جوا آوڈیچ کے ساتھ گفتگو

حسینی اور آودیچ خاندان، خرم شہر اور سربرنیتسا

گفتگو: مہدی کانبان پور
ترجمہ: سید سمیر علی جعفری

2018-09-01


کتاب    "لبخند من انتقام من است" کی مصنفہ محترمہ جوا آودیچ ۲۶ اگست ۱۹۸۶ کو  زلنی یادار میں جو سربر نیتسا کے نزدیک پیدا ہوئیں۔ بوسنیا ہرزگوینا میں جنگ کے آغاز کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ نقل مکانی کر کے شہر سربرنیتسا آجاتی ہیں۔ جس وقت شہر سربرنیتسا سقوط کرتا ہے  آودیچ کی عمر  اس وقت صرف ۹ سال ہوتی ہے۔  ان کا اعتقاد ہے  جو لوگ بھی سربرنیتسا سے زندہ بچ کر نکل گئے ان کے لئے ان صلح کے ایام کو سہنا جنگ کی سختیوں سے زیادہ کٹھن ہے۔ کیونکہ وہ اس صلح کے بعد اپنے ہی وطن میں غریب الوطن ہو گئے۔

جوا آودیچ نے سارایوو یونیورسٹی سے  علم سیاسیات کی تعلیم حاصل کی جس کا ذیلی مضمون ان کے لئے صحافت رہا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ ایک صحافی کے عنوان سے بوسنیا ہرزگوینا کے ایک  اخبار ڈنونی آواز میں  بھرتی ہو گئیں۔ لیکن عرصہ گذر جانے کے بعد بھی جنگ اور سربرنیستا کے لوگوں کی حالت ان کو بھلائے نہ بھولتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کتاب لبخند من انتقام من است لکھنے کی جاب متوجہ ہوئیں تاکہ ان تمام سختیوں  اور مشقتوں کی جو اس حادثہ کے باقی رہ جانے والوں نے اٹھائیں تھیں، راوی بن جائیں۔

آودیچ  نے کتاب "دا" کے ترجمہ کی رونمائی کے دوران بوسنیا ہرزگوینا میں سربرنیتسا اور خرم شہر میں ہونے والی بعثیوں کی جانب سے تحمیل کردہ جنگ کا تقابل کرتے ہوئے کہا:  وہ لوگ جو جنگ کی ہولناکیوں کو گذارنے کے بعد زندہ سلامت بچ گئے ہیں ان کی زبان کچھ بھی ہو وہ کسی بھی زبان میں گفتگو کریں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں، ایک دوسرے کے الفاظ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔  تقدیر میں یہی لکھا تھا کہ میں کتاب ''دا'' کا ترجمہ جو ایک ایرانی مصنف کی کتاب ہے، کو مارچ ۲۰۱۷ میں ایک ساتھ پڑھ ڈالوں۔ کتاب پڑھ کر مجھ پر کھلا کہ الگ الگ زمانے میں ہم دونوں  کا ماضی ایک طرح گذرا ہے۔ یہ جملہ '' تاریخ خود کو دہراتی ہے'' صرف ایک سادہ سا جملہ نہیں ہے بلکہ اس کی سچائی کا ثبوت وہ لوگ ہیں جو جنگ کے بعد زندہ رہ گئے ہیں۔  ایران نے ۸۰ کی ۸۰ عیسویں کی دہائی اور بوسنیا کی ۹۰ عیسویں کی دہائی، حسینی خاندان اور آودیچ خاندان، جنت آباد کا قبرستان اور پوتوچاری کا قبرستان، کتاب ''دا'' اور  کتاب'' لبخند من انتقام من است'' دونوں  اس لئے لکھی گئی ہیں کہ جنگ زدہ لوگوں کی قربانیاں ضبط تحریر میں آئیں، تاکہ ظالموں کے ظلم  تا ابد بھلائے نہ جائیں۔ یہ بات نہ بھلائی جائے کہ جب تک دنیا ہے ہر چیز تکرار ہوتی رہے گی۔

تاریخ شفاہی کی سائٹ کو یہ موقع ملا کہ کچھ دیر محترمہ جوا آودیچ سے گفتگو کر سکے۔

 

محترمہ جوا، سربر نیتسا کے سخت ترین ایام کا کوئی واقعہ سنائیے؟

یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب ہم سربرنتیسا سے نقل مکانی کر رہے تھے۔ [۱۱ جولائی ۱۹۹۵]۔ میرے والد نے جنگ میں حصہ لیا تھا اور ابھی واپس پلٹے تھے اور سربرنتیسا میں ایک گھرمیں رہائش پذیر تھے۔ مگر یہ گھر ہمارے لئے نہیں تھا ، والد کے ساتھ کچھ اور جنگی سپاہی بھی تھے جو اس گھرمیں آ گئے تھے تاکہ مال اسباب اٹھائیں اور ہجرت کر جائیں۔ شہر سقوط کر چکا تھا اور سب کی جان خطرے میں تھی۔ میںابھی مکمل نو سال کی بھی نہ ہوئی تھی اور مجھے یہ گمان بھی نہ تھا کہ والد سے یہ ملاقات میری آخری ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ والد صاحب نے مجھے اپنی گود میں لیا میں نے ان کو الوداع کہا۔ والداور ان کے دوستوں کے گھر سے جانے کے بعد عجیب شور و غل برپا ہوگیا۔ میں نے اس دھما چوکڑی میں سنا کوئی چلا رہا تھا۔ سربرنتیسا مفتوح ہوگیا ہے۔ اس وقت میری والدہ نے میرا اور میرے بھائی کا ہاتھ تھاما اور کوئی ساز سامان اٹھائے بغیر ہی گھر سے باہر نکلکھڑی ہوئیں۔ تمام لوگ شہر سے بھاگ جانے کی فکر میں تھے۔ ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہوگئے بغیر یہ جانے کہوہ لوگ کہاں جارہے ہیں یا ہماری منزل کہاں ہے۔ لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے ساتھ ہم بھی شہر سے نکل کھڑے ہوئے، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اب مستقبل میں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

میں ، والدہ اور بھائی دورات فتوجاریک میں رہے۔ والدہ ان دو راتوں کو لمحہ بھر کو نہ سوئیں اور انہوں نے انتہائی وحشیانہ مظالم کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا۔ صربیا کی فوجیں مردوں کو لوگوں سے جدا کرتی اور قتل کر ڈالتی تھیں۔ تیسرے دن ہم بسوں کی طرف چل پڑے جو مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر مامور تھیں۔ میرے بھائی کی عمر ۱۲ سال تھی اور خوش قسمتی سے ہم اس کو بچا لانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اگر ہم تیسرے دن بھی فتوجاریک میں رکتے تو یقیناً بھائی کو بھی قتل کر دیا جاتا۔

 

یہ لوگو جو آپ کے لباس پر لگا ہے کیا ممکن ہے کہ آپ اس کے بارے میں کچھ بتائیں؟

اس کا نام سربرنتیسا کا پھول ہے۔یہ پھول ان مظالم کی یادگار ہے جو اس شہر میں برپا تھے۔ اگر اور واضح تر کہوں تو یہ نشان سربرنتیسا کے واقعہ کی قربانیوں کو زندہ رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے، سربرنتیسا ہی نہیں بلکہ تمام بوسنیامیں ہونے والے مظالم کی یادگار ہے۔ یہ نشان دہندہ ہے ۱۱ شہیدوں کی ماوں کا جو ایک شہید کے تابوت کے گرد جمع ہیں ، ۱۱ جولائی کی یاد میں کیونکہ آج بھی ۲۰ سال سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جن کے چراغ اب بھی لا پتہ ہیں اور یہ ہرا رنگ ان ہی افراد کے تابوت کی نشانی ہے۔

 

آپ نے کتاب "دا" کا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے آپ پر کیا اثر مرتب کیا؟
کیا یہ آپ کا ایران کا پہلا سفر ہے؟

جی بالکل پہلا سفر ہے۔

 

بوسنیا کے لوگ ایران   کے بارے میں کیا تاثرات رکھتے ہیں؟

بوسنیا کے لوگ ایران کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ ایران نے بوسنیاکے لئے کیا کیا ہے۔

 

آپ کا پیشہ کیا ہے؟

میں ایک بینک میں ملازم ہوںلیکن میری تعلیم پبلک ریلیشن اور صحافت کے مضامین میں ہے۔

 

ہم آپ کے تہہ دل سے ممنون ہیں کہ آپ نے سفر کی تھکن کے باوجود ہمیں وقت دیا۔

میں بھی آپ کی شکر گذار ہوں اور تمام ایرانی عوام کی شکر گذار ہوں۔اس کے باوجود کہ اس واقعہ کو ۲۰ سال سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ہے اور ایرانی اب بھی ہمارے شہداء کو یاد کرتے ہیں یہ میرے لئے بہت ہی قیمتی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 62


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

    محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

    مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

    ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
    جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

    امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

    گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں