دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – پینتیسواں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-02-17


اسی دوران ایک شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا کہ جس کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں خطرے کا احساس ہوا  اور ہم نے محسوس کیا کہ کسی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو اس کے بارے میں اپنے رائے دینی چاہیے۔ آخرکار ہم ضروری مطالبات، بات چیت اور اعتراض کے ذریعے اُس کیلئے ایک ڈاکٹر لانے میں کامیاب ہوگئے؛ لیکن عراقی ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد کہا:

-  ان کا ہر صورت میں ٹیسٹ اور ایکسرے ہونا چاہیے!

جبکہ عراقی ڈاکٹر نے زندان کے ملٹری پولیس نگہبانوں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا تھا،  اس کے باوجود  ان لوگوں نے مریض  کو ٹیسٹ وغیرہ کیلئے زندان سے باہر  بھیجنے پر کوئی اقدام نہیں کیا۔

ہم پہلے سے ایک طے شدہ پروگرام اور نگہبانوں کو الٹی میٹم دیکر "بھوک ہڑتال" کرنے پر مجبور ہوگئے کہ جس میں تین دن لگے اور چوتھے دن اُسے ہسپتال لے گئے۔ اُس کے بعد سے اگر کسی مریض کو ایکسرے اور ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی، وہ لوگ خود اُسے ہسپتال بھیج دیتے تھے؛ خاص طور سے جنگ ختم ہونے کے بعد  زندان کیلئے ایک مخصوص کوٹہ معین ہوا اور ہسپتال بھیجے جانے کا معاملہ بہت آسانی سے انجام پانے لگا۔ حتی وہ افراد جو عینک لگاتے تھے  اور جنگ میں اُسے کھو چکے تھے یا اُسی اسیری کے اوائل میں عراقیوں نے اُن سے عینک لے لی تھی، اُن لوگوں کو بھی عینک مل گئی اور کچھ لوگوں نے مصنوعی دانت بھی لگوا لیے! بھیجے جانے والے مریضوں کو، دو نگہبانوں کے ساتھ بند آنکھوں اور ہاتھوں کے ساتھ الرشید ہسپتال بھیجا جاتا  کہ جس کے راستے کا فاصلہ زندان سے ۲۰ سے ۳۰ منٹ کا تھا  جو شہر بغداد کے اندر سے ہوکر گزرتا تھا۔

حقیقت میں ہر کسی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ کم ہی بیمار پڑے تاکہ اُسے ڈاکٹر اور دوائی کی ضرورت ہی نہ پڑے اور  اس ہدف کوحاصل کرنے کیلئے ایک مفید اور موثر کام ورزش تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورزش ایک ایسا کام تھا  جو اکثر افراد کے وقت گزارنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا  اور ہم اس کام کیلئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

اسیری کے آغاز میں جب ہم ہوا خوری سے محروم تھے، ہم بند دروازوں اور کمرے کے اندر، ہلکی پھلکی جسمانی حرکات اور ورزش کرتے تھے۔ بعد میں جب ہوا خوری کیلئے جانے لگے، تقریباً سارا وقت مختلف طرح کی ورزشوں میں صرف ہونے لگا۔ پھر ہم آہستہ آہستہ ہاتھ سے بنے ورزشی آلات سے ورزش کرنے لگے کہ ان میں سے بعض آلات، ورزشی استفادے کے علاوہ، واقعاً ایک آرٹ ورک سمجھا جاتے تھے۔ مثلاً کسی نے کچرے کی ٹوٹی بالٹی  کے  پیندے ، فرش صاف کرنے والے وائپر کی ڈنڈی اور کچھ دوسرے عام ساز و سامان کے ساتھ، ایک بہت ہی خوبصورت ہالٹر (Halter)بنایا جو دیکھنے کے قابل تھا!یا کسی دوسرے نے  پرانی کُشتی کے کچھ سامان بنائے، اور یا اِدھر اُدھر پڑی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے ، رسی، تیراکی والا تختہ وغیرہ تیار کیا کہ ان وسائل اور جزئی چیزوں کی موجودگی میں زیادہ تر لوگوں کو ورزشی کرنے کی طرف رغبت ملی۔ کبھی عراقی گیند بھی دے دیا کرتے تھے  جس سے لوگ شروع میں بہت دلچسپی اور شوق کے ساتھ کھیلا کرتے تھے؛ خاص طور سے اُس وقت جب والی بال کی جالی بھی اُس کے ساتھ دی جاتی۔

میں اور میرا ایک ساتھی ہمیشہ سے فرار کے احتمالی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے  کو مدنظر رکھتے ہوئے  ورزش کرتے تھے، جس میں خاص آپریشن کیلئے توانائی بڑھانے والی ورزشیں زیادہ تھیں؛ مثلاً ہم چھلانگ لگانا،  ہاتھ کے بل کودنا، کلائیوں کو مضبوط کرنا، دوڑنے کی مشق وغیرہ جیسی ورزشیں انجام دیتے تھے۔ ایک دفعہ امتحانی طور پر اور معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک ابر آلود صبح کو چھت پر نگہبان کی موجودگی میں،  میرا ساتھی ذوالفقاری، بہت تیزی اور چالاکی کے ساتھ چھت پر چڑھا اور بغیر اس کے کہ نگہبان متوجہ ہوتا، اُس نے علاقے کی جغرافیائی حوالے سے تحقیق کرلی۔

ذوالفقاری نے ہمارے فرار کے منصوبے کا نام "الطارق" رکھا ہوا تھا  کہ جوحساب لگایا گیا تھا اُس کے مطابق ہمیں ایک دیوار سے دوسری دیوار کے اوپر چھلانگ لگانی تھی اور اُس کے اوپر سے ہمیں ایک ایسے کوریڈور کے وسط میں کودنا تھا جو دو دیواروں کے درمیان تھا اور جس کی چوڑائی تقریباً دو میٹر تھی؛ ایسا اُس صورت میں تھا جب ایک دیوار کے کونے  اور کوریڈور کے وسط میں خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں  اور دیوار کی اونچائی ۶ میٹر تھی۔اس مرحلے میں ہم زندان سے باہر نکل جاتے جو ملٹری پولیس کے احاطے میں تھا؛ ملٹری پولیس کا بھی ایک بہت بڑا فوجی ایریا تھا  اور پھر وہاں سے ہمیں خود کو فضائی چھاؤنی تک پہنچانا تھا۔ منصوبے کے اس حصے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے  ہمیں اپنی جسمانی حالت کو مکمل طور پر حالات سے سازگار بنانا تھا اور کلائی اور ٹخنوں کی مضبوطی، اوپر کی طرف چھلانگ، بھاگنا، خاردار تاروں پر کودنا وغیرہ جیسی ورزشیں اسی سلسلے میں انجام دی جاتیں۔

میرا ساتھی اور میرا ہمفکر ذوالفقاری، دوڑنے کے معاملے میں گویا سب پر سبقت لے گیا تھا۔ شروع میں تو اُس نے ہاتھوں میں وزن لیکر دوڑنا شروع کیا اور کئی گھنٹے تک دوڑتا۔ اُس کے بعد اُس نے دو استر والی ایک جیکٹ سی لی کہ جس میں تقریباً دس کلو ریت اور بجری بھر لیتا  اور ہوا خوری کے تمام اوقات میں وقفے اور تھکاوٹ کا اظہار کیئے  بغیر دوڑتا رہتا۔ اسی ورزش نے اُسے ایک توانا اور لچک دار بدن بخشا تھا اور حتی اگر ہم اپنے فرار کے منصوبے میں کامیاب بھی نہ ہوتے کہ نہیں ہوئے، تو پھر بھی ہمیں کوئی نقصان نہیں تھا ، کم سے کم ہم صحت مند اور سالم بدن کے ساتھ اپنے وطن واپس لوٹتے۔

بہرحال ہم نے اپنے آپ کو جسمانی اور روحی حوالے سے آمادہ رکھنے کی کوشش کی تاکہ مناسب موقع ملنے پر اُس سے استفادہ کرسکیں۔

ورزش کے سامان کے بارے میں، یہ بتانا برا نہیں ہوگا کہ اسیری ختم ہونے کے آخری چند مہینوں میں ایک ٹیبل ٹینس کی میز لائے  جو اچھی اور مناسب سرگرمی کی چیز تھی ، جس میں ہوا خوری کا ایک اچھا خاصا وقت گزر جاتا تھا۔

زندان ابی وقاص کی دوسری خصوصیات میں سے ایک یہ تھا کہ سردیوں میں ہمیں ہیٹر دیتے  تھے؛ اگرچہ اُن کی تعداد کمروں کی تعداد کے برابر نہیں تھی، لیکن ہم نے اس مسئلے میں کچھ قوانین بنائے ہوئے تھے تاکہ ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ سب لوگ مساوی طور پر اُس سے استفادہ کرسکیں۔ یعنی ہم مصرف ہونے والے پٹرول کہ  جو ہر شخص سے تعلق رکھتا تھا اور نیز ہر کمرے کے افراد کی تعداد  کی بنا پر ہیٹر استعمال کرنے کے طریقہ کو مشخص کرتے تھے۔ ہر سال سردیوں میں ، ایک دو لوگ رضاکارانہ طور پر پٹرول اور ہیٹر کی ذمہ داری لے لیتے کہ ہم اُنہیں مذاق میں وزیر پٹرولیم کہا کرتے تھے!

ہم ان ہیٹروں سے گرمائی حاصل کرنے کے علاوہ، پکانے کیلئے بھی استفادہ کرتے تھے۔ مثلاً مشین سے بننے والی روٹی کو ہاتھ سے بنے چاقو کی مدد سے رول کی شکل  اور چھوٹے سائز میں کاٹ لیتے تھے؛ اُس کے بعد  تار کے چھوٹے سے ہینگر سے اُس ہیٹر کے اطراف میں لٹکا دیتے تاکہ اُس کے دونوں اطراف مکمل طور سے سَیکھ (پک) جائیں اور ہم اُسے پاپے کی طرح بنا کر کھاتے تھے۔

اسی طر ح ہم ہیٹر سے مٹھائی بنالیتے تھے؛ اس طرح سے کہ پہلے ہم ہیٹر کے اوپر میٹھی چائے  رکھ دیتے ، وہ اس حد تک کھول جاتی کہ ایک کالے رنگ کے گاڑھے مادہ میں تبدیل ہوجاتی جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا۔ اُس کے بعد گوندھے ہوئے آٹے کو خشک کرنے کے بعد بھون کراُس میں ملادیتے اور آخر میں حلوے کی طرح جیلی کا مواد تیار ہوجاتا۔ اس کے بعد اس حلوے کو مختلف شکلوں جیسے پھول یا ایران کا نقشہ  یا اپنی پسند کی کسی شکل میں ڈھالنے کے  بعد باہر نکال لیتے۔ اور اس طرح کی بنی ہوئی چیزوں کو سب مل کر عید یا عزاداری کی مجالس وغیرہ میں بانٹنے کیلئے استفادہ کرتے تھے۔

کبھی ، اُنہی عراقی کھانوں کو جو عام طور سے اچھی طرح پکے ہوئے نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات کچے ہوتے تھے، اُن سے کوئی دوسرا کھانے بنالیتے تھے جو بہت ہی  پسندیدہ ہوتا تھا حتی لوگوں کے موٹا ہونے کا سبب بنا؛ آلو کے کباب، شامی کباب، تبریزی کوفتہ وغیرہ جیسے کھانے۔

ایک دفعہ ہم نے کھانا ناپسندیدہ ہونے اور  چائے کی مشکل کے حل کیلئے زندان کے ایک مسئول سے شکایت کی۔ اُس نے کہا:

-  کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ خود چائے بنالیں؟

ہم نے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد قبول کرلیا۔ بجلی سے جلنے والا ایک چولہا اور دوسرے ضروری وسائل ہمیں دیئے گئے کہ اس چولہے سے کھانا گرم کرنے اور کھانا بنانے کیلئے بھی استفادہ ہوتا تھا۔  چند دن بعد وہی مسئول آیا اور کہنے لگا:

- چونکہ دوسری دو عمارتوں والے ٹھنڈی چائے لینے پر  راضی نہیں ہیں ، تو ہم پہلے کی طرح تینوں عمارتوں کو خود ہی چائے دیں گے۔

چائے کا سامان لے گئے؛ لیکن خوش قسمتی سے چولہا رہ گیا! ایک ساتھی نے رضاکارانہ طور پر کہا کہ کھانا گرم کرنے کے پروگرام کو  میں منظم کرتا ہوں۔ اس طرح  سے باری کا خیال رکھتے ہوئے، ہر گروپ کچھ مدت کیلئے چولہے کو اپنے اختیار میں رکھ سکتا تھا۔

ایک سال بعد، جب مسئولین دورہ کرنے کیلئے آئے  اور جب انھوں نے باری کے پروگرام کو منظم طور پر دیکھا، انھوں نے ہمیں دو چولہے اور دینے کا دستور دیدیا  کہ ہم اُن سے اچھی طرح سے کھانا بنانے، گرم کرنے اور چائے بنانے کیلئے استفادہ کریں۔

ہماری بنائی جانے والی مٹھائی کی ایک قسم، پولکا تھی جو شکر کو پگھلا کر بنائی جاتی تھی۔ ہم گرم شکر کو سگریٹ کے لپٹے ہوئے چمکیلے کاغذ  میں ڈال دیتے اور ٹوفی کے عنوان سے – پروگراموں میں – لوگوں کی پذیرائی کرتے تھے۔

عزاداری کے پروگرام اور مذہبی تہوار کے علاوہ، عشرہ مبارکہ فجر کے ایام ہمارے لیے اہم ترین ایام  تھے جس میں ہم مختلف نشستیں منعقد کرنے کے ساتھ، مختلف طرح کے مقابلے جیسے ڈیزائننگ، پینٹنگ، کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیا کرتے تھے۔ پینٹنگ ایک ایسا ہنر تھا کہ جس میں زیادہ تر لوگ دلچسپی اور شوق رکھتے تھے۔ اس وجہ سے ہم نے پینٹنگ گیلری بھی بنائی! واقعاً بہت خوبصورت پینٹنگز سامنے آتی تھیں  کہ ہم تمام لوگوں کی ووٹنگ کے بعد اُن میں سے ایک کا پہلے نمبر کے طور پر اعلان کرتے تھے۔ مثلاً ایک بھائی نے ایران کا نقشہ کھینچا تھا جس میں تہران سے آسمان کی طرف ایک نور اٹھ رہا تھا  جو ایران کے لوگوں کو ریلی کی حالت میں دکھا رہا تھا۔ یہ پھیلنے والا نور ایک  شیشے والے چراغ پر جاکر ختم ہو رہا تھا اور ۔۔۔ یہ پیشکش اتنی زبردست تھی کہ سب نے اسے سراہا تھا۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 125


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔