تلاش و جستجو ایک محقق کی سب سے بڑی خصوصیت ہے

پوشیدہ تاریخ اور تاریخ شفاہی

فاضل شیرزاد
ترجمہ: سید سمیر جعفری

2018-10-14


''کیا تاریخ کو تمام لوگ بناتے ہیں یا صرف معدودے چند افراد تاریخ رقم کرتے ہیں؟ کیا تاریخ ایک قانون کلی اور عام کے زیر اثر ہے یا صرف چند لوگ اس پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ اتفاقی نہیں کہ بہت سے لوگوں نے ان سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ تاریخ ایک ایسا مرکب ہے جس کو تمام لوگ بناتے ہیں اس گروہ مخصوص کے ساتھ مل کر"۔ اوریانا فلاسی[1]

 

تاریخ کا انٹرویو

اس حیثیت سے کہ تاریخ، ماضی میں گذرے ہوئے حالات و واقعات کے نقل کرنے کا علم ہے، اور یہ واقعات انسانی ذہنی میں باقی رہتے ہیں، اس وجہ سے ہر انسان اپنے حافظہ کے مطابق ماضی کے واقعات کا راوی بن سکتا ہے۔ مختلف مقامات پر رہنے والے افراد ، تاریخ شفاہی کے لئے ایک بڑا سرمایہ اور قیمتی خزانہ ثابت ہو سکتے ہیں اور اس میدان میں اہم نقش کے حامل ہیں۔ ان لوگوں  میں سے ، دور دراز کے رہنے والے مقامی دیہاتی لوگ تاریخی اطلاعات کی جمع آوری کے لئے قیمتی راوی اور خود ایک موضوع ہیں۔ مقامی لوگوں کی روایات  کو مختلف قالبوں میں ڈھونڈا جاسکتا ہے  کیونکہ مقامی اشعار اور داستانوں میں بھی تاریخ شفاہی چھپی  پوشیدہ ہے۔  کسی خاص موضوع کی تلاش میں تحقیق اور  بامقصد انٹرویو کے ذریعے   ، بعض اوقات اس موضوع کے مطالب کو چند مقامی افراد سے گفتگو  کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ان سے گفتگو کے بعد آخر میں ان  کے بیانات میں سے مشترک چیزوں کو چن کر ایک مسلسل داستان حاصل ہو جاتی ہے۔

 

بوڑھے باخبر لوگ

گذشتہ صدیوں میں ایرانی معاشرتی کی ایک خصوصیت یہاں بزرگوں کا وجود تھا۔ جن کو قوم کا سفید ریش  کے نام سے جانا جاتا تھا۔  یہ سفید ریش بزرگ روشن  چراغ، زمانے کے سرد و گرم کے تجربہ کار اور معاشرے کے لئے ایک بڑا سبق تھے اور یقینا یہ لوگ قوم کے بہتر مستقبل کے لئے اس کی مدد کرتے تھے۔ یہ لوگ قومی سرمایہ ہوتے ہیں[2] ایسے با خبر افراد  جن کے پاس اطلاعات کا خزانہ ہوتا ہے ، تاریخ شفاہی اور انٹرویو  سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے  اچھا انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ  مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں سے  ہر ایک کے پاس خصوصیت کے ساتھ تاریخی مواد اور روایات کا خزانہ ہو سکتا ہے۔  ان سے تاریخ حاصل کرنے میں ایک مسئلہ ان کی عمر کا بھی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے اگلے چند سالوں میں ایسے بزرگ جن کے پاس تاریخ شفاہی کا انبار ہو، لوگوں کی  بے توجہی کا شکوہ لئے  دنیا سے رخصت ہو جائیں۔  لہذا اس سے پہلے کہ ہم ان  باخبر لوگوں کو تاریخ شفاہی کے سرمائے کو کھو دیں اور کف افسوس ملتے رہ جائیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان لوگوں کی تلاش اور ان سے تاریخ کا حصول محققین اور اس کام کے دلدادہ افراد اپنے فرائض میں شامل کرلیں۔ اوریانا فلاسی اپنی کتاب تاریخ کا انٹرویو میں اس بابت افسوس کرتے ہوئے لکھتی ہیں "کتنا اچھا ہوتا کہ ژاندارک کی باتیں اس کے محاکمہ کے وقت محفوظ کر لی جاتیں، اس سے پہلے کہ وہ آگ میں جاتا۔ اور کتنا اچھا ہوتا کہ کرومول اور ناپلئون سے کچھ باتیں معلوم کر لی جاتیں یا ان کی باتوں کی مووی بنا لی جاتی"

 

مقامی اور محلی لوگوں کی  روایات کی اہمیت

روایت اپنے مفہوم یعنی واقعہ کے بار بار بیان کرنے کے اعتبار سے ، داستان کے مسلسل اور زنجیر وار ہونے کو ظاہر کرتی ہے جس کو راوی نے بیان کرتا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ واقعہ کا اطلاق صرف حوادث عینی اور  باہر کے قصوں پر نہیں ہوتا بلکہ اگر ذھنی اور خیالی داستانی بھی تواتر سے نقل ہوں اور ان میں باہم ارتباط پایا جاتا ہو تو ان کو بھی ایک قسم کی روایت شمار کیا جاتا ہے۔[3]

تاریخ کا مقام  اور ہر سرحد اور علاقے کی تاریخی روایت ، تاریخ کو ثبت کرنے والوں اور اس کو بیان کرنے والوں کی رہین منت ہے۔ ایک طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ راوی اور باخبر   علاقائی اور مقامی بزرگ ہستیاں ہی ہر سرزمین کے لئے وہاں کی  تاریخ شفاہی کے پہلے راوی ہیں گوکہ ان کا قول سنجیدگی کے ساتھ شاید محفوظ نہیں کیا  گیا۔ ان بزرگوں کے پاس  مختلف پہلووں سے کہنے کو بہت کچھ ہے۔  ان لوگوں کے زاویہ نگاہ کا مختلف ہونا تاریخی تحقیقات کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔  ہم اس تاریخ کو جو ان بزرگوں کے سینوں میں دفن ہے  '' پوشیدہ تاریخ" کا نام دے سکتے ہیں لیکن ان لوگوں کو تلاش کرکے اور  ان کو اس بات کی ترغیب دلا کر وہ اپنے سینے میں دفن رازوں کو اگلیں، ہم اس پوشیدہ تاریخ کو " اشکار تاریخ" میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ایک نظریے کے مطابق ، تاریخ کے دلدادہ اور محقق کے لئے اس بڑا تحفہ کوئی نہیں ہوسکتا کہ وہ تاریخ کے دامن کو سچے واقعات سے بھرنے کے لئے اس پوشیدہ تاریخ کو آشکار تاریخ میں تبدیل کرے۔

 

راویوں کی تلاش کی کوشش

سب سے پہلی چیز جو  انٹرویو  اور  گفتگو کے ذریعے تاریخی حقائق حاصل کرنے کے لئے  ضروری ہے وہ باخبر مقامی اور علاقائی لوگوں کی تلاش ہے۔ تلاش و جستجو ایک محقق کی سب سے بڑی خصوصیت ہے اور اس جستجو میں مقصد کا ہونا اس کا باعث بنتا ہے کہ محقق تلاش کی دشواریوں  کو برداشت کر سکے۔ " حقیقت جوئی کے آثار و نتائج کو انسان کی زندگی میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے مثلا علمی ترقی ، تعلیمی مضامین کی وسعت و فراوانی، علمی اور  فکری اعتبار سے خود کفیل ہونا جو آج کے انسان کے ہاتھ میں ہے یہ سب آثار و نتائج ہیں حقیقت کی جستجو کے  جس نے دیگر کاموں کو آسان بنانے میں مدد دی ہے۔[4]

یقیناً اس راستے میں  محققین  کو با خبر افراد کی تلاش اور پھر ان سے اطلاعات کسب کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے  اور اتنے چیلنجز دیکھیں ہیں کہ ان سے تنگ   آکر وہ تلاش و جستجو اور باخبر لوگوں کو ڈھونڈنے سے ہاتھ اٹھا چکے ہیں اور اس کام میں ان کا ذوق و شوق ماند پڑ گیا ہے۔ وہ رکاوٹیں جو عموماً محققین کو درپیش ہیں  ان میں سے چند درج ذیل ہیں

۱۔ ایسے لوگوں کا آسانی سے نہ ملنا

۲۔ علاقائی اور مقامی لوگوں کا انٹرویو کے طریقہ کار سے آگاہ نہ ہونا

۳۔ ان کا انٹرویو کرنے والے پر اعتماد نہ کرنا

۴۔ راویوں کا روایت تاریخی کو سرکاری زبان سے مکمل آشنا نہ ہونے کی وجہ سے درست طور پر بیان نہ کر سکنا۔

۵۔ اس بات کا احتمال کہ محقق کے پاس تمام راویوں کے لئے بہت سا وقت نہ ہو

۶۔ کسی بھی فرضی خوف کی وجہ سے راوی اس بات کو پسند نہ کرتا ہو کہ وہ جو مطالب بیان کرے ان کو نشر کیا جائے

۷۔  راویوں کا گذشتہ واقعات کے بیان کی جانب رجحان نہ ہونا

اور جیسے ہی دوسرے عوامل  جن کی وجہ سے شاید تاریخ شفاہی کے  محققین کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں۔

محققین اور  گفتگو و انٹرویو کے ذریعے تاریخ جمع کرنے کے شوقین افراد کو ایسے باخبر بزرگوں کو قائل کرنے کی دوسری راہیں ڈھونڈنی چاہئیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

۱۔ ایسے لوگوں کے ذریعے رابطہ کرنا چاہئے جو  اس خاص علاقے کے مقامی لوگوں کو جانتے ہوں۔

۲۔ ایسی کتب   کا مطالعہ کرنا چاہئے جن میں اس علاقے کے لوگوں سے پہلے کسی کے انٹرویو کی داستان درج ہو۔

۳۔ جہاں پر با خبر بزرگ افراد پائے جاتے ہوں اس علاقے کا دورہ کرنا اور وہاں  خود جستجو کرنا بھی کامیابی کی کنجی ہوسکتا ہے۔

روایوں کے متلاشی اور ان سے انس رکھنے والوں کو ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے روابط کو ان لوگوں سے ہمیشہ دوستانہ طرز پر محفوظ رکھیں تاکہ  دوسرے راویان کو تلاش کرنے کی راہ ہموار ہو جس کے نتیجے میں تاریخی واقعات کامل اور معتبر صورت میں ہاتھ آئیں گے۔ اور دوسری طرف سے گفتگو اور تحقیق کا مسلسل جاری رہنا  اور ایسے افراد کو انٹرویو اور گفتگو پر مائل کرنا اس بات کا پیش خیمہ بنے گا کہ  دوسرے لوگ بھی ان علاقائی اور مقامی لوگوں کی ثقافت سے آگاہ ہو سکیں اور اس قسم کی تحقیق کی جانب مائل  ہوں  اور ان کی یہ رضا کارانہ تحقیقات تاریخی معلومات کے اضافہ اور علاقائی و مقامی تاریخ شفاہی کی ترقی کا سبب بنیں گی۔

حوالہ جات

 

[1]  Oriana Fallaci

[2] منو چہر پارسا دوست، شاہ عباس اول صفحہ ۱۱

[3] مستورہ، مصطفیٰ، مبانی داستان کوتاہ، صفحہ ۷

[4] حیاتی زہیر علیخانی رحیم، نگارش مقالہ و گزارش و۔۔۔ صفحہ ۱۴



 
صارفین کی تعداد: 184


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں