ایک ایسا انٹرویو جو دس سال بعد منظر عام پر آیا

جنگی اشعار سے متعلق ہونے والے اجلاس میں "بہروز اثباتی"کے واقعات

مریم اسدی جعفری

مترجم: سید نعیم عباس شاہ

2019-02-24


 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہ ۲۰۰۸ کے موسم سرما کے آخری دنوں کی بات ہے جب مجھے  فیسٹیول سیکریٹریٹ بلڈنگ میں "در میدان ہفت تیر تہران" نامی کتاب کی سلور جوبلی فیسٹیول میں شرکت کا موقع ملا اور وہیں پر میری سردار بہروز اثباتی سے بھی گفتگو ہوئی۔ شروع میں تو سلور جوبلی پر کچھ بات چیت ہوئی پھر اس کے بعد ڈیڑھ گھٹنے سے زیادہ انہوں نے جنگی اشعار کے اجلاس کی تشکیل پر تبصرہ کیا۔ اس انٹرویو کو مجھے نشر کرنے کا بالکل موقع نہیں ملا اور   پھر یہ میرے دیگر نہ چھپنے والے انٹرویوز کی لسٹ میں لگ گیا۔ سن ۲۰۱۳ء سے اس سالانہ دفاع مقدس شاعری اجلاس کا ختم ہوجانا اور متعلقہ مسئولین کی طرف سے کسی بھی قسم کے ردّعمل کا سامنے نہ آنا بذات خود ایک سوالیہ نشان تھا۔ میں نے بھی یہی سوچ کر اس انٹرویو  کو محفوظ رکھا ہوا تھا کہ یہ سیمینار دوبارہ منعقد ہو لیکن ایسی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی تھی۔ سو ، میں نے بھی سوچا کہ اس انٹرویو کو چھاپ کر منظر عام پر لایا جائے اور ادارہ برائے حفظ آثار و نشر اقدار دفاع مقدس کے مسئولین کو اس اجلاس کی معنوی اور تاریخی حیثیت یاد دلائی جائے تاکہ شاید اس کے انعقاد کے لئے مسئولین دوبارہ سے حرکت میں آجائیں۔ لیکن گویا ان کو اس امر کی اطلاع  مل گئی اور اس انٹرویو کے چھپنے سے قبل اجلاس کے دوبارہ انعقاد کی خبریں میرے کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ یہ بات جرأت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ دفاع مقدس کے حوالے سے شاعری اجلاس کی تاریخ پر ایسا انٹرویو آج تک نہیں لیا گیا تھا۔ میں سب سے پہلے تو شکریہ ادا کروں گی سیکنڈ بریگیڈیر سردار بہروز اثباتی صاحب کا کہ جنہوں نے اس انٹرویو کے لیے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا۔ بریگیڈیر صاحب خود سے  اس جنگی شاعری اجلاس کے سربراہ بھی ہیں۔ اس انٹرویو کو ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس انٹرویو نے سن ۲۰۰۸ کے شروع سے لیکر آخر  تک اس اجلاس کی تصویر کشی کی ہے۔

 

جی سر، پہلے تو آپ اپنا تعارف کروائیے۔ آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

میرا نام بہروز اثباتی ہے۔ میں سن ۱۹۵۸ میں تہران میں پیدا ہوا۔

 

اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیں؟

میں نے تہران یونیورسٹی سے فارسی ادب میں بے اے کیا اور یہی ادب میرے ادبیات سے لگاؤ کا باعث بنا۔ البتہ میرے ماسٹر کرنے کا دورانیہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا تھا۔ سن ۱۹۷۶ میں شروع کیا  اور سن ۱۹۸۵ ء میں جاکر ختم ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا ایم اے کا زمانہ، انقلاب اسلامی کے آغاز کا زمانہ تھا۔ بی اے میں کوئی سات سمسٹرز کئے  ہوں گے پھر اس کے بعد میں جنگی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ میں کلاس میں بہت اچھا تھا۔ ہفتے بھر میں میری چوبیس گھنٹے کی کلاسز ہوا کرتی تھی یعنی چار گھنٹے روازنہ۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے ڈگری ایک سمسٹر پہلے حاصل کرلی۔ اورماسٹر میں  نے امام حسین علیہ السلام یونیورسٹی سے کلچرل پبلسٹی میں کیا۔ بعد میں لفظ "پبلسٹی" ہٹا دیا گیا اور آج بھی کلچرل مینجمنٹ کے عنوان سے یہ مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن امام حسین (ع) یونیورسٹی نے چونکہ اس وقت یہ ایم اے ایران میں کروایا تھا اسی لیے ہماری ماسٹر کی ڈگری بھی "کلچرل پبلسٹی" کے عنوان کے  ساتھ تھی۔ سن ۱۹۹۲ میں،  میں ماسٹر کرکے فارغ ہوا اور پھر "ملک میں درپیش مشکلات اور امن عامہ کے مسائل" میں ڈاکٹریٹ کیا جس میں "اسٹرٹیجک مدیریت" بھی ساتھ ہے۔

 

اب جنگ کے زمانے کی بات کرتے ہیں۔ جب جنگ شروع ہوئی آپ کس عہدے پر فائز تھے؟

ٹھیک، کافی ذمہ داریاں تھیں جو اُس وقت مجھے سنبھالنا پڑیں۔ اوائل میں جو نمایاں ذمہ داری تھی وہ کردستان کے مختلف علاقوں کی ایریا پبلسٹی کے حوالے سے تھی جیسے سنندج کا علا قہ ہے۔ میں تقریباً چار سال محاذ اور دسویں جنگی علاقوں – صوبہ تہران کی بریگیڈز اور فورسز جیسے ۲۷ واں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن، دسواں سید الشہدا (ع) ڈویژن اور ۲۱ واں آرمر ڈویژن – پر تبلیغاتی امور کا مسئول رہا اور پھر اس کے بعد سن ۱۹۸۶ء  سے سپاہ پبلشر کا انچارج رہا اور شہید احمد زارعی کے بعد، جنگ ختم ہونے کے ڈیڑھ سال بعد تک سپاہ پبلشر کا براہ راست انچارچ رہا ہوں۔

 

آپ کس سال مرحوم احمد زارعی کے ساتھی بنے؟

میں انقلاب سے پہلے بھی احمد کو جانتا تھا اور ہمیں کردستان میں کئی بار ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ پھر میں کچھ سالوں کے لئے محاذ جنگ اور جنگی امور کے پبلسٹی آفس کا انچارج بنا تو وہیں سے، چونکہ کام اور ڈیوٹی علیحدہ ہوئی تو ہم بھی کام کی وجہ سے الگ ہوگئے۔ تقریباً سن ۱۹۸۴، ۱۹۸۵  میں، میں تہران آیا اور چھ مہینے کے لیے سپاہ میں جناب احمد کا نائب بن گیا اور پھر جنگ کے خاتمے تک اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوگئی۔

 

کیا مرحوم زارعی سے آپ کی واقفیت سنندج میں ہوئی تھی؟

جی ہاں،  کردستان میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ احمد زارعی ادبیات سمیت مختلف زمینوں میں مہارت کے حامل تھے۔ وہیں پر اُن کو شعر و شاعری کے میدان میں قدرے بہتر کام کرنے کا موقع ملا جس کا نتیجہ تب سامنے آیا جب وہ کردستان سے مشہد واپس گئے اور فردوسی یونیورسٹی میں ایک دو مشاعروں میں شرکت کی۔ یہ مشاعرے ایک بار مشہد اور ایک بار شیراز میں منعقد ہوئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے مشہد میں سن ۱۹۸۳ء یا ۱۹۸۴ء میں یہ مشاعرہ ہوا جس کے اہتمام کی ذمہ داری وہیں کے طالب علموں  کے اوپر تھی۔ خود احمد زارعی، مجید زھتاب اور عباس علی مہدی فردوسی یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ خاص طور سے یہ تین لوگ تھے اور احمد صفائی بھی وہیں پر تھے۔ یہ افراد پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے اپنے سابقہ عہدوں پر فائز ہوگئے۔ مجید زھتاب اور عباس علی مہدی اصفہان چلے گئے۔ زھتاب صاحب  زرھی یونٹ میں تھے۔ احمد زارعی نے بھی سپاہ کی مطبوعات کا کام سنبھال لیا۔ بہرحال اس ٹیم کے افراد بکھر گئے لیکن یہ افراد قلبی طور پر اور شعر و اشعار کے حوالے سے ایک دوسرے سے رابطے میں  تھے اور احمد زارعی اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

 

پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہیں سے شاعری اجلاس کا آغاز ہوا؟

اُسی ۱۹۸۵ یا ۸۶ کی بات ہے کہ میں شہید احمد زارعی کے ساتھ سپاہ پبلشر میں تھا اور تب سے ہم اس اجلاس کے انعقاد کے لئے کوشاں تھے۔ شہید احمد ہمیشہ اسی فکر میں رہتے تھے کہ کسی طرح فکری و ادبی تحول ایجاد کیا جائے یہاں تک کہ حالات کچھ ایسے بن گئے کہ ان کو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا پڑا۔ وہ فردوسی یونیورسٹی چلے گئے اور میں تہران یونیورسٹی اور یوں ہم جدا ہوگئے۔ فردوسی یونیورسٹی کے  اسٹوڈنٹس شعری لگاؤ کی وجہ سے مل بیٹھتے تھے یہی امر اس بات کا سبب بنا کہ یہ طالب علم "جنگی شاعری اجلاس" کے عنوان کے تحت مشاعرے کے انعقاد پر مصر ہوگئے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی تھا کہ جنگی تبلیغاتی ادارہ، جو جنگی محاذوں پر ادبی اور تخلیقاتی سرگرمیوں میں مشغول رہتا تھا، نے بھی اس اجلاس کی حمایت کی تھی اور یہ حمایت معمولی نہیں تھی بلکہ محاذوں پر ایک بنیادی اساس کے عنوان سے  اس اجلاس کو ملی۔ اب اس موضوع کو بہت سنجیدہ طور پر اہمیت دی جا رہی تھی کہ شعر میں مخفی طاقت کو منطقی شکل دیتے ہوئے، احساسات و جذبات منتقل کرنے کے ہدف کے لئے جنگی محاذوں میں اسے پیش کیا جائے۔  شاعری اجلاس کا انعقاد ایک تجربہ تھا جس کا ربط پہلے والے ان دو اجلاسوں کے ساتھ تھا جو اسٹوڈنٹس شاعری اجلاس کے عنوان سے منعقد ہوچکے تھے۔ یعنی وہاں اس ضرورت کا احساس کیا گیا تھا کہ ایک سیکریٹری کے ساتھ ساتھ اس کام کے لئے ایک باقاعدہ ادارہ ہونا چاہیے اور پھر بعد میں دوسرے بہت سے شاعر حضرات جیسے پرویز بیگی  حبیب آبادی، علی رضا قزون اور حسین اسرافیلی بھی اس سیٹ اپ سےآملے۔

 

کیا اس اجلاس  کا پہلی مرتبہ انعقاد سن ۱۹۸۶ میں ہوا؟

ٹھیک سے یاد نہیں  آرہا، غالباً سن ۱۹۸۵ میں منعقد ہوا تھا۔ احمد زارعی نے اس اجلاس  کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ان دنوں میں احمد کے حاضر ہونے کے ذریعے – البتہ اصغر نصرتی بھی تھے، ہم کردستان سے ایک ساتھ تھے – آرٹ گیلری والوں کے ساتھ پہلا نیٹ ورک تشکیل دیا گیا، جس میں مربوط شعبہ سے متعلق افراد، جیسے جواد محقق، سید حسن حسینی اور قیصر امین پور شامل تھے۔ میں اور قیصر تہران یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھے۔ اور یوں ہی  رفتہ رفتہ سپاہ پبلشر اور آرٹ گیلری کے ساتھ ہماہنگی اور موافقت ہوگئی اور پھریوں ایک سلسلہ چل پڑا۔

 

آپ کو سب سے پہلے شاعری اجلاس میں حاضر ہونے والے اور حمایت کرنے والے افراد یاد ہیں؟

مرحوم استاد سبزواری، مرحوم استاد شاہرخی، مرحوم صفا لاہوتی اور دیگر احباب سمیت، فردوسی یونیورسٹی مشہد کے اساتذہ نے پہلے شاعری اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اگر غلطی نہ کروں تو ڈاکٹر ذاکر صالِحی بھی، جو اُس وقت "کربلا بیس" کے تبلیغاتی ادارے میں کسی عہدے پر فائز تھے، تشریف لائے تھے۔ مجید زھتاب اور دیگر دوست بھی جو یونٹوں میں تھے شریک تھے اور ادھر سے سپاہ پبلشر خود کو انچارج سمجھتی تھی کیونکہ بجٹ، افرادی قوت، باقاعدہ ادارے اور عمارت سمیت تمام سہولیات ان کے پاس تھیں جب ہی جاکر پہلا شاعری اجلاس سامنے آیا۔ میں بھی احمد کے جانشین کے طور پر نیا  نیا ہی سپاہ پبلشر میں گیا تھا، سو، میری شمولیت انہی ایام میں ہوئی۔ رفتہ رفتہ ابتدائی  مرکز بنایا گیا اور پہلا پروگرام شہید چمران یونیورسٹی اہواز میں رکھا گیا جو ایک بہترین اجلاس کے طور پر سامنے آیا۔ اور اس کو "شعر بسیج اجلاس" کا عنوان دیا گیا اور ۲۶ نومبر کو اس کا انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کے حوالے سے پروگرام کے آغاز سے ہی میرا اصرار تھا کہ شعر ہو توصرف جنگ کے  حوالے سے ہوں لیکن احمد اور دیگر احباب کی رائے یہ نہیں تھی۔

 

پس پہلا شاعری اجلاس سپاہ اور فردوسی یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد ہوا؟

سیمینار کی ذمہ داری اور مینجمنٹ کے فرائض، سپاہ پبلشر کے سپرد تھے اور اس کی پشت پناہی میں کربلا بیس – یعنی محاذ کے افراد - ، آرٹ گیلری اور مشہد کی فردوسی یونیورسٹی تھی۔ لیکن تمام انتظامات سپاہ پبلشر کے حوالے تھا۔

 

اچھا یہ بتائیے اس پہلے اجلاس  کی فضا کیسی رہی؟

پہلے اور دوسرے اجلاس، میری یاد داشت کے مطابق بسیجی ترین (بہت ہی منظم) اجلاس تھے۔ البتہ یہ جو کہہ رہا ہوں بسیجی ترین اجلاس تھے اس کی کچھ وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ اس "جنگی اشعار" نامی اجلاس کا ڈھانچہ اور انداز بالکل بسیجی تھا۔ آج والی سہولیات بالکل نہیں تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ذاکر صالِحی صاحب نے تمام دوستوں کے اصرار پر انٹرویو دیا۔ یہ جنگی میدان کے حوالے سے پہلا انٹرویو تھا جو  شعر و شاعری کے سلسلے میں لیا گیا تھا۔ میں نے احمد سے کہا"بھئی سارے کام تو آپ خود انجام دے رہے ہیں" تو اس نے جواب میں کہا: "کوئی بات نہیں، علاقے کے ایک جوان کو سامنے آنے دو" یعنی میں احمد کے سوچنے کا انداز بیان کرنا چاہ رہا ہوں۔ دوسری وجہ خود شعراء حضرات کا حاضر ہونا تھا۔ یعنی اُس وقت کی سوچ اور آج کی سوچ میں بہت فرق تھا۔ اُس وقت ہمارے شعراء حضرات بھی سب سپاہیوں سے بڑھ کر بسیجی انداز میں شرکت کرتے تھے نہ انہیں شہرت و نام سے لگاؤ ہوتا تھا اور نہ قیام و طعام کی فکر ہوتی تھی۔ ۹۹ فیصد شعراء کا لباس بھی بسیجی ہوتا تھا اور یہ جو ایک فیصد بچتا ہے یہ بھی ایک بڑی شخصیت تھے اور چونکہ فوت بھی ہوگئے تو نام ذکر نہیں کروں گا، ان کے سوا سب کا لباس بھی بسیجی تھا۔ بالکل ایسے جیسے آپریشن میں شرکت کرنے والی بٹالینز یعنی بالکل وہی شوق و ولولہ، پرچم اور ماتھے پر پٹی اور ماحول سازی اور ڈیکوریشن، مطلب سب کا سب بسیجی تھا۔

 

اس وقت کا تقاضا بھی تو یہی تھا کہ ان خصوصیات کو اپنایا جائے۔

جی ہاں۔ فضا ایسی حاکم تھی کہ حتی لباس بھی بسیجیوں والا تھا۔ اگرچہ ہم نے لباس بھی تیار کئے تھے اور معزز مہمانوں سے زیب تن کرنے کی خواہش بھی کرتے تھے لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ اگر کوئی نہ پہننا چاہے تو اسے اپنے اند رکسی کمی کا احساس ہو۔

 

شعراء کے استقبال کے بارے میں بتائیں؟

ہم نے ہمیشہ سے ضرورت اور دعوت سے زیادہ وسائل کے انتظام کی کوشش  کی ہے۔ جگہ کی کمی کا مسئلہ بھی ہمیشہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے آغاز سے ہی چند مخصوص اصناف کے افراد کو مدعو کیا ہے جیسے شاعر حضرات، یونیورسٹیوں کے اساتید، میڈیا اور  پھر ماسٹرز اور ادبیات کے ڈاکٹریٹ کے طالب علموں کو ترجیح دی ہے لیکن پھر بعد میں اس میں وسعت آگئی اور شعر و شاعری سے شغف رکھنے و الے جوان طبقے کو دعوت دی گئی۔

 

ادبیات کے اساتذہ میں سے کن حضرات نے شرکت کی؟

جی اس سلسلے میں جن شخصیات کو ہم نے مدعو کیا تھا ان میں ڈاکٹر بحر العلوم، ڈاکٹر لسان، ڈاکٹر درخشان اور ڈاکٹر سادات ناصری شامل ہیں۔ یہ تمام کے تمام  افراد یونیورسٹی کے اساتذہ تھے اور انہیں مہمان اور استاد کے عنوان سے دعوت دی گئی تھی۔

 

کیا مرحوم مہر داد اوستا بھی سیمینار  میں تشریف لاتے تھے؟

جی ہاں، اوستا صاحب بہت اچھے شاعر تھے۔ پروردگار انہیں جنت مقام کرے۔ وہ اپنی تمام تر سابقہ ادبی صلاحیتوں کے ساتھ جنگ کے بارے میں اشعار کہتے تھے اور اس پر فخر بھی کرتے تھے اور اُس وقت بھی وہ اپنے دیگر ہم صنف افراد سے بڑے اور عمر رسیدہ تھے۔

 

یہ سوال اس لئے پوچھا ہے کیونکہ ہم نے مرحوم شعراء میں سے قیصر امین پور اور سید حسن حسینی کا نام زیادہ سنا ہے جو جنگی اشعار  کہنے میں فعال رہے ہیں۔

بہت سےشعراء  اجلاس  کو اشعار دیتے تھے۔ البتہ آپ نے جو ان دو افراد کا  نام لیا یہ دو افراد جنگی اشعار کو کمال تک پہنچانے میں نمایاں رہے ہیں۔ اور سب اس بات کو مانتے ہیں ۔ لیکن ان کے علاوہ بھی اچھے شاعر موجود ہیں جو جنگی اشعار کے زمینے میں فعال تھے۔

 

کیا شروع سے علمی اور ایگزیکیٹو سیکریٹری تھے؟

اس وقت ہمارے پاس علمی یا غیر علمی سیکریٹری کے عہدے نہیں تھے۔  سب کام فرد واحد کے سپرد تھے۔ اب، خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی، مینجمنٹ میں جدّت آگئی ہے۔ اب آج ہمارے پاس ایگزیکیٹو سیکریٹری اور علمی سیکریٹری موجود ہیں۔ اُس وقت ایک ہی سیکریٹری ہوا کرتا تھا۔ خود میں نے عملی طور پر آٹھ مرتبہ سیکریٹری کے فرائض انجام دیئے ہیں۔ لیکن اب ہماری اُس وقت کی ذمہ داریوں میں سے بہت سےکام آپ کی گنتی میں نہیں ہیں؟

 

کیوں؟

مثال کے طور پر  ہم نے خرم شہر کے لیے ایک اجلاس   رکھا تھا جس کے تمام تر انتظامات شعر و اشعار دفاع مقدس نامی اجلاس ٹیم کے سپر د تھے۔ اور اُس سال ہم نے اجلاس کا انعقاد کیا تھا ایک جنگی اشعار کے موضوع پر اور دوسرا خرم شہر کے موضوع پر۔ اسی طرح "شعر و اشعار برائے مسلح افواج" کے حوالے سے بھی ایک دوبار اجلاس رکھے۔ ان اجلاسوں کو شعر و اشعار دفاع مقدس کے حوالے سے منعقد شدہ اجلاس میں شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن مجھے آٹھ یا نو بار سیکریٹری کے فرائض انجام دینا پڑے۔ اب ٹھیک سے یاد نہیں یعنی اپنے لیے ریکارڈ میں رکھنا میرے لیے مہم نہیں تھا۔

 

شعراء حضرات سے متعلق تو ہم آخر میں گفتگو کریں گے لیکن کیا شعراء کے علاوہ سپاہی بھی شریک ہوتے تھے؟

جی ہاں، فوجی یونٹوں سے باقاعدہ طور پر سپاہیوں کی شرکت ہوتی تھی۔ مجھے یہ بات ہمیشہ یاد رہے گی کہ سپاہی پرچم اور ماتھے پر پٹی باندھ کر شرکت کرتے اور بٹالینز اور رضا کار فورس کے سپاہی خود ہی آتے تھے۔ بیس کے کمانڈر سے صرف ہم آہنگی ہوتی تھی لیکن ان کی شرکت لازمی نہیں تھی ۔مثلاً ریکروٹس میں یہ اعلان  کیا جاتا تھا کہ ایک شعر و شاعری اجلاس  منعقد ہونے والا ہے۔ اس کا موضوع یہ ہے، کچھ شاعر آئیں گے اور دفاع مقدس کے حوالے سے مشاعرہ ہوگا۔ آپ نے وہ فلم دیکھی ہوگی جس میں پک اپ اور ٹیوٹا گاڑیوں میں رضا کار سپاہی اس قدر بھر جاتے ہیں کہ کیا بتاؤں، اور سب [شہید چمران اہواز] یونیورسٹی کے گیٹ تک نوحہ پڑھتے ہوئے آتے تھے۔ گیٹ پر پہنچ کر گاڑیوں سے اتر جاتے، پرچم ہاتھ میں اٹھا کر رجز خوانی کرتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسی انداز میں ہال میں جاکر بیٹھ جاتے تھے۔  اور ان سپاہیوں کی، شعراء حضرات سے جو دلچسپی اور لگاؤ تھا بہت عجیب اور قابل ذکر ہے۔ مثلاً مجھے آج بھی یاد ہے کہ اسی شہید چمران یونیورسٹی میں دوسرا اجلاس  تھا۔ شاعر محمد علی  مردانی  کے اعزاز میں جو تقریب منعقد کی گئی بہت دلچسپ تھی۔ خود محمد مردانی اس وقت سفید ریش تھے۔ اور اُن کا پیشہ کنسٹرکشن کا کام تھا۔ اُن کی تعلیم بھی کوئی زیادہ نہیں تھی اور یہ مذہبی شعر و اشعار کی انجمنیں تھیں جن کی برکت سے وہ سامنے آئے تھے۔ ان کے شعر جدید تھے اور کچھ غزلیں تو حقیقت میں بہت یادگار تھیں۔ ان کے جنگی اشعار بھی لاجواب تھے۔ خیر اس اجلاس میں انہوں نے ایک نظم پڑھی۔ اس وقت مشاعرے کے ایگزیکیٹو احمد زارعی ہی تھے اور سیکریٹری کے فرائض میرے ذمے تھے۔ انھوں نے ایک نظم پڑھی اور جاکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ رضاکار سپاہیوں کی طرف سے پرچیاں وصول ہوئیں جن پر لکھا ہوا تھا کہ محمد علی مردانی کواشعار پڑھنے  کے لئے دوبارہ دعوت دی جائے۔ احمد زارعی نے مجھے پرچی ارسال کی کہ ہاں بہروز بتاؤ کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا  قانون کا لحاظ رکھیں۔ ہر شاعر ایک بار کلام پڑھتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد دوبارہ پرچیاں موصول ہوئیں۔ کاش میں ان پرچیوں کو بھی ریکارڈ میں سنبھال کر  رکھ دیتا۔ احمد نے دوبارہ مجھے پیغام دیا کہ: "بہروز اگر میں محمد علی مردانی کو دوبارہ مدعو نہ کروں تو یہ رضا کار سپاہی ہنگامہ کھڑا کردیں گے۔ مجھے اسے بلانے دو یار!" میں نے بھی احمد سے کہا چلو ٹھیک ہے۔ اعلان کردو لیکن میں نے پرچی  کے نیچے لکھ دیا تھا کہ "تاکید سے کہہ دو صرف ایک ہی غزل پڑھے" خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ جب وہ اشعار پڑھتے تھے تو تین چار مثنویاں بھی پڑھ دیتے تھے! خیر احمد نے ان کو دعوت دے دی۔ وہ آئے، اشعار پڑھے اور جاکر بیٹھ گئے۔ گھنٹہ بھر کے بعد دوبارہ ایک پرچی ملی جس پر لکھا تھا کہ ایک بار پھر مردانی صاحب کو مدعو کیجئے۔ مجھے اس پر بات نہیں کرنی کے جناب مردانی بہت اچھے شاعر تھے یا نہیں تھے۔ بلکہ میں یہ کہنا  چاہ رہا ہوں کہ سپاہیوں کا اُنس و شغف اور ولولہ جو شعراء کی نسبت تھا، وہ قابل تعریف تھا کہ مجھ جیسا آدمی جو مینجمنٹ میں خشک مزاج ہو پھر بھی ان سپاہیوں کے جذبات کے آگے تین بار مردانی صاحب کو مدعو کرنے پر مجبور ہوجائے۔

 

کیا اس طرح کی اور بھی مثالیں ہیں؟

جنگ کے بعد خرم شہر میں ایک اجلاس  تھا۔ خرم شہر میں اس طرح کے اجلاس کا انعقاد کرنا اچھا خاصا مشکل کام تھا۔ کیونکہ کوئی ایک بھی ایسی عمارت صحیح و سالم نہیں تھی جس میں ۲۰۰ افراد کو مدعو کیا جاسکتا۔ پھر ہم نے مختلف گھروں اور سپاہ کے ہیڈ کوارٹرز  کا دورہ کیا وہاں سے بٹالینز کو خارج کیا۔ پانی کی کمی کا مسئلہ بھی تھا خدا جانتا ہے کہ سپاہیوں کے لیے وضو کا پانی بھی میسر نہیں تھا۔ اور زیادہ پریشانی مہمان خواتین کے لئے تھی۔ شہر کے باہر سے پانی لانا پڑا۔ تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور جاکر پانی کے ٹینکر لائے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ تیمور ترنج جو خرم شہر کا باشندہ تھا اور شاعر تھا ، اُسے بھی مشاعرے میں شرکت کیلئے بلایا گیا تھا۔ اس نے ایک آزاد نظم لکھی تھی لیکن وہ اشعار نہیں پڑھ سکا۔ کیونکہ اس نے اپنے تباہ شدہ گھر کی جو حالت دیکھی تھی اس وجہ سے دو تین اشعار کے بعد اس سے ضبط نہ ہوسکا اور وہ رو پڑا۔ اور اختتام تک اداس رہا۔ بسیجی سپاہیوں نے جناب ترنج کو دلاسہ دیا اور ہمدردی کا اظہار کیا اور مسلسل پرچیاں ارسال کیں کہ اشعار پڑھنے کیلئے جناب ترنج کیوں نہیں آرہے ہیں؟ اور ان کا بہت اصرار تھا کہ ترنج صاحب اپنے اشعار پڑھے۔ تو میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رضا کار سپاہیوں کا رویہ ایسا تھا، اُن میں اس قدر جوش و ولولہ پایا جاتا تھا۔

 

گویا شرکت کرنے والے افراد کا جوش و ولولہ اور عقیدت، آپ کے اجلاس سیٹ اَپ میں مزید حمایت کا باعث تھی؟

جی ہاں، بہت سراہا گیا اسے۔ درست ہے کہ ایرانیوں کی مٹی میں شاعری شامل ہے لیکن جب سننے کی بات آجاتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہر آدمی شعر کا مخاطب نہیں ہوسکتا۔ اُس زمانے میں بھی یوں نہیں تھا کہ ہم چھوٹے پیمانے پر پروگرام کا انعقاد کریں۔ نہیں بلکہ اشعار پڑھنے کے لیے چھ گھنٹے کا وقت رکھا جاتا تھا۔

 

اجلاس کا دورانیہ کتنے دن کا ہوتا تھا؟

عام طور پر دو دن کا پروگرام ہوتا تھا لیکن  چونکہ فلائٹ سسٹم اس وقت رائج نہیں تھا تو تمام مہمان بسوں پر آتے تھے جس کی وجہ سے وقت زیادہ لگ جاتا تھا۔ یہ  تو ابھی ابھی ہم ذرا ماڈرن ہوگئے (ہنستے ہوئے) اور ٹرین پر جانے لگے۔ پیسے ہوتے نہیں تھے ہمارے پاس! پھر بھی مثلاً بس میں رات کا کھانا دیتے تھے۔ ایک بار ہم نے اجلاس  کے لئے ٹرین کا انتظام کیا۔ میرے خیال میں آبادان میں ہونے والا اجلاس تھا۔ ٹکٹ کے ساتھ کھانا دینا نیا نیا شروع ہوا تھا۔ میرا اصرار اسی بات پر تھا کہ یہ والا کام نہ کیا جائے مہنگا پڑے گا۔ سو میں نے پوچھا کہ آپ کے پاس سب سے  سستا کھانا کونسا ہے؟ اس نے کہا شنیسل مرغ۔ آپ یقین کریں ہم میں سے کسی کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ صرف قیمت کو دیکھ کر ہم نے اس کا انتخاب کیا اور کہا: ٹھیک ہے ہمارے مہمانوں کے لئے شنیسل مرغ لے آئیے۔ احباب نے پوچھا کہ کھانے میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں معلوم، بس ایک ایسی چیز ہے جس میں مرغ شامل ہے۔ باقی نام  کا نہیں پتہ۔ وہیں پر مہمانوں میں سے ایک بندہ خدا شطرنج کا ماہر تھا اس نے انسپکٹر سے پوچھ لیا تھا کہ کیا ٹرین میں کوئی شطرنج باز ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ ٹرین کا انچارج شطرنج کھیل سکتا ہے۔ اس نے بھی اپنی شطرنج بغل میں دبائی اور چلا گیا۔ ایک دو گھنٹے کے بعد انچارج صاحب آگئے، آکر پوچھا کہ آپ کا گروپ لیڈر کون ہے؟ آپ کا کھانا ہماری طرف سے ہے۔ اسپیشل چکن شنیسل دیں گے۔ وہ  تو بعد میں پتہ چلا کہ یہ شطرنج والے دو تین گھنٹے  شطرنج کھیل چکے تھے اور ہمارے ساتھی نے بتا دیا تھا کہ ہم اجلاس میں شرکت کیلئے جا رہے ہیں۔ تو  مقصد بات کرنے کا یہ ہے کہ اس طریقے سے شاعری اجلاس کو عام لوگ بہت پسند کرتے تھے اس قدر کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔

 

اسی طرح کے واقعات، جنگی مشاعرے کے انعقاد اور دلچسپی کا باعث بنے، آپ مزید واقعات سنائیے۔

جب ہم نے کرمانشاہ میں اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔ حقیقت میں ہمارے پاس جگہ نہیں تھی۔ جنگی تباہ کاریوں کے نتیجے میں شہر خرابے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کرمانشاہ میں فردوسی چوک کے پاس، سپاہ کی عمارت تھی۔ اسی کےساتھ میں ہی دو عمارتیں  ہم نے لیں۔ باقی دوست گئے وہاں کی صفائی ستھرائی کی۔ ایک مشکل وہاں یہ بھی تھی کہ دونوں عمارتوں میں آنے جانے کا راستہ نہیں تھا۔ دونوں عمارتوں کی چھتوں کو دو سیڑھیاں رکھ کر ملایا گیا تھا۔ اب آپ خود سوچئے کہ استاد اوستا اور استاد سبزواری کو ان سیڑھیوں سے گزر کر جانا تھا۔ آج جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو خود کو ملامت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ بیٹا! حد ہوتی ہے، تم تو بالکل ہی عقل سے پیدل تھے۔ کم از کم ان اساتذہ اور پروفیسر حضرات کو تو وہاں سے گزرنے پر مجبور نہ کرتے لیکن اس وقت حالات ایسے تھے کہ شرم بھی آرہی تھی اور بس صرف شرم ہی آرہی تھی۔ مشاعرے کے پہلے دن، کرمانشاہ کا ہی رہنے والا ایک شخص  - جس کے بارے میں ہمیں بعد میں بھی علم نہیں ہوا کہ کون تھا – ہمارے پاس آیا اور پیشکش کی کہ میں یہاں کا باشندہ ہوں۔ میرا اپنا گھر ہے ، ان چند سن رسیدہ افراد کو میرا مہمان بنادیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کا احسان ہوگا ہم پر۔ بہت مہربانی ہوگی کیونکہ ہمیں اپنے اساتذہ سے شرم بھی آرہی ہے۔ خیر وہ سات آٹھ افراد کو لے گیا اور خوب خاطر تواضع کی۔ تو یہ اجلاس کچھ یوں تشکیل پایا۔ یعنی جب "جنگی مشاعرے" کی بات آجائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس وقت جو کچھ کرنا ہوتا تھا اسی طرح کی فضا اور حالات میں کرنا ہوتا تھا۔ اور پھر اس صورت حال کو سب برداشت بھی کرتے تھے، شاذ و نادر ہی کسی کی زبان پر شکوہ آتھا تھا۔

 

کیا عام لوگ بھی جنگی مشاعرے کے حوالے سے شوق کا اظہار کرتے تھے؟

مجھے آج  بھی یاد ہے کہ ایک بار اجلاس کے موقع پر ایک ترانے پڑھنے والی ٹیم آگئی۔ اور کہا: ہم نے سنا ہے کہ یہاں جنگی مشاعرہ ہو رہا ہے؟ ہم بھی سپاہیوں کی شان میں ترانہ پڑھنے آئے ہیں۔ آپ خود اندازہ کریں آج اگر کسی اجلاس میں صرف ۲۰ افراد کا اضافہ ہوجائے  تو اجلاس کے انچارج کے لئے کس قدر پریشانی ہوجاتی ہے لیکن اس وقت مشاعرے والے ہال کے ساتھ ہی ایک اور ہال   تھا اسی میں ہم نے جیسے تیسے انتظام کیا اور اپنے مہمانوں سے پوچھا کہ کیا یہ ترانہ پڑھنے والی ٹیم بھی ہمارے ساتھ شامل ہوسکتی ہے؟ تو سب نے کہا: کیوں نہیں، سر آنکھوں پر۔

 

شعراء حضرات کی نجی محفلوں کے بارے میں بھی ہمیں کچھ بتائیے۔

جنگی اشعار سے متعلق اجلاس میں شعراء آدھی رات  تک استاد علی معلم کے پاس بیٹھے رہتے تھے، وہ شاعروں کی تعریف کرتے، انہیں سراہتے  اور اپنے اشعار بھی سناتے۔  ایک بار ایسا بھی ہوا کہ اسی طرح کی محفل میں تھک ہار کر جو اٹھے تو رات کے تین بج رہے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ  ایک رضا کار سپاہی، صبح کی نماز کے لیے جگانے کی خاطر استاد کے سرہانے گیا اور بولا: "بھائی، بھائی جان اٹھئیے، کہیں نماز قضا نہ ہوجائے آپ کی!" وہ بھی بڑبڑاتے ہوئے بولے "جی جی اٹھتا ہوں" سپاہی دوبارہ بولا "اٹھ جائیے، نماز نہ رہ جائے" میں یہ منظر دیکھ رہا تھا، ہنسی بھی آگئی مجھے۔ تو اس طرح کے خاص اور عجیب طرح کے ناتے اور انسیت تھی دلوں میں شاید آج کل کچھ مناسب نہ لگے کہ اس طرح کی محفلوں میں زمین پر، حتی ایک ہی کمبل یا لحاف لے کر چند افراد سو جائیں۔ اور ایک رضا کار سپاہی اپنی ذمہ داری سمجھ کر کسی کو نماز کے لیے جگائے۔ بہرحال یہ کچھ اقدار کااظہار تھا جو آج قصہ پارینہ بن چکی ہیں اور اُنہی گذشتہ سالوں کی یادوں کے ماتھے کا جھومر بن کر رہ گئی ہیں۔ جنگ کے دوران اور جنگ سے وابستہ پروگرامز میں مبلّغ اور مخاطب، شاعر اور سامعین، فنکار اور تماشائیوں میں عمیق رابطہ تھا۔

 

آپ نے جنگ کے دوران اور جنگ زدہ شہروں میں مشاعروں کا انعقاد کیا، کیا آپ کو شعراء حضرات کے لیے جانی خطرے کا احساس نہیں ہوتا تھا؟

خرم شہر والا اجلاس، جس کے بارے میں پہلے بتا چکا ہوں یہ جنگ کے بعد منعقد ہوا تھا لیکن کرمانشاہ، اہواز اور آبادان میں رکھے گئے ۔ دوستوں نے یہ خواہش کہ بلکہ ہمیں مجبور  کیا کہ "بعثت پل" پر وہ بسوں سے اترنا چاہتے ہیں تو میں اور احمد زارعی تو فوجی تھے۔ ہمیں اچھی طرح پتہ تھا کہ بعثت پل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں  ایک بس عراقی لڑاکا طیاروں کی بالکل زد میں تھی۔ میں تو چلانے لگا: دوستو! بھائیو! سوار ہوجاؤ ایک رضاکار سپاہی جو دفاعی پوزیشن سنبھالے ہوئے تھا مجھے کہنے لگا: کوئی بات نہیں بھائی اگر جنگی طیارہ آبھی گیا تو میں دیکھ لوں گا اسے، اور مجھے بخوبی پتہ تھا  LMG23 جنگی طیارے کو نہیں مار سکتی  لیکن سولہ سترہ سال کے رضا کار سپاہی لڑکے کی اس بات سے سب کو جرات مل گئی۔ شعراء حضرات بھی بسوں میں سوار نہیں ہو رہے تھے۔ میرا تو خون خشک ہو رہا تھا۔ اور تو اور میری آنکھیں بھی پرنم ہوگئیں کہ کس طرح ان کو سوار کروں۔ دریائے اروند کا منظر ان کے لئے انوکھا تھا اور وہ سب پیدل  اس پل سے گزرنا چاہتے تھے۔ فاو والے علاقے کو ہم نے دشمن سے انہی دنوں واپس لیا تھا اور اِدھر سے جنگ بھی عروج پر تھی۔ جب تک ہم سب سوار ہو کر  وہاں سے نکل نہیں چکے تب تک مجھے انتہا کی پریشانی رہی۔ اہواز سے مجھے دوپہر کا کھانا بھی اٹھاکر فاؤ میں ان مہمانوں تک پہنچانا تھا۔ لیکن کسی کو اس بات کا علم نہیں ہوا کہ عراقی حملے کے نتیجے میں کھانا لانے والی گاڑی تباہ ہوگئی۔ اب ۲۰۰ افراد کا کھانا برباد ہوگیا لیکن میں اس چھاؤنی سے اُس چھاؤنی، اس چیک پوسٹ سے اُس  چیک پوسٹ تک پھرتا رہا اور مچھلی کے ٹن پیک اور لوبیا جمع کرکے فاؤ میں منتظر اِن مہمانوں کو کھانا پہنچایا جس میں مجھے کوئی آدھا گھنٹہ لگ گیا ہوگا لیکن آج اگر ۲۰۰ افراد پر مشتمل ایک اجلاس  کے لیے صرف ایک وقت کے کھانے کا انتظام کریں تو کتنا خرچہ آئے گا؟ میں دوبارہ تاکید کر رہا ہوں۔ آج کل جتنی بھی زحمات اٹھائی جاتی ہیں میں ان پر اشارے کنائے میں بھی تنقید  نہیں کرنا چاہ رہا ہوں۔ آج اگر میں خود کسی اجلاس کا انتظام کروں تو خود بھی یہی کروں گا۔ سنندج میں مسلح افواج کے اجلاس کا پہلا سیکریٹری میں خود تھا۔ میں نے خود جاکر ہوٹل بک کیا، کھانا ریزرو کیا۔ خدا مغفرت کرے احمد زارعی کی، یہ کام شاید اُن آخری کاموں میں سے ایک تھا جو میں نے احمد کےساتھ اجلاس کے دوران انجام دیئے۔ آج ہمیں یہ اُمید نہیں رکھنی چاہیے کہ کسی بڑے شاعر سے کہا جائے کہ آئیے جناب یہ چادر اوڑھ کر سوجائیے! اُس وقت کے سیکریٹری اور آج کے سیکریٹری کی مشکلات اور پریشانیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ محتوا سے لیکر چھوٹی چھوٹی چیزوں تک۔ شعراء نے کہا چلیں قصر شیریں دیکھنے چلتے ہیں۔ اُس وقت قصر شیریں کوئی صاف ستھرا علاقہ نہیں تھا۔ میں نے کہا: حفاظتی انتظامات کے ادارے سے ہم آہنگی ہوگئی ہے۔ انھوں نے صرف اس شرط پر قبول کیا  ہے کہ بسوں سے کوئی نہیں اُترے گا۔ کیونکہ وہ ایریا مائنز سے بھرا ہوا ہے اور ہم نے ابھی تک اُن مائنز کی  صفائی نہیں کی ہے۔ خیر ہم گئے۔ شعراء کو قصر شیریں کا علاقہ دکھایا تاکہ یہ بھی ملک کے جنگی اور سرحدی علاقے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوجائیں۔ اتنی تاکیدوں کے باوجود خواتین گاڑیوں سے نیچے اتر گئیں۔ مجھے اس سے قبل چند اجلاسوں میں محترمہ راکعی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں اُن سے ہی التماس کرنے  لگا: " راکعی صاحبہ! خدا کا واسطہ آپ ان خواتین کو بسوں میں سوار کرائیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے" محترمہ راکعی نے جواب دیا: "آپ صرف خواتین کو ہی کیوں سوار ہونے کا کہہ رہے ہیں؟" میں نے کہا: "بھئی میں سب سے کہہ رہا ہوں یہاں مائنز کا جال بچھا ہوا ہے اور یہ خواتین تو ایسے ہی چلی جا رہی ہیں!" آخر کار بحث و مباحثہ کے بعد وہ لوگ سوار ہوہی گئیں۔ تو یہاں پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر شاعری اجلاس  کی مشکلات کو مدنظر  رکھ کر بھی ملاحظہ کریں تو یہ بات دیکھنے میں آئے گی کہ مخاطب اور مبلّغ آپس میں اس قدر قریب تھے کہ خطرہ ہونے کے باوجود بھی اس کا احساس تک نہیں کرتے تھے۔

 

آج کے نمایاں شعراء میں سے کون سا ایسا شاعر ہے جو اُن اجلاس کی بدولت (پہلی بار) مشہور ہوا ہو؟

جنگی شاعری اجلاس میں بتدریج ، نئے تجربوں اور نئے افراد کی بدولت، جدّت آتی چلی گئی۔ پھر رفتہ رفتہ ایسے نام سامنے آنے لگے جو ہمارے لئے بعد میں بہت مددگار ثابت ہوئے۔ مثلاً علی رضا قزوہ ۱۹۸۵- ۱۹۸۶ میں ایک گمنام جوان تھا۔ لیکن رضاکار تھا۔ علی رضا قزوہ کی جو تصویر ہمیشہ میرے ذہن میں رہی ہے ایک لمبا تڑنگا جوان، جس نے اپنے ڈیل ڈول کے حساب سے لمبی سی شرٹ اور لمبی سے پینٹ پہنی ہو اور کام کرنے میں مجھ سے زیادہ تیز۔ اور جب یہ مائیکروفون اٹھالیتا تھا تو جھنجوڑ دینے والے اشعار پڑھتا تھا۔ احمد [زارعی] اور مجید [زھتاب] بھی اسی طرح کے تھے۔

 

کیا یہ تمام شعراء، جن کا آپ نے تذکرہ کیا، یونیورسٹی لیول میں فارسی ادبیات کے مضمون میں فارغ التحصیل تھے؟

ہمارے پاس ہمیشہ افراد کی تعدد اچھی خاصی رہی ہے لیکن یہ جو جنگی اشعار کے بہانے سے سامنے آئے ہیں وہ افراد ہیں جنھوں نے شعری ذوق کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی محنت کی البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس سب کے باوجود بھی کوئی ڈگری ہولڈر نہ ہو۔ جیسے پرویز بیگی حبیب آبادی جو ایئر فورس کے افسر تھے۔ انھوں نے لڑاکا طیاروں کا دورہ بھی کیا ہوا تھا۔ لیکن ادبیات میں انھوں نے کوئی کام نہیں کیا ہوا تھا۔وہ فوجی افسر تھے جنہوں نے فضائی حملوں کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ حسین اسرافیلی بھی اسی طرح تھے۔  ہاں یہ بھی ہے کہ جب ہم مل کر کام کرتے تھے تو اس وقت تک وہ فوج میں نہیں رہے تھے۔ اسی طرح شیرین علی گل مرادی بھی ہیں جو انقلاب سے پہلے سیکیورٹی ادارے میں کام کرتے تھے اور پھر انہی اجلاسوں کی وجہ سے منظر عام پر آئے۔

 

ان اجلاسوں کے انعقاد میں وقت اور جگہ کے حوالے سے کچھ خاص ترتیب نظر نہیں آئی۔ کیا ترتیب سے کچھ بتا پائیں گے؟

ابھی سب کا تو یاد نہیں ہے۔  لیکن پہلے اور دوسرے اجلاس  اہواز میں ہوئے تھے اور میرے خیال میں تیسرا، کرمانشاہ اور چوتھا آبادان میں۔ اور پھر جنگ جب ختم ہوئی تو دوبارہ خرم شہر، اہواز اور سنندج میں منعقد کئے گئے اور یوں اس میں وسعت آئی جس کے نتیجے میں تہران اور اصفہان میں بھی منعقد ہوئے۔

 

کیا ۱۹۸۶ء کے بعد یہ اجلاس باقاعدہ طور پر ہر سال منعقد ہوتا رہا ہے؟

جی ہاں۔ البتہ کچھ عرصے کیلئے بسیجی شاعری اجلاس میں تبدیل ہوا ۔ جب جنگ ختم ہوئی تو رفتہ رفتہ سپاہ کے مشترکہ اداروں کی طرف سے حمایت میں کمی آتی گئی۔ یعنی وہ مالی تعاون نہیں کرسکتے تھے اور چونکہ اس اجلاس کے انعقاد کا تعلق مالی بجٹ سے تھا اس وجہ سے جمود کا شکار ہوگیا۔

 

اجلاسوں کے انعقاد میں کتنے سالوں کا فاصلہ آیا؟

ایک سال،۱۹۹۱ یا ۱۹۹۲ میں۔ مجید رجبی جو ٹی وی کے چینل نمبر ۵ کے انچارج بھی تھے اور اُس و قت بسیج میں کام کر تے تھے۔ ہم نے اُن کے پاس جاکر کہا کہ ہم اس طرح کا ایک اجلاس  منعقد کرتے تھے جو اب بالکل منعقد نہیں ہو رہا ۔ مجید رجبی نے جواب میں کہا کہ ہم صرف رضا کار شاعری کے عنوان سے اس اجلاس کا انعقاد کرسکتے ہیں تو دو تین سال تک تو یہ اجلاس ۲۶ نومبر کو اسی نئے نام سے منعقد ہوا اور ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ہم بھی شروع سے ہی جنگی شاعری اجلاس کا انعقاد ہفتہ رضاکار کی مناسبت سے ۲۴ سے ۲۶ نومبر  کی تاریخوں میں کیا کرتے تھے۔ ایلام میں رکھے گئے اجلاس ۱۹۹۴ یا ۱۹۹۵ میں ہونے تھے جس کے لیے مجید رجبی نے کہا کہ بجٹ نہیں اور ہم یہ اجلاس اس سال منعقد نہیں کرسکتے۔ اتفاقاً ہم نے جناب مہدی چمران کو بھی اُس اجلاس میں مدعو کیا تھا جو اس وقت "ادارہ برائے حفظ آثار و نشر اقدار دفاع مقدس" کے انچارج تھے۔ میں، محمد قاسم فروغی اور مجید رجبی جناب مہدی چمران کے پاس گئے اور کہا: اب نہ سپاہ اور نہ رضاکار فورس، کوئی بھی اجلاس کے لئے مالی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ چمران صاحب بولے: "بتائیے میں کیا مدد کرسکتا ہوں" ہم نے کہا کہ آپ کا ادارہ اس کے انعقاد کی ذمہ داری سنبھال لے، انھوں نے بھی یہ مات مان لی اور یوں ۱۹۹۶ سے لیکر آج تک اس اجلاس کے انعقاد کی ذمہ داری اس ادارے کے پاس ہے۔

 

آپ کا تعاون کب تک جاری رہا؟

۲۰۰۲ ء تک میں بھی فعال تھا۔  اور میری یہ شرکت  آخری بار تھی۔ اُس وقت میں پڑھتا بھی تھا اور پڑھاتا بھی تھا۔ رضاکار فورس کی پبلسٹی کا انچارج بھی تھا اور نیز دفاع مقدس کے حوالے سے ہر سال کے لیے کتاب کے انتخاب کا کام میرے کندھوں پر تھا۔ میں نے سوچا کہ ۱۹۸۱ کی دہائی والی ٹیم اب سینئر ہوچکی ہے اور سب کام نمٹا سکتی ہے۔ مثلاً قزوہ اب جنگی زمانے والا رضا کار جوان لڑکا نہیں رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ دو تین بار میرا (سیکریٹری سیمینار کا) جانشین بھی رہ چکا تھا۔ پرویز بیگی حبیب آبادی، حسین اسرافیلی اور سید ضیاء شفیعی، یہ سب جنگی زمانے کے احباب تھے اور میں خود شاعر تو نہیں تھا۔ پس میں رفتہ رفتہ کنارہ کش ہوتا گیا۔

 

کیا آپ بعد میں دوبارہ  اس شاعری اجلاس کے ساتھ رابطہ  بحال کرسکے؟

جی ہاں، میں لوگوں کے ساتھ موجود رہتا ہوں۔

 

یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ "شاعری اجلاس  برائے طلبہ یونیورسٹی" سے "جنگی اشعار اجلاس" اور پھر "رضاکارانہ شاعری اجلاس" ہوگیا اس کے باوجود اس اجلاس کی ماہیت میں فرق نہیں آیا؟

شاعر کی حالت، ملک میں ادبی مخاطب اور انتظامی نظام کے حالات بدلتے رہے۔ میری رائے کے مطابق یہ تبدیلیاں منطقی اعتبار سے لازمی امر تھیں اور اس اجلاس کی خوبی اور  قدرت رہی ہے کہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالتا رہا ہے۔ اور یہی بات اس کی بقا کا ضامن رہی ہے۔ میں بندر عباس میں دفاع مقدس شاعری اجلاس میں پرویز بیگی حبیب آبادی کے ساتھ  بیٹھا تھا۔ ہم نے حساب لگایا کہ ۱۹۸۶ سے ۲۰۰۸ تک ہم نے ۲۶ بار یہ اجلاس منعقد کئے ہیں اور ایسے ملک میں جہاں انقلاب کو صرف ۳۰ سال پورے ہوئے ہوں، ۲۶ بار شاعری اجلاس کا انعقاد بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

 

بہترین اشعار کے بارے میں فیصلہ کرنے کی نوعیت پر ہم نے گفتگو نہیں کی۔ جج صاحبان کس طرح فیصلہ کرتے تھے؟

پہلی بار تو نظام اس قدر پختہ نہیں تھا۔ لیکن دوسری بار جب اجلاس منعقد ہوا تو ہم نے اشعار جمع کرنا شروع کئے یعنی ہم باقاعدہ دعوت نامہ بھیجتے تھے، جوں جوں ہم نے پیشرفت کی کام میں جدّت اور اچھے اشعار کے انتخاب میں سنجیدگی آتی گئی۔ یعنی دوسری بار سے ہم نے باقاعدہ اشعار کمیٹی بنالی۔ جس کا کام صرف اشعار کی تحقیق اور بہترین کا انتخاب کرنا ہوتا تھا۔ یہ شعر و اشعار کی خاصیت ہے کہ خود جنگ کے زمانے میں بہت تیزی سے منظر عام پر آتے  ہیں اور معروف ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت، ایک شعر کے وجود میں آنے کے تمام تر عوامل دستیاب تھے۔ مثلاً جنگ تھی، جوش تھا، احساسات تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شعر کمیٹی زیادہ فعال ہوگئی کہ ان کا عملی کردار زیادہ تر احمد زارعی، پرویز بیگی حبیب آبادی، علی رضا قزوہ، عبد الجبار کاکائی اور حسن اسرافیلی ادا کرتے تھے۔

 

کیا آپ لوگ انعام بھی دیتے تھے؟

نہیں، صرف اشعار پڑھتے تھے۔ ہاں چھوٹے موٹے تحفے ہم دیتے تھے۔ شعراء کو بھی توقع یا اُمید نہیں ہوتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے حالات اچھے ہوئے، بجٹ آنے لگا پھر ہم نے بھی شعراء کو باقاعدہ تحائف دینا شروع کردیئے۔

 

اُس وقت شعر، زیادہ تر کس قالب میں ہوتا تھا؟

شعر کے سب انداز ہوتے تھے لیکن رباعی، غزل اور مثنوعی کی پذیرائی زیادہ تھی۔

 

اور نئے اشعار؟

نئے اشعار بھی ہوتے تھے لیکن آج جیسا کہ آزاد نظم زیادہ ہے اُس وقت بہت کم تھا۔ اگر آپ موازنہ کرنا چاہیں تو اس معاملے کو برعکس کردیں۔

 

زیادہ تر مضامین کا محور کس قسم کے موضوع  ہوتےتھے؟

اشعار کا مضمون زیاہ تر دفاع، فداکاری اور جنگ تھا۔ البتہ اُس وقت بھی مسلسل کچھ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ دوسرے اجلاس  میں ایک ایسے شاعر کو ہم نے دعوت دی جس نے پہلے اجلاس میں بہت ہی بسیجی اور فداکاری والے اشعار کہے تھے۔ وہ خراسان کا باشندہ تھا۔ اس بار اس کا حلیہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ داڑھی مونڈھی ہوئی تھی، مونچھیں باریک اور سر کے بال بڑھے ہوئے۔ اور یہ اُس وقت کی بات ہے جب سن ۱۹۸۶ میں جنگ عروج پر تھی۔ وہ سٹیج پر آیا اور ایک نظم پڑھی جس کا عنوان تھا "میری مشرقی عورت" اس نظم نے مشاعرے کا نظم و ضبط درہم برھم کرکے رکھ دیا۔ میں شروع سے اس کو اجازت دینے کے حق میں نہیں تھا  لیکن خراسان کے جوان ایک ٹیم کی شکل میں تھے جن میں مرکزی اہمیت احمد کو حاصل تھی۔ احمد نے کہا: میں اُسے جانتا ہوں۔ میں نے کہا احمد! اس کا حلیہ تو دیکھو! احمد نے کہا نہیں، میں اس کے اشعار سے واقف ہوں۔ الغرض وہ اسٹیج پر گیا اور نظم پڑھی۔ احمد ہمیشہ آگے آگے رہتا تھا۔ میں غصے میں اس کے پاس گیا۔ احمد نے کہا: کیا ہوا؟ اس کے اشعار تو بہت اچھے تھے! (ہنس کر کہا) میں نے کہا اشعار اچھے تھے  لیکن کہا کیا اُس نے!بہرحال کلی طور پر ان اجلاسوں میں جو جنگ کے دوران منعقد ہوئے رضاکاری، شہید اور شہادت جیسے موضوعات زیادہ سامنے آئے۔

 

آپ نے اپنی گفتگو کے دوران خواتین شعراء کا تذکرہ کیا تھا۔ خواتین شعراء نے کب سے اجلاس میں شرکت کرنا شروع کی؟

خواتین پہلے اجلاس سے شریک تھیں۔ مرحومہ سپیدہ کاشانی، محترمہ سیمین دخت وحیدی، محترمہ فاطمہ راکعی اور زہرا نارنجی  بھی تھیں۔ خواتین کی شاعری تو ہمیشہ سے ایران میں منظر عام پر رہی ہے۔

 

خواتین شاعر جو میدان کارزار میں موجود نہیں تھیں تو ان کے الہام کا سرچشمہ کیا تھا؟

یہ شہداء کو دیکھتی تھیں اور میدان کارزار سے رابطے میں تھیں۔ انہی اجلاسوں میں ان خواتین کی باقاعدہ طور پر ان رضا کار سپاہیوں سے گفتگو ہوتی تھی اور یہ جنگی محاذوں پر بھی رفت و آمد رکھا کرتی تھیں اور یہ بھی تھا کہ شعرا ء کی ملاقات فقط اجلاسوں کے مرہون  منت نہ تھی۔ فوجی ڈویژن باقاعدہ طور پر انہیں شعر پڑھنے کی دعوت دیتے تھے اور اسی طرح دیگر پروگراموں میں یہ خواتین جاکر اشعار پڑھتی تھیں۔

 

کیا اجلاس کے اشعار کا عکس، جنگی محاذوں پر بھی دکھائی دیتا تھا؟

جی جی بالکل ایسا ہوتا تھا۔ یہ رضاکار سپاہی جو شعر پڑھنے کی درخواست دیتے تھے یہ بات ان کے شعر سے عشق کی علامت تھی یہاں تک کہ انہیں اشعار میں سے بہت سارے تو نوحے کی شکل اختیار کرجاتے تھے۔ جیسے حسین اسرافیلی اور پرویز بیگی حبیب آبادی کے اشعار، نوحہ بن کر ہی سامنے آئے ہیں۔ جب پرویز نے نظم "غریبانہ" لکھی تو وہ خود بیمار تھے اور اجلاس  میں نہیں آسکے تھے تو اہواز سے آبادان کے محاذ پر جانے والے سپاہیوں میں سے ایک نے اس نظم کو منی بس میں جو پڑھنا شروع کیا تو نوحہ میں ڈھال کر پڑھا اور باقی افراد بھی ماتم کرنے لگے، پھر یہ نظم مختلف جنگی محاذوں پر پہنچ گئی اور پھر کویتی پور نے جو اسے پڑھا تو ترانہ بن گئی، کیسٹ میں آگئی۔ بالآخر بہادر سپاہی ہمیشہ سے جنگی اشعار کے دیوانے اور عاشق تھے۔ جب ہم بیت المقدس آپریشن کے لئے گئے تو پہلی بار میں نے سپاہیوں کے سامنے یہ نظم پڑھی تھی"ماں ! جارہا ہوں محاذ پر ، کربلا بلاتی ہے" اور اس وقت مجھے بالکل علم نہیں تھا کہ یہ اجلاس  کی نظم ہے، بعد میں پتہ چلا کہ اجلاس میں سنائی جاچکی ہے۔ بہرحال سپاہی ہمیشہ سے اشعار و شاعری سے مانوس رہے ہیں۔

 

اجلاس کے بہترین اشعار کے باقاعدہ چھپنے کا سلسلہ کب سے شروع ہوا؟

میڈیا میں یہ اشعار نشر ہوتے تھے کیونکہ صحافیوں، خبرنگاروں اور میڈیا کے افراد کو اجلاس میں لے جانا ہمارے منصوبے کا حصہ تھا۔ میڈیا کے ان تمام اداروں کے پاس ادبیات اور اشعار کو باقاعدہ شائع کرنے کیلئے ایک حصہ ہوتا تھا۔ اجلاس کے پہلے دن سے ہی اشعار مجلوں اور اخبارات کی زینت بن جاتے تھے۔ عام طور سے تمام ادارے پہلے اجلاس کی ایک رپورٹ شائع کرتے اور پھر منتخب اشعار اور نظموں کو نشر کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اشعار کو جمع کیا جانے لگا اور سال بھر کی نشریات میں منتشر ہوتے رہتے تھے۔ کیونکہ جنگ تو ہورہی تھی اور نشریات کو بھی ان چیزوں کو ضرورت ہوتی تھی۔ سو شاعری اجلاس ان کی اس اہم ضرورت کو بطریق احسن پورا کرتا تھا۔ جب خود شعراء نے اپنی شاعری کی کتابوں کو شائع کرنا شروع کیا تو وہ اجلاس والے اشعار بھی اپنی کتابوں میں شائع کرنے  لگے۔ سچ تو ہے کہ سیکریٹریٹ نے اجلاس کی خاص کتاب بہت  دیر سے چھاپی کیونکہ فوری طور پر چھاپنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اور اجلاس کے اشعار بھی ہر جگہ موجود تھے، اخبارات، مجلے، شاعروں کے پاس۔ وقت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے جب دیکھا کہ ۱۹۹۶ سے ۱۹۹۸ تک جنگی اشعار کی فضا میں وہ جوش و خروش نہیں رہا جو دفاع مقدس کی جنگ کے دوران تھا تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اب اجلاس کے اشعار پر مشتمل کتاب چھپنی چاہیے اور پھر ہم نے اس کو اپنے کام کے اصول میں شامل کرلیا۔

 

یہ کام کس سال سے شروع ہوا؟

ابھی تو ذہن میں بالکل نہیں آرہا لیکن اتنا یاد ہے کہ ۱۹۹۸ء کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا۔ سن ۲۰۰۴ء، تہران میں ہونے والے اجلاس  میں ہم نے شاعری اجلاس سے پہلے چھاپ دیا اور یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا اور ہم اجلاس سے پہلے ہی اشعار کو مخاطبین تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ ہاں یہ بھی ہے کہ ہمارے لیے مشکل بن گئی تھی کیونکہ کچھ شعراء نے وہی اشعار نہیں پڑھے جبکہ کتاب مخاطب کے ہاتھوں میں تھی۔ لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ ہاں اثباتی بتائیں شعراء نے یہ اشعار کیوں نہیں پڑھے تو میں جواب میں کہہ دیتا کہ مائیکروفون خراب ہے اور کچھ نہیں!

 

مجھے چند اجلاسوں میں رپورٹر کے طور پر شرکت کا موقع ملا، میں نے دیکھا کہ مخصوص شعراء ہیں جو ہر سال دفاع مقدس شاعری اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ تو کیا یہ نکتہ ضعف نہیں ہے کہ ہم ابھی تک نئے شاعر پید انہیں کرسکے ہیں؟

میرے خیال میں یہ بات صحیح نہیں۔ ہمارے پاس ایک اجلاس ہے، ایک شاعر، ایک معاشرہ اور ایک مینجمنٹ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب بات ہوتی ہے جنگی شعروں کے مشاعرے کی، تو اس وقت بھی تہران میں کچھ دوسرے حلقے موجود تھے۔ واقعاً وہ اشعار جو جنگ کے زمانے میں دستیاب تھے اور محاذوں پر سنائے جاتے تھے شاید تعداد کے اعتبار سے آج کے اشعار  جتنے ہوں۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ چونکہ علمی مطالعہ ہمارا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور میں ایک استاد ہونے کے ناطے سے علمی ابحاث پر یقین رکھتا ہوں تو میں یہ تاکید کرنا چاہوں گا کہ جب تک علمی مطالعہ نہیں ہوگا تب تک ایسے موضوعات پر بات کرنے کا خاص فائدہ نہیں۔ کوئی تحقیق سامنے لائیں کوئی تجزیہ و تحلیل ہو۔ یہ ہماری مینجمنٹ کی کمزوری ہے کہ ہم نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ اور دوسری بات یہ کہ میری نظر میں چند شعراء کا ہر اجلاس میں آنا ایک مثبت پہلو رکھتا ہے کیونکہ ایک ہنر کے طور پرشعر و شاعری کے میدان میں ہمیشہ حاضر رہنا ایک شرط ہے اور یہ کہ ہم ہر بار ہر اجلاس میں آکر کہیں کہ ہم نے شاعر حضرات کو تنوع کی خاطر بدل دیا ہے اس میں ہمارے معاشرے کے لئے کیا حسن ہے؟

 

میرا مقصد شاعروں کو بدلنا نہیں تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ نئے شعراء کو بھی آگے لایا جائے۔

یہ ہماری مینجمنٹ کا نکتہ ضعف ہے۔ یعنی میں اجلاس کے مینجروں کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ ثقافتی زمینے میں استاد ہونے کے ناطے سے سنجیدہ انداز میں، میں تنقید اُن حضرات پر کر رہا ہوں جنھوں نے بڑے پیمانے پر ملکی ثقافتی انتظام کو سنبھال رکھا ہے؛ البتہ یہ بھی جانتا ہوں کہ میں خود بھی اس انتظام اور بندوبست کرنے والوں میں سے ایک ہوں۔ ہم ثقافت کے میدان میں ایک ایسا آئیدیل منطقی  انتظام  پیش نہیں کرسکے جو انقلاب کے حالات سے ہم آہنگ ہو۔ ان سالوں میں ہمارے ثقافتی انتظامات کے مینیجنگ امور میں پیشرفت ہونی چاہیے تھی لیکن یہ ہماری کمزوری ہی رہ گئی اور اس کا تعلق صرف اشعار کے میدان سے نہیں۔

 

انٹرویو کے آخر میں آپ ہمیں مسلط کردہ جنگ کےدوران شعر و ہنر سے متعلق صلاحیت اور قابلیت کے بارے میں بتائیں۔

ایران اور عراق کی جنگ  میں تمام ثقافتی اور ہنری صلاحیتیں اور قابلیتیں بالکل ڈرامائی انداز میں سامنے آئیں۔ ہماری اس جنگ کو، دو طرفہ جنگ اور طویل دورانیے کے پیش نظر بہت زیادہ خصوصیات حاصل ہیں۔ ایک طرف چالیس ممالک اور دوسری طرف تن تنہا ایران تھا۔ لیکن ہم جنگ ہارے نہیں، ہماری جنگ ایک قومی جنگ تھی جو اپنے اندر تمام تر خصوصی اقدار کو لئے ہوئے ہے۔ تمام لوگ، مرد و زن ، پیر و جوان، سب ہی پیش پیش تھے۔ اندرونی صلاحیتوں کے باہر آنے کے اعتبار سے ایران و عراق جنگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ایران کی تاریخ میں کوئی واقعہ اس آٹھ سالہ جنگ جیسا نہیں ملتا۔

اور شاید یہی اقدار ہیں جن کو سامنے رکھتے ہوئے شعراء حضرات کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جنگ اور اس کی ان اقدار پر کوئی انگلی نہ اٹھانے پائے۔ اور ان ہی اقدار کی پاسداری اور حفاطت کی خاطر جنگی اشعار اور جنگی داستانیں ریڈ لائنز کے بغیر نہیں ہیں۔ اگرچہ آخری کچھ سالوں سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں طنزیہ شاعری بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

فارسی ادبیات کا مسئلہ ہمیشہ سے ہجو اور طنز کے مابین مشکل سے دوچار رہا ہے۔ طنزیہ شعر یعنی حقائق کو ایسی زبان میں بیان کرنا کہ خود دوسروں کو سوچنے پر مجبور کردے، طنزیہ شاعری کوئی لطیفہ بازی نہیں۔ نہیں معلوم ہم لوگ ہمیشہ سے طنز کو جوکس سے شباہت دیکر کیوں پیش کرتے ہیں۔ جوک مغربی سوغات ہے۔ ماضی میں ہم "لطیفہ" کی اصطلاح استعمال کرتے تھے ۔ لطیفہ یعنی ایسی بات جو انسان کو سوچنے پر مجبور کردے۔ جب طنزیہ انداز میں بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب خود معاشرے پر اعتراض کرنا ہوتا ہے۔

 

تو پھر طنز اپنے ان اوصاف کے ساتھ کس طرح جنگی اشعار کی وادی میں آسکتا ہے؟

آچکا ہے۔ بالکل اس شعر کی مانند جو  ایسے فرد کے بارے میں ہے جو چھے سیکنڈ تک محاذ پر رہا لیکن چھے ماہ پر مشتمل اس نے واقعات بیان کردیئے۔ یہ تنقیدی نگاہ  کسی کو بری نہیں لگتی۔

 

تو پھر آب بتائیں شعر کی ریڈ لائن کیا ہے اور کہاں تک ہے؟

ہجو میں۔ ہمارے پاس کچھ اصول ہیں جن کا سپاہیوں نے لحاظ رکھا ہے ہم اسے چیلنج نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہمیں اس بات کی اجازت ہے کہ دفاع مقدس کے پاکیزہ اہداف کو چیلنج کریں۔ ہاں اس کے بعد کے مراحل تنقید کے قابل ہیں لیکن اس شرط  کے ساتھ کہ حالات و واقعات کا لحاظ رکھا جائے۔ آج جنگ کے سلسلے میں بہت سے واقعات ایسے ہیں جن پر طنز اور تنقید کرنا چاہیے۔

 

کوئی مصداق بتائیں

جیسے آج کے منیجر حضرات، اقتصادی میدان، زندگی گزارنے کی اساس اور آئیڈیالوجی کا تقابل اور وہ اشیاء جن کی خاطر سپاہی لڑتے رہے، حتی سپاہیوں کے آپس کے رابطے بھی۔



 
صارفین کی تعداد: 403


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔