تاریخ نگار، اولین صحافی

شیما دنیا دار رستمی
ترجمہ: سید سمیر جعفری

2018-10-14


"مزار شریف مفتوح ہوگیا۔ ۱۷، مرداد ۱۳۷۷   [ ۸ اگست ۱۹۹۸] ۔ یہ ایرانی قونصیلٹ ہے مزار شریف میں اور میں محمود صارمی ہوں اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک صحافی۔ طالبان کا ایک گروہ کچھ گھنٹے پہلے مزار شریف میں داخل ہوا ۔ تازہ خبر تازہ خبر۔ مزار شریف طالبان کے قبضہ میں چلا گیا۔ بہت سے طالبان کو قونصیلٹ کے احاطہ میں دیکھے جارہے ہیں مجھے بتائیں کہ میری ذمہ داری۔۔۔۔۔۔" خبر مکمل نہیں تھی کہ صحافی کی تقدیر کا لکھا رونما ہوگیا۔

تکفیری طالبان کے گروہ نے ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کیا اور صحافی محمود صارمی  اور چند ڈیپلومیٹس کو شہید کر دیا۔ اس فرض شناس صحافی نے  اپنی شہادت کے لمحات کو ہمیشہ کے لئے نشانی کے طور پر محفوظ کر دیا۔

وزارت ثقافت عمومی نے ۱۷ مراداد ۱۳۷۸ [ ۸، اگست ۱۹۹۸]،  کو اس واقعہ کی پہلی برسی کے موقع پر اس دن  کو صحافیوں کے دن کے نام سے موسوم کردیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہر سال اس دن ہر انجمن و تنظیم صحافیوں کی اعلیٰ مقام کی قدر دانی کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام کرتی ہے تاکہ لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ صحافت ایثار و شجاعت کا نام ہے۔

ہر چند آج  کل صحافت کے لئے مختلف معیارات متعین کر دئیے گئے ہیں  لیکن کہا جاسکتا ہے کہ ایران میں صحافت کوئی نیا پیشہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں اس کام کو تاریخ نگار اور محققین انجام دیا کرتے تھے۔

کتاب " تاریخ مطبوعات" کے مطابق ، جس کے مصنف سید فرید قاسمی ہیں ، میرزا محمد صالح شیرازی ایران کے پہلے اخبار نویس تھے۔ لیکن  تاریخ بہیقی کی طرزِ تاریخ نگاری کو دیکھ کر یہ کہا سکتا ہے کہ ابولفضل بہیقی ایران کے سب سے پہلے صحافی تھے جو پانچویں صدی ہجری میں یہاں زندگی گذارا کرتے تھے۔

مشاہدہ، جزئیات نگاری، واقعات کی منظر کشی، قصہ اور تاریخ کی گواہی، صنائع و بدائع کا استعمال، بلاغت کے قرینے کے تحت افعال بلکہ بعض اوقات عبارات کا حذف کر دینا ، کلام کی ہم آہنگی اور زیبائی، افراد و اشخاص کے ظاہر و باطن کی دقیق توصیف، مناظر اور اشیاء کی لفظوں سے مصوری  اور بموقع ایجاز و اطناب  یہ وہ امور ہیں جن میں  بہیقی کی توانائی نے  تاریخ نگاری میں ایسا سبک ایجاد کیا جو نا صرف آج کے دور میں جاذب نظر ہے بلکہ صحافت کے سبک کے طور پر جانا اور مانا گیا ہے ۔

اس وقت سے اب تک صحافت کے اصول و معیارات مستقل تغیر و تبدل کا شکار رہے ہیں  لیکن صحافی کے لئے ہمیشہ بنیادی شرائط تحقیق و جستجو، منصفانہ بیان ، جانبداری سے پرہیز اور  حقیقت کے بیان کی جسارت رہیں ہیں۔

اسی طرح صحافی کو معاشرہ کا زندہ ضمیر فرد بھی کہا جاتا ہے اور میڈیا میں صحافی کو جمہوریت کا چوتھا رکن  شمار کیا جاتا ہے۔ مسلط کردہ جنگ کے ایام اور اس کے بعد  بھی  غلام رضا رہبر، یوسف نصوحی پور، ایرج ایزد پناہ، فتح اللہ ژیان پناہ، حسین فرہادی، محمد صادق نیلی احمد آبادی، محمد علی بخشی، اسماعیل عمرانی اور علی رضا افشار جیسے  صحافیوں نے اسی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔

ادارہ اطلاعات و  نشریات  اور ادارہ ثقافتی امور اسلامی جمہوریہ ایران  ہر سال صحافیوں کی قدر دانی کے لئے اور ان کے قلم کی شجاعت کا پاس رکھنے کے لئے مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ عموماً تبریک و تہنیت کے اشتہارات  پر آیہ شریفہ '' ن والقلم ، وما یسطرون'' لکھی جاتی ہے۔ اس سال یعنی ۱۳۹۷ میں تہران کی شہری حکومت کی جانب سے ادارہ ثقافت و فنون  نے تہران میں ، مختلف نشریاتی اداروں پر بلبورڈز لگا کر صحافیوں کو اس دن کی مبارک باد پیش کی۔

گو کہ یہ اقدامات خبر نگاروں کی تسکین کا باعث ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے  کہ یہ انجمنوں اور دیگر اداروں میں ان کی ذمہ داریاں متعین ہوں تاکہ صحافی  بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب ہو سکیں۔



 
صارفین کی تعداد: 171


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں