اٹھارہ سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا

وہ محرمانہ باتیں جن کا "بمو" میں اضافہ ہوا

شیما دنیادار رستمی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-03-04


"بمو" نامی کتاب – مزاحمتی ادب و ثقافت کے دفتر کے توسط سے سامنے آنے والی ۴۴۳ ویں کتاب ہے -  دفاع مقدس کے سالوں میں قصر شیرین اور دشت ذھاب کے علاقوں میں شناسائی کرنے والی افواج کے واقعات پر مشتمل ہے جسے اصغر کاظمی نے لکھا ہے۔ یہ کتاب جس کا دوسرا ایڈیشن اٹھارہ سال بعد مطبوعات سورہ مہر کے توسط سے شائع ہوا ہے، اس کتاب میں ایران اور عراق کے سرحدی علاقے میں آپریشن کی شناسائی کی جزئیات کو دس کمانڈروں اور سپاہیوں نے پانچ فصلوں میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کے دوسرکے ایڈیشن کے بارے میں کہ جو ۴۶۸ صفحات پر مشتمل ہے، ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے خبر نگار نے جناب اصغر کاظمی سے گفتگو کی ہے جسے آپ ملاحظہ کر رہے ہیں۔

 

آپ نے کس وجہ سے "بمو" کتاب لکھی ؟

میں جنگ کے زمانے میں ایک معمولی سپاہی تھا اور مجھے جنگی نقشوں اور آپریشن کے طریقہ کار کے بارے میں بالکل بھی معلومات نہیں تھیں۔ میں سوچتا تھا چونکہ عراق، ایران کی مغربی سمت میں ہے، لہذا ہم مسلسل غرب کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں حالانکہ جب میں اس سلسلے میں لکھنے بیٹھا تو مجھے پتہ چلا ہمیں راہ حل کے مطابق بڑھنا چاہیے تھا اور اس چیز کو شناسائی کرنے والی افواج پہچانتی ہیں۔

میں نے کتاب "بمو" لکھنے سے پہلے "خرم شہر در اسناد ارتش عراق" نامی کتاب پر آپریشن کی معلومات کے سلسلے میں کام کیا تھا۔ میں نے اس کتاب میں خرم شہر میں عراقی فوجیوں کے مورچے میں رہ جانے والی اسناد کو ترتیب سے جمع کیا ہے۔ یہ کتاب خرم شہر کی غارت گری اور اس پر کس طرح قبضے ہونے کے بارے میں ہے۔ میں اُس زمانے میں پہلی مرتبہ آپریشن کی معلومات کی ابحاث سے واقف ہوا اور اُس کے بعد میں نے "بمو" کو لکھا۔

 

کتاب کے ڈیزائن میں ایک تبدیلی ہوئی ہے جو کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ کتاب کا یہ ڈیزائن پڑھنے والے کو کیا سمجھانا چاہ رہا ہے؟

"بمو" نامی کتاب کے مطالب قصر شیریں اور دشت ذھاب نامی علاقوں سے مربوط ہیں جو ایران کے قدیمی علاقے ہیں اور ان کی تاریخ بین النہرین سے وابستہ ہے۔ ہم نے کتاب کے اس ڈیزائن سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کا سلسلہ ایران کی قدیمی جنگوں کی طرف پلٹتا ہے۔ ایران کا جغرافیائی علاقہ خاص ہے۔ اُس کے ایک طرف دریائے خزر اور البرز کے پہاڑ واقع ہے  اور دوسری طرف خلیج فارس اور زاگرس کے پہاڑ موجود ہیں۔ ایک طرف سے ایران، ایشیاء اور یورپ کے درمیان  مسلسل رابطے کی صورت میں ہے۔ بنابراین ہمیشہ سے اس سرزمین میں داخل ہونے کا راستہ زاگرس کے پہاڑ رہے ہیں۔ زاگرس کے اصلی دروازے، یہی تہران، ہمدان، کرمانشاہ، قصر شیرین اور بغداد  کا حالیہ راستہ تھا  کہ جو زاگرس کہ دو، سروں کو ایک دوسرے سے ملاتا تھا۔ اس راستے میں کتیبہ بیستون واقع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب ہخامنشیان کے زمانے میں یہ راستہ کشف ہوا تو ہخامنشیوں کو بڑی بڑی کامیابیاں نصیب ہوئیں اور وہ مصر اور یونان کو فتح کرنے میں کامیاب ہوسکے اور اسکندر بھی اسی راستے ایران کی سرزمین کو فتح کرسکا۔ زاگرس کا دروازہ یا وادی پاتاق سالہا سال سے فوجیوں کے گزرنے کی اصلی ترین جگہ رہی  ہے۔ آٹھ سالہ جنگ کے حلقہ کو متصل کرنے کیلئے ہم اس نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ قدیمی ترین کتیبہ کہ جس کی تصویر کتاب کی جلد پر آئی ہے، وہ پانچ ہزار سال پہلے کوہ نشین اور دشت نشین قوموں کے درمیان ہونے والی جنگوں کی حکایت کر رہا ہے اور شاید یہ سب سے قدیمی جنگ ہے جو تاریخ میں ثبت ہوئی ہے۔

یعنی عراق کے ساتھ ہماری جو جنگ تھی اُس کا تاریخ میں بہت طولانی سابقہ ہے اور ہمیں ہمیشہ آپریشن کی معلومات حاصل کرنے کیلئے تاریخ میں ہونے والی جنگوں سے استفادہ کرنا چاہیے  اور اس سلسلے میں ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہم نے اس کتاب کے مقدمے میں کچھ صفحات پر ماضی کی جنگوں کے بارے میں بھی بیان کیا ہے اور تقریباً ۳۰ صفحات کے بعد، آٹھ سالہ جنگ میں  قصر شیرین اور سرپل  ذھاب کی سرنوشت کو بیان کیا گیا ہے۔

 

اس کتاب میں انٹرویو کا حصہ کتنا ہے؟

میں نے جب ۹۰ کی دہائی میں اس کتاب پر کام کرنا شروع کیا، میں ایک ٹیپ ریکارڈ لیکر ایسے لوگوں  کے پاس گیا جو آپریشن کی شناسائی کا کام انجام دیتے تھے۔ میں نے ان کے واقعات کو ریکارڈ کرنے کے بعد، اُنہیں ٹائپ کیا ، اُس کے بعد میں نے ایک ایک واقعہ کو جمع کرنا شروع کیا تاکہ یہ پزل ایک دوسرے سے متصل ہوجائے۔ ان انٹرویوز میں ۶ سال (۱۹۹۴ سے ۲۰۰۰)سے زیادہ عرصہ لگا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سپاہی آپریشن کی معلومات حاصل کرنے کیلئے خاص نقشوں سے استفادہ کرتے ہیں، میں نے محسوس کیا کہ اس کتاب کو نقشے کی ضرورت ہے۔ حقیقت میں کیمرہ، قطب نما (کمپاس)اور نقشہ اُن کا اصلی اسلحہ تھا۔ اس وجہ سے میں نے کتاب کیلئے نقشہ مہیا کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنی اور دشمن کی دفاعی لائنوں  کو تقسیم  کیا اور آپریشن اور شناسائی کے طریقہ کو انجام دیا۔ اس کام میں بھی تقریباً ایک سال لگ گیا۔

اس کتاب کیلئے شہید صیاد شیرازی جیسے راویوں سے بات چیت ہوئی ہے۔ میں نے تقریباً اُن کی شہادت سے ۹ مہینے پہلے، اُن سے پہلے و الفجر آپریشن، بمو کی شناسائی اور چوتھے و الفجر آپریشن کے بارے میں گفتگو کی کہ جس میں سن  ۱۹۸۳ کے واقعات شامل ہیں۔

شہیدوں میں سے ایک اور عالی مقام، شہید حجت اللہ معارف وند ہیں۔ وہ شناسائی کرنے والی افواج میں سے تھے جو کتاب کے راویوں سے بہت نزدیک اور اُن کے ساتھی تھے اور ان شناسائیوں میں اُن کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ سن ۲۰۱۵ میں شدید کیمیائی اثرات  کی وجہ سے شہادت پاگئے۔ کتاب کی آخری تصویر بھی اس شہید کی تصویر سے مزین ہے۔

میں نے کوشش کی ہے کہ راویوں کے تینوں گروپ یعنی فوج، سپاہ اور بسیج سے بمو کی تدوین میں فائدہ اٹھاؤں۔ سب سے زیادہ واقعات بھی ایک بسیجی سے مربوط ہیں جن کا نام احمد استاد باقر ہے۔ وہ رضاکارانہ طور پر محاذہ پر آئے تھے۔

 

ان واقعات کو ثبت کرنے میں کون سی مشکلات وجود میں آئیں؟

انٹرویو کے کام میں ایک مشکل جس کا مجھے سامنا تھا، یہ تھی کہ آپریشن کی انٹیلی جنس افواج اپنی خاص خصلت کی وجہ سے،  جو اُن کے اندر ہوتی ہے، مجھے زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتے تھے اور یہ رویہ شاید اُن کے خون میں شامل تھا۔ میں نے انٹرویو کے وقفے کے دوران بارہا اُنہیں یہ تذکر دیا کہ اب جنگ ختم ہوچکی ہے، ہم ۹۰ کی دہائی میں ہے، ان باتوں کو مخفی نہیں رہنا چاہیے۔ اس کام میں بہت زیادہ صبر اور حوصلہ لگا  اور ہم ان واقعات کو ذرّہ ذرّہ کرکے نکال سکے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک افسر کہ جس کا نام کتاب میں آیا ہے لیکن وہ راویوں میں سے نہیں ہے، ہم نے اُس سے بات کرنا چاہی لیکن وہ انٹرویو دینے پر راضی نہیں ہوا اور ہم اُسی ٹیم میں موجود اُن کے ماتحتوں  سے بات کرنے پر مجبور ہوئے۔  انھوں نے تمام واقعات کو میرے سامنے بیان کردیا۔

دوسری طرف سے، اس کتاب کو لکھنے میں اصلی کام انٹرویو ہے۔ میں ہر انٹرویو لینے کیلئے، اُس بارے میں بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتا تھا تاکہ اُس علاقے کی جغرافیائی صورت حال  کو جان سکوں۔ مجھے اپنی اور دشمنی کی موقعیت (لوکیشن) سے واقف ہونا چاہیے تھا۔ جنگ کے ابتدا کی فضا، جنگ کے اختتام اور بعد کی فضا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر انٹرویو لینے والا  ان فضاؤں کو نہ سمجھے تو وہ ایک مکمل اور جامع انٹرویو نہیں لے سکتا۔ میں چونکہ جنگ کے آخری سالوں میں محاذ پر موجود رہا تھا اس وجہ سے مجھے صرف جنگ کے اختتامی ماحول سے آشنائی تھی۔ مجھے جنگ میں شرکت کرنے سے دو سال پہلے کی جنگی شرائط جاننے کیلئے شاید ۱۰ سال کا عرصہ لگا۔ یہ کام میرے لئے سخت تھا اور مجھے اس کیلئے مطالعہ کی ضرورت تھی۔  میں نے بمو کے بارے میں بہت پرانی کتابوں کو پڑھا تو پھر میں انٹرویو کی فضا کے بارے میں کامل شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ زبانی تاریخ میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ مطالعہ کے ساتھ انٹرویو کی طرف جایا جائے۔

 

آپ کس طرح ان نقشوں سے دسترسی حاصل کر پائے  اور نقشہ پڑھنے کا کام کس طرح انجام پایا؟

میں نے ۹۰ کی دہائی میں جو خطوط لکھے تھے  اس کی وجہ سے میں فوج کے جغرائیائی ادارے سے نقشے حاصل کرسکا تھا۔ جیسا کہ یہ فوجی نقشے تھے اور یہ مخاطب کیلئے گونگے اور مبہم ہوسکتے تھے، ہم نے اُس کے بہت سے خصوصی  مسائل کو حذف کیا اور نقشوں کو سادہ اور معمولی بنا دیا۔

دوسری طرف سے،  راویوں کی موجودگی میں ہم نے نقشہ کی تحقیق کی اور انھوں نے جو دشمن کے اندر تک گئے ہوئے تھے نقشوں پر راستوں کو تقسیم کیا اور اُس کے بعد انہیں منظم کردیا۔ آخر میں متن کے درمیان نقشوں کی تدوین اور جگہوں کا کام انجام پایا۔ میں نے ان نقشوں کو کتاب کی بحث کے مطابق ہر فصل میں رکھا ہے۔  پڑھنے والا ہر ۶۰ یا ۷۰ صفحے پر ایک نقشے کو ملاحظہ کریگا جو اس کی کتاب میں بیان ہونے والی خاص جغرافیائی  اور فوجی موقعیت کو سمجھنے میں مدد کرسکتا ہے۔ ہماری افواج اور دشمن کی افواج کی جغرافیائی موقعیت نقشوں  پر بالکل واضح طور پر مشخص ہے۔

 

اٹھارہ سال بعد بمو نامی کتاب، مطالب میں کس قسم کی تبدیلی کے ساتھ شائع ہوئی؟

ہم نے اس عرصے میں واقعات کی نسبت اور زیادہ واقفیت حاصل کرلی۔ اس کے باوجود کہ میں نے اُس زمانے میں اس کتاب پر زیادہ وقت لگایا تھا لیکن نقشوں میں رنگ بھرنے کا کام دقت سے انجام نہیں پایا تھا کہ دوسرے ایڈیشن میں یہ مسئلہ برطرف ہوگیا۔ اسی طرح، کتاب کے آخر میں ہم نے کچھ فوجی اسنادوں کا اضافہ کیا ہے۔ چونکہ اُس زمانے میں آپریشن کی معلومات کی اسناد محرمانہ اور زیادہ ہی محرمانہ تھیں۔ آپریشن کی انٹیلی جنس فورسز کو بہت کم یاد تھا اور ہم ان چیزوں کو مختلف طریقوں سے حاصل کرسکے ہیں۔ جو مخفی فائلیں  موجود تھیں اُنہیں کشف کیا، اُن کی تحقیق کی اور مکتوب اسناد کوحاصل کیا۔

 

دوسرے ایڈیشن کیلئے انٹرویوز کو کامل نہیں کیا گیا؟

انٹرویوز کو مکمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔پہلے ایڈیشن کے مطالب کا حجم بہت تھا۔ حتی کتاب میں حروف کا انداز بدلنے سے صفحات کم پڑ گئے۔ مکتوب اسناد کا اضافہ ہوا۔ راویوں کی "آخری بات" جو اُن  کی لکھائی اور دستخط کے ساتھ کتاب کے آخر میں اضافہ ہوئی۔ دوسرے ایڈیشن میں زیادہ تر تبدیلیاں، مکتوب اسناد اور کتاب کے نقشوں میں رنگ بھرنے سے مربوط ہیں۔ وہ دستاویزات جو اُس زمانہ میں محرمانہ اور رازدارانہ تھیں وہ اس کتاب میں لائی گئیں جو بہت اہم ہیں۔ اُس زمانے میں جن کاغذات پر رپورٹ تیار کی گئی تھی ، اُنہیں ڈھونڈنے میں بہت ہمت صرف ہوئی کہ انھوں نے کتاب کو اسناد اور دستاویزات کے حوالے سے بہت غنی اور اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ، ڈاکومنٹری کے سانچے میں، ہم نے راویوں سے "آخری بات" لکھوائی جو ایک حصے پر مشتمل ہے۔ یہ حصہ دراصل کتاب میں موجود راویوں کے واقعات پر خود اُن کی تائید ہے۔ یہ کام اس وجہ سے انجام دیا گیا تاکہ ہرطرح کا شک برطرف ہوجائے؛ اور  اس بات کی تائید ہوسکے کہ انٹرویو کو صفحات پر لانے کے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور یہ وہی پرانی باتیں ہیں۔

 

"بمو آپریشن" ایک انجام نہ پانے والے آپریشن کے عنوان سے ذکر ہوا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کو بیان کرنے کا مناسب وقت کون سا ہے؟

یہ اصل میں جنگ کا نہ دکھائی دینے والا ایک ٹکڑا ہے اور جنگ کی تصویر کو کامل کرنے کیلئے ہمارے پاس ان تمام ٹکڑوں  کا موجود ہونا ضروری ہے۔ شلمچہ، خرم شہر وغیرہ کو سب جانتے ہیں لیکن "بمو" کو کوئی نہیں جانتا؛ دو ہزار میٹر لمبا پہاڑ جس میں بہت سے ان کہی داستانیں ہیں۔ اس کے علاوہ خود یہ پہاڑ اور اُس کی جغرافیائی صورت حال بہت دلچسپ ہے، اور آپریشن انٹیلی جنس فورسز نے اس پہاڑ کے ارد گرد جو زحمات اٹھائیں ہیں وہ بہت حیرت انگیز ہیں۔ یہ پہاڑ دشمن کا محکم قلعہ تھا اور اگر ہم اس پہاڑ کو لینے میں کامیاب ہوجاتے تو ہم دشت ذھاب کو حاصل کرلیتے اور بغداد کی طرف ایک اچھا راستہ کھل جاتا۔ لیکن کچھ دلائل کی وجہ سے جو ابھی تک مخفی ہیں یہ آپریشن انجام نہیں پاسکا۔ اب بھی کمانڈروں سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیوں یہ آپریشن انجام نہیں پایا، جس پر اتنی زحمت ہوئی اور حتی کئی دن و رات تک جنگی اسلحہ دربندی خان کے ڈیم تک منتقل ہوا۔ آپریشن اپنے عروج پر ملتوی ہوگیا اور ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ انجام نہ پانے والے آپریشنوں میں داستانیں اور معمے موجود ہیں اور یہ تاریخ کا ایک حصہ ہے کہ جسے بیان ہونا چاہیے۔

 

آپ کے خیال میں کیا ایک دن یہ معمہ حل ہوجائے گا؟

"بمو۲" کے عنوان سے کوئی دوسرا پروجیکٹ متعارف کرایا جاسکتا ہےاور کمانڈروں کی زبانی بمو آپریشن اور دربندی خان ڈیم انجام نہ پانے کے دلائل بیان ہوں۔ "بمو" نامی کتاب میں انٹیلی جنس فورسز کی کلاس تک بیان ہوا ہے اور "بمو۲" میں جنگ اور ہیڈ کوارٹر کے کمانڈروں  کے ساتھ بھی بات ہوسکتی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 544


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

دعا کیجئے کہ یہ ہوائی جہاز صحیح و سالم اتر جائے
میری آواز بیٹھ گئی تھی ، جتنا بھی گرم پانی پئوں سود مند نہ تھا۔میرا ہمیشہ کا دستور یہی تھا کہ ہر احتجاج میں اس طرح نعرے لگایا کرتی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور احتجاج میں شریک ہی نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔