سعید حجازی کی یادوں کے ساتھ

آپریشن والے علاقوں کی عجیب راتیں

گفتگو: مہدی خانبان پور

تنظیم و ترتیب: مریم رجبی

2019-03-06


ڈاکٹر سعید حجازی مفید اسکول کے وہ تیسرے طالب علم تھے کہ جن کا انٹرویو لینے کیلئے "بمو" اور "دستہ یک" نامی کتابوں کے مؤلف جناب اصغر کاظمی نے مجھ سے  تعارف کروایا تھا۔ ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد طے پایا کہ ایک دن شام کے وقت میں اُن کے مطب پر انٹرویو لینے کیلئے حاضر ہوجاؤں۔ جب میں اندر داخل ہوا، ابھی وہ تشریف نہیں لائے تھے؛ میں نے اُن کے آنے تک اپنے وسائل کو تیار کیا۔ جس وقت ڈاکٹر صاحب اندر داخل ہوئے، ایسا لگا جیسے میں انہیں بہت پہلے سے جانتا ہوں۔ وہ میرے لئے بالکل بھی اجنبی نہیں تھے۔ انہوں نے بہت ہی دوستانہ انداز میں میرا استقبال کیا۔ جب وہ اپنے واقعات کو بیان کر رہے تھے، میرے لئے بہت سے نام آشنا تھے، خاص طور سے شہید علی بلورچی۔ مجھے امید ہے کہ یہ انٹرویو ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے قارئین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے گا۔

 

کس بات کی وجہ سے طے پایا کہ مفید اسکول میں آپ کے ساتھ کے لڑکے دفاع مقدس کے محاذوں پر جائیں؟

میرے خیال سے مفید اسکول کے چوتھے دورے سے سب سے پہلے جنگی علاقوں پر جانے والا شخص میں تھا۔ ہائی اسکول میں میرا دوسرا سال ختم ہوچکا تھا اور سن ۱۹۸۲ کی گرمیاں شروع ہوگئی تھیں۔ جب میں محاذ پر گیا تو میری عمر سولہ سال اور کچھ مہینوں سے زیادہ نہیں تھی۔ میں اصل میں کاشان کا رہنے والا ہوں۔ میرے خالہ زاد بھائی کاشان میں رہتے تھے اور وہ بھی محاذ پر جانے کا شوق رکھتے تھے۔ اُن کے کچھ ایسے دوست تھے جو کاشان کی سپاہ میں موجود تھے اور میں نے اُن کے ذریعے اپنا نام لکھوایا تھا۔ ہمیں ٹریننگ دینے کیلئے کاشان سے اصفہان کی غدیر چھاؤنی لے گئے۔ رمضان آپریشن سے پہلے کی بات تھی۔ ٹریننگ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ہمیں اصفہان بھیج دیا گیا اور جندی شاپور یونیورسٹی میں ٹھہرایا گیا۔ یونیورسٹی سے ہمیں ایک علاقہ میں بھیجا گیا جیسا کہ ہم پہلی دفعہ گئے تھے اس لیے ہم اُس جگہ کو نہیں جانتے تھے اور مجھے ابھی بھی نہیں پتہ کہ ہم کہاں گئے تھے۔ ہم رات کو پہنچے اور صبح کو پتہ چلے کہ آپریشن ناکام رہا  ہے اس لیے ہمیں واپس جانا  ہے۔ ہمیں واپس اہواز لایا گیا اور چند دنوں بعد ہم کاشان بھی واپس آگئے۔

 

آپ کون سے ڈویژن کے ساتھ گئے تھے؟

میں نجف اشرف ڈویژن کے ساتھ گیا تھا۔ اُس کے کمانڈر شہید احمد کاظمی تھے۔

 

جب آپ پہلی دفعہ گئے تو آپ نے کسی آپریشن میں شرکت نہیں کی، آپ دوبارہ کب محاذ پر گئے؟

کچھ عرصہ گزر گیا تھا۔ میں نے محاذ پر جانے کیلئے ٹریننگ حاصل کی تھی اور میں دوبارہ وہاں  جانا چاہتا تھا۔ میں کاشان گیا اور محاذ پر جانے کے بارے میں سوالات کئے، بالآخر میں نجف ڈویژن کی چوتھی بٹالین میں مستقر ہوگیا۔

 

آپ کون سے آپریشن کیلئے گئے تھے؟

میں سن ۱۹۸۲ میں محرم آپریشن کیلئے گیا تھا۔ بہرحال میں وہ پہلا شخص تھا جو مفید اسکول کے چوتھے دورے سے سب سے پہلی دفعہ محاذ پر گیا۔ البتہ مجھ سے پہلے ۱، ۲، ۳ اور ۵ ویں دورے سے بھی لڑکے گئے تھے اور حتی انھوں نے بیت المقد س آپریشن میں شرکت بھی کی تھی۔ میرا اسٹائل محاذ پر جانے والے لوگوں جیسا نہیں تھا۔

 

کیوں؟ آپ تو ایک دینی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

میں تہران کے علاقے امیر آباد اور مسجد حضرت امیر (ع) کا رہنے والا تھااور میرے دوست احباب بن ٹھن کر رہنے والے نازک مزاج تھے۔ (ہنستے ہوئے) اُن کا مسجد میں آنا جانا تھا لیکن اُنہیں گولی، بندوں اور محاذ سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ البتہ میرے بعد میرے ان ہی دوستوں میں سے کچھ لوگ پہلے و الفجر اور ابتدائی و الفجر آپریشن کیلئے محاذ پر گئے اور کچھ لوگ شہید بھی ہوئے۔ جیسے حاج محمد حسن اکبری جو شہید غلام رضا اکبری کے والد تھے وہ بھی شہادت پر فائز ہوئے۔ میرے خیال سے حاجی صاحب سن  ۱۹۸۵ میں اور رضا سن ۱۹۸۶ میں شہید ہوئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ، شلمچے میں ہونے والے پانچویں کربلا آپریشن میں رضا کا جنازہ  وہیں رہ گیا تھا۔

 

آپ محرم آپریشن کیلئے دوبارہ گئے؛ ہمیں اس آپریشن کے بارے میں بتائیں۔

ہم آپریشن والی رات نہر کے کنارے مستقر ہوگئے۔ بارش بہت تیز ہورہی تھی۔ تھوڑا سا آگے مٹی کا ایک بند بنایا ہوا تھا۔ پانی اُس بند کے پیچھے جمع ہوگیا۔ بند ٹوٹ گیا اور پانی اُس نہر کے اندر آگیا جہاں سپاہی موجود تھے۔ میرے خیال سے ۳ سے ۴ بٹالین اُس نہر میں مستقر تھیں۔ پانی تقریباً ۹۰ افراد کو بہاکر لے گیا۔ وہ فصلی اور خشک نہر تھی اور کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ اس نہر میں بھی میں سیلاب آسکتا ہے۔ وہاں پر بہت بڑے بڑے گرگٹ اور چھپکلیاں رہتے تھے۔ یہ حادثہ غروب کے وقت رونما ہوا اور پانی بہت سے سپاہیوں کا اسلحہ بہا لے گیا۔ ہمارے لیے بہت ہی عجیب رات تھی۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ جب میں کسی جنگی علاقے میں حاضر ہوا تھا اور میرے لئے بہت ہی سخت تجربہ تھا۔  جب پانی اوپر چڑھا تو لوگ فریاد کرنے لگے۔ جو لوگ کرسکتے تھے، وہ لوگ نہر کی دیوار سے اوپر چڑھے اور اسلحے کی نالی سے دوسرے لوگوں کو اوپر کھینچا۔ لیکن پانی آیا اور تقریباً ۹۰ لوگوں کو بہاکر لے گیا۔ میرا قد چھوٹا تھا، پانی کا فشار کم ہونے تک ہم نہر کے دیوار سے چپکے رہے۔ جب ہم اوپر آئے اور  ہمارے حواس بحال ہوئے، اُس وقت ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سامان تو ہے نہیں۔ میرے پاس صرف تھرماس اور اسلحہ تھا  اور میرے بیگ کو پانی لے گیا تھا۔ کچھ افراد کے پاس تو اسلحہ بھی نہیں تھا۔ ہماری بٹالین نہر کے آخر میں تھی اور جب لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں، ہم نے  خود کو سمیٹ لیا تھا، ہمیں کم نقصان اٹھانا پڑا۔ ہمیں پھر سے تیار ہونے کیلئے تقریباً دو گھنٹے لگ گئے۔ مجھے یاد ہے ہماری بٹالین کے افراد میں سے کوئی بھی پانی کے ساتھ نہیں بہا تھا، بہرحال ہم آگے کی طرف بڑھے۔

کچھ بٹالینز نے فرنٹ لائن پر حملہ کیا ہوا تھا اور طے تھا کہ  ہم اُن کے بعد عمل کریں گے۔ جب ہم اُس علاقے میں پہنچے جہاں مائنز بچھائی گئی تھیں تو مائنز ناکارہ کرنے والے کچھ فوجی شہید ہوچکے تھے۔ راستہ کھل چکا تھا اور ہم شہداء کے جنازوں کے کنارے سے گزرے۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایسے علاقے میں پہنچے جہاں لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہاں جھڑپیں ہوئی ہوں۔ ہم جتنا آگے بڑھتے جا رہے تھے اور زیادہ متجسس ہوتے جا رہے تھے کہ ہم کیوں جھڑپوں تک نہیں پہنچ  رہے۔ ہم کچھ مورچوں کے پاس پہنچے۔ مورچوں میں کچھ ریفریجٹر اور اُس میں ٹھنڈا پانی تھا۔ لوگوں نے یہ پانی پیا اور اپنے تھرماسوں کو بھرا۔ پھر ہم پکی سڑک کے کنارے پہنچے اور افراد وہیں پر سو گئے۔ میں بھی سڑک کے کنارے لیٹا ہوا تھا۔ ہماری بٹالین کے کمانڈر شہید محمد رضا گوسفند شناس تھے۔ اُن کا تعلق اصفہان کے کسی گاؤں سے تھا۔ ادھیڑ عمر کے تھے اور میرے خیال سے تقریباً ۴۰ سال کے تھے۔ وہ اپنے وائرلیس کے ساتھ سپاہیوں کے برابر میں سے گزر رہے تھے کہ میرے قریب  ہوئے اور سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ میرے خیال سے وہ وائرلیس کے ذریعے احمد کاظمی سے بات کر رہے تھے۔ جناب کاظمی اُنہیں اُن کے نام سے پکار رہے تھے اور کہہ رہے تھے: "محمد رضا جس طرح بھی ہو، لوگوں کو واپس پیچھے  لے آؤ۔" ہمارے کمانڈر نے بھی کہا: "آپ فلیش لائٹس ماریں تاکہ ہمیں پتہ چلے ہم کہاں ہیں۔" اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ ہم اپنی سرحد سے عراق کی طرف ۴  سے ۵ کلومیٹر آگے آچکے ہیں اور ہم اُن کے پیچھے ہیں۔ مورچے بھی عراقیوں کے اجتماعی مورچے تھے۔ وہ لوگ سو رہے تھے ، اگر وہ جاگ رہے ہوتے تو اُنہیں یقین نہیں آتا کہ ہم لوگ وہاں تک  پہنچ گئے ہیں۔ وہ ہمیں بالکل بھی دیکھ نہیں پائے تھے اور اسی وجہ سے کوئی جھڑپ بھی نہیں ہوئی تھی۔

وہاں سے مسلسل فلیش لائٹس ماری جا رہی تھیں تاکہ ہم اپنا راستہ تلاش کرلیں۔ بٹالین اکٹھی ہوئی اور ہم پیچھے واپس آگئے۔ میرے خیال سے ہم لوگ تقریباً ۲۰ منٹ تک مسلسل بھاگ رہے تھے اور پیچھے کی طرف آرہے تھے۔ ہم فلیش لائٹوں کی طرف حرکت کر رہے تھے  لیکن وہ ہم سے بہت دور تھیں ۔ چند ٹیلوں کے پیچھے تھیں اور ہم اپنے لوگوں کی طرف  بڑھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایسے علاقے میں پہنچے کہ جہاں کچھ زخمی لوگ پڑے ہوئے تھے۔ اُن کے پیر مائنز پر پڑ گئے تھے۔ کچھ لوگ اُن کی معمولی سے مرہم پٹی کرکے چلے گئے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ ہم ایک سڑک پر پہنچے ، ہمیں وہاں جھڑپیں ہوتی دکھائی دیں۔ سڑک کی دونوں طرف مارٹر پھٹنے کا مشاہدہ ہو رہا تھا۔ سڑک ایک صحرا سے پہ جاکر ختم ہو رہی تھی۔ ہم  صحرا میں مستقر ہوگئے۔ صبح کے تقریباً ۴ یا ۵ بج رہے تھے کہ میں نے دیکھا عراقیوں کے ۵۰ کے قریب ٹینک صحرا کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ جہاں ہم مستقر تھے۔ انھوں نے اپنے تمام پروجیکٹر جلائے ہوئے تھے اور صحرا کو دن کی طرح بنا دیا تھا۔ جیسا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں تھے اور گولی، بندوق اور اسلحے سے ٹینکوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا، دستور آیا کہ پیچھے کی طرف و اپس آجائیں۔ ہم دوبارہ پیچھے کی طرف پلٹے۔ راستے میں تھرماس کا پانی ختم ہوگیا۔ وہ افراد جو تجربہ کار تھے اور علاقے کو پہچانتے تھے، وہ لوگ میری کہ جو پہلی دفعہ محاذ پر آیا تھا بہت مدد کر رہے تھے۔  ہم پورے راستے بہت بھاگے تھے، سب تھکے ہوئے اور پیاسے تھے۔ جو بھی پانی مانگتا، میں تھرماس اُسے دیدیتا اور اب میرا پانی ختم ہوچکا تھا۔ میں جوان اور لاغر تھا لیکن پیاس کے مارے میری حالت بہت بری تھی۔ تقریباً سارے ہی تھرماس خالی ہوچکے تھے اور کسی کے پاس پینے کیلئے پانی نہیں تھا۔ ہم ایک سڑک کے کنارے پہنچے۔ وہاں پر ایسے مورچے بنے ہوئے تھے جس میں ٹھنڈا پانی موجود تھا۔ میرے خیال سے میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنا مزیدار اور گوارا پانی نہیں  پیا ہوگا۔ ظہر کے وقت ہم کچھ اور مورچوں تک پہنچے۔ عراقیوں نے جوابی حملہ کیا۔ وہ مسلسل مارٹر برسا رہا تھا، ہم بھی جھڑپوں میں شامل ہوگئے۔ ہم اُس علاقے میں تقریباً تین ہفتوں تک مستقر رہے تھے۔ ہم صحرا میں بلندی پر تھے۔ ہم تین ہفتوں بعد واپس پیچھے آگئے  اور دہلران کے نزدیک ایک علاقے میں گئے۔ اُس کے بعد تہران آگئے۔ اس سفر میں تقریباًدو مہینے لگے۔

 

آپ دوبارہ کب جنگی علاقے میں گئے؟

میں کچھ عرصے تک تہران میں رہا۔ مجھے یاد ہے میرا ایک دوست جس کا نام رضا میر قاسمی تھا وہ ابتدائی و الفجر آپریشن کیلئے گیا تھا اور اُس کا ہاتھ زخمی ہوا تھا۔ میں اس آپریشن کیلئے نہیں گیا تھا، کیونکہ میری کلاسیں رہتی تھیں اور اِدھر سے مفید ہائی اسکول بھی بہت سختی کرتا تھا۔ اس طرح نہیں تھا کہ تم محاذ پر جاکر اپنی پڑھائی سے فرار کرسکو؛ اسی وجہ سے مجھے دوبارہ پڑھنا پڑھا اور اُنہیں پاس کرنے کیلئے میں اچھی طرح درس پڑھنے پر مجبور تھا۔ مفید ہائی اسکول میں اگر کوئی ۶۰ فیصد سے کم نمبر لیتا تو وہ ترقی پاس کہلاتا اور اسے دوبارہ امتحان دینا ہوتا تھا۔ میرے خیال سے میں نے فزکس میں ۵۵ فیصد نمبر لیے تھے اور مجھے دوبارہ پڑھنا پڑی۔ میں نے کچھ دنوں تک کلاسوں میں شرکت کی لیکن دوسرے و الفجر آپریشن کیلئے مجھے دوبارہ نامہ مل گیا۔ جیسا کہ میرا محاذ پر جانے کا سابقہ تھا، اس دفعہ میں نے اپنی فائل تہران میں بنالی اور ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن  میں چلا گیا۔ ۲۷ واں ڈویژن قلاجہ میں مستقر تھا۔ وہاں پر میری ضرورت نہیں تھی،  میں سید الشہداء (ع) بریگیڈ میں منتقل ہوگیا۔ اُس وقت تک بریگیڈ تھا اور ڈویژن نہیں بنا تھا۔ میں شہید علی رضا موحد دانش اور اصفہان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جناب سعیدی کے پاس گیا۔ میرے خیال سے جناب سعیدی اس وقت بریگیڈیئر ہوں گے۔ پہلے تو بسیں قلاجہ گئیں پھر بعد میں آدھا دن گزرنے جانے کے بعد فیصلہ کیا کہ کوہ دشت اور پل دختر کے درمیان واقع سید الشہداء بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر جایا جائے۔ میں ہیڈ کوارٹر پہنچتے ہی پہلی فرصت میں، فوجیوں کی تقسیم بندی کے بعد قمر بنی ہاشم بٹالین میں چلا گیا، جس کے کمانڈر شہید احمد ساربان نژاد تھے۔ ہمارے گروپ کے کمانڈر علی ہاشمی تھے جن کا تعلق چیذر سے تھا۔ ہمارے گروپ میں سے ایک اور شخص سید شہاب الدین بصام تبار تھے۔ سید شہاب کرج کے رہنے والے تھے اور لمبے قد کے تھے۔ وہ اس وقت ایسے سپاہی ہیں جو جنگ میں ۷۰ فیصد مفلوج ہوگئے تھے۔ ہم کوہ دشت اور پل دختر کے مابین ایک علاقے میں مستقر ہوگئے۔ میں ایسے دستے میں تھا جس کے انچارج چیذر کے رہنے والے محمد چیذری تھے۔ سید الشہدا (ع) بریگیڈ تہران کے مختلف علاقوں کے افراد جیسے کرج، شمیرانات اور ساوجبلاغ سے مل کر تشکیل پائی تھی۔ کچھ عرصے بعد ہم لوگ دوسرے و الفجر آپریشن کیلئے حاج عمران کے علاقے میں چلے گئے۔

آپریشن والی رات فوجیوں کا ستون آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرے آگے ایک ۱۶ سالہ لڑکا تھا جو سنیپر سے فائر کرنے والا تھا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ اپنے گھر کا تنہا فرزند تھا۔ جب فوجیوں کا ستون رک جاتا اور ہم لوگ بیٹھ جاتے تو ایک دوسرے سے فاصلے میں فرق آجاتا اور ہم ایک دوسرے کے نزدیک بیٹھ جاتے تھے۔ ایک دو مرتبہ اس طرح ہوا اور مجھے لگا کہ وہ منہ ہی منہ میں کچھ دعا مانگ رہا ہے۔ میں نے دقت سے سنا، وہ کہہ رہا تھا: "اللھم الرزقنی توفیق شہادت فی سبیل اللہ"۔ میری محمد چیذری سے بہت اچھی دوستی  ہوگئی تھی۔ محمد ستون کے کنارے چل رہا تھا۔ میں نے اُسے آواز دی اور اُس سے کہا: "محمد مجھے دو تین لوگوں سے پیچھے کردو۔" اُس نے پوچھا: "کیوں؟" میں نے کہا: "وہ کہہ رہا ہے اللہم الرزقنی توفیق الشہادۃ۔ میں اس کام کیلئے نہیں آیا ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ ایک مارٹر گولا آئے اور یہ بندہ خدا شہید ہوجائے اور میرا کوئی عضو ناقص ہوجائے۔"  محمد نے مجھے دو تین باتیں سنائیں، میں ہنسنے لگا اور ہم آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ سرخ ٹیلے تک پہنچ گئے اور وہاں جھڑپوں میں مشغول ہوگئے۔ صبح کے وقت کہا گیا آپ جس حالت میں بھی ہیں، نماز پڑھیں۔ یہ بندہ خدا بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک گولی اس کی پیشانی پر لگی اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ ہم ایسے علاقے میں تھے کہ مکمل طور پر دشمن کی دید میں تھے اور وہ مسلسل لوگوں کو مار رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے کنارے ایک مارٹر گرا اور آر پی جی سے فائر کرنے والے کا بیگ پھٹ گیا، دو تین لوگ شہید ہوئے اور میں دھماکے کی لہر سے حواس کھو بیٹھا۔ مجھے پیچھے کی طرف بھیج دیا گیا، جب میری حالت تھوڑی بہتر ہوگئی، میں دوبارہ فرنٹ لائن پر آگیا۔ علاقے کی لوکیشن اچھی نہیں تھی، اسی وجہ سے ہمیں نَقَدہ واپس بھیج دیا گیا اور ہم ایک اسکول میں مستقر ہوگئے۔ دو تین دن گزرنے کے بعد پوچھا گیا کون لوگ جنگی علاقے کی طرف جانا چاہتے ہیں اور کون لوگ تہران واپس جانا پسند کرتے ہیں؟ زیادہ تر لوگ تہران واپس جانا چاہتے تھے (ہنستے ہوئے)، پھر کہا گیا دوبارہ جنگی علاقے کی طرف چلیں گے۔ ہم لوگ گاڑیوں میں سوار ہوئے اور رات کو تقریباً دس بجے ایک ایسے علاقے میں پہنچے کہ جس کے بعد اب گاڑی کے ذریعے آگے نہیں جایا جاسکتا تھا۔ ایک دو افراد تھے جو لوگوں کو کسی تنگ جگہ یا مورچے میں مستقر کر رہے تھے۔ میں تین دوسرے لوگوں کے ساتھ تنگ جگہوں کے بیچ میں سے گزر رہا تھااور ہم ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں کچھ لوگ تھے۔ ہم اُن کے پیچھے چلنے لگےاور ایک جگہ پہنچ گئے، ہم نے سنا کہ وہ لوگ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں۔ جب ہم نے دقت کی تو پتہ چلا وہ عربی بول رہے ہیں۔ ہم چاروں افراد وہیں پر بیٹھ گئے۔ چونکہ اندھیرا بہت تھا اور ہم اُن سے فاصلہ رکھ کر چل رہے تھے، انھوں نے ہمیں نہیں دیکھا تھا۔ اُس وقت مجھے پتہ چلا کہ ہم گم ہوگئے ہیں۔ ہم جس کے پیچھے چل رہے تھے اور جو عربی جانتا تھا، اُس نے کہا: یہ لوگ عراقی تھے۔ ہم نے اُن کے مکمل دور ہونے تک صبر کیا۔ ہم پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور تنگ جگہوں کے درمیان چلنے لگے یہاں تک کہ وہ سمجھ گیا کہ ہم کہاں ہیں اور اُس نے راستہ ڈھونڈ لیا۔ مورچوں کو فوج کے سپاہیوں نے بنایا تھا اور وہ اس کے اندر مستقر تھے۔ خبر ملی تھی کہ عراقیوں نے جوابی کاروائی کرنی ہے، اسی وجہ سے اُنہوں نے سپاہیوں کو بلایا تھا تاکہ ہم اُن کی مدد کریں  اور عرا ق کی جوابی کاروائی کا سامنا کریں۔ ہم مورچے کے اندر داخل ہوئے۔ مورچے کے اندر فوج کے دو افراد تھے کہ میرے خیال سے وہ اصفہانی تھے۔ ہر کوئی ایک ایک گھنٹہ سوتا یہاں تک کہ تقریباً ایک بجے عراق نے جوابی کاروائی کی اور ہم سب جنگ لڑنے میں مشغول ہوگئے۔ ساتھیوں  نے بہت سے ہینڈ گرینڈ پھینکیں، عراقیوں کے کچھ لوگ مارے گئے اور کچھ لوگ چلے بھی گئے۔

دوپہر کے ۱۲ بجے محمد چیذری آیا اور اُس نے مجھے آواز لگا کر کہا: سعید آؤ ہم لوگ نیچے چلتے ہیں اور عراقیوں کا اسلحہ لیکر آتے ہیں۔ ہم نے اسلحوں کو اٹھالیا۔ محمد نے مجھ سے کہا: گڑھے کے نیچے بھی چلیں، میں نہیں مانا۔ میں نے کہا: یہاں بہت زیادہ گڑھے ہیں اور عراقی ہمیں مار دیں گے۔ اُس نے مجید حیدری سے کہا کہ ہم دونوں ساتھ چلتے ہیں۔ مجید بہت خوبصورت اور کرج کا رہنے والا تھا۔ وہ سنہرے بال والا اور مجھ سے تقریباً ۴ یا ۵ سال بڑا تھا۔ محمد اور مجید گئے اور وہ ابھی ہم سے ۱۰۰ میٹر دور نہیں ہوئے ہوں گے کہ ایک عراقی نے باہر چھلانگ لگائی اور اُن پر فائرنگ کردی۔  مجید تو موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ محمد کے کندھے پر بھی گولی لگی اور پیچھے سے نکل گئی۔ وہ عراقی کمانڈو تھا اور اُس نے محمد کے لباس کو پکڑ ا ہوا تھا، وہ اُسے زمین پر گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے جانا چاہ رہا تھا۔ چونکہ محمد عراقی کے ساتھ تھا اس لیے فائرنگ نہیں کی جاسکتی تھی۔ محمد نے عراقی کے ہاتھ پر کاٹا اور جیسے ہی اس نے محمد کو چھوڑا، اُن کے درمیان فاصلہ آگیا ، ساتھیوں نے فائرنگ کردی اور وہ فرار کرگیا۔ ہمارے لوگ محمد کو اوپر لے آئے۔ اُس کی حالت بہت خراب  تھی اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اُس کا کام تمام ہوگیا ۔ میں نے اُس سے پوچھا: تم نے نماز پڑھ لی  تھی؟ اُس نے کہا: ڈرو نہیں، میں شہید ہونے والوں میں سے نہیں ہوں اور ہوا بھی ایسا ہی۔ محمد کو پیچھے کی طرف منتقل کردیا گیا اور اُس کی پٹی وغیرہ کردی گئی، کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ واپس آگیا۔

 

آپ نے امتحانوں کا کیا کیا؟

آپریشن سے پہلے مجھے پانچ دنوں کی چھٹی ملی تھی۔ میں تہران آیا اور اس  عرصے میں امتحان دیا۔ میرے خیال سے میرے ۷۵ یا ۸۰ فیصد نمبر آئے ہوں گے اور میں اس کے بعد دوبارہ  جنگی علاقے میں واپس آگیا۔

 

آپ محاذ پر بھی پڑھائی کرتے تھے؟

میں محاذ پر کاپی اور کتابیں لیکر نہیں جاتا تھا۔مفید اسکول کے لڑکے گروپس کی صورت میں پڑھائی کرتے تھے میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتا تھا۔ جیسا کہ میں محا ذ اور جنگ میں درگیر تھا، بہرحال میری پڑھائی کمزور ہوگئی تھی ، مجھے اورمیہ  میں جانوروں کے ڈاکٹر کی شعبے میں داخلہ ملا۔ مجھے یہ شعبہ اچھا نہیں لگتا تھا اور میں نہیں گیا۔ میرے پاس وقت نہیں تھا اور میں سپاہی بن چکا تھا۔ میں اپنی ڈیوٹی پر گیا، جیسا کہ میں محاذ کا عادی تھا، میں ۲۷ ویں ڈویژن میں مالک اشتر بٹالین میں چلا گیا۔ میں وظیفہ لینے والا پاسدار بن چکا تھا۔ میں نے اپنی پڑھائی کی کتابوں کو جمع کیا اور اپنے ساتھ جنگی علاقے میں لے گیا۔ سن ۱۹۸۵ میں میری موجودگی میں مہران کی دفاعی پوزیشن پر آپریشن ہوا تھا۔ میں نے انہی دنوں میں دوبارہ انٹری امتحان دیا۔  ہماری بٹالین میں سے ایک اور فرد نے جن کا نام شہید مسعود سخائی تھا انٹری ٹیسٹ  میں شرکت کی تھی۔ ہم دونوں پاس ہوگئے، لیکن مسعود اپنی پڑھائی شروع نہیں کرسکے۔ (گلو گیر لہجہ)

 

کیوں؟

مسعود شہید ہوگئے۔ میں نے اور مسعود نے یونیورسٹی میں نام لکھوایاتھا۔ میں ایران کی میڈیکل سائنس یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹس ہوگیاتھا۔ اور انھوں نے شہید بہشتی یونیورسٹی میں نام لکھوایا تھا۔ البتہ میرا رتبہ بڑا تھا لیکن چونکہ میرا پہلا انتخاب ایران کی میڈیکل یونیورسٹی تھی، میں وہاں قبول ہوا تھا۔ ہم داخلہ کیلئے نام لکھوا کر جب جنگی علاقے میں  واپس گئے، وہ مہران کے اُسی دفاعی آپریشن میں شہید ہوگئے۔

 

آپ دوبارہ کون سے آپریشن کیلئے محاذ پر گئے؟

میں آٹھویں و الفجر آپریشن کیلئے گیا لیکن میں دیر سے پہنچا۔ سپاہی خسرو آباد نامی علاقے میں مستقر تھے۔ میں نےجتنی بھی کوشش کی ، مجھے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے کہا: اتنی ساری جگہوں پر سپاہیوں کی ضرورت ہے، آپ کسی اور جگہ چلے جائیں۔ ہم شاید ۴ یا ۵ لوگ تھے۔ مجھے یاد ہے فقیہ میرزائی، مرحوم حمید داد گستر نیا، حمید کا بھائی اور کچھ شیراز کے افراد ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نہر اروند کے کنارے ایک ہسپتال میں چلے گئے اور کچھ عرصے تک وہاں پر  مستقر ہوگئے۔ سپاہیوں کو کشتی کے ذریعے پیچھے لاتے تھے اور سب سے پہلی جگہ جہاں لاتے تھے، وہ یہی ہسپتال تھا۔ ایک رات علی بلورچی جو زخمی ہوگئے تھے، اُنہیں پیچھے لائے تھے، اُنہیں ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا۔ میرے خیال سے اُن کے پیر میں  کسی بم کا ٹکڑا لگا تھا۔ وہ اپنے ساتھ ایک عراقی اسلحہ بھی لائے تھے۔ وہ ایک دو راتیں وہاں پر رہے اور پھر چلے گئے۔ میں کچھ عرصے بعد تہران واپس آگیا اور اپنی  پڑھائی اور یونیورسٹی میں مصروف ہوگیا۔ اب اس کے بعد میں نے جنگ پر جانے کیلئے لیٹر نہیں لیا لیکن میں تھوڑے تھوڑے عرصے بعد محاذ پر جاتا اور اپنے دوستوں سے ملتا تھا۔

 

کس طرح؟

سن ۱۹۸۶ میں کربلائے ۵ آپریشن کیلئے، میں اپنے ایک دوست کے ساتھ گیا جن کا نام سید اصغر مسعودیان تھا۔ سید اصغر ۱۱۰ ویں خاتم بریگیڈ کے سپاہی تھے۔ بریگیڈ کے کمانڈر شہید احمد غلامی تھے۔ حسین توکلی بھی اسٹاف کے انچارج تھے۔ سید اصغر، سید فریبرز یوسفی آذر اور سید اصغر میر عمادی کہ جو محلہ اوین کے رہنے والے تھے، میں ان کے ساتھ میاندو آب اور مہاباد کے مابین ایک علاقے میں جس کا نام کک تپہ تھا، شہید بروجردی چھاؤنی میں گیا۔ ہم وہاں  پر مستقر تھے کربلائے ۵ آپریشن تک فوجیوں کو خرم شہر کسٹم کے قریب ایک ایسی جگہ منتقل کیا گیا جو ریفائنری کی طرح کی تھی۔ میں آپریشن کی انٹیلی جنس کا رکن بن گیا تھا۔ ہم چند بار شناسائی کرنے کیلئے گئے۔ عراق بہت شدت سے علاقے پر گولے برسا رہا تھا۔ عراقی فوجی قریب سے نظر آرہےتھے اور تن بہ تن لڑائی ہو رہی تھی۔ شہداء زمین پر پڑے ہوئے تھے اور میں دلخراش منظر دیکھ رہا تھا۔ آج جب میں اپنے کاموں اور زندگی میں الجھا ہوا ہوں اور میں اُن دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ میں کہا ں کہاں رہا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ لوگ وہاں پر وڈیو بنانے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ شدید جھڑپیں ہورہی تھیں۔ میرے خیال سے ان میں سے دو لوگ شہید بھی ہوگئے تھے۔

 

آپ کو محاذ کے سپاہیوں کا کوئی دلچسپ واقعہ یاد ہے؟

مجھے محاذ کے تمام ساتھی  یاد ہیں لیکن میں اپنے یونٹ کے ایک لڑکے کو کبھی نہیں بھلاؤں گا۔ مجھے اس کا نام یاد نہیں  لیکن وہ اچھی شکل و صورت کا تھا۔ اُس کا قد اور بال لمبے تھے اور سنہرے رنگ کی داڑھی تھی۔ وہ صبح کی نماز کے بعد سوتا تھا، دس منٹ کے بعد اٹھتا اور دوبارہ سوجاتا تھا۔ میں نے اُس سے پوچھا: "تم اتنا زیادہ سوتے کیوں ہو؟" اُس نے جواب دیا: "میں قیلولہ کر رہا ہوں۔" میں نے کہا: "اتنا زیادہ قیلولہ؟" اُس نے کہا: "میں اپنے والد کے قضا قیلولوں کو ادا کر رہا ہوں!" وہ تمام لوگوں کو ہنساتا تھا۔ مجھے یاد ہے اُس کے پاس ایک تلوار تھی۔ میں نے ایک دفعہ اُس سے کہا: اس تلوار کا کیا کہانی  ہے؟ اُس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ جب امام زمانہ (عج) ظہورکریں، تو میں اُن کی رکاب میں جنگ کرنے کیلئے تیار رہوں۔ محاذ پر موجود لوگوں کے اپنے خاص عقیدے تھے۔

 

آپ نے ایک شفاعت نامے پر دستخظ کئے تھے؛ اُس بارے میں وضاحت کریں؟

ہاں اس کاغذ کو میں نے لکھا تھا۔ یہ میری لکھائی ہے اور یہ آٹھویں و الفجر آپریشن کی بات ہے۔ میں نے لکھا اگر میں شہید ہوجاؤں تو میں عہد کرتا ہوں کہ اپنے دوستوں کی شفاعت کروں گا۔ دوستوں نے دستخط کردیئے۔ میرے خیال سے اس کاغذ کے آخر میں علی بلورچی، حمید داد گسترنیا، منصور کاظمی، سید حسین کریمیان اور رضا اکبری کے دستخط ہوں گے۔ میں نے یہ کاغذ سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ حساب کتاب والے دن میرے دوست اپنے قول پر عمل کریں۔

 

جس آپریشن میں آپ کے پانچ دوست شہادت پر فائز ہوئے ہمیں اُس آپریشن کا کوئی واقعہ سنائیں؟

میں کربلائے ۵ آپریشن کیلئے  آزاد فوجی کے عنوان سے  محاذ پر گیا تھا۔ میں مفید اسکول کے لڑکوں سے ملنے گیا تھا۔ میں پوری رات اُن کے پاس رہا کہ ہم سب مل کر آپریشن کیلئے جاتے ہیں۔ اُس رات علی بلورچی کے کنارے ایک ۱۵ سالہ لڑکا تھا جو بہت گریہ کر رہا تھا۔ رات کے تقریباً تین بجے سب نے نماز شب پڑھی۔  علی بھی اور وہ لڑکا بھی صبح کی نماز تک خدا سے راز و نیاز کرتے رہے۔ بہت ہی عجیب رات تھی۔ مجھے صبح تک نیند نہیں آئی۔ صبح ہوتے ہی سب بسوں پر سوار ہوئے۔ میں چپکے سے آگیا تھا اور دوستوں کے ساتھ آپریشن پر جانا چاہتا تھا۔ میں اور منصور کاظمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ راستے میں منصور نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا۔ اگر آپ منصور کاظمی کے وصیت نامے کو دیکھیں تو اُس کی آخری دو لائنیں لرزتے ہوئے لکھی گئی ہیں، چونکہ اس نے بس کے اندر وصیت نامے کو مکمل کیا تھا۔ میں نے پوچھا: "منصور وصیت نامہ لکھ رہے ہو؟" اُس نے کہا: "ہاں ۔۔۔"  جب وہ لکھ چکا تو اُس نے اُسے تہہ کیا اور مجھ سے کہا: "یہ لے لو اور جب تک میں شہید نہ ہوجاؤں اسے کھولنا نہیں۔" میں نے کہا: "رہنے دو یار ۔۔۔" اُس نے کہا: "میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اسے لے لو!" میں نے لیکر اُسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ بس کو چند کلومیٹر پہلے روک لیا گیا تھا۔ ایک آدمی بسوں پر چڑھ رہا تھا، پھر اتر رہا تھا اور دوبارہ دوسری بس کے پاس جا رہا تھا۔ جب وہ ہماری بس کے پاس پہنچا اُس نے اوپر آکر کہا: سعید حجازی! میں نے اُس کی طرف دیکھا، اُس نے کہا: نیچے اتر جاؤ۔ میں نے پوچھا: کس لئے؟ اس نے کہا: تم خاتم بریگیڈ کے ہو  اس لئے تم نہیں جاسکتے ہو، ذمہ داری ہے۔ میں نے جتنی بھی کوشش کی، وہ راضی نہیں ہوا۔ میں نیچے اترنے پرمجبور ہوگیا۔ میں نے سب دوستوں سے خدا حافظی کی۔ اگر میں غلطی نہیں کروں تو حمید صالِحی، علی بلورچی، مجید مرادی، سید حسین کریمیان اورمنصور کاظمی اسی بس کے اندر تھے۔ میں اُن سے گلے ملا اور نیچے اتر گیا۔ میں واپس  آگیا؛ یہ لوگ آپریشن پر چلے گئے اور میں یہیں رہ گیا۔ اُس آپریشن میں میرے پانچ بہترین دوست شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ۱۵سالہ لڑکا جو علی بلورچی کے ساتھ، صبح تک خدا سے راز و نیاز کر رہا تھا وہ بھی شہید ہوگیاہے۔

 

جناب ڈاکٹر حجازی میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود ہمارے لیے وقت نکالا اور مجھے انٹرویو دیا۔

 

میں آپ کی تشریف آوری پر شکریہ کرتا ہوں۔ مجھے اُمید ہے کہ میں نے اپنے شہید دوستوں کی یادوں کو زندہ کیا ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 397


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔