دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – تینتیسواں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-02-02


ہم اس بات سے غافل تھے اور ہمیں بہت تعجب ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ریڈیو کی تلاش میں تھے اور وہ سوچ رہے تھے کہ شاید ریڈیو سب سے سینئر فرد  کے کمرے میں ہوگا یعنی محمودی کے کمرے میں؛وہ اس بات سے غافل تھے کہ اُس رات، خدا بخش (ریڈیو) کمرہ نمبر ایک میں تھا اور رات کے بارہ بجے دروازے بند ہوجانے کے بعد بابا جانی کے ذریعے لے لیا گیا تھا۔ اتفاق سے صبح کے وقت بھی بابا جانی ریڈیو پر ایک تقریر سن رہے تھے کہ نگہبان کے اچانک آجانے کی وجہ سے لوگوں نے تمام چیزوں کو فوراً جمع کرلیا۔ تفتیش کے وقت کچھ لوگ سوراخ سے پیش آنے تمام مسائل کو دیکھ رہے تھے۔

محمودی نے اُن سے تھوڑے تیز لہجے میں بات کی کہ آپ لوگ کیوں دیر سے آئے ، ہماری نماز قضا ہوگئی؟ اور آپ اس وقت ، صبح ہی صبح کیوں تفتیش اور چیکنگ کرنا چاہتے ہیں؟۔۔۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ نگہبان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی اور وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔

پریشانی اور اضطراب کی لہر ہم سب کے وجود میں دوڑ گئی؛ برے حالات کا احساس ہو رہا تھا۔ اُن لوگوں کو کس طرح شک ہوا تھا؟ ایسے حالات میں خدا بخش کو بچانا کس طرح ممکن ہوگا؟ اُس وقت ہمارے ذہن میں کوئی بات نہیں آرہی تھی؛ سوائے اس چیز کے کہ ہم خدا سے مدد مانگیں اور ہم نے مانگی! پروردگارا! جو چیز تو نے خود ہمیں دی اور اب تک سنبھال کر رکھی، اب بھی تو خود ہی اُس کی حفاظت کر!

وہ جس وقت لوگوں کے جسمانی تفتیش کر رہے تھے، دو نگہبان کمرے میں داخل ہوئے، اُن کے کمرے اور سامان کی مکمل طور پر تلاشی لی، تمام چیزوں کو زیر و رو کرکے رکھ دیا۔ ایسی وضعیت میں، ایسا لگ رہا تھا کہ حتماً ہمارے ہاتھوں سے ریڈیو چلا جائے گا؛ مگر ۔۔۔ صرف ایک راستہ اور ایک اُمید باقی تھی؛ اگر خدا نہ چاہے۔

کمرہ نمبر ایک کے افراد نے، فوراً کمرے کے وسائل کو جمع اور منظم کرنا شروع کردیا، اور اُسے معمولی حالت میں واپس لے آئے اور ریڈیو کو ایک بیمار بھائی کے پیر کے نیچے– کہ جس کے پیر میں کوئی مسئلہ تھا اور وہ چلنے سے معذور تھا -  چھپا دیا۔ تفتیش کے وقت، دو لوگوں نے، ایک نے پاؤں کی طرف سے اور دوسرے نے ہاتھوں کی طرف سے پکڑ کر اُسے اوپر کی طرف اٹھایا اور باہر لے آئے۔ ایسی حالت میں نگہبانوں کیلئے جسمانی تفتیش کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن بہرحال ان تینوں افراد کی مکمل جسمانی تفتیش انجام پائی۔

سب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے  اور سب کو معلوم تھا کہ ایک نمبر گروپ کو خدا بخش کو کمرے سے باہر نکالنا چاہیے؛ اُن کے باہر آنے اور وہ – چھپی ہوئی- مسکراہٹ جو اُن کے لبوں پر موجود تھی، ہم نے سکون اور خدا کے شکر سے بھرپور ایک لمبی سانس لی اور ہم سب مطمئن ہوگئے کہ خدا کے لطف و کرم سے مسئلہ خیریت کے ساتھ نمٹ گیا۔

بہرحال جس طرح بھی ہوا، اُنھوں نے بہت دقت سے کمروں کی تلاش لی اور انہیں جس جگہ کا بھی گمان ہوا، انھوں نے اُس جگہ کو تہس نہس  کر کے رکھ دیا ۔ بعد میں جب وہ نا اُمید ہوچکے تو بہت ہی تعجب اور اُداسی کی حالت میں آہستہ سے بولے:

-  عجیب ہے ! پھر کہاں ہے؟!

انھوں نے خالی ہاتھ واپس جانے سے بہتر سمجھا کہ اپنے ساتھ دعا کی کتاب، کچھ لکھی ہوئی تحریریں، اور ہاتھ سے بنی کچھ چیزیں جیسے چاقو وغیرہ اپنے ساتھ لے جائیں۔

ہم سب اندر واپس آگئے؛ ہر چیز کو اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ہم کچھ گھنٹوں تک اپنے سامان کو اِدھر سے اُدھر اور منظم کرنے میں مصروف رہے۔ وہ بھائی جس کے پاس ریڈیو تھا، وہ قسم کھا کرکہہ رہا تھا کہ جسمانی تفتیش کے وقت نگہبان کا ہاتھ خدا بخش پر لگا   تھا۔ اس کے باوجود کہ ریڈیو ایک ٹھوس ، سخت اور مشخص چیز ہے، لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ اُس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا۔

ہم سب اس بات پر متفق تھے کہ بغیر کسی شک و تردید کے خدابخش موجود ہونے والی بات کسی نہ کسی طرح باہر نکلی ہے! ہم نے سب سے پہلا کام جو انجام دیا، یہ تھا کہ ہم نے اُسے فوراً پلاسٹک کی تھیلی میں لپیٹ کر ، اُس کی مخصوص جگہ  پر رکھا دیا، وہ جگہ حمام میں تھی اور ایک معمولی انسان سے تھوڑی بلند جگہ پر ایک روشندان تھا، جہاں ہم نے ایک سوراخ بنایا ہوا تھا اور وہاں پر ایک دریچہ تھا، کوئی بھی اتنی آسانی سے اُس جگہ کو ڈھونڈ نہیں سکتا تھا۔ ہم نے اُس کے اوپر بھی پلاسٹک ڈال دی اور پلاسٹک کے اوپر صابن، صابن دانی، ٹوتھ برش وغیرہ سجاوٹ کے عنوان سے رکھ دیئے، تاکہ کسی کو بھی شک و گمان نہ ہو۔ خدا بخش کو چھپانے اور سنبھال کر رکھنے کی جگہ کے منصوبہ کو  ایک "برادر" نے میری تجویز پر بنایا تھا۔

ہم نے چند میٹنگیں رکھیں جس میں اس بات پر صلاح و مشورت ہوئی کہ عراقیوں کو کس طرح سے ریڈیو کے بارے میں خبر ملی؟ ہمیں اپنی طرف سے پورا اطمینان تھا؛ پس بقیہ دو عمارتیں رہ جاتی تھیں اور ڈاکٹر پاک نژاد کا گروپ جو چند سال پہلے ابو غریب میں، ریڈیو والے قضیہ کے بارے میں جانتے تھے۔ کچھ وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر کے گروپ کا کام نہیں ہوسکتا تھا؛ پس اسی زندان میں کچھ ایسے مسائل پیش آئے تھے کہ شاید جس کی وجہ  سے ریڈیو کی موجودگی کی خبر باہر نکلی ہے۔

ہم نے اکثر لوگوں کی رائے معلوم کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دوسری دو عمارتوں والوں کو یہ بتائیں؛ چونکہ نگہبان صبح کے وقت غافل کردینے والے انداز میں تفتیش کیلئے آئے تھے، ہم نے اس لیے کہ ریڈیو کی خبر فاش نہ ہوجائے اور اُس سے پہلے کہ وہ اُسے ڈھونڈ لیں، ہم نے اُسے پیروں سے ریزہ ریزہ کردیا اور اُس کے ٹکڑوں کو کمرے کے مختلف کونوں میں، بیگوں کے اندر اور اسی طرح کھڑکی کے سوراخوں میں تقسیم کردیئے  تاکہ ریڈیو رکھنے کی وجہ سے اُن کے شک میں مبتلا ہونے اور اُس کے سخت نتائج نکلنے پر ہم سب امان میں رہیں۔

اگلے دن، کیمپ کے انچارج نے ہوا کھانے کے وقت – دروازے کے پیچھے سے – اچانک ہونے والی تفتیش اور خدا بخش کے ریزہ ریزہ ہونے کی داستان دونوں عمارت والوں کیلئے بیان کی۔ البتہ اُن لوگوں نے نہ اُس وقت نہ اُس کے بعد، کبھی بھی ہماری بات پر یقین نہیں کیا اور کئی عرصے بعد ہم سے کہا: ہمارا یقین کرنا ممکن نہیں تھا کہ آپ لوگوں نے خود اپنے  ہاتھوں سے خدا بخش کو نابود کردیا ہو اور وہ کتنا سچ بول رہے تھے۔

عراقیوں نے اُس دن صبح کے بعد بھی، ریڈیو کو ڈھونڈنے کیلئے دوسرے اقدامات بھی انجام دیئے؛ مثلاً چند مرتبہ بغیر کسی مقدمے ، بغیر بتائے اور اچانک سے  چیکنگ اور تفتیش کیلئے آگئے اور با دقت اور باریک بینی سے، تمام جگہ کی تلاشی لی اور اُنہیں کچھ نہیں ملا۔

ایک دن ایک نیا ڈاکٹر نگہبان کے ساتھ زندان کے اندر آیا؛ یہ شخص جس نے یونیفارم والی پینٹ اور سفید رنگ کا کورٹ پہنا ہوا تھا، سپاٹ اور سیاہ چہرے کا مالک، بہت اچھی طرح سے فارسی میں بات کر رہا تھا۔ اُس نے بہت خوش اخلاقی اورمہربانی سے کہا:

-    میں ڈاکٹر ہوں ، میں آپ لوگوں کی پریشانیوں کے حل کیلئے آیا ہوں۔

یہ بات ہمارے لیے بہت عجیب سی تھی، کیونکہ ماضی میں ہم نے جتنی بھی کوشش کی، حتی ایک دفعہ بھی ڈاکٹر نہیں آیا، لیکن اس وقت اُن کی دوستی اور محبت پھول نچھاور کر رہی تھی اور وہ ہمارے لیے ایک مہربان اور فارسی بولنے والا ڈاکٹر لے آئے تھے!

نگہبان نے اُسے اکیلا چھوڑا اور چلا گیا۔ اُس نے ہر کمرے میں چکر لگانے کے بعد، سب سے بات کی اور وضاحت دی کہ:

-  میں اس زندان کا ڈاکٹر بن گیا ہوں اور میں ہفتہ میں دو یا تین مرتبہ آپ لوگوں کے پاس آیا کروں گا!فی الحال چونکہ ہم نے میڈیکل اسٹور نہیں بنایا ہے اور پہلے سے کوئی میڈیکل اسٹور نہیں تھا، اُس کے بننے تک ممکن ہے کہ میں آپ کو کوئی دوائی نہ دے سکوں۔

اُس نے اپنی باتوں کے ضمن میں بتایا:

- میرا باپ عراقی بعث پارتی کا مخالف تھا اور میں بھی صدام کے شدید مخالفوں میں سے ہوں۔ میں آپ لوگوں سے بہت لگاؤ رکھتا ہوں اور میں آپ لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، آپ میرے ساتھ پرسکون اور مطمئن رہیں اور آ پ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بتائیں۔ ڈاکٹر آپ لوگوں کا رازدار ہے۔ آپ لوگوں کی ہمت اور حوصلہ بہت اچھا ہے کہ جسے دیکھ کر بہت تعجب ہوتا ہے؛ آپ لوگوں نے کس طرح اتنے بلند حوصلہ کو حاصل کیا؟ یہ بات میرے لیے کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں، واقعاً دلچسپ ہے  اور میں مختلف جگہوں پر آپ کے تجربات سے استفادہ کرسکتا ہوں۔

ایک مہینے تک اُس کی رفت و آمد جاری رہی۔ جب وہ اندر داخل ہوتا، خیریت دریافت کرنے کے بعد، وہ محمودی سے پوچھتا:

-  نئی خبر کیا ہے؟!

بغیر نگہبان کے ڈاکٹر کا وجود اور یہ کہ حتی وہ ایک دفعہ بھی ہمارے لیے دوائی لایا ہو، نیز اُس کا ہمیشہ کرنے والا سوال "نئی خبر کیا ہے؟" ہمارے لیے بہت تعجب اور سوال اٹھانے والی بات تھی۔ وہ جو کہ آزاد ہے اور اُسے دنیا کی خبروں کے بارے میں پتہ ہے، وہ مسلسل ہم سے کیوں پوچھتا ہے نئی خبر کیا ہے؟

خوش قسمتی سے ہم اپنی قید کے تمام سالوں میں، اس فکر کے ساتھ انھیں دیکھتے تھے کہ تمام عراقی دشمن ہوتے ہیں اور ان  میں سے ہر ایک بعث پارٹی کا ممبر ہوسکتا ہے اور الحمد للہ اس دفعہ بھی ہم نہ کچھ بولے اور نہ ہی کوئی حادثہ پیش آیا۔

تقریباً دس دنوں تک، ہم نے خدا بخش (ریڈیو) کو  اُس کی مخفی گاہ سے باہر نہیں نکالا۔ اُس وقت بہت زیادہ احتیاط اور دقت کے ساتھ، نگہبان بٹھا کر، ہم نے داستان (خبروں) کی فریکوینسی لگانا شروع کی اور چند دنوں کے بعد، تفسیر اور تقریر کو معمول کے مطابق سننے لگے اور ہر چیز اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھنے لگی۔

شاید تقریباً چھ مہینے بعد یا ایک سال گزر گیا تھا اور اس مدت کے دوران، دونوں عمارت والے باتوں ہی باتوں  میں ہم سے کبھی کبھار خبروں کے سننے کے بارے میں بات کرتے، لیکن انہیں ہمارے شدید انکار کا سامنا کرنا پڑتا۔

ایک دن دوسری عمارت والے نے ہمیں خبر دی کہ وہ لوگ چھت پر چکر لگانے والے ایک نگہبان کا ریڈیو اٹھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن اُس کے سیل نہیں ہیں۔ انھوں نے ہم سے سیل مانگے تھے یا یہ کہا کہ ہم انہیں سیل بنانے کا طریقہ بتا دیں، یا وہ لوگ ہمارے گروپ کو ریڈیو دیدیں اور گزشتہ کی طرح، ہم مطالب لکھ کر اُن تک پہنچائیں۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 456


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔