علی فدائی کی یادوں کے ساتھ

صرف خربوزہ بچا ہے!

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-10-17


علی فدائی دفاع مقدس کے  دلاوروں میں سے ہیں جنہوں ۲۸۹ ویں  یادوں بھری رات کے پروگرام میں اپنے واقعات کو بیان کیا۔ اس پروگرام کے وقفے میں ایرانی زبانی تاریخ کے خبرنگار نے اُن سے بات چیت کی۔ مندرجہ ذیل تحریر میں آپ اس دلاور کے دفاع مقدس کے دوران دوسرے واقعات کو پڑھیں گے۔

 

برائے مہربانی آپ اپنا تعارف کروائیں

میرا نام علی فدائی  ہے اور میں فروری سن ۱۹۶۸ء  میں پیدا ہوا۔ 

 

آپ ہمیں اپنے محاذ کے واقعات کے بارے میں بتائیں

میں ابھی سترہ سال کا ہوا تھا کہ محاذ پر چلا گیا تھا، میں زیادہ تر اُداس رہا کرتا تھا۔ پہلی دفعہ جب مجھے اپنے ماں باپ کی یاد نے ستایا اور میں اُداس ہوا تو رات کے دو  بج رہے تھے اور میں نگہبانی کی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ میں اتنا زیادہ غمگین اور اُداس  تھا کہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور چونکہ میں اکیلا تھا اس لیے میں دل کھول کر رویا۔ اُس زمانے میں کہا گیا تھا کہ جب تک آپ کی عمر سترہ سال کی نہ ہوجائے آپ کو محاذ پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور لازمی طور پر سرپرست (والد) کی اجازت ضروری ہے۔ جب میرے گھر والے مخالفت کر رہے تھے تو  میں  نے رٹ لگائی ہوئی تھی کہ جب میں سترہ سال کا ہوجاؤں گا تو  میں امام خمینی (رہ) کے حکم کے مطابق محاذ پر چلا جاؤں گا۔

۲۱ فروری ۱۹۸۴ء والے دن،  یعنی میرے سترہ سال پورے ہونے کے بعد والا دن، میں نے محاذ پر جانے کیلئے اپنےنام لکھوا دیا۔ سات اپریل ۱۹۸۴ء سے، میں نے ایک مہینے  تک ٹریننگ حاصل کی اور  ۱۵ مئی کو کردستان کے علاقوں  کے محاذ کی طرف  روانہ ہوگیا۔ مجھے محاذ پر آئے ہوئے ابھی دس سے بیس دن گزرے ہوں گے کہ میں واقعاً اُداس اور پریشان ہوگیا تھا اور اپنوں کی یاد  کی تڑپاہٹ مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی تھی۔ میں اکیلا تھا اس لیے میں روسکا۔ تھوڑی دیر رونے کے بعد، مجھے وہ دن یاد آیا  کہ جس دن میں گلی  میں سائیکل  سے زمین پر گر گیا تھا۔ میری پینٹ پھٹ گئی تھی، میرے گھٹنے چھل گئے تھے، میرا سر درخت پر اور میرے کندھےگلی کے اندر پانی کی نالی پر بنی منڈیر سے ٹکرائے تھے۔ جب میں گھر پہنچا تو میری ماں نے مجھے گلے لگا کر پیار کیا، انھوں نے میرے زخموں پر مرہم پٹی کی اور میرے کپڑے تبدیل کئے۔ انھوں نے میرے سر کو اپنے پیروں پر رکھ لیا تھا اور میرے کندھوں کی مالش کررہی تھیں تاکہ درد میں کمی آجائے۔ ڈیوٹی دیتے وقت میں اُس دن کی یاد میں کھویا ہوا تھا اور  روتے روتے مجھے ہچکیاں لگ گئیں تھیں۔ ایک لمحہ کیلئے میں نے اپنے آپ کو جھنجوڑا کہ یہ میدان جنگ ہے، تم اب بڑے ہوگئے ہو۔ میں اپنے آپ سے باتیں کرنے میں مصروف تھا، لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ میرا دل چاہ رہا ہے کہ کوئی میری باتیں سننے والا ہو۔ وہاں پر پہلی بار میں امام زمانہ (عجٗ) سے کچھ باتیں کرسکا، میں نے اپنی تمام وحشتوں اور تنہائیوں کے بارے میں مولا کو بتایا، یہ کام جاری رہا، میں رات دو بجے کی ڈیوٹی لے لیتا  اور مولا سے ڈیوٹی کے  وقت آنے کا طے کرلیتا اور حال دل بیان کرتا۔ ہم صرف مولا کے ظاہری وجود کو نہیں دیکھ پاتے تھے لیکن اُن کے وجود کااحساس کرتے تھے۔

 

آپ اتنی کم سنی میں محاذ پر جانے اور جنگ کو قریب سے دیکھنے پر کیا محسوس کرتے تھے؟

اتفاق سے بہت سے جوان اس موضوع کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ ایک سولہ سترہ سالہ جوان کس طرح اپنی فائرنگ کے پہلے مرحلے کو گزارتا ہے اور کیسا محسوس کرتا ہے۔ میری سب سے پہلی باقاعدہ جھڑپ کردستان میں ہوئی۔ ہمیں قائم آل محمد (عج) آپریشن کیلئے مریوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے پیچھے دوزخ درہ نامی جگہ لے گئے تھے۔ قرار پایا تھا کہ تین گروہ کاروائی شروع کریں  کہ ایک گروہ گم ہوگیا اور دوسرا گروہ کچھ تاخیر سے پہنچا۔ ہم صبح پانچ بجے پوزیشن پر پہنچ گئے تھے۔ ہم نے وہاں تک پہنچنے کیلئے تقریباً چھ گھنٹے پیدل مارچ کیا تھا۔ ہمارے کمانڈر نے کہا آپ دس لوگ جائیں اور ٹیلہ مجاور  پر قبضہ کرلیں پھر وہاں سے سپورٹ کریں تاکہ وہ ہمیں گھیر نہ لیں یہاں تک کہ میں بھی پہنچ جاؤں۔ جانے والوں میں سے آخری دو لوگ، میں اور شہید موسی رضائی تھے، ہم نے دیکھا  کہ  کوملہ پارٹی کے دو تین افراد سرنگ میں بھاگتے ہوئے اوپر کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم نے جلدی سے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ وہ جیسے ہی سرنگ سے دور ہوئے، ہم نے اُن پر برسٹ مار دیا۔ فائرنگ کرنے کے بعد، میرا وجدان مجھے ملامت کرنے لگا۔ میں نے موسی کی طرف دیکھا اور کہا ہم نے اُن لوگوں کو مار دیا، واقعاً وہ لوگ مرگئے! ہوسکتا ہے  کہ اُن کے گھر والے ہوں، اُن کے ماں باپ ہوں جو اُن کا انتظار کر رہے ہوں۔ میں موسی سے یہی باتیں کررہا تھا کہ اچانک کچھ گولیاں ہمارے اطراف میں آکر لگیں۔ ہمارے نزدیک  ایک پتھر پڑا ہوا تھا ہم اُسے کے پیچھے کود گئے اور اپنے آپ کو مشکل سے اُس کے پیچھے چھپایا۔ میرے پیٹ کے نیچے ایک نوکیلا پتھر تھا جو مجھے چھب رہا تھا، میں تیزی سے اٹھا، تاکہ پلٹ کر دوسری کروٹ سے لیٹ جاؤں۔ کوملہ کے سنیپر مین نے میری پیشانی کا نشانہ لیا تھا۔ وہ چمکیلی اور ایسی گولی تھی جس کے پیچھے سے آگ نکلتی تھی۔ میں دائیں طرف کچھ سینٹی میٹر ہٹا ہوں گا کہ گولی  میری کان کے پاس سے گزری اور کان کو گرما گئی۔ مجھے ایسا لگا جیسے کان میں لگی ہے۔ میں نے اپنے کان کو ہاتھ لگایا دیکھا تو خون نہیں نکل رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا یہ تو واقعی جنگ لگ رہی ہے! جہاد میں مرنا اور مارنا ہوتا ہے، جدوجہد کرنی ہوتی ہے۔ اس واقعہ سے میرے وجدان کا عذاب کچھ کم ہوگیا،  گویا یہ گولی خدا کی طرف سے ایک علامت تھی  جو مجھے سمجھا سکے کہ یہاں پر حالات ایسے ہی ہیں، اگر نہیں مارو گے تو مار دیئے جاؤ گے۔

 

ہمیں اُن کاموں کے بارے میں بتائیں جوآپ نے محاذ پر انجام دیئے

میں محاذ پر "غولومی " سے مشہور تھا اور میں اپنے تمام طنز و مزاح کے ساتھ کام بھی کرتا تھا۔ میں بہروز داؤدی کے ساتھ سخت کام زیادہ انجام دیتا تھا۔ کسی ایک آپریشن میں، ہم نے رات سے لیکر دوپہر تک آٹھ مورچے بنائے، ہر مورچے کو بھی ۲۰۰ بوری خاک کی ضرورت ہوتی ہے کہ جسے بھر کر ترتیب سے رکھنا ہوتا ہے۔ آپریشن سے پہلے لوڈرآتے ہیں اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ ڈپو بناتے ہیں۔ پھر واپس آکر ان کو ختم کردیتے ہیں۔ ہم اُس ہیڈ کوارٹر کے تیسرے دستے میں مستقر تھے جو ہم نے عراق کی سرزمین پر قبضہ کرکے حاصل کیا تھا۔ اچانک ہمارے گروپ کے کمانڈر زخمی ہوگئے۔ میں نے افراد کو اُن کی پوزیشن پر مستقر کرنے کیلئے اپنے کمانڈر کی مدد کی۔ ایک دم سے ہمیں عراقی ٹینکوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہی رات آپریشن کی رات تھی۔ لڑائی رک جانے کے ایک دو گھنٹے بعد،  عراقی فوجیوں  کی پہلی صف ہمارے پیچھے موجود تھی اور اُن کی دوسری صف ہمارے سامنے تھی۔ ٹینک اور جنگی ساز و سامان عام طور سے دوسری صف میں ہوتے ہیں۔ جیسے اُن لوگوں نے ٹینکوں کو اسٹارٹ کیا، نزدیک سے بہت ہی ہیبت ناک آواز  آئی۔ افراد ڈر گئے اور تھوڑا سا آگے پیچھے کی طرف حرکت کرنے لگے۔ میں نے کہا حرکت نہیں ہونی چاہیے، سب یہیں پر رکے رہیں۔ ہیڈ کوارٹر میں موجود عمودی میدان میں ہم نے اتفاقی طور پر فائرنگ کی ہوئی تھی اور آر پی جی کا ایک گولہ زیادہ آگیا تھا۔ شہید محمد رضا تورجی نے مجھ سے کہا: غولومی مارو گے؟ میں بھی راضی ہوگیا۔ میں نے مذاق ہی مذاق میں گولہ کو آر پی میں ڈالا اور فوراً ہی، بغیرنشانہ لگائے فائر مار دیا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ سیدھا ٹینک پرجاکرلگا۔ اُس کے بعد لوگوں نے بہت اصرار کیا کہ میں آرپی جی گن سے استفادہ کروں لیکن میں کسی بھی صورت راضی نہیں ہوا۔ اُس وقت جب ٹینکوں نے سیکنڈ لائن  سے حرکت کرنا شروع کی مجھ سے بھی کہا گیا کہ میں اُنہیں آر پی جی سے اُڑا دوں لیکن میں نہیں مانا۔

اُس طرف ایک زخمی تھا جس کے پاس آر پی جی گن تھی۔ ہم اُسے لے آئے۔ محاذ پر آگے رہنے والے افراد کو آر پی جی کا بیگ دیا جاتا تھا تاکہ وہاں پر زیادہ گولے موجود ہوں۔ یہ بیگ بھاری ہوتے تھے اوروہ چاہتے تھے کہ پہلی فرصت میں اسے آر پی جی سے فائر کرنے والے کو تھما دیں کہ وہ ان سے استفادہ کرے اور وہ خود ہلکے ہوکر چلے جائیں۔ اسی وجہ سے جیسے ہی انھوں نے دیکھا کہ میں نے اُس زخمی شخص کی آر پی جی اٹھائی ہے، وہ لوگ مجھے گولے دینے کیلئے لائن لگا کر کھڑے ہوگئے۔ آر پی جی کے گولے میں سے ایک ایسی روشنی نکلتی ہے کہ جس کی وجہ سے دشمن آر پی جی سے فائر کرنے والے شخص کو دیکھ لیتا ہے۔ اُس کے آگے پیچھے کا حصہ روشن ہوجاتا ہے اور اُسے چاہیے کہ وہ بہت تیزی سے اپنی پوزیشن کو تبدیل کرلے۔ بہروز اس معاملے کو سنبھالتا اور مجھے سپورٹ کرتا اور گولے لیکر آتا۔ بعض گولے خربوزے جیسے اور بہت بھاری بھی  تھے اور بعض کوریا کے گولے تھے جو راکٹ جیسے تھے۔ چند دفعہ فائر کرنے کے بعد، میں نے بہروز سے گولہ مانگا، اُس نے کہا صرف خربوزہ بچا ہے! ان گولوں کے بھاری ہونے کی وجہ سے ہم صحیح سے نشانہ نہیں لے سکتے تھے۔ ہدف پہ لگنے کیلئے ہمیں قوس کی صورت میں مارنا پڑتا  تھا۔ ٹینک کی آواز نزدیک ہورہی تھی، میں نے بہروز سے کہا خربوزے لے آؤ۔ میں نے آیت " وَ ما رَمَیتَ اِذ رَمَیتَ وَ لکِنَّ اللهَ رَمی " (سورہ انفال، آیت ۱۷) پڑھی۔چونکہ میں نے بہت زیادہ گولے برسائے تھے، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اور میں مسلسل بہروز سے یہی پوچھ رہا تھا کہ ٹینک کی آواز کہاں سے آرہی ہے۔ وہ کسی سمت کی طرف اشارہ کرتا اور میں فائر کردیتا ۔ خلاصہ یہ کہ اُس گھپ اندھیرے میں ہم نے خربوزے کی شکل والےگولے سے ایک بڑے ٹینک کو مارا ۔ اس ٹینک کے تباہ ہونے سے باقی ٹینکوں نے سوچا کہ ہم بہت نزدیک آچکے ہیں اس لیے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ بہروز نے وہاں بہت زحمت اٹھائی۔ اُس کے بعد آر پی جی میں گولہ پھنس گیا اور ہم نے ہر طریقہ آزما کر دیکھا لیا لیکن اُس کو  باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

صبح ہوگئی اور ٹینکوں نے دوبارہ ہماری طرف بڑھنا شروع کردیا۔ ہمیں ایک اور راکٹ لانچر مل گیا تھا  اور افراد اُ س سے گولے برسا رہے تھے۔ میں ڈپو کے پیچھے بیٹھ گیا اور راکٹ  فائر کیا۔ وہ راکٹ ٹینک کے پیچھے  جا کر گرا اور ٹینک نے مجھے دیکھ لیا۔ جیسے ہی اُس نے میری طرف فائر کرنا چاہا، میں ایک مورچے کے اندر جاکر چھپ گیا۔ ٹینک کا گولہ اگر سیدھا آئے تو اُس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے، جو اژدر کی طرح ڈپو کو اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارا ڈپو علاقے میں ہائی وے  کی سڑک کے پیچھے تھا  اور سڑک ڈپو سے تقریباً ڈیڑھ میٹر اونچی تھی۔ ٹینک کا گولہ سڑک سے ٹکرایا اور پہلا گولہ لگتے ہی میرا پیر خاردار تاروں میں پھنس گیا۔ اُس ٹینک نے تین گولے برسائے۔ بہروز پہنچا اور اُس نے مجھے بڑی مشکل سے تاروں سے باہر نکالا۔ اس دوران میری آر پی جی کے دستے میں بھی گولے کا ایک ٹکڑا لگ گیا تھا اور اب وہ بھی کام نہیں کررہی تھی۔ اسی وجہ سے ہم اُس آر پی کو ڈھونڈنے لگ گئے جس میں گولہ پھنس گیا تھا۔ اب ہم احتیاط سے کام نہیں لے رہے تھے۔ بہت زیادہ کوشش کی بعد بالآخر ہم اُسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہم نے کچھ گولے اور برسائے یہاں تک کے دوسرے ساتھی آگئے اور ٹینک دوبارہ نیچے چلا گیا۔ بعد میں عراق نے کیمیائی بمب مارا اور واپسی کے موقع پر ہمارا ساز و سامان گم ہوگیا۔ ہم ماسک ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے کہ عراقی کے کیمیائی بمب مارنے کے تقریباً دس منٹ بعد بارش شروع ہوگئی۔ ہم تقریباً ڈھائی دنوں تک اُسی لائن پر دفاعی پوزیشنیں سنبھالے رہے، کیونکہ امیر المومنین (ع) بٹالین  جو آپریشن کے بعد سیکنڈ لائن پر آئی ہوئی تھی تاکہ یا زہرا (س) بٹالین سے اُس صف کو اپنی تحویل میں لے، آپریشن کی صبح عراقی ہیلی کاپٹروں کے راکٹ سے تباہ ہوچکی تھی اور اُس کے بہت سارے فوجی جام شہادت نوش کرچکے تھے۔ ہم نے خود دوسرے اور تیسرے دن تک دفاعی پوزیشن سنبھال کر رکھی۔ بارش ختم ہونے کے بعد جب دھوپ نکلی اور دھماکوں کا گرد و غبار چھٹ گیا۔ ہم نے کچھ کیمیائی اثرات کو اپنی سانس کے اندر محسوس کیا تھا اور اُس کے اثرات نے  دس سے پندرہ سال بعد اپنا اثر دکھایا۔ مجھے ابھی بھی سانس لینے میں دقت ہوتی ہے، لیکن میں خیال رکھتا ہوں۔ عراق کے کیمیائی حملے کرنے کے بعد، ایک بیس سے تیس افراد کا مسلح گروپ، ہماری لائن کی پچھلی طرف سے ہماری طرف آنے لگا۔ بہروز نے چلا کر کہا ہمارا محاصرہ کرلیا گیا ہے۔ عراقی فوجی جن سرنگوں میں مستقر تھے وہ مستطیل شکل کی تھیں۔ ہماری تعداد کم تھی۔ ہم اس فکر میں تھے کہ اسلحہ ڈھونڈ کر سرنگ کے ابتدائی حصے پر جاکر اُن کا محاصرہ کرلیں کہ عراق نے کاٹیوشا میزائل مارے، لیکن اُس کے اپنے ہی فوجی مارے گئے!

 

آپ نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے نوازا، اس بات پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 169


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں