امام خمینی رح کا ترکی میں قیام

بورسا شہر کے لوگ انہیں "بابا" کہہ کر پکارتے تھے

الہام صالح
ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2019-02-03


کیپچولیشن کے تصویب ہوتے ہی، امام خمینی رح نے اس کے تصویب ہونے کے خلاف پہلوی حکومت پر کڑی تنقید کی جس کے نتیجے میں آپ کو ملک بدر کرکے ترکی بھیج دیا گیا۔

کیپچولیشن کا قانون دراصل امریکی مشیروں کو قانونی حیثیت دینے کے لئے ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۴ کو تصویب کیا گیا۔ پہلوی حکومت کو اس سلسلے میں امام خمینی رح کی مخالفت کے بارے میں علم تھا اسی لئے انہوں نے امام خمینی رح کے پاس ایک شخص کو بھیجا تاکہ امام خمینی رح کو اس مسئلے پر قانع کیا جاسکے اور امام خمینی رح کو امریکہ کے خلاف گفتگو کرنے سے روکا جاسکے۔

امام خمینی رح نے پہلوی حکومت کے کمزوری پکڑ لی تھی اسی لئے اپنی ایک تقریر میں آپ نے کہا کہ امریکی صدر جان لے کہ آج ہمارے ملک میں وہ ایک منفور ترین شخص ہے، آج قرآن اس کا دشمن ہے، ملت ایران اسکی دشمن ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا بل پارلیمنٹ میں لے کر گئے ہیں۔۔۔۔۔ اگر ایک امریکی نوکر، ایک امریکی باورچی، آُ کے مرجع تقلید کا سر عام قتل کردے ، اسے اپنے پیروں تلے روند بھی دے تو بھی ایران کی پولیس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا اس کام سے روکے۔۔۔

امام خمینی رح کی یہ تقریر، اعلانیہ اور تقریر کا متن بڑے پیمانے پر چھاپ کر پورے ایران میں ارسال کردیا گیا۔ پہلوی حکومت کے اہلکار آدھی رات کو قم میں واقع امام خمینی رح کے گھر میں گھسے اور ایسی حالت میں گرفتار کرلیا کہ جب وہ دعا و مناجات میں مشغول تھے۔ سیکیورٹی فورسز انہیں رات ہی میں مہر آباد ایئرپورٹ لے گئے۔

اس رات کے واقعات کو بہت سارے افراد نے نقل کیا ہے۔ خود امام خمینی رح نے اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:

" مجھے ایک چھوٹی والکس ویگن سے کہ جو تنگ گلی ہونے کی وجہ سے لائی گئی تھی، ایک بڑی گاڑی میں منتقل کردیا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد گاڑی میں منتقل کیا اور تیزی سے قم کی شاہراہوں پر سے گذرتے ہوئے تہران کی سمت روانہ ہوگئے، لیکن وہ لوگ مسلسل اپنے پیچھے اور آس پاس دیکھتے جارہے تھے اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیوں خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہو؟ کہنے لگے: ہمیں ڈر ہے کہ کہیں لوگ ہمارا پیچھا نہ کررہے ہوں، چونکہ عوام آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔

امام خمینی رح کو مہر آباد ایئرپورٹ منتقل کردیا گیا جہاں سے انہیں ترکی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ امام خمینی رح کو ترکی منتقل کرنے کے لئے ایک کارگو جہاز لایا گیا تھا جس نے امام خمینی رح کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔

" ہوائی جہاز تیار تھا۔ ہوائی جہاز کے اندر گئے تو دیکھا کہ ایک کونے میں کمبل بچھائے گئے ہیں اور ہمارے بیٹھنے کی جگہ کو مرتب کیا گیا ہے، پتہ چلا کہ یہ کارگو ہوائی جہاز ہے۔ بتایا گیا کہ کیونکہ عام ہوائی جہاز دستیاب نہیں تھے اس لئے یہ جہاز لانا پڑا۔ ہم آپ کو اس ہوائی جہاز سے لے جارہے ہیں تاکہ یہ کام اپنے وقت پر انجام پاجائے۔ میں نے ان سے کہا نہیں ۔۔۔ تم مجھے اس لئے اس جہاز سے لے کر جارہے ہو تاکہ مجھے عوام کے درمیان میں سے نہ گذارنا پڑے۔"

امام خمینی رح کو ملک بدر کئے جانے کی خبر پورے ایران میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عوام نے بازار اور مسجدیں بند کردیں۔ پہلوی حکومت نے غصے میں آکر تہران کے مشہور و معروف تاجروں کی دکانوں کو سیل کردیا اور حتیٰ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بعض مومنین کی دکانوں میں چھتوں سے گھس کر لوٹ بھی لیا گیا۔

ترکی میں امام خمینی رح کو مختلف ہوٹلوں میں رکھنے کے بعد بالآخر انہیں بورسا نامی بندرگاہ منتقل کردیا گیا جو انقرہ کے مغرب میں واقع ہے۔ امام خمینی رح نے وہاں کاغذ اور قلم مانگا تاکہ ترکی زبان سیکھ سکیں۔ اپنے ایک خط کے زریعے انہوں نے ایران سے صحیفہ سجادیہ بھی منگوایا تھا۔

آپ بورسا میں ڈیڑھ مہینے تک تنہا رہے اور اسکے بعد پہلوی حکومت نے آپ کے صاحبزادے آیت اللہ مصطفیٰ خمینی رح کو بھی ملک بدر کرکے ترکی بھیج دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ امام خمینی رح کو سیاسی اور مذہبی فضا سے دور کردیں لیکن امام خمینی رح ترکی میں بھی روزانہ چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ یہ بات پریشانی کا سبب بنی۔ حکومت چاہتی تھی کہ روحانی لباس نہ پہننے کے بہانے سے امام خمینی رح کو گھر میں محبوس کردے لیکن امام خمینی رح نے انکی شرط قبول کرکے عام لباس میں لوگوں کےدرمیان آنا جانا شروع کردیا۔

پہلوی حکومت کے تصورات کے برخلاف امام خمینی رح نے ترکی میں بھی اپنے بہت سارے دوست بنا لئے حتیٰ بورسا کے عوام امام خمینی رح کو باب کہہ کر پکارنے لگ گئے تھے۔ امام خمینی رح تقریبا ایک سال ترکی میں رہے۔ آُپ نے وہاں کتاب تحریر الوسیلہ تحریر کی۔ آپ کو ایک سال بعد ترکی سے آپ کے صاحبزادے سمیت عراق تبعید کردیا گیا۔



 
صارفین کی تعداد: 333


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔