دو موارد میں خصوصی تاکید

راوی: آیت اللہ عباس خاتم یزدی

مترجم سید نعیم عباس شاہ

2018-08-16


"یہ اُس  وقت کی بات ہے جب حضرت امام خمینی ؒ نجف اشرف میں اپنی جلاء وطنی کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ ایک رات انھوں نے ہم سب کو جمع کیا اور اپنے پاس بٹھا کر کہا : عراقی حکومت نے مجھ سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اب میں پہلوی حکومت کے خلاف یہاں سے دوبارہ کوئی قدم نہ اٹھاؤں اور نہ ہی اس کے خلاف تبلیغ کروں" جبکہ میں یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ نجف اشرف سے، کہ جو تشیع کا مرکز ہے، دنیا والوں کو ایرانی عوام کی مظلومیت سے آگاہ کروں، سو میں نے بھی جواب میں کہہ دیا ہے کہ اگر آپ لوگ مجھے یہاں سیاسی فعالیت نہیں کرنے دیں گے تو ٹھیک ہے پھر میں یہاں سے چلا جاتا ہوں اور انھوں نے بھی یہ بات مان لی اور ہم نے اپنا پاسپورٹ خروج (exit) کے لئے جمع کروادیا ہے۔"

حضرت امام خمینی ؒ کی گفتگو پوری ہونے پر ہمیں بہت عجیب سا لگا اور سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ ظاہر سی بات ہے پریشانی تو ہونا ہی تھی  کہ اب اس تحریک کا مستقبل کیا ہوگا اور اب امام خمینی ؒ جدوجہد کی اس تحریک کو کیسے جاری رکھ پائیں گے؟ خیر، آخر کار امام خمینی ؒ کا خروج لگ کر آگیا تو امام نے کویت کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں بھی اُن لوگوں میں سے ایک فرد تھا جو امام کے ساتھ تھے۔ مقررہ دن کو سات آٹھ گاڑیوں میں ہم روانہ ہوئے۔ حضرت امام ؒ اپنے دو تین ساتھیوں کے ساتھ جناب سید عباس مہدی کی گاڑی میں تھے اور باقی ہم لوگ دیگر گاڑیوں میں سوار تھے۔ یہاں اس واقعہ میں اہم بات جس نے ہماری توجہ اپنے طرف مبذول کی وہ یہ تھی کہ حضرت امام خمینی ؒ نے کویت کی سرحد تک اس سفر میں جب بھی آرام اور کھانے وغیرہ کے لیے مختصر قیام کیا تو مجھے اور جناب سید جعفر کریمی کو  کئی بار اپنے پاس بلوایا اور ہر بار ہمیں سونپے گئے کام یاد دلائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ: ان فلاں صاحب کا خیال رکھنا کیونکہ وہ صاف اور سادہ اور اچھے آدمی ہیں اور  بیمار بھی ہیں جبکہ ان کا کنبہ بھی بڑا ہے تو آپ کے اختیار میں  جو رقم ہے اس میں سے جس قدر ہوسکتا ہے ان کی مدد کریں اور پھر حضرت امام خمینی ؒ نے اس خیال سے کہ یہ بات ہم بھول نہ جائیں کئی بار تاکید کی۔

اور دوسری ایک بات جس پر امام خمینی ؒ نے دوبار تاکید فرمائی اور جس سے یہ پتہ چلتا تھا کہ آپؒ اپنے اطراف کے افراد کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں، یہ تھی کہ: امام خمینی ؒ نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ میرے جانے کے بعد یہاں کے انقلابی اور سرگرم جوانوں میں سے کچھ افراد کوئی جذباتی کام کر بیٹھیں اور دوسری طرف سے مراجع عظام میں بھی اتنا حوصلہ اور صبر نہیں ہے کہ زیادہ برداشت کریں تو  ہوسکتا ہے وہ ان کا شہریہ (ماہانہ وظیفہ) بند کردیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو وہ افراد مالی تنگ دستی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ آپ ایسی صورت حال پیش نہ آنے دیں اور جتنا ہوسکتا ہے ان کے اخراجات اٹھائیں۔



 
صارفین کی تعداد: 641


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پہلا حصہ

قارئین سے گفتگو
میں ایک ایسی خاتون کے سامنے بیٹھی تھی جس کی جوانی کا بیشتر حصہ غریب الوطنی میں گذرا تھا اور سفر کا اختتام، ہمسفر زندگی کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور وہ پچھلے ۱۸ سال سے تن تنہا ماں اور باپ بن کر بچوں کی کفالت کے فرض سے عہدہ برآں ہو رہی تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جس کی تمام تر زندگی اب اس کے بچے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔