دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – بتیسواں حصّہ

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-02-02


اس مسئلہ پر بہت ہی زیادہ بحث ہوئی؛ ہر گروپ اپنی فکر اور رائے کیلئے دلیل اور منطق سے بات کرتا۔ ہم تمام لوگوں کے درمیان ووٹنگ کرانے پر مجبور ہوگئے  اور اس کے نتیجے میں داستان (خبریں) سننے والا نظریہ بہت کم اختلاف کے ساتھ جیت گیا۔ البتہ سب لوگوں نے اس ووٹنگ کے عمل کو قبول کیا ؛ لیکن  مطالب ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے جو اُدادی چھا گئی تھی ہم اُس کو چھپا نہیں سکے تھے؛ کیونکہ اتنے بہتر حالات میں کہ حتی ہم مطالب کو یاد بھی کر سکتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ اُس پر عمل کیا جاتا، ہمارے ہاتھ سے ایک بڑی نعمت چلی گئی تھی۔

بہترین مطالب سے محروم ہونے کی فکر  اور اُداسی  نے لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ سیل بنانے کا اقدام کریں؛ اس طرح سے؛ ایک بہت ہی محنتی اور باہمت ہنرمند فرد  جس کا نام "سھیلی" تھا جس نے پہلے خود اقدام کیا ہواتھا اور پھر  بعد میں دوسرے بھائیوں کے تعاون سے ہم اب سیل بنانے میں کامیاب ہوگئےتھے۔

سیل  بنانے کی کہانی اس طرح سے شروع ہوئی کہ برادر سھیلی نے ایک دن عربی اخبار – کہ کبھی کبھار ہمارے لیے لاتے تھے – میں پڑھا تھا  کہ ایک شخص ایک خراب آلو سے سیل بنانے میں کامیاب ہوا ہے  اور اس نے ایک سیل والی گھڑی کو چلا دیا ہے!یہ بات الہام ہونے کے بعد کہ جسے خداوند متعال نے ہمارے راستے و فکر میں قرار دیا تھا، پہلے تو ہم نے نگہبان سے کچھ مقدار میں خراب آلو مانگے کہ جس کیلئے وہ راضی نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے، سھیلی نے مجبور ہوکر وہاں پر موجود دوسری چیزوں پر اپنے تجربات کرنا شروع کر دیئے۔ وہ تجربے کیلئے کبھی کھانے کو رکھ دیتا تاکہ وہ کٹھا ہوجائے! کبھی دہی سے استفادہ کرتا، کبھی انگور یا کھجور سے، اور کبھی انار کے چھلکے سے۔ اس نے انار کے چھلکوں کو گھی کے ایک خالی ڈبے میں ڈالا اور اُس میں تھوڑا سا پانی ڈالنے کے بعد، اُسے چند دنوں تک یوں ہی پڑے رہنے دیا۔ پہلے ہی تجربہ میں، ریڈیو کی تاریں انار کے چھلکے سے ملتے ہی، قطب کی مثبت اور منفی سوئی کو سیٹ کرنے میں ہم متوجہ ہوگئے کہ ریڈیو خر خر کر رہا ہے اور دوسری چیزوں کے ساتھ جو تجربہ کیا تھا، اس دفعہ والے تجربہ میں اس کی آواز نسبتاً زیادہ  ہے۔

پورے ہفتے میں، ہمیں ایک یا دو مرتبہ موسمی پھل دیا جاتا کہ اگرچہ اُس کی تعداد زیادہ نہیں تھی، لیکن جسم کی ضرورت کی مطابق ویٹامن پورا کرنے کیلئے تقریباً کافی ہوتا تھا۔ انار کے موسم میں سھمیہ کے عنوان سے شاید  دس انار دیتے تھے  کہ انار کے چھلکے کا را ز کشف ہونے کے بعد، ہم نے انار کے تمام چھلکوں کو دقت سے جمع کیا اور اُسے خشک کرلیا اور اُس کے بعد اس طرح سے کہ شک نہ ہو، اُسے جیب یا  مختلف کمروں میں سنبھال کر رکھا جاتا۔

اس دفعہ  جوش و جنون کے ساتھ، ہم نے پانچ عدد کین ایک سرکٹ کی صورت میں ایک دوسرے سےمتصل کردیئے۔ عمارت میں وائرنگ کیلئے جن کاپر تاروں کو استعمال کیا گیا تھا اور جو اضافی تھیں، ہم نے انہیں ایک قطب اور خود کین سے دوسرے قطب کے عنوان سے استفادہ کیا ۔ کام مکمل ہونے والے دن، نئے تجربے  کے کامیاب ہونے کی خبر تمام افراد میں خوشی کے ساتھ منتشر ہوئی۔ موضوع کے اعتبار سے یہ توفیق کوئی چھوٹی اور معمولی توفیق نہیں تھی۔ اسی کی وجہ سے ہم سب لوگوں کو خوشی اور سرور میسر ہوا۔

دوسرے ساتھیوں نے بھی سیل بنانے کیلئے کوششیں  انجام دیں؛ جیسے بابا جانی چونکہ وہ برقی آلات کی تعمیر اور بجلی کے کام سے آگاہی رکھتے تھے، موجود وسائل جیسے ٹیوب لائٹ کا  اسٹارٹر ، تار اور کچھ تعداد میں دوسری چیزیں، جن سے کنورٹر بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ اس سے استفادہ کرکے بجلی کے ۲۲۰ واٹ کو  کم کرکے ریڈیو کیلئے استعمال کیا جائے؛ لیکن متاسفانہ اُن کی کوشش کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔

جب سے نئی "ب" (بیٹری) کی کشف و ایجاد انجام پائی تھی، ریڈیو سے کامل مطالب – تفسیر، تقریر اور خطبہ – داستان (خبروں) کے ساتھ مکمل طور پر ہر روز سنے جانے لگے۔

البتہ نئے "ب" کو بنانا اور اس کی حفاظت کرنے میں بہت سے مسائل تھے اور ایک گروپ اُس کی پیداوار بڑھانے میں مسلسل کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ انار کے چھلکے دوسری عمارتوں سے بھی لینے پڑتے تھے  اور اس ترتیب کے ساتھ کہ کسی نگہبان کو شک نہ ہو، اُسے خشک کیا جاتا اور پھر اُس کے بعد اسے باریک باریک کرکے  منظم طریقے سے پیک کرکے ایک محفوظ جگہ پر سنبھال کر رکھ دیا جاتا۔ ٹین کے کین بہت جلدی خراب ہوجاتے تھے اور وہ مناسب کام کیلئے صحیح نہیں تھے؛  اور ادھر سے نیا اور صحیح کین  حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ خام مال کو پانی کے ساتھ مخلوط کرنا، اُسے روزانہ ہلانا، اُسے نچوڑنا اور بدلنا، ان سب کا دوسرے موارد میں شمار ہوتا تھا کہ اس کام کیلئے دوسرا گروپ مخصوص  تھا۔ کام ختم ہونے کے بعد، کین کے اندر موجود تاروں  – جن سے ایک قطب کے عنوان سے استفادہ کیا جاتا تھا -  کو باہر نکالنا پڑتا، انہیں دھونے اور صاف کرنے کے بعد اُن کی مخصوص جگہوں پر حفاظت کی جاتی۔

سب لوگ اس بات سے بہت زیادہ خوش تھے؛ ہمارا ایجادات کرنے والا بھائی اُسی طرح اپنی ایجاد کی ترقی اور پیشرفت میں مگن تھا؛ چونکہ بڑے ٹین کے ڈبوں کو کمرے میں رکھنے سے شک ہوسکتا تھا اور دوسری طرف سے داستان سننے کے وقت، اُنہیں فوراً سے خالی کردینا یا چھپا دینا ممکن نہیں تھا۔

تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد مختلف تجربات اور برادر سھیلی کی کافی زحمات کے بعد، ایک خوبصورت اور ہلکی سی بیٹری بنی، چھ چھوٹے کین – سوکھے دودھ کے کین کے برابر – جو اُسی پہلے والے "ب" کے کام  کو انجام دے سکتے تھے۔  پھر ان چھ کینوں کو ایک چھوٹے سے گتے کے کارٹن میں رکھ  دیا گیا جو کسی گاڑی کی بیٹری کے برابر ہوگی تاکہ جلدی سے اٹھا کر اِدھر اُدھر چھپائی جاسکے۔ دراصل اس بیٹری بنانے کے پورے عمل میں سھیلی کی کامیابی، ہم سب کیلئے ایک بڑی توفیق سمجھی جانے لگی۔

نئی بیٹری کی تکمیل اور اُسے کام میں لینے کے بعد، اب ریڈیو سے تمام مطالب  حاصل کرنے میں ہمارے لیے کوئی محدودیت نہیں تھی؛ سوائے نگہبانوں کے کہ وقت کے اعتبار سے ہماری کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہم ایسے وقت کا انتخاب کریں جس میں اسٹیشن  آسانی سے پکڑ لے کہ عام طور سے رات کو بہترسگنلز آتے تھے  اور دوسری بات یہ کہ عراقیوں کی طرف سے بھی زیادہ خطرہ نہیں رہتا تھا۔

برادر صیاد بورانی کی سربراہی میں ایک گروپ تھا جن کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ نوٹ بک کی صورت میں کاغذ فراہم کریں، اس گروپ میں موجود ہنرمند افراد یہ کام انجام دیتے۔ یہ لوگ اخباروں کو پڑھ لینے کے بعد جمع کرلیتے تھے اور اُن کے اطراف میں موجود خالی جگہوں کو کاٹ لیتے اور اُن کی کچھ تعداد کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر ایک طرف سے سوئی دھاگے سے سی لیتے۔ یہ چھوٹی نوٹ بک – کیسٹ کی چوڑائی کے برابر –  جیسا رجسٹر بن جاتی کہ بابا جانی اس پر داستانیں اور دوسرے  مطالب لکھنے کیلئے  اس سے استفادہ کرتے۔

اس طرح کاغذ کی ان چھوٹی چھوٹی پٹیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیتے پھر انہیں سی لیتے  اور پانچ پٹیوں کا ایک کاغذ بن جاتا۔ ان صفحات کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر  ان کے آخری حصے کو سی لیتے تاکہ اس طرح سے ایک سو یا دو سو صفحات پر مشتمل کاپی بن جائے۔ یہ کاپی ایک اسٹینڈرڈ کتاب کی طرح تھی، مطالب لکھنے کیلئے فاؤنٹین پین سے استفادہ کیا جاتا اور اس طرح ایک قیمتی کتاب کی صورت میں سامنے آتی۔

فاؤنٹین پین کے بارے میں بھی کہ جسے گزرے سالوں میں ہمارے ایک بہت ہی اچھے بھائی جن کا نام "سلمان" تھا، انھوں نے اپنی خلاقیت اور ٹوٹے بلب اور ڈرپ  جمع کرکے آخر میں ایک بہت ہی خوبصورت  فاؤنٹین پین بنالیا تھا  کہ جس سے مطالب کو لکھا جاتا تھا۔ سلمان نے ایک ایک فرد کیلئے خاص طور سے فاؤنٹین پین بنایا تھا۔

سیاہی بنانے کیلئے ایک بہت فعال ساتھی نے، بہت دنوں تک مشقت اور صبر سے کام لیا، سگریٹ کے چمکیلے کاغذ کو ایک دستی چراغ  کے سامنے پکڑ کر رکھتے تاکہ آہستہ آہستہ اُس پر دھواں چپک جائے، اُس نے چند دنوں تک مسلسل یہ کام انجام دیا  اور حاصل ہونے والے دھوئیں کو اُسی انار کے چھلکے سے حاصل ہونے والے مائع میں ڈال دیتا ، جس کے نتیجے میں ایک گہرے رنگ کی با کیفیت سیاہی حاصل ہوتی۔

خداوند متعال کے لطف و کرم سے لطف جو ہمارے شامل حال ہوا تاکہ ہمیں مکمل طریقے سے روحانی غذا  ملتی رہے ، یہ تھا کہ ہمارے ایک بھائی نے اُُنہی شروع کے دنوں میں جب ہم ابی وقاص زندان میں منتقل ہوئے تھے، اُس عمارت کے دروازوں، دیوارں اور سوراخوں میں جستجو کرکے، ایک کتابچہ ڈھونڈ لیا تھا جس کے اندر مفاتیح الجنان کی دعائیں موجود تھیں۔ اس کتابچہ کے اندر امام سجاد علیہ السلام کی روح پرور دعائیں اور مناجات تھیں کہ اس میں دعائے کمیل، دعائے افتتاح اور کچھ اور دعائے  کا اضافہ ہوکر یہ ایک بہت ہی زبردست ، خوبصورت اور قیمتی مجموعہ بن گیا تھا۔ تمام افراد کو دعاؤں کا یہ مجموعہ اتنا پسند تھا کہ اس دیکھ کر لکھا جانے والا نسخہ ہمارے پاس زندان میں آخری وقت تک رہا۔ آدھی رات کے وقت، جب ہم نماز شب کیلئے کھڑے ہوتے تھے، یا ۔۔۔ اس دلنشین دعائی مجموعہ سے دعائیں پڑھتے تھے  اور اپنے خدا سے راز و نیاز اور مناجات کرتے تھے اور آنسو ۔۔۔ الحمد للہ۔

ہمیں زندان سعد بن ابی وقاص میں آئے ہوئے ایک سال کا عرصہ ہو رہا تھا۔ ایک دن صبح جب ہم نماز کیلئے اٹھے، نگہبان ہماری عمارت کا دروازہ کھولنے کیلئے نہیں آیا؛ کبھی وہ سوتا رہ جاتا ، یا بھول جاتا۔ وہ طلوع آفتاب کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، کچھ دوسرے افراد کے ساتھ آیااور معمول کے برخلاف کہ اُسے اندر آنے کے بعد، سب سے پہلے دروازے کو کھولنا چاہیے تھا، وہ سیدھا راہداری کے آخر میں گیا اور آخری کمرے سے کہ جو محمودی اور کچھ دوسرے لوگوں کا کمرہ تھا، وہاں سے شروع کیا: اُس نے اُن سے حکم چلانے کے انداز میں کہا:

-  ایک ایک کرکے باہر نکلو، ہم تمہیں لوگوں کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 210


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔