امام خمینی ؒکے گھر میں ہونے والی تاریخی تقریر

راوی: حجت الاسلام علی موحدی ساوجی

مترجم: سید نعیم حسین شاہ

2018-08-18


یہ تحریر امام خمینی ؒ کی اس تاریخی تقریر کے بارے میں ہے جو انھوں نے استعمار کی جانب سے پیش کردہ کیپٹلزم قانون کے خلاف کی اور اس کے بھیانک چہرے سے پردہ اٹھایا۔ حضرت امام خمینی ؒ نے علما اور مراجع کو بھی اس گھٹیا اور پست قانون کے خلاف آواز اٹھانے کی نصیحت کی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ علما اور مراجع کی طرف سے علی الاعلان مخالفت ہونی چاہیے اور باقاعدہ پوسٹر چھپنے چاہئیں۔ فضا کی سراسیمگی کو مدنظر رکھتے  ہوئے حضرت امام خمینی ؒ نے بذات خود عوام کو جمع ہونے اور خود تقریر کرنے کے لئے دن کا تعین کردیا۔ امام اس تقریر میں کیپٹلزم کی حقیقت کو کھول کر سادہ اور عام فہم لفظوں میں ایران قوم تک پہنچانا چاہتے تھے۔ امام چاہتے تھے کہ اس منحوس قانون کے لاگو ہونے سے قبل اس کے چہرے سے پردہ ہٹاکر اسے رسوا کردیں۔

اس تاریخی تقریر کے لئے جس دن کا انتخاب ہوا  وہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ کا دن تھا اور خزاں کا موسم تھا اور اگرچہ اس پروگرام میں شرکت کے لئے باقاعدہ طور ملکی سطح پر عوام کو دعوت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود قریبی قصبوں خصوصاً تہران کی عوام اور انقلابی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد وہ بھی تھی جسے صرف چوبیس گھٹنے پہلے اس تقریر کی اطلاع ملی تھی اور ان کو اطلاع ایسے افراد نے دی تھی جو خود انقلابی جدوجہد میں پیش پیش تھے اور مسلسل قم المقدس اور بیت امام ؒ سے رابطے میں رہتے تھے۔ ایسی ہی وجوہات کی بنا پر امام خمینی ؒ کی تقریر کا وقت، مقررہ دن کے آخری حصے میں بھی سورج غروب ہونے سے دو گھنٹے پہلے کا رکھا گیا۔ میں بھی اسی دن عصر کو امام ؒ کی تقریر سننے کے لئے پہنچا اس اہم جلسے  کی جگہ خود حضرت امام خمینی ؒ کا گھر تھا جو اس وقت محلہ یخچال قاضی میں تھا۔

جب میں گھر کے اندر صحن میں پہنچا تو دیکھا کہ جگہ ہی نہیں بچی حالانکہ میں جلدی گیا تھا اور تو اور، مجھ سے ایک گھنتہ پہلے جو لوگ آئے تھے ان کے آنے سے ہی اس گھر کے چھوٹے صحن کمروں کے باہر کی جگہ اور بڑے صحن، جہاں امام خمینی ؒنماز جماعت پڑھایا کرتے تھے، لوگوں کے اژدھام سے بھر چکی تھی۔ مجھے گھر کے اندر تو کہیں جگہ نہیں ملی سو میں باہر  بیٹھے ہوئے لوگوں میں شامل ہوگیا۔ تقریباً بیس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ عوام  کی کثرت کے باعث اس طرف کی تمام گلیوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ بلکہ منزل امام ؒ کے جنوب میں مٹی کی دیواروں سے بنا ایک باغ تھا۔ جس کے مالک نے دروازہ کھول کر عوام کو باغ کے اندر جگہ دے دی تھی۔ جگہ کی کمی کے ساتھ ساتھ ایک اور مشکل بھی پیدا ہوگئی تھی اور وہ یہ کہ ساؤنڈ سسٹم کم پڑ گیا تھا۔ یعنی باگ والی جگہ شفاف آواز اور سپیکرز سے محروم تھی۔ اور صوتی نظام کا بندوبست صرف امام کے گھر کے صحن اور ساتھ والی گلی کے لئے کیا گیا تھا۔

میرے خیال میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اور میرے  اندازے کے مطابق دس ہزار سے زیادہ لوگ  آئے تھے۔  حضرت امام خمینی ؒ نے اپنی تقریر شروع کردی۔ امام کی تقریر ایک خص کشش کی حامل ہوتی تھی۔ یعنی امام کی گفتگو سنے کے لئے سماعتیں خود بخود وقف ہوجایا کرتی تھیں کیونکہ حضرت امام خالص الٰہی شخصیات میں سے تھے۔ پاکیزہ قلب اور صاف نیت کے مالک تھے۔ تقریر مٰں انکی گفتگو دل سے نکلتی تھی اور دلوں میں اتر جایا کرتی تھی۔ جبھی تو امام دلوں پر حکومت کرتے تھے۔ لفاظی، خیالات اور جذبات کو بالائے طاق رکھ کر عقل کی کسوٹی پر سادہ الفاظ میں گفتگو کرتے تھے۔ امام کی گفتگو اور کردار میں کہیں لغزش نہیں تھی عام طور پر ایک مقرر یا خطیب پہلے سے تیار شدہ مواد اور موضوع کے مطابق تقریر کرتا ہے یعنی جو جانتا ہے  منبر سے وہی کہتا ہے۔ اب چاہے اسے اپنی معلومات پر یقین ہو یا نہ ہو۔ ان پر عمل پیرا ہوتا  ہو یا نہ ہو۔ اس سے بحث نہیں۔

لیکن امام خمینی ؒ کا کچھ اور ہی انداز تھا۔ امام کی تقریر میں مختصر سا خطبہ ہوتا تھا اور اس کے بعد اصلی گفتگو اور بس۔ یعنی خطبہ کے بعد مقدمہ یا تمہید نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی۔ ملاحظہ کیجئے اس تاریخی تقریر میں بھی امام نے خطبے کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز کچھ یوں کیا: "میں کچھ عرصے سے بہت پریشان  ہوں حتی میں رات کو سو بھی نہیں پا رہا" اور پھر امام نے کپٹلزم کو یوں کھول کر سامنے رکھا کہ: قومی اسمبلی میں ایک ایسا قانون رکھا گیا ہے کہ جس کے تصویب ہونے کے بعد ایرانی قوم ذلیل ہوگئی ہے۔ قیدی بن گئی ہے۔ ایرانی قوم کے حقوق پامال  کر دیئے گئے ہیں۔ امریکی مختلف بہانوں سے ایران آتے ہیں  چاہے یہ بہانے سیاحت کے ہوں یا ٹور کے ہوں یا مشورہ دینے کے ہوں۔ جس بہانے سے بھی ایران میں داخل ہوں اور پھر وہ چاہے کسی بھی جرم و جنایت کے مرتکب ہوں بلکہ حتی اگر وہ ایران کے صدر یا وزیر اعظم کی بھی توہین کردیں یا جنایت کے مرتکب ہوں تو کسی کو ان پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں۔ نہ پولیس، نہ امنیتی ادارے، نہ ایران کے تھانے اور نہ جج اور نہ ایران کی عدالت۔ کسی کو بھی  یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ایران میں جرم کا ارتکاب کرنے والے امریکیوں کے خلاف کوئی قدم اٹھائے یا ان کا پیچھے کرے۔ کیوں کہ اس قانون کے تصویب ہونے کے بعد وہ لوگ، پیچھا کرنے، تلاش کرنے اور کسی بھی قسم کے عدالتی یا سیاسی فیصلے سے بری اور بالاتر ہوں گے۔"

جب امام خمینی ؒ نے اپنے یہ ابتدائی کلمات کہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ "پچھلی چند راتوں سے میں سو نہیں پایا اور اس مسئلے کے بارے میں بہت پریشان ہوں" تو یہ سن کر تمام حاضرین زار و قطار رونے لگے۔ یہاں ایک تمثیل بلاشبہ ہے اور وہ ہے  عاشورا اور امام حسین علیہ السلام، جو انسان کو جھنجوڑ کے رکھ دیتی ہیں۔ جب امام خمینی ؒ نے اس اتنی بڑی مصیبت اور غمگین صورت حال ، جو ایرانی قوم کو درپیش تھی، کو واضح کیا اور ساتھ ساتھ اپنی اندرونی کیفیت بھی اپنے عوام کے سامنے کھول کر رکھی تو لوگ برداشت نہیں کرسکے اور شدت سے رونے لگے کہ اب یہ وقت بھی آگیا کہ اس  کٹھ پتلی حکومت اور پارلمان کے ہاتھوں ایرانی قوم اب یوں بھی ذلیل اور ر سوا ہو۔

پھر امام خمینی ؒ نے عالم اسلام کو بین الاقوامی سطح پر درپیش مسائل اور خصوصاً فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار پر بھی گفتگو کی اور ان مسائل کی جڑ یعنی امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بلکہ حتی سوویت یونین پر بھی بات کی اور اپنی تقریر  کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ یہ خونخوار ممالک کس طرح دیگر ممالک پر خصوصاً اسلامی دنیا پر ناجائز قبضے کرنے کیلئے بے چین رہتے ہیں، سازشیں تیار کرتے ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 200


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں