ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

راوی: سید رضا زوارہ ای

2018-12-20


مجھے سن ۱۹۷۶ء میں واجب حج کی سعادت نصیب ہوئی... ہم نے اُس سال ارادہ کیا کہ اپنے والد مرحوم کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت پر جائیں۔ پس ہم نے قافلہ سالار کو ضروری اخراجات کے مطابق پیسے دیدیئے تاکہ جب جانے کا وقت ہو تو ہمیں بتا دیا جائے۔ لیکن ہمیں کچھ تاخیر سے بتایا گیا کہ آپ کے ملک سے باہر جانے میں مسئلہ ہے۔ میں نے کوئی پروا نہیں کی یہاں تک کہ اگلی رات، ساواک کا ایک اعلیٰ افسر میرے دفتر آگیا اور کہا: "آپ ممنوع الخروج ہیں اور آپ ملک سے باہر نہیں جاسکتے"۔ میں نے بھی پرسکون انداز میں جواب دیا: " حج پہ جانے کیلئے استطاعت ہونا ضروری ہے اور اگر میں ممنوع الخروج ہوں تو ٹھیک ہے میں نہیں جاؤں گا"۔

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳  کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

میں اس سفر سے متعلق جو واقعہ سنانا چاہتاہوں، وہ ایک ایسے مرد سے مربوط ہے کہ میرے خیال میں وہ تربت حیدریہ کا رہنے والا تھا اور ہم ایک قانونی مسئلہ اور مالک مکان کی کرایہ دار سے شکایت کے معاملے میں ایک دوسرے سے واقف ہوئے تھے۔ بہت ہی سادہ انسان تھا اور اس کے کردار اور گفتار میں سچائی دکھائی دے رہی تھی۔ سفر پر جانے سے پہلے وہ ایک دن میرے دفتر میں آیا اور کہا جناب میں نے سنا ہے کہ آپ حج  کے سفر پر جانا چاہتے ہیں۔ میرا بھی دل چاہ رہا ہے کہ آپ کا ہمسفر بنوں  اور جس طرح بھی ہوا وہ ہمارے قافلے میں ہمارے ساتھ آگیا۔ سفر کے دوران اُس نے میرا اور  میرے والد کا بہت خیال رکھا اور ہماری خدمت کرنے کا اظہار کرتا رہتا۔

میں ایک رات ہوٹل میں پیغمبر کے حرم کی طرف رُخ کرکے بیٹھاہوا تھا اور دعا پڑھ رہا تھا۔ ہمارا دوست بھی اپنے کچھ اور دوستوں کے ساتھ کمرے میں تھا۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا: "کیا ہوا ہے، تم اپنے خوابوں خیالوں میں گم ہو؟" میں نے اشارہ کرتے ہوئے اُسے پیغمبر کا حرم دکھایا۔ چند منٹوں بعد وہ مرد اچانک سے گریہ و زاری کرنے لگا اور اُس نے خدا کے سامنے گڑگڑانا شروع کردیا کہ خدایا مجھے معاف کردے کہ میں نے لوگوں پر چاقو نکالا ، شراب پی اورہزاروں دوسرے گناہ انجام دیئے۔ اُس کے دوستوں نے اُسے  پرسکون کرنے کی کوشش کی۔  لیکن وہ اُن پر غیض و غضب کے ساتھ چلایا: "تم بے ضمیروں کیا کہہ رہے ہو۔ اگر میں نے چاقو نکالا اور شراب پی، تم نے بھی تو کتنے گھرانوں کا شیرازہ بکھیرا ہے۔ تمہارے پاس خدا کے ہاں جواب دینے کیلئے کیا ہے؟"

یہ وہ موقع تھا جب مجھے پتہ چلا کہ اُن سب کا ساواک سے تعلق ہے۔ جن میں سے یہی ہما را دوست جو ہم سفر بنا تھا جو بہت زیادہ دوستی اورخدمت کرنے کا ڈھونگ رچا رہا تھا اور کہتا تھا میں پیشہ ور باورچی ہوں، لیکن حقیقت میں اُسے اس سفر  میں ہم پر نظارت کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 96


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں