کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

احمد ناطق نوری
ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2019-02-17


پانچ جون ۱۹۶۳ کو ہمیں امام خمینی رح کی گرفتاری کی خبر دی گئی۔ اس وقت ہم لوگ تہران کے علاقے شمیران میں لاجوردی صاحب کے گھر میں ایک میٹینگ میں گئے تھے تاکہ وہاں بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ امام خمینی رح کی گرفتاری کے بعد ہمارا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ ابھی میٹینگ چل ہی رہی تھی کہ باہر سے آوازیں آںا شروع ہوگئیں۔ عوام کی جانب سے ایک تحریک کا آغاز ہوچکا تھا اور یہی تحریک آگے چل کر ۱۵ خرداد کے قیام کا سبب بنی۔

ہم نے پورا منصوبہ بنا لیا تھا کہ کس طرح آگے بڑھا جائے اور کیا کیا جائے گا لیکن ہمارے بہادر عوام نے کسی کا انتظار کئے بغیر خود ہی نعرے بنا لئے تھے اور تحریک کا آغاز کردیا تھا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور دکانوں کو تالے لگا دیئے گئے تھے۔ میں بھی لاجوردی صاحب کے گھر سے اعدام اسکوائر گیا اور وہاں سے شاہراہ خیام پہنچ گیا، ہم چونکہ اس علاقے میں زندگی گذار چکے تھے اس لئے مجھے وہاں کی گلیاں اچھی طرح معلوم تھیں میں تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا جیسے ہی اعدام اسکوائر پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک شہید کو لوگ ایک تختے پر ڈال کر لے جارہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں کہ یہ پہلوی حکومت کے جرائم کی سند ہے۔    

ہم بھی اس جنازے کے ساتھ ارگ اسکوائر پر آگئے جہاں ہمارا محاصرہ کرلیا گیا اور کچھ لوگ گرفتار بھی ہوگئے۔ میں جوان تھا، ورزش کرتا تھا اس وقت باکسنگ کرتا تھا اور نیشنل ٹیم کا کھلاڑی بھی تھا۔ مجھے گھیر لیا گیا اور ایک آفیسر میرے نزدیک آیا اور میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا اس کا دل بہت زیادہ دھڑک رہا ہے یعنی یہ بھی انہی شورشیوں کا ساتھی ہے مارو اسے۔ اسکے بعد سب نے مل کر مجھے خوب مارا۔ اتنا مارا کہ میں زمین پر خم ہوگیا تھا۔ اسکے بعد بولا۔ اب مار دو اسکو۔ ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔ جس نے مجھے مارا تھا میں نے اسکی ناک پھوڑ دی جس کے بعد وہ زمین پر گر گیا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسی اثنا میں کوچہ نظام کا دروازہ کھل گیا۔ میں فورا اس کوچے کی طرف بھاگ اٹحا۔ کیونکہ اس علاقے کے لوگ مجھے پہچانتے تھے لہذا انہوں نے پولیس کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کردیں اور پھر پولیس کو بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس باریک اور تنگ گلی میں داخل ہوسکے اور چونکہ وہاں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی اس لئے وہ فائرنگ بھی نہیں کرپائے اور میں خون میں لت پت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اسکے بعد لوگوں نے میرے ٹانکے لگائے اور اسپتال پہنچایا۔

 

منبع: مقلد روح‌الله: خاطرات احمد ناطق نوری، تدوین موسسه تنظیم و نشر آثار حضرت امام خمینی – معاونت پژوهشی، تهران: موسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی(ره)، موسسه چاپ و نشر عروج، 1396، ص19 و 20.



 
صارفین کی تعداد: 245


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔