تنہائی والے سال – اکیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-08-08


اس حالت میں کہ اُس نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم اُس کے ساتھ راہداری سے گزرے اور لفٹ کے ذریعے نچلے طبقے میں  گئے۔ راہداری طے کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے  اور اُس نے مجھے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔

کمرے میں کچھ لوگ باتیں کرنے میں مصروف تھے۔ جس شخص کی آواز گنجے سے مل رہی تھی، اُس نے بات کرنا شروع کی اور کسی نے اُس کا ترجمہ بھی کیا۔ اُس نے کہا:

- آپ لوگ ہمارے ہاتھوں قیدی ہوئے ہیں، آپ لوگوں کو ہمارے ملک کے قوانین اور قواعد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ ہم آپ سے بس یہی چاہتے ہیں۔ ہم آپ لوگوں روٹی اور پیاز بھی  دے سکتے ہیں، لیکن ہم آپ کیلئے گوشت، مرغی اور چاول لاتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ مہمانوں کی طرح پیش آتے ہیں۔ اس کے بدلے میں آپ لوگ ہمارے نگہبانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں، اُن کی باتوں اور احکامات پر کان نہیں دھرتے اور بہت زیادہ شور شرابہ کرتے ہیں۔

اس کے باوجود کہ ضعف کی وجہ سے میری حالت مرجھائی ہوئی تھی، میں نے کوشش کہ اپنی فطری جدوجہد کی حفاظت کروں، میں نے جواب دیا:

- آپ یکطرفہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ اگر ہم لوگ قیدی ہیں اور ہمیں آپ کے ملک کے قوانین کے مطابق عمل کرنا چاہیے،  خود آپ لوگوں کو بھی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ کون سا قانون آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ جنگی قیدی کو سیاسی زندان میں رکھیں؟ کون سے قانون نے آپ سے کہا کہ ہمیں مخفی رکھا جائے؛  ہمیں خط لکھنے اور ریڈ کراس والوں سے ملنے سے محروم کریں؟ کس قانون  کے تحت قیدی کیلئے ہوا اور سورج سے استفادہ  کرنا ممنوع ہے؟ کون سا قانون، مذہبی  تقریبات کی انجام دہی اور مذہبی کتابیں رکھنے سے منع کرتا ہے  کہ آپ لوگ ہمیں حتی قرآن دینے سے بھی ڈرتے ہیں؟ اس وقت  ہمیں یہاں لائے ہوئے دو دن گزر چکے ہیں لیکن آپ نے اس کی علت کے بارے میں ایک بات بھی نہیں کی! … ہمارے لیے جو پینے کا پانی ہے وہ ابھی تک آلودہ ہے  اور ہمیں خود بالٹی بھر بھر کے پانی کی ٹنکی کو بھرنا پڑتا ہے۔ میرا آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ آپ ان مشکلات کا حل نکالیں اور ہمیں دوسرے لوگوں کے پاس بھیج دیں …

وہ میرے قریب آیا اور ایک زور دار تھپڑ نے میرے ایک طرف کے گال کو گرما دیا۔ یعنی منہ سے کوئی بات نہ نکلے! اور بالآخر اُس نے کہا:

- تم لوگ قیدی ہو اور ہمارا جس کام کا دل چاہے گا، ہم کریں گے۔ ہم اپنے قانون کو  مانتے ہیں!

نگہبان آیا اور مجھے واپس کوٹھڑی میں لے گیا۔ جب میں نے اپنے دوسرے دو دوستوں سے مشورہ کرنے  کیلئے اس مسئلہ کو پیش کیا تو طے پایا کہ فی الحال ہم اپنی ہڑتال کو جاری رکھیں۔

تین دن گزر گئے اور ہم نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ تقریباً ظہر سے پہلے، گنجے نے دریچہ کا دروازہ کھولا اور پوچھا:

- ہوشنگ! کچھ کھا کیوں نہیں رہے ہو؟

- ہمیں ہمارے دوستوں کے پاس بھیجا جائے۔

- ٹھیک ہے۔ تم لوگ کھانا کھاؤ، میں تمہاری واپسی کیلئے مسئلہ کا حل نکالتا ہوں۔

-  اگر سچ کہہ رہے ہو تو آج ہی یہ کام کرو تا کہ ہم وہیں پر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھائیں۔

- آج نہیں ہوسکتا، لیکن تم مطمئن رہو میں چند دنوں کے اندر یہ کام انجام دوں گا۔ بہتر ہوگا کہ تم میری بات مان لو۔

ہم مجبوراً راضی  ہوگئے۔ کیونکہ حالات تھوڑے خراب تھے اور ہم نے دیکھا کہ بہتری اسی میں ہے کہ اس سے زیادہ ضد نہیں کرنی چاہیے؛ اس کے ساتھ ہمارا مصر رہنا، نقطہ ضعف سمجھا جاتا اور اس سے اُن کی حساسیت میں اضافہ ہوتا۔

ہم لوگ تقریباًٍ دس دن وہاں رہے ، اُس کے بعد ہمیں دوبارہ پہلی والی جگہ پہنچا دیا گیا۔

کیمپ میں داخل ہونے اور لوگوں سے گلے ملنے کے بعد، میں نے خبروں کے بارے میں پوچھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ نچلے طبقے سے، آزر اور اُس کے ہم فکر ساتھیوں کو لے گئے ہیں  اور اب تقریباً ۲۴ لوگ باقی رہ  گئے ہیں کہ جن کے انچارج میجر "محمودی" ہے۔  میں نے محمودی کو ایران میں نہیں دیکھا تھا؛ لیکن میں جانتا تھا کہ وہ ماہر، متعہد اور محنت کرنے والے پائلٹوں میں سے ہیں کہ جنہوں نے اپنی ڈیوٹی کا زیادہ تر عرصہ شاہ سرخی چھاؤنی میں گزارا ہے۔

چند مہینے گزرنے کے بعد ایک دن گنجا ہمارے زندان میں آیا اور میرے ساتھ مذاکرات کے بعد طے پایا کہ کھڑکی پر لگے تختوں کو ہٹا دیا جائے اور اگر ممکن ہو تو ہمیں ہوا خوری کیلئے ہفتے میں دوبار کیمپ سے باہر لے جایا جائے۔

بالآخر ایک دن دروازہ کھلا اور ہم – ایک سال اور کچھ دن بعد – ہوا کھانے کیلئے باہر نکلے۔ ہوا خوری کی جگہ ایک مربع کی شکل میں تھی جو ہماری عمارت اور ٹارچر سیل کے درمیان واقع تھی۔ ہوا خوری کا احاطہ، ایک طرف سے، زندان کی راہداری اور دوسری طرف سے باہر نکلنے والے دروازے پر ختم ہوتا تھا کہ جو سریوں اور فلز کی چادروں – تقریباً ۵ میٹر کی بلندی تک -  سے چھپا ہوا نظر آرہا تھا۔  وہاں کی زمین پر بغیر فرش کے مٹی والی تھی اور اُس کے بیچ میں ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جس میں آفریقائی گھاس لگائی ہوئی تھی۔

مدتوں بعد، ایسا پہلی دفعہ تھا کہ  ہم ہوا خوری کیلئے آئے تھے؛ ہوا خوری کیلئے آئے ہوئے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت نہیں گزرا ہوگا کہ اکثر لوگوں کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ دو دیگر افراد  کو اُلٹی محسوس ہونے لگی اور اُن کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا  کہ جنہیں نگہبانوں کے ذریعے کیمپ میں واپس لے جایا گیا۔

تقریباً دو گھنٹے بعد، ہمارے ساتھ آنے والے نگہبان، ہمیں واپس لے گئے۔ اُس دن نے ہم سب کو بہت زیادہ تھکاوٹ کا احساس ہوا؛ ایسا لگ رہا تھا ہم نے کوئی سخت جسمانی اور طاقت فرسا کام انجام دیا ہے۔ اُدھر سے، رات کو بھی سب جلدی سو گئے۔

اگلی بار، طے شدہ پروگرام کے تحت، ہم نے ہوا خوری کی ابتدا سے ہی بھاگنا شروع کردیا؛ یعنی ایک لائن میں لگ کر، سب ایک کے پیچھے ایک دوڑ رہے تھے؛ منظم اور مرتب طریقے سے۔

ہوا خوری کے دوسرے مراحل میں، ہم  لوگ بھاگنے کے علاوہ "والی" بھائی کی ہدایات کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے کہ بعد میں – ایوی ایشن کے افسر کے توسط سے – ہمارے پروگرام میں علاقائی ورز ش کا اضافہ بھی ہوا۔

ہوا خوری کیلئے ہم جتنی مدت وہاں رہتے تھے، ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ٹارچر سیل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں؛ لیکن عمارت محدود اور بند تھی اور اُس میں کوئی  کھڑکی نہیں تھی۔

ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ نیچے والے موٹر خانے میں ایگزاسٹ فین لگ رہا ہے کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ نیچے والے افراد نے گنجے سے کہا تھا کہ ایگزاسٹ فین لگایا جائے۔ چند دنوں بعد، اوپر والی کھڑی سے نیچے کی طرف ایک راستہ بنایا گیا تاکہ اس راستے کو  نیچے لگے ایگزاسٹ فین سے متصل کر دیا جائے۔ البتہ یہ ایگزاسٹ فین کبھی بھی چلا نہیں، لیکن اس کے لگنے سے بہترین اور عالی فائدہ جو ہمیں ہوا، وہ یہ تھا کہ  ہم نے اُس کے ذریعے نیچے والوں سے رابطہ برقرار کیا؛ یعنی ہم اُس دریچہ کے نزدیک کھڑے ہوجاتے اور نیچے کھڑے ہوئے شخص کو آہستہ سے اپنا پیغام پہنچا دیتے۔

اُس کے بعد سے، ہمارے رابطہ برقرار کرنے کا ذریعہ وہی کولر کا راستہ ہوگیا  کہ ہم نے اُس سے کوڈ ورڈز کی جگہ استفادہ کیا۔ ضرورت پڑنے پر، ایسے وسائل جو مورد نظر تھے، اس سے طریقے سے اُن کی ردّ و بدل بھی  ہوجاتی؛ منجملہ قرآن کا وہ نسخہ جو ہم نے قرآن سے دیکھ کر خود لکھا تھا، نیچے والے افراد تک پہنچا دیا۔ یا اگر اُن لوگوں کو پنسل یا بال پوائنٹ ملتا تو وہ ہم تک پہنچا دیتے۔

جیسا کہ ہماری تعداد کم تھی، ہمیں زیادہ قوانین کی  ضرورت نہیں تھی؛ محبت، تعاون کا احساس اور اخلاص کی وجہ سے ہم سب مل کر ایک گھرانے کی طرح زندگی گزارتے تھے؛ مثلاً ہم  نے بوریوں سے ایک لمبا دستر خوان بنایا ہوا تھا اور روزانہ دو  یا تین افراد کی ذمہ داری ہوتی  تھیں کہ وہ کھانے سے مربوط کاموں کو انجام دیں۔ یا جیسے نگہبانی کے معاملے میں، ہم نے ایک لسٹ بنالی  تھی اور سب باری باری نگہبانی دیتے تھے۔

داستان (خبریں) سننے کے بارے میں، مخصوصاً ایسے وقت جب  ملک کا کوئی عہدیدار– خاص طور  سے امام –  بات کر رہے ہوتے تھے، افراد چچا نوروز (ریڈیو) کے پاس  لائن لگا کر بیٹھ جاتے اور اُسے سنتے تھے۔ خود میں اور بہت سے دوسرے افراد، امام کی گفتگو کے وقت – بغیر چاہتے ہوئے – آنسو بہانے لگتے تھے؛ اگر اپنی تعریف نہ ہو تو  شاید اُس ماحول میں ہم  اس عظیم مرد اور خدا کے والا مقام سید  کے کلام کی حقانیت  کو بہتر طریقے سے سمجھتے تھے۔

انہیں دنوں میں ہمیں پتہ چلا کہ نیچے والے کیمپ کے انچارج محمودی کو ہیڈ کوارٹر لے گئے ہیں اور وہ وہاں سے قرآن مجید کا ایک نسخہ لائے ہیں۔ اُس جگہ قرآن کا آجانا ایک بہت بڑی  نعمت تھی؛ ہم نے محمودی سے کہا جہاں تک ممکن ہوسکے، اُس کے ایک نسخہ کو ہاتھ سے لکھ لیں اور کولر کے راستے ہم تک پہنچا دیں۔ ہمیں قرآن کے تقریباً دو پارے دیئے گئے کہ جس سے ہم رات کو ہونے والی قرآنی نشستوں  میں استفادہ کرتے تھے۔

کسی دن مغرب کے وقت، کسی بھائی نے اذان دی تھی، ہم لوگ مغربین کی نماز کی تیاری میں مصروف تھے کہ ایک نگہبان اندر آیا اور بولا:

- اپنا سارا سامان اٹھالو اور تیار رہو ؛ ہمیں یہاں سے جانا ہوگا!

ہم نے نماز کے فوراً بعد سامان جمع کرنا شروع کیا  اور نیچے والے افراد کو بھی اطلاع دیدی۔

دروازہ پر کھڑا نگہبان، ایک ایک فرد کی راہنمائی کر رہا تھا اور ساتھ میں گنتی بھی کر رہا تھا۔ ہم کھلی آنکھوں کے ساتھ، اپنے زندان کی راہداری سے گزرے یہاں تک کہ نئے زندان یعنی ٹارچر سیل کی عمارت تک پہنچ گئے؛ وہی بغیر کھڑکی والی اور ڈراؤنی عمارت!

داخل ہوتے وقت ہمارا سامنا نئے نگہبانوں  سے ہوا جو سول ڈریس پہنے ہوئے تھے۔ پورے راستے میں اور اُس حالت میں جب وہ افراد کو اوپر والے طبقہ کی طرف ہدایت دے رہے تھے، تار اور لکڑی سے سب کے سروں پر  ما ر رہے تھے۔ ہر تین یا چار لوگوں کو ایک کوٹھڑی میں ڈال کر اُس کا دروازہ بند کردیا گیا۔

جاری ہے …



 
صارفین کی تعداد: 299


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں