہ نہیں تھا اور میری روح، میری بیوی مہری کی تلاش میں تھی؛ میری بہنیں، میرے بھائی  اور وہ تمام لوگ جن سے میں محبت کرتا تھا۔ خدایا، تو کتنا بڑا ہے!

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 502


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – نویں قسط

میں اُس حال میں کہ موٹر سائیکل سوار رہنما کے پیچھے حرکت کر رہا تھا اور ایسے راستے سے گزر رہا تھا جو سرحدی پٹی کے ساتھ بنا ہوا تھا، یہ بات میرے لئے قابل یقین نہیں تھی کہ میں نے اسلامی جمہوری ایران کی سرزمین پر قدم رکھا ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔