تنہائی والے سال – اکتیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2019-01-05


زندان ابی وقاص میں آنے کے کچھ دنوں بعد تک ہم نے طے شدہ قوانین کے تحت خدا بخش (ریڈیو) والے مسئلہ کو اپنے سے الگ ہوجانے والے دوستوں کو نہیں بتایا، لیکن ایک ہفتے تک اُن کے حالات  کی جانچ پڑتال  کرنے کے بعد ، ہم نے چچا (ریڈیو) کے کھو جانے اور خدا بخش (ریڈیو)  کے آنے کا ماجرا لکھ کر اُنہیں بھیج دیا اور پھر اُس دن کے بعد سے طے پایا کہ ہمارے اپنے گروپ میں داستان (خبریں) کا مطالعہ کرنے  کے بعد، ہم اُسے ایک دن عمارت نمبر "ب" اور اس سے اگلے دن عمارت نمبر "ج"  والوں کو دیدیں  اور واپس آنے کے بعد اُسے ختم کردیں۔

اس ترتیب کے ساتھ، بابا جانی داستان کو لکھتے۔ عام طور سے جب دن بڑے ہوتے تھے، ہم رات کو بارہ بجے خبریں سننے پر مجبور ہوتے اور چھوٹے دنوں میں جب رات جلدی ہوجاتی، ہم ۸ بجے رات والی خبریں سنتے تھے۔ داستان مرتب ہوجانے کے بعد تقسیم کرنے والے انچارج کی تحویل میں دیدی جاتیں۔ وہ اس چیز کے مسئول تھے کہ داستان کا کس طرح مطالعہ کیا جائے؛ اس طرح سے کہ سب لوگ اُس سے آگاہ ہوجائیں۔ سب کو آگاہ کرنے والا انچارج موجودہ حالات کی بنیاد پر، داستان پڑھنے کیلئے کوئی وقت تعین کرتا اور تمام افراد طے شدہ جگہ پر جو عام طور سے کوریڈور کے آخر میں ہوتی تھی اور نگہبان کی نظروں سے بھی دور تھی، وہاں جمع ہوجاتے اور سب کو داستان سے آگاہ کرنے والا یا اُسے لکھنے والا داستان کو پڑھتا۔ اس عرصے میں ایک آدمی دروازے کے پیچھے نگہبانی کا کام انجام دیتا کہ اگر کسی مشکوک آواز  یا نامناسب حرکت  کا مشاہدہ کرے تو ہر چیز فوراً سمیٹ لی جائے۔

جب اُسے سب لوگوں کی موجودگی میں  پڑھنے کا امکان نہیں ہوتا تو انچارج کیلئے ضروری ہوتا کہ کسی خاص وقت کو نظر میں رکھ کر اُسے کسی کمرے میں دے دیتا جہاں تین یا چار لوگ رہتے تھے اور مقررہ وقت ختم ہوجانے کے بعد اُن سے واپس لیکر اُسے دوسرے کمرے تک پہنچا دیتا اور اسی ترتیب سے ، سب اُسے پڑھ لیتےتھے۔ اگلی دفعہ، کسی دوسرے کمرے سے شروع کیا جاتا ، جس کے نتیجے میں ہر کمرہ داستان سے پہلی دفعہ استفادہ کرنے کا عنوان حاصل کرلیتا۔

اُس کے پڑھنے کو بھی اس صورت میں انجام دیا جاتا کہ اُسے تقسیم کرنے والا انچارج پہلے خود پڑھتا اور اس طرح اُسے پتہ چل جاتا کہ اس کے پڑھنے میں کتنا وقت درکار ہے اور وہ داستان کے اوپر، ایک طرف تاریخ لکھ دیتا؛ اور بعد میں جس کمرے  میں دیا جاتا، تاریخ کے برابر میں کمرا نمبر لکھ دیا جاتا۔ پھر اسے سب سن یا پڑھ لیتے، داستان کو ہوا خوری والے احاطے سے  دوسری عمارت والوں کو دیدیتے۔

بعد میں جب حالات بہتر ہوگئے اور داستان کا حجم بھی زیادہ ہوگیا تو اس وجہ سے اسے نشر کرنے کا طریقہ بھی تبدیل ہوگیا۔ اس ترتیب سے کہ انچارج ایک لسٹ بنا لیتا کہ داستان کے موضوع کے نام کا مخفف ایک جدول کے اوپر لکھ دیتا؛ مثلاً اگر داستان خبروں کے بارے میں ہوتی، حرف "د"، خطبہ "خ"، تقریر "ت"، اور اگر درس ہوتا، تو حرف "د" لکھ دیا کرتا۔ ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق موضوع کا انتخاب کرلیتا، اُس کے نیچے  اپنے نام کے ساتھ اُسے اٹھانے کا وقت لکھ دیتا۔ اس صورت میں کہ اگر کوئی دوسرا فرد بھی یہی والی چیز پسند کرے تو وہ اپنے نام کو پہلے والے کے نام کے نیچے لکھ کر اپنی باری کا انتظار کرتا۔

پڑھنے یا وقت ختم ہوجانے کے بعد، پہلا فرد اپنے نام پر لکیر کھینچ دیتا، اپنے نام کے سامنے تحویل دینے کا وقت لکھ کر بعد والے شخص کے حوالے کردیتا۔ اس ترتیب سے گھوم پھر کر سب کیلئے اپنی باری آنے پر داستانوں سے استفادہ کرنا ممکن تھا۔ ہم اس مرحلے کو اس وقت انجام دیتے جب مطالب دوسری عمارتوں سے ہوکر واپس آجاتے۔

ہوا کھانے کے ابتدائی اوقات میں، دو افراد ہر طرف سے نگہبانوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے تھے، ایسے میں داستانوں کو تقسیم کرنے والا انچارج بہت احتیاط سے  کھڑکی  میں موجود خالی جگہ سے اُسے دوسری عمارت کے اندر بھیج دیتا  اور پھر اُسی عمارت کے اصلی دروازے کے پیچھے جاتا اور پوری احتیاط کے ساتھ، داستان حاصل کرنے والے سے اُس کی واپسی  کے بارے میں وقت کو معین کرتا۔

وہ وقت جب داستان کو واپس دینا طے تھا کہ جسے حتماً ہمارے ہوا کھانے کے اوقات کے آخری وقتوں میں ہونا چاہیے تھا، انچارج اس کے آس پاس چکر لگاتا رہتا  اور دروازے پر ماری جانے والی چوٹ کی آواز سن کر کھڑکی کے پیچھے چلا جاتا اور اُسی خالی جگہ سے داستان کو واپس لے لیتا۔ پھر داستان کو اسی طریقے پر دوسری عمارت میں بھیجا جاتا۔ اس عمارت والے لوگ اگلے دن تک اُس کو سنبھال کر رکھتے اور اس سے استفادہ کرتے  اور اگلے دن جب دوبارہ ہوا کھانے کیلئے جاتے تو اُسے واپس لے لیتے  اور نئی داستان اُن کے حوالے کردیتے،  یہ طریقہ روزانہ بہت دقت سے انجام پاتا۔

واپس لینے کے بعد، اگر ہماری عمارت کے کسی  فرد نے پہلے داستان کو سنا یا پڑھا نہیں ہوتا تو وہ اُسے تقسیم کرنے والے انچارج سے لے لیتا اور اُس کا مطالعہ کرتا۔ اُس کے بعد آخر میں انچارج اُسے بالکل ذرات کی صورت میں – اس طرح سے کہ کسی بھی صورت میں تشخیص کے قابل نہ رہے – کردیتا اور اُسے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیتا یا کبھی اُسے جلا دیتا۔

فریکوینسی سیٹ کرنا، جیسا کہ ماضی میں بابا جانی کے توسط سے انجام پاتا تھا۔ یہاں پر ابو غریب سے زیادہ آسان کام تھا؛ کیونکہ نگہبان ہم سے رابطہ کرنے کیلئے ہمارے قریب نہیں تھے اور جیسا کہ وہ لوگ آتےتو انہیں آنے کیلئے  اصلی دروازے سے داخل ہوکر ہوا کھانے والے احاطے سے گزر کر آنا ہوتا، پھر ہماری عمارت تک پہنچتے اور دروازے کا تالا کھولنے کے بعد ہم سے رابطہ کرتے تھے۔

البتہ وقفے وقفے سے نگہبان بھی بغیر آواز اور چھپ کر  ہوا کھانے والے احاطے میں داخل ہوجاتا اور کھڑکیوں   کے نیچے موجود سوراخ کے پاس کان لگا کر کھڑا ہوجاتا! اسی وجہ سے ریڈیو کی فریکوینسی سیٹ کرتے وقت، ہم میں سے ایک آدمی ضرور حالات پر نگاہ رکھتا  اور کسی بھی قسم کی مشکوک آواز اور حرکت  ہونے پر ہمیں فوراً اطلاع دیدیتاتاکہ فریکوینسی سیٹ کرنے والا اور کیمپ کا انچارج، سامان کو فوراً سمیٹنے کیلئے  تیار رہیں۔

ریڈیو سننے کے وقت، کام کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کے غیر تعاون یا کسی قسم کا شور و غوغا ایجاد کرنا جیسے کیل ٹھونکنا، چوٹ مارنا یا احتمالاً جرح و بحث کرنا یا کسی بھی قسم کا کوئی غلط کام کرنا، بالکل ممنوع تھا اور حفاظتی امور  کی انجام دہی میں خطا شمار ہوتا تھا اور ہم نے ایسے شخص کیلئے  بہت ہی شدید قسم کی سزائیں انتخاب کی ہوئی تھیں۔

زندان ابی وقاص میں منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاتھ سے سیل والی گھڑی بھی چلی گئی۔ تقریباً دو مہینے بعد جب فضائی افواج کا مسئول ہم سے ملنے کیلئے آیا تو ہم نے اُس سے گھڑی کے بارے میں بات کی ، اُس نے اس بارے میں دستور دیا کہ ابو غریب سے اُسی گھڑی کو  لا کر ہمیں دیدیا جائے۔ اس مسئلہ میں جو تعجب اور حیرت چھپی ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ اس طرح کے کام کسی بھی زندان میں بالکل بھی رائج نہیں ہوتے  اور کہاں بعثیوں کے زندان اور وہ بھی مخفی زندان! خوش قسمتی سے گھڑی کو وہی مومن جوان لیکر آیا جس نے خدا بخش  دلانے میں ہماری مدد کی تھی۔ وہ ہمیں دیکھ کر اتنا خوش ہوا کہ اس نے ہم میں سے ہر ایک کو نام لیکر پکارا اور گلے سے لگایا۔ وہ واقعاًٍ دلی طور پر تشیع اور امام سے محبت کرتا تھا،  لیکن اس میں اس سے زیادہ کام انجام دینے کی ہمت نہیں تھی۔ اسی ابی وقاص نامی زندان میں بھی اُس کی طرح کا ایک آدمی شیعہ تھا  جو حقیقی اور پیشرفتہ اسلام سے دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ ہمیں اطراف میں موجود دوسرے زندانوں اور اُن کے مسائل کی خبریں لاکردیتا اور ایک دفعہ اُس نے ہمیں کچھ سجدہ گاہیں بھی لاکر دیں۔

جب گھڑی لائی گئی، تو ہم "ب" (بیٹری) حاصل کرنے کی طرف سے مطمئن ہوگئے اور ہم نے تقریریں، تفاسیر اور خطبوں کو  سننا شروع کردیا کہ ہر چیز اپنے لحاظ سے مختلف تھی۔ امام اور دوسرے عہدیداروں کی تقریریں جو خبروں کے بعد نشر ہوتی تھیں، ہم اُسے خبروں کا حصہ شمار کرتے تھے۔

امام کی آواز نشر ہونے کے وقت، افراد باری باری اُسے سننے کیلئے جاتے اور کتنے خوش اور لطف اندوز ہوتے تھے؛ انقلاب، جنگ، اسیری، چند سالوں تک زندان میں پڑے رہنا، عشق و حق کے امام کی باتیں، خداوند متعال کی رحمت اور اُس سے راضی ہونے کی امید، وظیفہ، ذمہ داری وغیرہ، جو لوگ امام کی گرم اور پرجوش آواز سنتے، ایک ایک لفظ، شروع سے لیکر آخر تک، باقی افراد کو  جو ش و جذبے کے ساتھ سناتے اور غالباً اُن کی آنکھیں اشکوں سے بھری ہوتی تھیں۔

جب سے ریڈیو کے ذریعے مطالب جمع کرنا شروع کئے، ہم تقریباً ہر تین مہینے بعد گھڑی کیلئے ایک "ب" لیتے۔ چونکہ نگہبانوں میں سے ایک نیا نگہبان ایسا تھا  جو ہر بات پر ٹوکتا اور بال کی کھال نکالتا تھا، اس مسئلے کی وجہ سے بعض ساتھیوں نے سوچا  کہ کہیں تین مہینے – تین مہینے گھڑی کیلئے "ب" لینے سے وہ شک اور گمان میں مبتلا نہ ہوجائے اور وہ ریڈیو کی موجودگی کے بارے میں مشکوک ہوجائے؟ لہذا ہم نے اس بات میں مصلحت دیکھی کہ مطالب جمع کرنے سے صرف نظر کیا جائے اور وہی داستان – خبریں – لگایا کریں تاکہ اس طریقے سے گھڑی کیلئے "ب" دریافت کرنے کا وقت زیادہ ہوجائے۔ دوسری طرف سے افراد کا ایک دوسرا گروہ اس بات کا قائل تھا کہ ایسے حالات میں تفسیروں اور تقریرں کو سننا بہتر ہے، چونکہ اس سے روحانی تقویت اور علم و آگاہی میں اضافہ ہوگا؛ یعنی بہتر یہ ہوگا کہ ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ خبروں کا خلاصہ سن لیا جائے  اور بقیہ موارد میں دوسرے مطالب سے استفادہ کیا جائے۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 44


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں