یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2019-01-10


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۲  نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس تقریب میں حسین وحدتی، پروین کریمی اور امیر سعید زادہ نے عراق کی اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے زمانے میں اپنے واقعات کو بیان کیا۔

کٹھن ایام کے بہادر مرد

پروگرام کے پہلے راوی، دفاع مقدس کے سالوں میں امام حسن (ع) بریگیڈ میں  میڈیکل ڈپارٹمنٹ کے کمانڈر حسین وحدتی تھے۔ ان کا شمار اُن پہلے فوجیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اُس زمانے میں نرسنگ کا کورس مکمل کیا۔ حسین وحدتی نے کہا: "میری گفتگو خیبر آپریشن کے واقعات کے بارے میں ہے۔ خیبر آپریشن، ھور الھویزہ والے علاقے میں انجام دیا گیا۔ ھور ایسا علاقہ تھا جس میں تقریباً دو سے تین میٹر پانی موجود تھا۔ اس کے اندر بانس کے درخت اُگ گئے تھے  اور اُسے ھور الھویزہ کہتے تھے۔ اُس سے اوپر والے علاقے کا نام ھور العظیم تھا۔ ھور الھویزہ کی لمبائی بہت زیادہ ہے اور اُس کی چوڑائی ہمارے ساحل سے لیکر عراق کے ساحل تک تقریباً ۴۵ کلومیٹر ہے۔ ہم امام حسن (ع) بریگیڈ میں ڈیوٹی انجام دینے میں مشغول تھے۔ بریگیڈ کے زیادہ تر لوگ  جنوب کے افراد تھے؛ بھبھان کے افراد، کچھ شوش کے افراد  اور کچھ اہواز کے لوگ۔ میں پہلے سے اہواز میں ڈیوٹی انجام دے رہا تھااور میں جو تجربہ رکھتا تھا اُس کی بنیاد پر،  اس علاقے میں میری ڈیوٹی کو مشخص کردیا گیا۔ جب ہمیں ہمارے مشن کے بارے میں بتایا گیا، ہم کمانڈروں کے ساتھ گئے تا کہ ہمیں علاقے کا تعارف کروایا جائے۔ اُس علاقے میں کوئی پرندہ پر نہیں مارتا تھا، سنسان اور خالی تھا۔ ہم تقریباً ۲۰ لوگ تھے۔ طے پایا ۴۸ گھنٹوں کے اندر ھور الھویزہ والے علاقے میں داخل ہوکر آپریشن شروع کردیں۔ یعنی خیبر آپریشن کی خصوصیات میں سے ایک، دشمن کی غفلت سے استفادہ کرنا تھا۔ شاید ابتدائی کامیابی کی ایک وجہ اسی غفلت سے استفادہ کرنا تھا۔

جب ہمیں یہ مشن سونپا گیا تو  اس سے کچھ دن پہلے، ہم آبادان کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جس وقت ہمیں مشن سونپا گیا اُسی کے ساتھ ساتھ شہروں  میں بھی جنگ شروع ہوگئی۔ شہروں میں ہونے والی جنگ میں عراق ہمارے شہروں پر مسلسل میزائل برسا رہا تھا لیکن ایران نے کبھی بھی جوابی کاروائی نہیں کی، یہاں تک کہ ایران بھی اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہوگیا  اور دھمکی دی کہ اگر ہمارے شہروں پر دوبارہ  حملے کئے تو ہم بھی مقابلہ کریں گے۔ جب عراق نے ایران کی دھمکی پر کوئی توجہ نہیں دی تو ایران نے بھی فوراً حملے کرنا شروع کردیا،  لیکن ہمارے پھینکے جانے والے بمبوں کی تعداد کہاں اور عراق کی طرف سے پھینکے جانے والے بمبوں کی تعداد کہاں؟ عراق نے آبادان کا ملیا میٹ کردیا تھا؛ یعنی ۲۴ گھنٹوں کے اندر جب ہم آبادان میں بمباری کے سایہ میں تھے، عراق نے جنگ کے آغاز سے لیکر اُس وقت آبادان کو  تہس نہس کردیا تھا۔ اُس زمانے میں ہماری ڈیوٹی ھور الھویزہ میں تھی۔ ہم اپنے کام کی جگہ پر پہنچنے کیلئے فوجیوں اور وسائل کو سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے،  لیکن ہمیں بہت زیادہ زخمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت میں ہمارا آپریشن اُسی جگہ سے شروع ہوگیا تھا۔ ہمیں یونٹ کے زخمیوں کے علاج کے ساتھ ساتھ  اپنے آپریشن والے علاقے کی طرف بھی حرکت کرنا تھی۔ ہم نے پہلے ۲۴ گھنٹوں میں اپنے فوجیوں، وسائل  اور ساز و سامان کو امیریہ چھاؤنی  میں منتقل کیا  کہ جس کا بعد میں بریگیڈ کے کمانڈر شہید غلامی کے نام پر نام رکھا گیا۔ دوسرے ۲۴ گھنٹوں میں پورا یونٹ کاروان کی صورت میں شہید غلامی چھاؤنی سے ھور الھویزہ میں شَتَلی نامی علاقے میں چلا گیا۔ وہ جگہیں جنہیں ہم نے اپنے یونٹ کو ٹھہرانے کیلئے نظر میں رکھا ہوا تھا تاکہ ہم وہاں پر اپنا ایمرجنسی کیمپ لگائیں، وہ بھر چکی تھیں۔ سوئی گرانے تک کی جگہ نہیں تھی اور اُس کے اطراف کی تمام زمینیں اُن فوجیوں سے بھر چکی تھیں جنہوں نے وہاں آکر مستقر ہونا تھا۔ مختلف یونٹس ایک دوسرے کے ساتھ گھس گھس کر ٹھہرے ہوئے تھے جو شاید فوجی نکتہ نگاہ سے ایک بہت بڑا عیب تھا۔ اگر ہمیں بھی کوئی جگہ ملتی تو ہم بھی وہیں ٹھہر جاتے لیکن ہم دو تین کلومیٹر دور جانے پر مجبور ہوگئے اور ہم نے اپنے ایمرجنسی وارڈ کے ٹینٹ وہاں سے دور والے علاقے میں لگائے۔ امنیت کے پیش نظر ٹینٹوں کے ساتھ اونچے مورچے بنائے گئے کہ کم از کم اطراف سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔اسی دوران جب ہم ایمرجنسی کیمپ لگا رہے تھے، فوجی، کشتیوں پر سوار ہوکر آپریشن والے علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔

ہمارا یونٹ خیبر آپریشن میں تھا اور یہ علاقہ بھی خیبر آپریشن والے علاقے کا ایک حصہ تھا۔ ہمارے یونٹ نے دو جگہوں سے کام شروع کیا؛ ایک وہ جگہ جہاں کے سامنے والے حصے سے صرف کشتی کے ذریعہ رابطہ ہوتا اور وہاں پر البیضہ اور الصخرہ نامی دو گاؤں تھے اور وہ جگہ جہاں ہم صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعہ رابطہ کرتے، اُس جگہ کا نام خندق ہائی وے تھا۔ اس ہائی وے کا نام بعد میں خندق رکھا گیا تھا اور ہم شروع میں اُسے پیڈ یا ہائے وے کہا کرتےتھے۔ ہم اس حصے میں صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنا جانا کرتے  اور اپنے فوجیوں کو سپورٹ کرتے تھے۔ پہلا موقع میسر آتے ہی ہمارے اختیار میں ہیلی کاپٹر دیدیا گیا تاکہ  ہم ایمرجنسی کیمپ کیلئے ضروری وسائل اور  امدادی سامان کو اُس میں چڑھا ئیں۔ ۲۲ فروری ۱۹۸۴ والے دن فوجیوں کو آپریشن والے علاقے میں اُتارا گیا  اور ایک پرواز ہمارے اختیار میں  بھی دیدی۔  خندق ہائی وے تقریباً پانچ کلومیٹر کا تھا۔ اُس کا ایک سرا عراقی سرزمین سے ملتا تھا  اور دوسرا سرا ھور تک پہنچتا تھا۔ ہم نے اپنے کارکنوں کو ہائی وے کے آخر میں اور ھور کی طرف اُتارا۔ ہم نے اپنے ایمرجنسی کیمپ بھی وہیں پر لگادئیے۔ جب کارکنان ایمرجنسی کیمپ لگانے میں مصروف تھے، وہ تمام افراد جن کا تعلق ریلیف پوسٹ سے تھا وہ ضروری وسائل کے ساتھ اُس سرحدی لائن کی طرف جا رہے تھے، جسے سپاہیوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ اُس آپریشن میں عراق نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا کہ ایران ھور کا ۴۵ کلومیٹر فاصلہ طے کرکے اُس طرف والے علاقے پر قبضہ کرلے گا۔ عراق ھور کو ڈھال اور قدرتی رکاوٹ سمجھ رہا تھا کہ یہاں سے عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ واقعاً ایسا ہی تھا کہ بہت سے فوجی مسائل کے لحاظ سے ھور سے عبور کرنا ممکن نہیں تھا۔ شاید عراق نے اس بارے میں صحیح اندازہ لگایا ہوا تھا لیکن ہمارے جنگ لڑنے والے مردوں نے ثابت کر دکھایا تھا کہ وہ توقع سے ہٹ کر بھی کام بھی انجام دے دسکتے ہیں۔افواج بہت آسانی اور بہت کم زخمیوں کے ساتھ عراقی  ساحل پر قبضہ کرنے میں کامیاب اور وہاں پر مستقر ہوگئی تھیں۔ ہم نے بھی اپنے ریلیف کیمپ کو اُس علاقے میں مستقر کردیا۔ حالات بہت ہی پرسکون تھے، میں ایمرجنسی والے حصے کی طرف واپس آیا۔ ہم لوگ ایمرجنسی کیمپ کیلئے حتی بلڈ بینک بھی لائے ہوئے تھے اور کافی مقدار میں خون مہیا کیا ہوا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں جاکر عقبہ کی صورت حال کی تحقیق کروں اور جلال قادری  جو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں جانشین تھا، وہ میری جگہ علاقے میں مستقر ہوگیا۔ جب میں واپس آیا تو رات ہوچکی تھی۔

اگلے دن عقبہ میں ہم ایک عجیب منظر سے روبرو ہوئے۔ عقبہ میں ہمارے محاذ پر دوسرے یونٹ بھی مستقر ہوگئے تھے  اور صورت حال بہت ہی دشوار اور کٹھن  تھی۔ ہمیں اچانک پتہ چلا کہ اس حصے میں نئے حادثات پیش آنا شروع ہورہے ہیں۔ ہم عراق کی طرف سےکی جانے والی کیمیائی بمباری  کی زد میں تھے۔ عراق نے کلی طور پر مختلف جگہوں پر کم مقدار میں کیمیائی بمباری کرنا شروع کردی تھی لیکن وسیع پیمانے پر جہاں سب سے پہلی مرتبہ حملہ کیا، وہ ھور الھویزہ میں شتلی کا مقام تھا۔ البتہ  ہم نے آپریشن سے پہلے اس چیز کا اندازہ لگا لیا تھا  کہ ہم پر کیمیائی بمباری ہوسکتی ہے اور ہم نے کچھ وسائل کا انتظام اور کچھ چارہ جوئی کی ہوئی تھی۔ آلودگی دور کرنے والے مخصوص بیگز فوجیوں کے اختیار میں دیدیئے گے اور ایمرجنسی کیمپ کے دروازے پر  کچھ دوائیاں رکھ دی گئی تھیں۔ حتی ہم نے کیمیائی بموں کو بجھانے کیلئے ضروری مشینوں کا بھی انتظام کیا ہوا تھا لیکن وہ کافی نہیں تھیں۔ ایک مشین آکر کیمیائی بم کو ناکارہ بناتی اور دوسری طرف سے لوڈر آتا اور دھواں پھیلانے والے بم پر کچھ مٹی ڈالتا۔ اس کیمیائی بمباری کی وجہ سے تمام امدادی کارکنان آلودہ ہوگئے تھے۔ وہ واحد جگہ جہاں اُن لوگوں کی مدد کی جاسکتی تھی، وہی ایمرجنسی کیمپ تھا جو ہم نے تھوڑے فاصلے پر لگایا ہوا تھا۔ اُس ایمرجنسی کیمپ میں جہاں تک ہوسکتا تھا  کیمیائی بم سے زخمی ہونے والوں کو ابتدائی دوائیاں دی گئیں اور اُنہیں وہاں سے پیچھے بھیج دیا گیا۔ جب میں اُس ایمرجنسی کیمپ میں گیا تو میں نے دیکھا آلودگی بہت زیادہ ہے۔ میں نے کہا کیمپ پر پڑے پردوں کو اوپر کی طرف کردو تاکہ ہوا کراس ہو اور کیمپ کے اندر موجود آلودگی میں کمی آجائے۔ چونکہ سپاہی آلودہ جسم کے ساتھ ایمرجنسی کیمپ کے اندر آگئے تھے  اور وہ جگہ آلودگی پھیلانے کا مرکز بن چکی تھی۔ اس صورت حال میں، مجبوراً تمام امدادی کارکنان کو عقبہ بھیجنا پڑا۔ مستقل درخواستوں کی  وجہ سے، اہواز کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ  سے دوبارہ ضروری افراد کو بھیجا  گیا اور  ہم اُنہیں اُن کی جگہ جایگزین کرسکے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں خندق ہائی وے پر جاکر دیکھوں کہ وہاں کی کیا خبر ہے۔ جب میں حرکت کرنا چاہ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ تین ہیلی کاپٹر اترے ہوئے ہیں۔ ان ہیلی کاپٹروں پر چڑھانے کیلئے تین چھوٹے ٹرک بھر کے اسلحہ و بارود لایا گیا تھا تاکہ سرحدی لائن پر موجود افراد کو بھیجا جائے۔ اس سے پہلے جب کبھی ہیلی کاپٹر نیچے بیٹھتا تھا، وہاں سامان چڑھانے کیلئے سو لوگ تیار ہوتے تھے  لیکن اُس وقت وہاں ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں اور چھوٹے ٹرکوں کے ڈرائیور کے علاوہ کوئی نہیں  تھا۔ ہم نے ہیلی کاپٹر پر سامان چڑھانے میں ڈرائیوروں کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ جب پائلٹ حضرات حرکت کرنا چاہ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ ہر ہیلی کاپٹر کے ساتھ ایک آدمی کو ضرور آنا پڑے گا ورنہ ہم پرواز نہیں کریں گے۔ دو ڈرائیوروں کے ساتھ میں بھی ہیلی کاپٹروں میں سوار ہوگیا اور پائلٹوں کو پرواز کرنے پر راضی کرلیا۔

جب ہم آپریشن والے علاقے میں پہنچے، ہم نے  دیکھا کہ صورت حال خراب ہے  اور فوجوں نے مجبور ہوکر عقب نشینی کرلی  ہے؛ کیونکہ اس طرف سے سپورٹ کرنے والا یونٹ تباہ ہوچکا تھا۔ دوست احباب اس بات پر شاید مجھے ٹوکیں کہ میں عقب نشینی کے بارے میں کیوں بات کر رہا ہوں۔ جنگ میں عقب نشینی بھی ہے اور آگے بڑھنا بھی ہے، اس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ہمیشہ  پیش قدمی کے واقعات کے بارے میں باتیں کرتے رہیں۔ بتایا جانا چاہیے کہ اگر ہم نے خیبر آپریشن میں مجنون کے شمالی اور جنوبی جزائر پر قبضہ کرلیا تھا تو کچھ جگہوں پر  جیسے اس جگہ پر سپورٹنگ یونٹ کے تباہ ہوجانے کی وجہ سے  ہم عقب نشینی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ بعض جگہوں پر صحیح وقت پر عقب نشینی کرنا بھی ایسی کامیابیوں میں شمار ہوسکتا ہے کہ جس کا اندارج کرنا چاہیے۔ اس عقب نشینی  کرنے سے ہمیں بہت سے تجربے حاصل ہوسکتے ہیں۔ جب ہیلی کاپٹر نیچے بیٹھ گئے اور ہم نے ان پر لدھے سامان کو اتارنا چاہا، بعض لوگ ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کیلئے جلدی کر رہے تھے۔ تمام لوگوں کا حوصلہ برابر نہیں تھا؛ بعض لوگوں کے حوصلے بلند تھے اور ہم شاید زور زبردستی کرکے اُنہیں پیچھے بھیج سکتے تھے اور بعض لوگوں میں برداشت نہیں تھی اور وہ فوراً علاقے سے نکل جانا چاہتے تھے۔ ہم نے بہت مشکل سے سامان اُتارا اور میں خود بھی نیچے اتر گیا۔ ایک موقع پیش آیا تو میں نے جناب قادری سے کہا کہ آپ سوار ہوکر پیچھے چلے جائیں۔ وہ رکنے  کیلئے اصرار کر رہے تھے، میں نے اُنہیں جانے کیلئے راضی کرلیا۔ جیسے ہی اُن تین ہیلی کاپٹروں نے پرواز کرنا چاہی، عراقی طیارے آگئے اور اُن پر گولیاں برسا دیں۔ اس دوران ایک ہیلی کاپٹر کو آگ لگ گئی۔ طیاروں نے بم نہیں گرائے صرف اُن پر فائرنگ کی تھی، اسی وجہ سے صرف اُس ہیلی کاپٹر کے بالائی حصے پر آگ لگی تھی۔ جیسے ہی آگ لگی اُس ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ، اُس کا مددگار پائلٹ اورسوار ہونے والے سپاہی نیچے اتر گئے۔ وہ دوسرے دو ہیلی کاپٹروں پر سوار ہوکر پرواز کر گئے۔ ہیلی کاپٹر جب زمین سے اوپر اٹھ رہے تھے تو کچھ لوگوں کے پیر اُس کی ر کاب پر تھے اور انھوں  نے ہاتھوں سے ہیلی کاپٹر کے د روازے کو پکڑا ہوا تھا اور اُن کے دروازے بند نہیں ہو رہے تھے۔ کسی نہ کسی طرح ہیلی کاپٹر زمین سے اوپر اٹھ گئے۔ جب وہ پانی کے اوپر سے گزر رہے تھے تو عراقی طیارے اُن پر فائر کر رہے تھے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے اور اُن کی گولیاں ہدف پر نہیں لگیں۔ تمام سپاہیوں نے اس منظر کا مشاہدہ کیا۔ ہیلی کاپٹرز چلے گئے۔ وہاں پر تقریباً سو زخمی تھے اور کچھ تعداد دوبارہ بھی زخمی ہوگئی، ہم نے اُن کی دیکھ بھال کی۔ جہاں تک ممکن ہوتا طبی عملہ اُن کیلئے ضروری کاموں کو انجام دیتا تھا۔

میں وہاں پر مستقر بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر عبد العلی بہروزی کے پاس گیا۔ میں نے اُن سے کہا کہ وہ رابطہ کریں اور سپاہیوں کو پیچھے بلانے کیلئے  ہیلی کاپٹروں کی درخواست کریں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تو مشکل لگتا ہے کہ ہیلی کاپٹرز دوبارہ یہاں واپس آئیں۔ میں نے اُن سے کہا کم سے کم رابطہ تو کریں۔ ہم ایک گھنٹےتک  اُمید و نا اُمیدی کی حالت میں رہے کہ ہیلی کاپٹرز واپس آگئے۔ یہاں پر پائلٹوں نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ وہ کٹھن ایام کے بہادر مرد ہیں۔ پہلی والی پروازیں بہت معمولی تھیں لیکن اس کے بعد سے معاملہ بالکل بدل چکا تھا کیونکہ اُنھوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ عراقی طیاروں نے کیسے ایک ہیلی کاپٹر کو مارا اور یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ عراقی طیارے راستے بھر اُن پر فائرنگ  کرتے رہے۔ ہم پائلٹوں کی مدد سے دو تین پروازوں کے اندر  زخمیوں کو پیچھے لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ ہم نے سپاہیوں سے بھی کہا کہ پہلے ہم زخمیوں کو پیچھے لے جاتے ہیں اُس کے بعد وہ لوگ سوار ہوکر پیچھے جائیں۔ سپاہیوں نے بھی یہاں پر سخت ایام میں اپنی استقامت اور جدوجہد کا مظاہرہ کیا۔ ہم ایک ایسے ہائی وے پر تھے کہ جس کا ایک سرا عراق میں اور دوسرا سرا ھور کے پانی میں تھا۔ ادھر سے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہر پرواز کے بعد، دوسری پرواز بھی ہوگی یا نہیں۔ اُس وقت تک کشتی سے بھی کوئی رابطہ نہیں تھا  اور ہمارے رابطہ کا واحد ذریعہ فضائی راستہ تھا۔ فوجیوں نے ہماری درخواست پر عمل کیا اور زخمیوں کے بعد جانے تک صبر سے کام لیا ۔ وہ لوگ زخمیوں کو ہیلی کاپٹر میں منتقل کرنے میں مدد کر رہے تھے۔ میں اُس زمانے میں ایک ۲۱ سالہ جوان تھا جو ان کاموں اور ان انتظامات کو سنبھال رہا تھا۔ میری یہ بات کہنے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جوانوں نے جنگ کے زمانے میں کس قدر خوبی سے انتظامات کو سنبھالا ہے۔ یہ جوان ہی ہیں جو ملک کی مشکلات کو حل کرسکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ میں بہت بہادر ہوں اور میں پیچھے واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔ میں بھی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ اُس صورت حال سے باہر نکلوں لیکن میں یہ نہیں کرسکتا تھا کہ زخمیوں چھوڑ کر  پہلی ہی پرواز سے واپس آجاتا۔ ہم نے سب لوگوں کو بھیج دیا اور اب صرف چار زخمی رہ گئے تھے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اگلی پرواز میں سب کی جگہ ہوجائے گی اور سب بھیجے چلے جائیں گے، لیکن متاسفانہ اُس کے بعد کوئی پرواز نہیں ہوئی۔

غروب کا وقت تھا اور ہمارے ساتھ سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد اور چار زخمی باقی رہ گئے تھے۔ ایسی صورت حال میں کہ جب اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہو ہیلی کاپٹر کا آنا شاید منطقی نہیں تھا۔ میں کمانڈر کے پاس گیا تو انھوں نے بتایا کہ رابطہ کیا ہے  اور کشتی کا آنا طے ہوا ہے۔ جب میں زخمیوں کے پاس واپس آیا تو پتہ چلا کہ ایک کشتی پہنچ گئی ہے اور ہمیں زخمیوں کو سوار کرکے لے جانا چاہیے تھا۔ ہم اُنہیں کشتی کی طرف لے گئے اور اُنہیں کشتی پر سوار کیا۔ وہ ایک پلاسٹک کی ہوا بھرنے والی  کشتی تھی۔ جب ہم اُس میں بیٹھے، پانی کشتی کے کناروں تک آچکا تھا، اگر ہم ہلتے تو شاید پانی کشتی کے اندر بھی آجاتا۔ ڈوبنے کی پریشانی کے ساتھ مجبوراً آگے بڑھے۔ تقریباً ایک کلومیٹر حرکت کرنے کے بعد ہم ایک چوراہے تک پہنچے۔ ھور میں پانی کے راستے بنے ہوئے تھے اور جھاڑیاں اس طرح اُگی ہوئی تھی جیسے اُس میں راستے بنے ہوں۔ اُس میں شمالی، جنوبی، شرقی اور غربی راستے تھے۔ جب ہم پہلے چوراہے پر پہنچے، کشتی چلانے والے نے مجھ سے پوچھا کہ کس طرف جانا ہے؟  میں نے اُس سے کہا کشتی کے ملاح تم ہو تمہیں خود پتہ ہونا چاہیے کہ کس طرف جانا ہے۔ جب اُس نے یہ سوال پوچھا، میں نے سوچا کہ وہ عقبہ سے آگے آیا ہے اور یہ کشتی زخمیوں کو پیچھے لے جانے کیلئے  ہمارے اختیار میں دی گئی ہے۔ میں نے اُس سے پوچھا۔ اُس نے کہا کہ میں نے اب تک یہ کشتی نہیں چلائی ہے اور یہ کمانڈروں کی کشتی ہے کہ جسے آپ کے اختیار میں دیا گیا ہے۔ یہاں مجھے پتہ چلا کہ ہمارے کمانڈرز بھی کٹھن ایام کے بہادر مرد ہیں۔ وہ کشتی اُن لوگوں کیلئے تھی اور وہ اُسے اپنے لیے  رکھ سکتے تھے، لیکن وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوئے اور اُسے ہمارے اور زخمیوں کے اختیار میں دیدیا۔ خود انھوں نے خدا پر توکل کیا ہوا تھا کہ وہ بقیہ سپاہیوں کی مانند کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکل جائیں گے۔

خلاصہ یہ کہ جب ہم چوراہے پر پہنچے اور ملاح کو بھی نہیں پتہ تھا کہ کس سمت  میں جانا ہے، مجھے یاد آیا کہ جب میں ہیلی کاپٹر سے آرہا تھا تو میں اوپر سے نیچے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ہم جنوب مغرب کی طرف حرکت کر رہے ہیں اور ہم پانی کے راستوں کو ۴۵ درجہ زاویہ سے جدا کر رہے تھے۔ میں نے حساب لگایا کہ اگر اس وقت ہم ایک راستے سے مشرق کی طرف اور دوسرے راستے سے شمال کی طرف جائیں تو اصلی راستے پر پہنچ کر آخر میں اپنے ساحل تک پہنچ جائیں گے۔ ہم نے شمال کے ستارے کو بھی ڈھونڈ لیا تھا  جس نے راستہ ڈھونے میں ہماری مدد کی ۔ ہم نے اس فرضیہ کے ساتھ حرکت کی اور تقریباً دو سے تین گھنٹے بعد اُس اصلی جگہ پر پہنچ گئے جہاں رسی سے نشانی لگائی ہوئی تھی۔ وہ رسی دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ ہم صحیح راستے پر آئے ہیں۔ تھوڑا سا آگے بڑھنے کے بعد ہم کچھ ایسی کشتیوں تک پہنچے جو ہمارے علاقے کا راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ انھوں نے دیکھا کہ ہماری کشتی کی حالت تو بہت خراب ہے، اس وجہ سے انھوں نے اپنی کشتی سے ہماری کشتی کو بدل لیا۔ ہم نے اُنہیں راستے کی نشانی بتائی اور وہ لوگ اُس ملاح کو جو ہمارے ساتھ تھا، اُسے راستے جاننے والے کے عنوان سے اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم اُن سے الگ ہوگئے۔ جب ہم نے اُس نئی کشتی کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے تک حرکت کی تو میں نے دیکھا کہ ایک لانچ شیب کی حالت  میں پانی کے اندر چلی گئی ہے اور اُس کا صرف آدھا کمرا باہر کی طرف رہ گیا ہے۔ وہاں پر ایک کشتی اور اسلحہ کے ساتھ ایک آدمی موجود تھا۔ جب ہم وہاں سے گزرنا چاہ رہے تھے، وہ ہمارے سامنے آگیا اور کہا کہ کسی بھی کشتی کو پیچھے جانے  کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے اُس سے کہا کہ ہمارے ساتھ زخمی ہیں لیکن وہ نہیں مانا۔ اُس نے کہا کہ آپ لوگ اس لانچ پر اتر جائیں، اس کشتی کو علاقے میں واپس جاکر زخمی فوجیوں کو واپس لانا ہوگا۔ حالانکہ میں زخمیوں کی خاطر اُس سے بحث کر رہا تھا پھر بھی ایک زخمی نے میرا پاؤں پکڑا اور کہا کوئی بات نہیں، ہمیں اتار دو اور کشتی کو علاقے میں واپس جانے دو۔ یہاں مجھے پتہ چلا کہ ہمارے زخمی بھی کٹھن ایام کے بہادر مرد ہیں۔ اُن کی اپنی جان خطرے میں تھی اس کے باوجود انھوں نے کہا  کشتی کو دوسرے زخمیوں کی نجات کیلئے علاقے میں واپس جانا چاہیے،  حتی اگر وہ اس راستے میں خود ہلاک ہوجائیں۔ ہم کشتی سے اتر گئے اور تقریباً دو سے تین گھنٹے تک اُس شیب والی لانچ  میں زخمیوں کی دیکھ بھال کرتے رہے یہاں تک کہ پیچھے سے ایک کشتی آئی اور اُس نے ہمیں سوار کرکے ہمیں اپنے ساحلوں تک پہنچا دیا۔ ہم غروب آفتاب کے وقت کشتی پر سوار ہوئے تھے۔ جب ہم اپنے ساحلوں پر پہنچے، طلوع آفتاب کا وقت تھا، ہم تقریباً کوئی ۱۴ سے ۱۵ گھنٹے پانی کے اوپر اُن زخمیوں کے ساتھ رہے تھے لیکن الحمد للہ ہم نے اُنہیں سلامتی کے صحت ایمرجنسی امداد والوں کے حوالے کردیا اور اُن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔"

 

وہاں بھی محاذ تھا

پروگرام کی دوسری راوی، سر دشت میں کیمیائی بمباری کی عینی شاہد پروین کریمی  تھیں۔ انھوں نے کہا: "ہم انقلاب سے پہلے تہران میں رہتے تھے۔ ہمارا ایک گھر سر دشت میں بھی تھااور ہمارا وہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی اور امام خمینی نے کہا کہ محاذوں کی پشت پناہی کرنے والی جگہیں خالی نہ چھوڑیں، میرے والد صاحب سردشت واپس  چلے گئے۔ وہ اپنے ساتھ میرے جوان بھائیوں اور میری والدہ  کو بھی لے گئے۔ سردشت ایک سرحدی علاقہ ہے کہ گاڑی کے ذریعے عراق تک تقریباً آدھے گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ وہاں پر جنگ کے پہلے دن سے لیکر جنگ کے آخری دن تک بمباری ہوئی۔ جنگ کے پہلے دن وہاں پر تقریباً ۲۰ سے ۳۰ لوگ شہید ہوئے۔ اُس وقت ابھی کسی کو پتہ نہیں چلا تھا کہ جنگ شروع ہوگئی ہے۔ کئی سال بیت گئے اور میرے والد میرے بھائیوں کے ساتھ جنگ میں رہے۔ جنگ کے آخری ایام تھے جب میرے بھائی کو خداوند متعال نے ایک فرزند عطا کیا اور ہم سب اُس بچے کو دیکھنے کیلئے تہران سے سردشت گئے۔ میرا ایک اور بھائی تھا جو چند سالوں سے سردشت نہیں آیا تھا۔ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا، اسی وجہ سے اُس نے ارومیہ کیلئے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لیا اور وہاں سے سردشت آگیا۔ میری شادی ہوئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اُس دن ہم نے بہت ہی شوق اور مزے لے کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ بہت عرصہ ہوگیا تھا کہ میں نے اپنی ماں کے ہاتھوں کی چائے نہیں پی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے چائے بنانے کا کہا اور میں خود حمام چلی گئی، بچوں کو نہلایا۔ بچے مجھ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ میرے بھائی کے بیٹے نے مجھ سے  کہا: پھوپھی جان! خدا کیلئے آپ شادی نہیں کیجئے گا۔ وہ بچے سوچ رہے تھے کہ جب میری شادی ہوجائے گی تو وہ مجھ سے دور ہوجائیں گے۔ جب میں نے بچوں کو نہلالیا، میری والدہ نے حمام کا دروازہ بجاکر کہا: پروین آجاؤ کہ دوبارہ طیارے آگئے ہیں۔ بعض دنوں میں تو طیارے کئی مرتبہ آتے تھے لیکن ہمیں کبھی بھی اُن سے ڈر نہیں لگا۔ میں نے کپڑے بھی دھوئے۔ حمام، باورچی خانہ اور میرے چھوٹے بھائی قادر کے کمرے کے درمیان میں تھا۔ جب میں نے اپنا کام ختم کرلیا تو پھر میں اپنے بھائی کے کمرے میں گئی۔ میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی، گھر پر بم گرا۔ مجھے پہلی مرتبہ بہت ڈر لگا۔ میں صحن کی طرف دوڑی چلی جا رہی تھی کہ راستے میں میرے بھائی نے پکڑلیا اور کہا: کیا کر رہی ہو؟میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ میں صحن میں گئی۔ صحن میں شور و غل بپا تھا۔ ہمارا گھر سردشت کے محلے سرچشمہ میں تھا؛ اسی وجہ سے سارے بازار والے ہمارے صحن میں آگئے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ کیمیائی حملہ ہوا ہے، کپڑا گیلا کرکے اپنے منھ پر رکھ لیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ پانی اور الگنی پر لٹکے تمام کپڑے  آلودہ ہیں۔ میں تیزی کے ساتھ کپڑوں  کو حوض کے پانی میں گیلا کر رہی تھی اور صحن میں موجود لوگوں اور اپنے گھر والوں کو دے رہی تھی۔ حتی میں نے خود اپنے لیے ان کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا بھی نہیں اٹھایا۔ میں چاہتی تھی کہ کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آئے اور مجھے اپنی فکر نہیں تھی لیکن وہ سارے لوگ شہید ہوگئے اور صرف میں باقی رہ گئی۔ وہ بات جو مجھے ہمیشہ اُداس و پریشان کرتی ہے یہ ہے کہ اگر ہمارے شہر کے لوگ ہمیں بتا دیتے کہ کیمیائی بم کیا ہوتا ہے اور جس وقت کیمیائی حملہ ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے، میرے گھر کے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے گھر کے صحن میں پناہ لی تھی ، اس وقت زندہ ہوتے۔ میں اس بات پر فخر کرتی ہوں کہ ایسے شخص کی بیٹی ہوں کہ جس نے امام کی بات کی خاطر تہران کو چھوڑ دیا اور اپنے بچوں کے ساتھ سردشت واپس چلے گئے  تاکہ محاذ کے قریبی علاقے خالی نہ رہ جائیں۔ شاید کہا جائے کہ وہاں محاذ نہیں تھا لیکن خود وہاں بھی محاذ تھا۔

 

خود شناسی اور دشمن شناسی

پروگرام کے تیسرے راوی امیر سعید زادہ تھے: انھوں نے کہا: "محترمہ کریمہ کے بھائی میرے بہت قربی دوست اور ان کے والد میرے استاد تھے۔ ان کے والد سردشت میں قبیلے کے سردار تھے۔ جبکہ اُن کے مالی حالات بہت اچھے تھے لیکن انھوں نے امام کی بات پر عمل کیا۔ میں وہاں موجود تھا اور میں نے ان تمام مناظر کو دیکھا ۔ اُس زمانے میں ہم جوان تھے اور سپاہ پاسداران نے ہمیں پانچویں ستون کو ڈھونڈنے کیلئے نظر میں  رکھا تھا۔ آج کل پانچویں ستون کو نفوذ کرنے والا کہا جاتا ہے۔ پانچواں ستون یعنی ایسے لوگ کہ جب صدام ملعون کوئی بم یا میزائل مارتا تو یہ آکر فوراًاُس کی ویڈیو بناتے اور جغرافیائی صورتحال اور تخریب کاری کی سطح کی رپورٹ صدام کی فوج تک پہنچاتے۔ منافقت کی ایک علامت تھے۔ ہم ایسے لوگوں کی پہچان کیلئے بھیس بدل کر اُن میں جاتے۔ خدا کے لطف سے کامیاب رہے تھے اور اس کام کے ساتھ ساتھ امدادی کام بھی کرتے تھے۔ صدام کے طیارے روزانہ آتے، بمباری کرتے اور چلے جاتے۔ امام نے کہا تھا کہ محاذ کے قریبی علاقوں کو خالی نہ چھوڑیں اور محاذ کے قریبی علاقوں کو خالی نہیں چھوڑا گیا۔ لوگ رکے، جدوجہد اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جب بھی طیارہ بمباری کرتا ، ہمارے بہت سے لوگ شہید ہوجاتے۔ اُس دن شام کے  چار بج کر کچھ منٹ ہو رہے ہوں گے جب طیارے آئے۔ وہ زمین سے کم بلندی پر تھے اور واضح طور پر نظر آرہے تھے۔ بم دھماکوں کی آواز پہلے ہونے والے دھماکوں کی آواز کی نسبت بہت ہلکی تھی ۔ میں امداد کرنے کیلئے لوگوں کی طرف گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ صرف ایک آدمی شہید ہوا ہے اور ہم نے خدا کا شکر ادا کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پانی کی مین پائپ لائن کو بھی اُڑا  دیا ہے۔ اچانک مجھے ایک بو آئی ، کہنے لگے کہ یہ کیمیائی بم ہے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کیمیائی بم کیا ہوتا ہے اور ہمیں اس کا تجربہ نہیں تھا۔ ہم جو جوان تھے اور ہم نے اس نظام اور شہدا سے قسم کھائی ہوئی تھی، ہم نے میدان نہیں چھوڑا اور لوگوں کی امداد کیلئے گئے۔ رات کے دس بجے تک تقریباً ہزار مریضوں کو لایا گیا۔ ہم ہر لانے والے مریض کے کپڑے پھاڑ دیتے اور دہی کی طرح کا مرہم اُس کے بدن پر لگا دیتے۔ ہم نے اُن کیلئے ابتدائی کاموں کو انجام دیا۔ بسوں کی سیٹوں کو اکھاڑ لیا گیا تھا اور ہم اُنہیں ایمبولنس کے عنوان سے استعمال کرتے تھے۔ جو شخص بھی کیمیائی بم سے مریض ہونے والے شخص کے ساتھ ہوتا وہ بھی آلودہ ہوجاتا۔ ہر طرح کی بمباری میں لوگ تہہ خانوں میں جاکر پناہ لیتے تھے تاکہ امان میں رہیں لیکن کیمیائی بمباری میں اس کے برعکس ہے۔ کیمیائی مواد بھاری ہوتا اور نیچے آتا ہے ، جن لوگوں نے ایسی جگہوں پر پناہ لی ہوئی تھی انہیں زیادہ نقصان ہوا۔ اس وقت میرے ۲۷ فیصد پھیپھڑے کام کر رہے ہیں اور میں آکسیجن کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں اور محترمہ کریمی کی طرح مجھے بھی دوائی حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو انقلاب سے پہلے حجت الاسلام روایی شیرازی اور جناب باریک بین جنہیں سردشت میں جلا وطن کیا تھا ، اور حسین عادل زادہ، علی صالحی، رحمت علی پور اور محترمہ کریمی کے والد کے ساتھ انقلاب کیلئے کام کرتے تھے۔ ہم پمفلٹ تقسیم کرتے تھے۔ میں امام خمینی کو نہیں پہچانتا تھا۔ میں جوان تھا اور میرے اندر سیاسی سوجھ بوجھ اور سیاسی مطالعہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن جب میں پمفلٹ کو لپیٹ رہا تھا، میں نے ایک بوڑھے مرد کی تصویر دیکھی کہ جن کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟  اُس نے بتایا کہ امام خمینی ہیں۔ ہم اخلاص کے ساتھ آگے آئے تھے۔ طالب علموں، کاریگروں، بازاریوں، استادوں، کردی، لوری اور بلوچوں میں اتحاد اور یکجہتی تھی تو ہم نے انقلاب کو یہاں تک پہنچایا۔ ہمارے اندر وحدت تھی۔ آج ہمیں خود کو اور پھر دشمن کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

میں ملک ک دفاع کی خاطر سپاہ میں چلا گیا اور سن ۱۹۸۰ میں میرے عقیدے اور انقلابی ہونے کی وجہ سے، اندرونی جنگ میں انقلاب مخالف  گروپ نے مجھے گرفتار کرلیا۔ انھوں نے مجھے شکنجے اور اذیت اور تکالیف دینے کے بعد میرے لیے پھانسی کا حکم صادر کردیا۔ جب میں جیل میں تھا، میں کیانوش گلزار نامی ایک شخص سے ملا جس کے ابھی تک مونچھیں اور داڑھی بھی نہیں نکلی تھی۔ وہ کم عمر تھا لیکن تمام قیدیوں کے درمیان مجھے اُس پر اعتماد تھا۔ میں فرار کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ سردشت کے کنارے نہر میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور میں نہر کے اُس طرف جانا چاہتا ہوں۔ پانی کی موجیں اس طرح اٹھ رہی تھیں جیسے پانی کے اوپر قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی ہوں۔ اچانک وہاں پر ایک بوڑھا آدھی نمودار ہوا جن کا لباس، داڑھی اور پورا وجود سفید تھا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم پانی کے اُس پار جانا چاہتے  ہو؟ میں نے کہا: جی۔ انھوں نے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو میں تمہیں اُس طرف پہنچادوں؟ میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: میں خمینی ہوں! اس بوڑھے آدمی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے نہر کے  اس پار لے گئے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ کوئی کوملہ پارٹی کے زندان سے فرار کر گیا ہو۔ میں وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ کام کیا تھا اور اس کام سے اُنہیں کافی نقصان پہنچا تھا۔ انھوں نے میرے والد صاحب کو پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تمہارے باپ نے تمہیں زندان سے بھگایا ہے۔  میں نے کیانوش گلزار راغب کے ساتھ فرار کا  منصوبہ بنایا تھا۔ کیانوش کا بھائی گرفتار ہوا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ کیانوش کے بھائی کو مار دیا گیا ہے لیکن کیانوش کو نہیں پتہ تھا۔ کیانوش اور اُس کے بھائی کو ایک ساتھ پکڑا گیا تھا، کیانوش بھی پھانسی دیئے جانے والے لوگوں میں سے تھا لیکن چونکہ اُس کی عمر کم تھی، اُس کو چھوڑ رکھا تھا۔ وہ آخری لمحات میں فرار کرنے سے پشیمان ہوگیا۔ میں نے اُس کے آزاد ہونے کے بعد اُس سے پوچھا کہ تم میرے ساتھ کیوں نہیں آئے؟ اس نے کہا: میں سوچ رہا تھا کہ اگر میں آگیا تو میرے بھائی کو مار دیں گے، حالانکہ اُس کا بھائی تو مارا جاچکا تھا اور اُسے معلوم نہیں تھا۔ جب میں ایران واپس آیا اور دوبارہ سپاہیوں میں شامل ہوگیا، انقلاب مخالف گروپ نے ہمارے گھر پر آر پی جی سے فائرنگ کرنے کا حکم دیدیا تھا لیکن پڑوسیوں نے یہ کام کرنے نہیں دیا لیکن افسوس انھوں نے میری جگہ میرے بھائی کو مار دیا۔ کہا گیا تھا کہ فلاں راستے سے گزر رہا ہے، میرا نام نہیں لیا گیا تھا، صرف میرا فیملی نام لیا گیا تھا۔ اُس کے بعد میرے والد کو گرفتار کرلیا۔ اُسی دن جس دن میرا بھائی شہید ہوا، ہم اُس کیلئے ایک لڑکی کے گھر رشتہ لیکر جانا چاہتے تھے۔ ہم ایسے ماحول، مذہب اور تفکر سے تعلق رکھتے ہیں کہ جس میں ہم اپنے عزیزوں کو کھو دینے کے بعد ان چیزوں سے پلٹ نہیں سکتے۔ یہ انقلاب شہداء کیلئے ہے اور ہم اس انقلاب کے محافظ اور نگہبان ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا: "ایک سپاہی محاذ پر ایک ساتھ چند عہدوں پر فائز ہو سکتا۔ میں چوتھے و الفجر آپریشن میں سپورٹنگ یونٹ میں تھا۔ آپریشن کا ایک حصہ سردشت میں انجام پایا اور میں سپلائی پہنچانے کیلئے گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کے جسم پر خاکی رنگ کا لباس ہے اور وہ زمین پر پڑا ہوا ہے۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید انقلاب مخالف پارٹی کا کوئی فرد ہو  اور یہ چاہتا ہو کہ میں گاڑی روک لوں اور یہ مجھے مار دے۔ پھر میں نے اپنے آپ سے کہا شاید کوئی بسیجی اور ہمارا اپنا ہی ساتھی ہو۔ میں نے خدا پر توکل کیا اور گاڑی روک لی۔ جاکر دیکھا تو ایک بسیجی زخمی ہوگیا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر کا شخص تھا۔ میں نے اُس کی بغل کے نیچے ہاتھ ڈال کر اُسے اٹھایا اور کہا: اس ناشپاتی کے د رخت کے نیچے  ٹیک لگا کر بیٹھو۔ میں نے اُس نے کہا میں تمہارے لئے کھانے کیلئے ناشپاتی  توڑ کر لاؤں ؟ اس نے کہا: نہیں، اس درخت کا مالک موجود نہیں ہے کہ ہم اس سے اجازت لیں، حرام ہے۔ میرے ذہن میں آیا اور میں نے اُس سے کہا کہ ہم درّے کے اس طرف چلتے ہیں۔ میں نے کہا: عراقی توپ کے گولے یہاں سے گزر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ یہاں پر لگ جائیں۔ وہ مان گیا۔ ہم اُس طرف چلے گئے۔ وہ اصرار کر رہا تھا کہ میں چلا جاؤں اور خود کو اُس کیلئے گرفتار نہ کروں۔ ابھی کچھ منٹ نہیں گزرے تھے کہ ایک عراقی توپ کا گولا آیا اور بالکل اُسی جگہ لگا جہاں ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ ساری ناشپاتیاں زمین پر گر گئیں۔ اُس نے کہا: خدا کی کرنی دیکھ رہے ہو؟ خدا نے توپ کے گولے کی ذمہ داری لگادی کہ وہ ہمارے لیے ناشپاتیاں توڑے! "

جناب سعید زادہ نے آخر میں کہا: "مسلط کردہ جنگ سے پہلے ہمارے علاقے میں اندرونی جنگ ہو رہی تھی۔ انقلاب مخالف گروپ چاہتا تھا کہ کردستان کو ایران سے علی الاعلان الگ کردے۔ ہم سے کہا گیا تھا کہ وہ لوگ ٹائم بم سیٹ کر دیتے ہیں اور ہم نے ٹائم بم کو دیکھا ہوا ہی نہیں تھا۔ میں نے اپنے بھائی علی سے جو شہید ہوگیاکہا کہ اگر تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو وہ ٹائم بم ہے اور تمہیں اس کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ وہ ایک دن آیا اور کہنے لگا کہ وہ جو آپ نے بم کے بارے میں بتایا تھا، شہداء کے مزار کے کنارے درختوں کے نیچے ہے۔ اُسے شام ساڑے چار بجے کیلئے سیٹ کیا ہوا تھا کیونکہ اُس وقت وہاں پر لوگوں کی تعداد زیادہ  ہوتی تھی۔ اگر وہ پھٹ جاتا تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا۔ میں نے جاکر دیکھا تو بالکل اسی طرح کی چیز تھی جیسی ہمیں بتائی گئی تھی۔ جیسا کہ مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا، میں نے اُسے ہاتھ نہیں لگایا۔ میں نے چھاؤنی والوں کو بتایا اور شہید صیاد شیرازی کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ آئے۔ انھوں نے کسی کو بم کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے کہا: یہ کام (ٹائم بم کو ہٹانا) میں انجام دوں گا اور آپ لوگ زمین پر لیٹ جائے تاکہ آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔"

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"



 
صارفین کی تعداد: 56


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں