دفاع مقدس میں محمد رضا رمضانیان کے واقعات

مورچوں کی تعمیرات سے لیکر انجینئرنگ ٹیکنیکل یونٹ کی کمانڈنگ تک

احمد رضا امیری سامانی

مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2019-01-12


مارشل انجینئرنگ ٹیکنیکل یونٹ کا شاید بہت سارے عام افراد کو تعارف نہیں لیکن جنگی علاقوں کے آس پاس رہنے والے افراد اس نام سے بخوبی آشنا ہیں کیونکہ تمام جنگی آپریشنز میں اس ہنر کا کردار کلیدی رہا ہے۔ جنگ کے دوران کی تمام تر حکمت عملیاں صرف اور صرف مورچوں کی کھدائی اور قلعہ اور مٹی کے ٹیلے  بنانا ہی نہیں تھیں بلکہ مارشل انجینئرنگ ٹیکنیکل یونٹ ہمیشہ ہر میدان میں باقی تمام سپاہیوں سے ایک قدم آگے رہا ہے۔ جنگی مورچوں کو اس یونٹ  کے افراد اپنی جان پر کھیل کر بناتے تھے یعنی بغیر کسی سیکیورٹی کے یہ لوگ  میدان جنگ میں جاتے  اور دشمن کے بالکل سامنے جاکر کھدائی کرکے مٹی کے ٹیلے کھڑے کرتے، وہ ٹیلے جہاں سپاہی لڑنے کے ساتھ ساتھ پناہ اور حفاظت میں بھی رہیں۔ بلڈوزرز اور لوڈرز کے ڈرائیور حضرات ان سرخ اور زرد گولوں کو اپنے آنکھوں سےمشاہدہ کرتے جن کا نشانہ ایرانی سپاہی ہوتے تھے۔

واقعہ نگاری اور زبانی تاریخ کے ذمہ دار اِداروں نے آج تک بے شمار قیمتی آثار پیش کئے ہیں جو دفاع مقدس  کی جنگ میں لڑنے والے آفیسرز اور سپاہیوں کی شجاعت کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن ان لڑنے والوں کی پشت پناہی کرنے والے یونٹ سے متعلقہ افراد کا تذکرہ بہت ہی کم ہوا ہے۔ کتاب D-8 میں انہی گمنام افراد میں سے ایک مردِ میدان سے ہمیں تفصیلی تعارف حاصل ہوگا۔ ایک ایسا شخص جس نے ہمیں کسی بھی قسم کے دکھلاوے سے بالاتر ہوکر وہ تمام کہانی سنائی جو اس کے ساتھ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ پیش آئی۔ اس نے یہ آپ بیتی سنانے کے لئے ہمیں اپنے بلڈورز پر سوار کیا اور ایران کے مغربی اور جنوبی جنگی علاقوں میں پھرایا تاکہ ہم قریب سے جنگ کو اس کے زوایہ نگاہ سے مشاہدہ کریں۔

اٹھارہ گھنٹوں پر مشتمل ہماری یہ گفتگو ہے جو جناب محمد رضا رمضانیان سے ایک طویل ملاقات پر ہوئی۔ جناب محمد رضا رمضانیان صاحب چودہویں امام حسین علیہ السلام ڈویژن کے اس ٹیکنیکل یونٹ کے کمانڈر رہے ہیں۔  رمضانیان صاحب نے دفاع وطن کی جنگ کا آغاز کردستان سے کیا اور شہید حاج حسین خرازی، شہید عبد الرزاق زارعان، شہید منصوری جیسے کمانڈر کے ساتھ رہے اور الحاج حسن فتاحی جیسی بزرگ شخصیت سے بھی فیضیاب ہوئے اور پھر چودہویں امام حسین علیہ السلام ڈویژن  کے اس جنگی ٹیکنیکل یونٹ کے کمانڈر بنے۔

کتاب کے  حوالے سے جو انٹرویوز  ہیں وہ سن ۲۰۱۴ اور سن ۲۰۱۵ میں لئے گئے ہیں۔ یہ انٹرویوز محمد اُفقری صاحب نے لئے اور پھر اس کتاب کو "زبانی تاریخ نویسی" کے انداز میں تدوین کیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ انٹرویوز کی افادیت کو باقی رکھنے کے لئے راوی کے کلام کو من و عن محفوظ رکھا گیا ہے۔ ہاں البتہ کچھ ضروری مقامات پر نوک پلک سنوارنے اور اجنبی اصطلاحات سے پرہیز کی خاطر معمولی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ قاری کی فکر زیادہ سے زیادہ حقیقت سے قریب تر رہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ "D-8" ہے کیا اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ درحقیقت یہ ایک بلڈوزر"کیٹر پلار D-8 " ہے جو راستے بنانے اور معدنیات نکالنے والی ہیوی مشینوں میں سے ایک ہے۔ اس کو ۱۹۳۵ میں بنایا گیا اور ابھی تک کئی بار اس میں فنی پیشرفت اور مثبت تبدیلیاں لانے کا کام جاری  رہا ہے۔ D-8 کے کئی ماڈل بنے جو A سے لیکر T تک کے ناموں کے ساتھ چلتے رہے اور اُن میں سب سے آخری ماڈل T  ہے جو ۲۰۱۸ میں بنایا گیا۔ دفاع مقدس کی جنگ میں بہت زیادہ کام آنے والے بلڈوزر D-8   (K اور H سیریل کے ) تھےاس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا قد بھی چھوٹا تھااور ان کے بلیڈ بھی کافی چوڑے تھے اور ان کے ڈرائیورز بھی کافی حد تک گولوں سے محفوظ رہتے تھے  اور نیز ان کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان کے انجن ۲۷۰ سے ۲۸۰ ہارس پاور تک کے تھے اور زیادہ بڑے بھی نہیں تھے جس کی وجہ سے یہ پھرتیلے زیادہ تھے ان کی  مینٹیننس کم اور تعمیراتی کام آسان تھے انہی تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی فرنٹ لائن پر مورچہ سازی اور ٹیلے بنانے کی غرض سے بلڈوزر  D-8 کا  انتخاب کیا گیا تھا جس سے بڑھ کر اچھا انتخاب موجود نہیں تھا۔ (یہ تمام فنی معلومات، بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ سے لی گئی ہیں)

یہ کتاب جناب علی ہاشمی کے قلم سے تدوین ہوئی جو ایک عرصے سے دفاع مقدس سے مربوط واقعہ نگاری اور زبانی تاریخ سے وابستہ ہیں۔ ہاشمی صاحب نے اس کتاب کو بارہ فصلوں میں تقسیم کیا اور ہر فصل میں ایک سے دو جنگی آپریشنز کو راوی کے زاویہ نگاہ سے تحقیقی مرحلہ سے گزارا ہے۔ ہاشمی صاحب "بی  بی جان" اور "ابو درداء" جیسے قیمتی آثار کے مالک ہیں۔ اس کتاب کی ہر فصل کو مختلف جنگی آپریشنز اور جنگی علاقوں کا نام بھی دے سکتے تھے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دقت اور ظرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کتاب کی فصلوں کو محمد رضا رمضانیان کی زندگی، معیار اور میدان جنگ میں ان پر طاری رہنے والی کیفیت کے مطابق عناوین سے مزین اور ترتیب  کے ساتھ یہ عناوین بخشے: وقت کا پہیہ، آزمائش کا وقت، عبد الرزاق کا عروج، عشق کی تپش، ایک نگاہ سرحدوں پر، حسن کی شہادت، صرف کام، عشق کا زخم، شرف پانے کی توفیق، اونچی زمینیں، آغاز کا انجام اور اسناد۔

کتاب کا متن سوال جواب کی صورت میں ہے اور علی ہاشمی نے مبہم نکات کے حل اور سوالات کے جوابات کے لئے ذیلی حاشیے کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب آغاز سے ہی بنا کسی اضافی بحث کے براہ راست محمد رمضانیان کی زندگی کو اُجاگر کرتی ہے۔ پہلی فصل "وقت کا پہیہ" میں راوی کا بچپن دکھائی دیتا ہے اور پھر نوجوانی میں ہی بھاری گاڑیوں کے تعمیرات جیسے سخت کام ان کو کرنے پڑتے ہیں۔

دوسری فصل میں "آزمائش کا وقت" ہے اور محمد رضا اپنی جوانی کے ایام میں ہی جنگی علاقے کردستان کی طرف رفت سفر باندھ لیتے ہیں اور اپنی خواہش کے باوجود جنگی تربیت پانے اور اسلحہ اٹھانے کی بجائے چھاؤنی کے ٹیکنیکل ڈپارٹمنٹ میں فرائض انجام دینے لگتے ہیں لیکن تقدیر انہیں لوڈرز اور بلڈورز پر بٹھا کر عراقیوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ رمضانیان "دو کوہہ" چھاؤنی ٹرانسفر کے بعد اب رفتہ رفتہ چودھویں امام حسین علیہ السلام ڈویژن کے انجینئرنگ اور ٹیکنیکل سیکشن کی طرف آنے لگتے ہیں اور یوں وہ پہلی بار بیت المقدس آپریشن میں لوڈر اور بلڈوزر پر سوار ہوکر دشمن سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

اگلی فصل کا نام "عبد الرزاق کا عروج" ہے جس میں رمضان آپریشن میں ان کے دوست اور کمانڈر عبد الرزاق زارعان کی شہادت کا بیان ہے۔ "عشق کی تپش" میں محرم آپریشن ہے، "ایک نگاہ سرحدوں پر" میں و الفجر آپریشن کا ابتدائی مرحلہ ذکر ہے پھر پہلے و الفجر، دوسرے و الفجر، چوتھے و الفجر اور خیبر آپریشن کا تذکرہ ہے۔

چھٹی فصل میں انجینئرنگ یونٹ کے کمانڈر حسن منصوری کی شہادت کا بیان ہے۔ کمانڈر حسن کی شہادت ایک ایسا سانحہ تھا جو اس یونٹ کے لئے قابل تلافی نہیں تھا۔ اگلی فصل "صرف کام" کے عنوان سے ہے جس میں راوی نے خیبر اور بدر آپریشنز کے دوران کے واقعات ذکر کئے ہیں اور جیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہے۔ اُس دوران انجینئرنگ یونٹ کی بٹالین کو سخت دن گزارنا پڑے جو تہران اور اہواز میں تربیت اور کام، نیز جوہڑوں پر پل بنانے اور لوڈر اور بلڈوزر سے کام کرنے کی پریکٹس سے عبارت ہیں۔ پریکٹس بھی ایسی لاجواب کہ جس نے بدر آپریشن میں ہر مشکل کو مشکل میں ڈال دیا۔ لیکن محمد رضا رمضانیان کو اسی آپریشن میں "عشق کا زخم" سہنا پڑا اور وہ زخمی ہو گئے۔ اس "عشق کے زخم" اور پھر مکہ مکرمہ کی زیارت کا "شرف پانے کی توفیق" جیسے عوامل کا نتیجہ یہ نکلا کہ رمضانیان صاحب کربلائے ۵ آپریشن کے وقت، موقع پر موجود نہ تھے بلکہ آپریشن کے خاتمہ کے بعد تشریف لائے اور الحاج حسن فتاحی کے زخمی ہونے کی خبر ملی اور یوں الحاج حسین خرازی کی درخواست پر چودھویں امام حسین ؑ ڈویژن کے انجینئرنگ یونٹ  کی سپہ سالاری ان کو قبول کرنا پری اور کچھ ہی دنوں کے بعد حاج حسین خرازی بھی جام شہادت نوش کر گئے۔ اب D-8 کی روایت میں جس چیز کا بیان  ہے وہ دسویں کربلا آپریشن میں کردستان اور بانہ کی بلند و بالا اور "اونچی زمینیں" ہیں اور آخر میں آخری فصل ہے جس کا عنوان "آغاز کا انجام" ہے اس فصل میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرارداد نمبر ۵۹۸ تک صدام کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ جاری رہی۔

کتاب D-8 ، ۲۳۸ صفحات پر مشتمل ہے جو بم، لوہے اور تباہی جیسے انوکھے واقعات سے بھری پڑی ہیں اور قاری کے لئے ان حساس لمحوں کو مجسم کرتی ہے جو بلڈوزروں اور لوڈروں پ بیٹھے ڈرائیوروں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس کتاب کو سن ۲۰۱۸ کے موسم گرما میں اسپانہ پبلکیشنز نے زیور طباعت سے آراستہ کرکے بازار کی زینت بنایا۔



 
صارفین کی تعداد: 119


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں