دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – چونتیسواں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-02-16


ہم نے صلاح و مشورے اور تمام باتوں کا جائزہ لینے کے بعد قبول کرلیا، اور ہم نے اُنہیں بیٹری بنانے کا طریقہ بتا دیا۔ اسی طرح ہم نے کہہ دیا: "فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے۔ اگر آپ ریڈیو ہمیں دینا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں؛ لیکن چونکہ نگہبانوں کو ہم پر شک ہوچکا ہے اس لیے اسے ہاتھ سے گنوا دینے کا احتمال پایا جاتا ہے۔"اس کے باوجود انھوں نے جواب میں کہا: "مسئلہ نہیں ہے؛ انشاء اللہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہم اس بات کو ترجیح دیتےہیں کہ وہ ریڈیو جس کا ہم نے "ماموں رسول" نام رکھا ہے، آپ لوگوں کے حوالے کردیں اور آپ ماموں کی باتیں تیسری عمارت کے لوگوں تک پہنچانے میں اختیار رکھتے ہیں۔"

ہم نے ماموں رسول کو لے لیا اور پہلے سے آمادہ ایک خاص جگہ  پر چھپا کر رکھ دیا  اور اگلے دن سے، خدا بخش (پہلے والا ریڈیو) کے ذریعے حاصل  ہونے مطالب  کو دوسری عمارت کے لوگوں تک پہنچانے لگے۔

اس بات کو گزرے ہوئے تین یا چار مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا تھا کہ ایک دن تیسری عمارت  کے افراد نے محمودی سے بات چیت کے درمیان اس بات کا اظہار کیا کہ کچھ عرصہ پہلے، باہر نکلنے والا گیٹ جو نگہبانوں کے کمرے کے پاس ہے، ہم نے وہاں سے ایک ریڈیو اٹھایا ہے اور ہم اُسے آپ کو دینا چاہتے ہیں تاکہ آپ لوگ خدا بخش کی جگہ اس سے استفادہ کریں  اور پہلے کی طرح حاصل ہونے مطالب ہمیں دیں۔

ہم نے تیسری عمارت والوں کو بھی ہاتھ سے ریڈیو گنوا دینے کا احتمال دیا؛ لیکن اُن لوگوں نے بھی اصرار کیا کہ ہم حتماً ریڈیو کو لے لیں  اور اگر کوئی مسئلہ پیش آیا تو ہم نہ کوئی شکوہ کریں اور نہ ہمیں اعتراض ہوگا۔

صلاح و مشورے اور تمام باتوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم مان گئے، چونکہ ہمیں اُن تک مطالب پہنچانے کا  ایک بہت اچھا بہانہ مل گیا تھا ۔ دوسری طرف سے ایک عمارت میں تین ریڈیو کا موجود ہونا بہت بڑا اور نا قابل جبران خطرہ شمار ہوتا تھا؛ کیونکہ دقیق تفتیش کی صورت میں ہمارے ہاتھ سے تینوں ریڈیو نکل جاتے۔ اسی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ ریڈیو جو ہم نے تیسری عمارت والوں سے لیا تھا، اُسے دوسری عمارت والوں  کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیں  اور اُن سے کہہ دیں کے ہم ماموں رسول کے مطالب دونوں عمارتوں تک پہنچائیں گے۔

اس طرح سے ریڈیو سے  مربوط مسائل کسی حد تک منظم ہوگئے اور ہم گزشتہ کے بارے میں کوئی بات کئے بغیر دوبارہ سے، پہلے کی طرح مطالب کو – باری باری – دونوں عمارتوں میں دینے لگے؛ صرف اس فرق کے ساتھ کہ کام ختم ہونے کے بعد، مطالب کو خود تیسری عمارت والے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے تھے۔

یہ طریقہ چند سالوں اور تقریباً اسارت کے آخری دنوں تک جاری رہا۔ البتہ ہم ہمیشہ جب بھی ہمیں  موقع ملتا ہم ریڈیو نہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے فائدے کی کوئی بات کرتے؛ مثال کے طور پر ، ایک دفعہ قیدیوں کے مسئول سے ملاقات اور اس بات کا اصرار کرنے کے بعد کہ ہمارے پاس وقت گزارنے کیلئے کوئی وسیلہ ہونا چاہیے، وہ لوگ ہمارے لیے ٹی وی لائے؛ لیکن صرف اپنے چینل لگاتے تھے۔ ہم نے ایک دوسرے سے مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم ٹی وی کو قبول نہ کریں اور اس کے بدلے میں ریڈیو کی درخواست دیں۔ اس بنا پر ہم نے اُن سےکہا:

- اگر آپ لوگ ہم سے محبت و مہربانی کرنا چاہتے ہیں، ایک ریڈیو یا قرآن کی کیسٹ سننے والا ایک ٹیپ ریکارڈ ہمیں دیدیں۔

- جیسا کہ پہلے سے اس بات کا اندازہ تھا، دونوں مورد میں مخالفت ہوئی اور جواب میں کہا گیا:

- اپنا وقت گزارنے کیلئے عراق کے ٹی وی سے استفادہ کریں۔

خوش قسمتی سے عراقی ٹی وی کے روزمرہ پروگرام، ہمارے ماحول  اور عقائد سے سازگار نہیں ہوسکتے تھے۔ ہمارے افراد رات کو شب بیداری کرکے نماز شب، دعا اور قرآن پڑھنے والے لوگ تھے۔ ایک طرف سے ہم اُن کے زہریلے، جھوٹے اور تحریف شدہ  پروپیگنڈے کو اُن کی اخباروں میں دیکھتے تھے  اور اُسی طرح کی تصویریں اور ویڈیو دیکھنا ، دو برابر عذاب تھا۔ اور اس کے علاوہ اس  کے بعد، یہ گمراہی سے بھرپور اور ٹی وی پر دکھائے جانے اُلٹے سیدھے پروگرام دیکھنے پر ہم پر احسان بھی جتاتے ۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر ہم نے حتمی طور پر اس چیز کو ردّ کر دیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ٹی وی کو صرف ہماری عمارت میں لائے تھے اور جب ہم نے اُسے قبول نہیں کیا تو پھر دوسری دو عمارتوں میں بھی نہیں لے گئے۔

کلی طور پر، نئی جگہ پر ہماری صورت حال یعنی الرشید کمپلیکس کے ابی وقاص زندان میں اس کے باوجود کہ اُسے بری جگہ سمجھا جاتا تھا،  لیکن وہ دوسرے زندانوں سے بہتر تھااور الگ الگ کمروں نے ہمیں نسبتاً بہتر زندگی کا موقع فراہم کیا ہوا تھا۔

ہم نے کوشش کی ہر کمرے کے اندر، کچھ اسٹینڈرڈ وسائل اور سامان – جس حد تک موجود تھا – رکھ کر حالات کو مساوی رکھیں؛ لیکن ہر کمرے کی لوکیشن فرق کرتی تھی۔ مثلاً ایک کمرے کا روشندان تھوڑا سا بڑا تھا جس کی وجہ سے اس کمرے میں زیادہ ہوا آتی تھی؛ ایک کمرے کی دیواروں میں رطوبت اور نمی تھی، ایک کمرے میں کوئی روشندان ہی نہیں تھا؛ یا ۔۔۔ اس وجہ سے ہم نے برابری قائم کرنے کیلئے، کچھ قوانین بنائے ہوئے تھے کہ ہر شخص کو  ہر جگہ رہنے کے بدلے میں کچھ نمبر دیئے جاتے اور اس طرح سے ہم نے کمروں میں باریاں لگائی ہوئی تھیں تا کہ سب لوگ اُس کی اچھائی اور برائی سے استفادہ کریں۔

جو افراد ساتھ رہتے تھے اُن کے اندر عام طور سے اخلاقی موافقت پائی جاتی تھی؛ اس کے باوجود ایسے ساتھی جو فطری طور پر زیادہ  با اخلاق تھے تو زیادہ تر لوگ ان کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے؛ اور اس طریقہ نے اچھا اثر ڈالا؛ چونکہ لوگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے عیبوں اور اخلاقی برائیوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔

رات کو دروازے بند ہوجانے کے بعد، آخر کے کمروں میں کھڑکی اور روشندان نہ ہونے کی وجہ سے ہوا کی کراسنگ بالکل بند ہوجاتی تھی اور قواعد کے مطابق، کسی کو بیٹھنے یا کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

کبھی بجلی بھی چلی جاتی تھی؛ خاص طور سے گرمیوں میں کہ پنکھا بھی نہیں ہوتا تھا اور اگر دروازہ بند ہوجائے جو سکون کا واحد ذریعہ تھا، ایسے میں واقعاً جہنم کی طرح لگتا تھا ، ایسے میں ہم لوگ بغیر حرکت کے صرف اپنی جگہ پر لیٹے رہتے اور دعا کرتے کہ جلدی سے بجلی آجائے۔ گرمیوں میں ایک رات ہم پر اتنا مشکل وقت پڑا کہ ایک ساتھی نے اپنے ناخن سے دروازے کے نچلے حصے کو کھودنا شروع کردیا اور وہاں تھوڑا گڑھا سا بنالیا۔ پہلے خود اُس نے ، پھر ایک ایک کرکے باقی افراد نے سانس لینے کیلئے اپنی ناک اور منہ کو اُس سے ملایا  اور کچھ سیکنڈوں تک گہری سانسیں لیں۔ وہ گڑھا کچھ عرصے تک باقی رہا اور ہم کبھی کبھار اُس میں پانی ڈال دیتے تاکہ شاید اس طرح سے ماحول تھوڑا سا ٹھنڈا ہوجائے۔

ٹیوب لائٹ ہونے کی وجہ سے ہمیں کبھی لائٹ اور روشنی کے بارے میں مسئلہ نہیں ہوا؛ لیکن ہوا کے بارے میں ہمیشہ ہمیں مشکل کا سامنا ہوا۔ بار بار کہنے سے، کبھی  کھڑکی کو ایک اینٹ کے اندازے کے برابر بڑا کردیتے اور وہ اس معاملے میں بہت سخت تھے۔ اسی وجہ سے جب ہوا کھانے کا وقت نزدیک ہوتا تو ہم سب صحن میں کھلنے والے  دروازے  کے پاس لائن لگا کر کھڑے ہوجاتے  اور دروازہ کھلتے ہی فوراً صحن میں چلے جاتے  اور ہوا کھانے کے آخری وقت تک احاطے میں چہل قدمی کرتے رہتے۔

کھڑکی کھولنے اور ضروری ہوا کا انتظام کرنے کے بارے میں ہمارے مطالبات بھوک ہڑتال تک پہنچ گئے؛  لیکن ہم زیادہ تر اس بات کو ترجیح دیتے تھے کہ دشمن کسی بھی معاملے میں ہمارے اندر کمزوری محسوس نہ کرے؛ کیونکہ وہ اُسی چیز کو ہمیشہ ہمارے خلاف ایک حربہ کے طور پر استعمال کرتا تھا۔

ہماری ایک اوربڑی مشکل، ڈاکٹر اور علاج معالجہ کا مسئلہ تھا؛ خاص طور سے ملٹری پولیس کے زندان میں داخل ہونے کے اوائل میں ہم بہت مشکلات کا شکار تھے۔

بار بار اور مسلسل  مطالبات کرکے کہ جس میں تقریباً  ایک سال کا عرصہ لگا، آخر میں انھوں نے کہا:

-  آپ لوگوں کو جس دوائی کی ضرورت ہے وہ لکھ دیں تاکہ ہم آپ لوگوں کیلئے لے آئیں؛ لیکن کسی بھی صورت میں ڈاکٹر لانا ممکن نہیں ہے۔

کوئی چارہ نظر نہیں آرہا تھا؛پس "ڈاکٹر کاکرودی" جو بحری افواج کے ڈاکٹر تھے اور تیسری عمارت میں رہتے تھے اُن کے مشورے اور تاثرات جاننے کے بعد کیمپ کے انچارج کے ذریعے ضروری اور احتمالی دوائیوں کی  ایک لسٹ تیار کرکے عراقیوں کو دیدی گئی۔ ڈاکٹر کاکرودی کا تعاون بہت اچھا تھا اور ہم نے جب بھی اُن سے رہنمائی کرنے کی درخواست کی، انھوں نے بہت صبر، حوصلہ اور دقت کے ساتھ ہمیں اپنا وقت دیا  اور ہم نے جب بھی ان سے براہ راست یا کسی واسطہ سے اُن سے رابطہ کیا، اُن کے بابرکت وجود سے بہت زیادہ فیض اٹھایا۔

جیسا کہ یہ کام مستقل ہوگیا تھا لہذا  ایک ساتھی نے ہینڈ بیگ کی طرح ایک بہت ہی خوبصورت بیگ  بنایا اور اُس کے اندر مختلف حصے بنا دیئے جو دوائیاں رکھنے کی جگہ تھیں۔ اسی طرح اُس کے پاس ایک لسٹ تھی جس میں شخص کا نام اور دوائی کی نوع اور مقدار لکھی جاتی۔البتہ حالات خاص طور سے ڈاکٹر کاکرودی کے  وجود سے ہمارے لیے رضایت بخش تھے؛ کیونکہ اگر ڈاکٹر صاحب خود بھی آجاتے، وہ زیادہ کام انجام نہیں دے سکتے تھے اور انھوں نے انجام نہیں دیا۔ بعد میں عملی طور پر بھی ایسا ہی ہوا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد، ایک ڈاکٹر کو زندان کیلئے مخصوص کردیا گیا جو کبھی کبھار ہمارے پاس آتا، درد اور اینٹی بائیوٹک گولیاں تجویز کرکے تمام بیماریوں  کا ایک ہی طریقے سے علاج کرتا ۔ البتہ ہر طبقے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کس وجہ سے، لیکن آخری سالوں میں ایک دانتوں کا ڈاکٹر، کچھ عرصہ تک ہمارے علاج کیلئے زندان آتا تھا اور وہ خود اکیلا زیادہ  وسائل نہ ہونے کے باوجود کئی گھنٹوں تک  کافی زحمت کرتا اور حوصلہ اور وقت لگا کر تمام افراد کے دانتوں کی حالت کو چیک کرتا۔ چونکہ اُس سے پہلے ہم نے جس کو بھی دیکھا تھا وہ صرف دانتوں کو کھینچ لیتے اور بس؛  لیکن وہ واقعاً دانتوں کی حفاظت کیلئے اپنی پوری کوشش اور صلاحیت سے کام لیتا تھا اور اکثر ساتھیوں کے دانت باقی رہنے کی وجہ ، اس خدا پسند ڈاکٹر کی زحمات کے مرہون منت ہے۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 540


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – نویں قسط

میں اُس حال میں کہ موٹر سائیکل سوار رہنما کے پیچھے حرکت کر رہا تھا اور ایسے راستے سے گزر رہا تھا جو سرحدی پٹی کے ساتھ بنا ہوا تھا، یہ بات میرے لئے قابل یقین نہیں تھی کہ میں نے اسلامی جمہوری ایران کی سرزمین پر قدم رکھا ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔