زبانی تاریخ (ایران) :: واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب کی مؤلفہ شہلا پناہی کے ساتھ بات چیت

واقعات کا لکھنا یعنی تسبیح کے دانوں کو پرونا

فائزہ ساسانی خواہ

مترجم: کنیز طیبہ

2018-07-27


مؤلفہ شہلا پناہی واقعات لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے مواصلات کے شعبہ میں اپنی پڑھائی مکمل کی اور وہ شہدائے مدافع حرم کے واقعات کو جمع کرکے لکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کارکردگی  اس بات کا بہانہ بنی کہ ایران کی زبانی تاریخ اُن سے "رفیق مثل رسول" نامی کتاب اور اسی طرح اُن کے لکھے جانے والے آثار میں تحقیق اور انٹرویو کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے اُن کے ساتھ بیٹھے۔

 

آپ  نے کون سے سال سے واقعات لکھنا شروع کیے  اور آپ نے کس طرح اس کام میں دلچسپی لی؟

مجھے دفاع مقدس کی کتابیں اچھی لگتی تھیں اور میں اُنہیں پڑھا کرتی تھی۔ مثلاً "کوچہ نقاش ھا" نامی کتاب کو میں نے ایک مختصر سے عرصے میں  مسلسل دو بار پڑھ ڈالا۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ کام واقعات لکھنے میں سب سے زیادہ شیریں ہے۔ کتاب کو اس طرح لکھا گیا تھا کہ میں راوی کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھی۔

مجھے لکھنا بہت اچھا لگتا تھا اور میں نے اس کی  مشق بھی بہت کی۔ میں جس متن کو لکھتی اُس کو کئی بار پڑھتی  اور اُس میں موجود غلطیوں کو برطرف کرتی۔ میں نے واقعات کا جو سب سے پہلا مجموعہ لکھا اور متاسفانہ وہ ادھورا رہ گیا وہ شہید مصطفی احمدی روشن کے واقعات سے مربوط تھا۔ شہید کے گھر والوں سے واقفیت کے بعد،  شہید کی والدہ  اور میرے درمیان ایک اخلاص کا رشتہ قائم ہوگیا تھا۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ ایک دفعہ شہید مصطفی کے واقعات کو دہرائیں۔ البتہ اس کام سے میرا مقصد، کتاب شائع کرنا نہیں تھا۔ وہ شہید کے جو واقعات بیان کرتیں، میں اُنہیں لکھ لیتی اور وہ اسے پڑھتیں۔ وہ میری تحریر پڑھنے کے بعد مجھ سے کہتیں: "بہت اچھا لکھا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ جو واقعہ مصطفی کے بچپن کے زمانے میں پیش آیا تھا، تم نے اُسے دیکھا ہے۔" ان کے شوق دلانے کی وجہ سے  میں نے لکھنے کو زیادہ اہمیت دی اور اس پر زیادہ تمرکز اور دقت سے کام لیا۔

 

آپ شہید محمد حسن (رسول) سے کس طرح واقف ہوئیں اور ان کے بارے میں واقعات لکھنے کیلئے آپ کو کیوں کہا گیا؟

مئی ۲۰۱۵ میں، میں شہید رضا کارگر برزی کے بارے میں تحقیق کر رہی تھی۔ میں شہید کے کسی دوست کا انٹرویو لے رہی تھی کہ انھوں نے مجھے شہید خلیلی کا تعارف کروایا۔ وہ شہید خلیل سے بالا درجے کے آفسر تھے۔ انھوں نے کہا ہمارا ایک شہید تہران میں رہتا ہے اور انھوں نے تھوڑا بہت شہید خلیلی کی خصوصیات  اور جنگ میں مائنز ناکارہ کرنے والے یونٹ میں اُن کی مہارت کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا: "میرا بہت دل چاہتا ہے کہ اُن کے بارے میں بھی کام انجام دیا جائے۔"

 

راویوں کے ساتھ انٹرویو آپ نے خود انجام دیا؟

میں نے اپنی تمام کتابوں کیلئے، سارے انٹرویو خود لیے ہیں۔

 

"رفیق مثل رسول" نامی کتاب لکھنے کیلئے آپ نے کتنے لوگوں سے اور کتنے گھنٹے انٹرویو کیا؟

میں نے تقریباً تیس لوگوں سے اور تقریباً ۶۵ گھنٹے انٹرویو لیا ہے۔ جن لوگوں کو انتخاب کیا تھا، وہ شہید کے ساتھ لڑنے والے، اُن کے ساتھ کام کرنے والے، یونیورسٹی میں اُن کے ہم کلاسی  اور شہید کے گھر والے  تھے۔ مثلاً میں نے شہید خلیلی کے سب سے پہلے مربی سے انٹرویو لیا کہ جب وہ سیکنڈری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ اُن سے شہید قرحی  چھاؤنی میں بسیج کے مرکز میں آشنا ہوئے تھے اور میں نے اُن کے آخری کمانڈر سے بھی انٹرویو لیا۔ اُن کے دوستوں کا دائرہ بہت وسیع تھا  اور میں بہت اچھے انٹرویوز لینے میں کامیاب رہی۔ حتی میں نے اُن کے پرائمری، سیکنڈری اور شہر ری میں اُن کی انجمن کے دوستوں سے بھی بات چیت کی۔

 

راویوں سے انٹرویو کے دوران آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا؟

میری سب سے بڑی مشکل شہید کے ہمرزم دوستوں سے وقت کی موافقت تھی۔ چونکہ شام میں جنگ اپنے عروج پر تھی اور حلب کی آزادی کا زمانہ تھا۔ وہ اپنے مشن پر چلے جاتے اور وہ بہت زیادہ مشن پر جاتے تھے۔ ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ  میں کسی سپاہی کے ساتھ انٹرویو شروع کرتی  اور اُس کے شام جاکر واپس آنے تک کام ادھورا پڑا رہتا۔ کبھی ایک مہینہ یا دو مہینے لگ  جاتے تھے۔

 

آپ نے ہر راوی کے ساتھ کتنی نشستوں میں انٹرویو لیا؟

میرے کام کا طریقہ  یہ ہے کہ میں پہلی نشست میں راوی کو  اپنے بارے میں اور شہید سے رابطے کے بارے میں بات کرنے کی فرصت دیتی ہوں، تاکہ مجھے پتہ چل جائے کہ اُس کا شہید سے رابطہ کس حد تک ہے  اور وہ جو واقعہ بیان کر رہا ہے کیا وہ ایسا واقعہ ہے جس میں وہ خود موجود تھا یا اُس نے کسی اور سے سنا ہے۔ متاسفانہ ہمارے کام کو نقصان پہنچانے والی ایک بات یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کے واقعات بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں پہلے جلسے میں راوی کو یہ فرصت دیتی ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے اور شہید کے بارے میں بات کرے۔ اس کتاب کیلئے انجام پانے والے بعض انٹرویوز ایک یا دو نشستوں میں  ختم ہوجاتے ،  لیکن وہ چھوٹے اور اہم واقعات  ہوتے۔

بعض انٹرویوز، خاص طور  سے شہید کے دوستوں کے اُس گروپ سے انٹرویو جو تہران کی شاہراہ شہید محلاتی  پر رہتے تھے، ایک ہی محلے میں رہنے، ان کے آپس میں  سلیقے اور عقائد  ایک جیسے ہونے اور اعلیٰ معیار زندگی   کی وجہ سے کبھی زیادہ وقت درکار ہوتا کہ کبھی چار نشتوں تک بات چلی جاتی۔ حقیقت میں انٹرویو کا وقت ایسے واقعے کی قسم اور معیار سے تعلق رکھتا تھا جسے راوی شہید کے بارے میں بیان کرتا۔ شہید خلیلی کے گھر والوں کے بارے میں بھی، میں سب سے پہلے اُن کے بھائی سے واقف ہوئی تھی۔

 

گھر والوں سے وقت لینا  اور اُن کے ساتھ انٹرویو کی نشست رکھنا دشوار نہیں تھا؟ کیونکہ آپ اُس وقت اُن لوگوں کے پاس گئی تھیں جب شہید خلیلی کی شہادت ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور عام طور سے اس دوران گھر والوں کا ماحول سوگوار ہوتا ہے  اور شخصی واقعات کو بیان کرنے میں اعتماد کو جلب کرنے اور ظریف نکات پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعتماد قائم کرنے کا عمل کیسے انجام پایا؟

شہید کی مدد  اورمہربانی تھی۔ میں نے جناب رسول کی پہلی برسی سے پہلے اُن کے گھر والوں سے واقفیت حاصل کرلی تھی۔ پہلی نشست  کہ جس میں، میں نے اُن کے بھائی اور والدہ سے بات کی ٹیپ ریکارڈر خاموش تھا۔ میں نے کوشش کی  ہمارے درمیان دوستی کی فضا قائم ہوجائے  تاکہ ماحول کی گھٹن ختم ہوجائے۔ میں نے سوچا کہ مجھے گھر والوں کو موقع دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ واقفیت کے علاوہ، مجھ پر اطمینان کریں۔ چونکہ آپ کو پتہ ہے انٹرویو میں ایک مشکل جس کا ہمیں سامنا ہوتا ہے یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات انٹرویو دینے والے خود ہی فیصلہ کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اہم ہے یا نہیں ہے۔ اس لئے مجھے اس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا کہ شہید کی والدہ رسول کے بارے میں جو کچھ جانتی ہیں اُسے بیان کردیں۔ بعد والی نشستوں میں، میں نے اُن سے واقعات کو دہرانے کا کہا  اور اُن سے کہا کہ آپ کے ذہن میں جو اہم نکات آرہے ہیں آپ اُنہیں ایک کاغذ پر لکھ لیں۔ اس کام میں ایک اہم بات اور عطفی نکتہ یہ تھا  کہ شہید کی والدہ نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ انھوں نے ایک کاپی بناکر اُسے اس کام سے مخصوص کرلیا تھا۔ جب میں اگلی نشست میں جاتی ، وہ کہتیں: "میں آپ کو اس موضوع کے بارے میں بتانا بھول گئی تھی" اور بیان کرتیں۔ میں نے دوستانہ تعلق کی وجہ سے آسانی سے انٹرویو  لئے اور اس گھر والے کے ساتھ ایک اچھا وقت گزارا ہے۔

 

اس وصف کے ساتھ آپ نے شہید کے گھر والوں کے ساتھ کتنے گھنٹے انٹرویو کیا؟

میرے خیال سے میں نے شہید کے والد ، والدہ اور گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ تقریباً بیس گھنٹے انٹرویو کیا۔

 

آپ انٹرویو کے د وران  کس طریقہ کار سے استفادہ کرتی ہیں؟

میں راوی کو مطمئن کرتی ہوں کہ میں آپ کی باتیں سننے کی پیاسی ہوں۔ پھر  جزئی اور کلی سوالات کرکے اطمینان حاصل کرتی ہوں۔ انٹرویو کے دوران میرا ایک طریقہ یہ ہے کہ میں پہلی، دوسری اور تیسری ، چوتھی نشست  کے درمیان فاصلہ دیتی ہوں۔ اس عرصے میں، میں انٹرویو دینے والے سے کہتی ہوں کہ وہ سوچیں شاید اُنہیں کوئی نیا واقعہ یاد آجائے۔ اور ہمیشہ ایسا ہوتا بھی ہے ، وہ کہتا ہے کہ مجھے نیا واقعہ یاد آیا ہے  یا پچھلے والے واقعہ کو مکمل کرتا ہے۔

 

آپ نے اس کتاب کیلئے، جمع شدہ معلومات میں سے کس طرح سے موضوع کو انتخاب کیا اور چھانٹا؟

چونکہ مجھے یہ توفیق نصیب ہوئی کہ میں تین شہیدوں کے واقعات کو جمع کرنے کا کام انجام دوں، میں نے شروع سے ہی اپنے لیے ایک قانون بنالیاتھا۔ جب سے شہید کے دوستوں یا اُن کے گھر والوں نے اُن کی یادیں ذکر کرنا شروع کیں میں نے اُنہی سالوں سے ایک جدول بنالیا تھا، تاکہ مجھے معلوم رہے کہ میرے پاس اُن واقعات سے پہلے یا بعد کی باتیں موجود ہیں یا نہیں۔ اس روش سے میں نے وقت کو مرتب کیا۔ میں لکھے جانے والے تمام انٹرویو کو مسلسل پڑھتی تاکہ مجھے پتہ چلے میں نے ابھی کون سی چیزیں نہیں پوچھی ہیں اور مجھے اُنہیں بعد میں پوچھ لینا چاہیے۔ اس بات کا امکان بھی موجود تھا کہ نئی بحث چھڑ جانے کی وجہ سے، انٹرویو کے دوران کسی سوال کا جواب نہ دیا جائے۔ میں ان پر نشان لگا دیتی اور بعد والی نشست میں پوچھ لیتی۔ کتاب لکھنے کیلئے بھی میں نے کچھ حدود کو معین کرلیا تھا۔ میں نے جو بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، اُس میں صرف شہداء کے اخلاق کی طرف اشارہ ہوا تھا، لیکن میں چاہتی تھی اُن کی مہارت کو بھی سامنے لاؤں، اُسی وجہ سے میں جدول میں نشان لگا دیتی  کہ بسیج کا عرصہ ختم ہوا، کالج کا زمانہ ختم ہو  اور اب وہ سب سے پہلی دفعہ محاذ پر گیا ہے۔ اس طرح سے مجھے پتہ چل جاتا کہ کون سی بات کہاں چھٹ گئی ہے اور میں اُسے مکمل کرلیتی۔ جب میں نے تمام انٹرویوز کو جمع کرلیا اُس کے بعد مجھے پتہ چلا کہ شہید خلیلی کا اپنے اطراف میں رہنے والوں کے ساتھ بہت اچھا رابطہ تھا،  یعنی جس قدر وہ اپنی والدہ سے نزدیک تھے اپنے دوستوں سے بھی اتنے ہی مخلص تھے۔

 

تمام معلومات دوسروں کی زبانی حاصل ہوئی ہیں؟ شہید کے ہاتھ کی تحریر موجود نہیں ہے؟

کیوں نہیں، اُن کی کچھ یاد داشتیں بھی پراکندہ صورت میں موجود تھیں۔ جب میں واقعات لکھنا چاہ رہی تھی تو میں نے اُن کی والدہ سے کہا: "میں اُن کے تمام زندگی کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں" اور اُن کے گھر والوں نے مہربانی کی اور اُن کے ہاتھوں سے لکھی تحریر میرے حوالے کردی۔ جب میں نے اُنہیں پڑھا تو مجھے پتہ چلا رسول اپنی لکھائی کے معاملے میں بھی بہت آسان تھے، بنابراین میں نے کوشش کی کہ خود کو اُن کی جگہ پر رکھوں اور کتاب لکھوں۔ کام بہت دلچسپ ہوگیا تھا، کسی شخص یا واقعہ کے بارے میں جو اُن کی نظر میں اہم ہوتے تھے حتی اُن کے بارے میں ایک لائن لکھی تھی۔ مثلاً شہید محرم ترک کے بارے میں لکھا تھا: "محرم بھی چلا گیا۔ ہم اکیلے رہ گئے۔" یا بسیج کے بارے میں ایک واقعہ لکھا ہوا تھا۔

 

آپ انٹرویو کے فنون سے کتنی مہارت رکھتی ہیں؟

میں نے  ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن کے ساتھ کچھ عرصے تک میثم بٹالین کے شہداء کے بارے میں تعاون کیا ہے۔ ہمارا کام تحقیق اور منابع کو جمع کرنا تھا۔ وہاں پر ہمارے ساتھ کام کرنے والے ایک فرد جناب زمانی تھے جو تحقیق کے انچارج تھے۔ وہ انٹرویو سے متعلق نکات  کو بہت اچھے طریقے سے سکھاتے اور میں نے اُس زمانے میں انٹرویو لینے کے طریقہ کار کو اچھی طرح سے سیکھ لیا تھا۔

 

آپ نے کاموں کیلئے کتاب خانے والی اور میدانی تحقیقات بھی کی ہیں؟

شہید خلیلی کے واقعات کیلئے نہیں، لیکن شہید شیرخانی کے واقعات کیلئے کیوں نہیں۔ کام کی نوعیت اس طرح کی تھی کہ مجھے حتماًٍ مطالعہ کرنا پڑتا تھا۔ میں نے شہید خلیلی کے واقعات کیلئے راپل کے بارے میں تحقیق کی۔  اس شہید کو اس کام میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی  اور مجھے اس بارے میں معلومات جمع کرنی چاہیے تھیں۔ حتی میں ایک مختصر سی مدت کیلئے راپل کی کلاس میں بھی شریک ہوئی  تاکہ میں اُس کے بارے میں لکھ سکوں۔ راپل ، ایک رسی کے ذریعے نیچے آنا اور بلندی پر چڑھنے کا فن ہے، ایسی رسی جسے انسان کسی بلندی پر، پل کی طرح کسی چٹان پر باندھ لے اور اُس  کے ذریعے اوپر جائے ، یا نیچے آئے۔

 

آپ نے تین شہیدوں کے بارے میں جو تین کتابیں لکھی ہیں اُن کی  کن چیزوں میں تفاوت اور تشابہ پایا جاتا ہے؟

تینوں شہیدوں کا تعلق ایک ہی یونٹ اور سپاہ قدس سے تھا، لیکن ہر کسی کی مہارت مختلف تھی۔ اُن کے ٹریننگ حاصل کرنے کا ماحول ایک جیسا تھا  اور انھوں نے صفر سے لیکر سو تک کا دورہ ایک ساتھ گزارا تھا۔ لیکن چشمان یعقوب نامی کتاب جس میں شہید رضاکارگر کے واقعات موجود تھے وہ میں نے اُن کے والد کی نگاہ سے لکھی ہے، ایسے والد جو رضا کی میت آنے کے باوجود ابھی تک انتظار  کی اُمید لگائے ہوئے تھے  تاکہ اُنہیں پتہ چلا کہ اُن کے بیٹے کی شہادت کس طرح ہوئی ہے؟ یہاں تک کہ کتاب کے آخری صفحات میں ایک شخص آتا ہے اور وہ رضا کی شہادت کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ لیکن شہید خلیلی کی کتاب میں، راوی خود شہید ہے  جو اپنے واقعات کو بیان کر رہا ہے۔ شہید کمال شیرخانی کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب "چمروش" میں کام  بالکل الگ طرح کا تھا، واقعات کا کچھ حصہ ہے۔ وہاں پر راویان اپنے واقعات کو بیان کر رہے ہیں اور جا رہے ہیں۔

میں ہمیشہ احساس کرتی تھی کہ میں اگر شام جاؤں اور حقیقت میں حوادث کو براہ راست دیکھوں تو میں اُن کے بارے میں لکھ سکتی ہوں۔ لیکن جب میں نے کام شروع  کیا تو مجھے پتہ چلا   کہ میں کسی اور طریقے سے بھی تاریخ اور زبانی واقعات تک پہنچ سکتی ہوں، وقت کو مشخص کرنے والے اُسی جدول کی مدد سے جو میں نے اپنے لیے بنایا۔ میں نے اپنے لیے دوبارہ ایک جدول بنایا ہے اور شام میں ہونے والی جنگ سے مربوط ڈاکومنٹری فلمیں  کہ جن کی تعداد بہت زیادہ تھی، میں نے اُنہیں بہت دقت سے دیکھا،  حتی اگر کوئی فلم چند منٹوں کی ہی تھی۔

 

آپ واقعات لکھنے  کے کون سے حصے میں کام کو سخت سمجھتی ہیں؟

مطالب کو ایک دوسرے سے ملانے میں سختی ہوتی ہے۔ جب انٹرویوز لکھ لیے جاتے ہیں اور ایک ساتھ رکھے ہوئے ہوتے ہیں آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے واقعات بیان کیے  اور چلے گئے، ایسا ہوجانا کہ تمام مطالب کو ایک فلٹر سے گزارنا  اور ایک دوسرے کے ساتھ ملانا بہت اہم ہوتا ہے۔ کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ واقعات لکھنا تسبیح  کے دانوں کو پرونے کی مانند ہے کہ دانوں کو ایک کے پیچھے ایک ہونا چاہیے اور مہروں کے درمیان فاصلہ کم ہے اور مہرے زیادہ اس طرف اور اُس طرف نہیں ہوسکتے۔ واقعات میں ایک ملانے والا رشتہ ہونا چاہیے۔ تمام مطالب کے درمیان رابطے کو ڈھونڈنا بہت سخت ہے۔

 

واقعہ بیان کرنے والے افراد کو ڈھونڈنے کیلئے آپ کا طریقہ کار کیا  ہے؟

میں انٹرویو سے پہلے اس بارے میں سوچتی ہوں کہ  میں کس چیز اور کس کے بارے میں کام کرنا چاہتی ہوں۔ انٹرویو سے پہلے میں خود کو آمادہ کرتی ہوں اور تحقیقات  یا ضروری مطالعہ کرتی ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی تحقیق کرتی ہوں  اور اُس شخص کے چہرے یا اُس کے دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتی ہوں،  یا شہید کی قبر پر جاتی ہوں  اور اگر اُن کے دوست آئے ہوتے ہیں تو اُن کے پاس جاتی ہوں۔سپاہ قدس کے شہداء کے بارے میں، اُن کاادارہ اُن کی ابتدائی لسٹ د ے دیتا ہے اور اُن کے ساتھیوں اور ہمرزموں کو متعارف کروا دیتا ہے۔ جب میں اُن سے انٹرویو لیتی ہوں، اُن سے پوچھتی ہوں کیا میں اس شخص جس کا نام حسن تھا اور آپ نے جس کے بارے میں بات چیت کی ہے ، کے بارے میں انٹرویو لے سکتی ہوں؟ میں اس طریقے سے نئے افراد کو ڈھونڈتی ہوں۔

اس کام میں مجھے بہت سی تلخیوں کا بھی سامنا ہوا  اور کچھ وجوہات کی بنا پر چار مہینے تک میرا کام تعطیل کا شکار رہا ، شہید سے توسل کرنے سے یہ مشکل دور ہوگئی۔ میں شہید خلیلی کی قبر پر گئی اور اُن سے کہا: "جناب رسول آپ نے سب سے رفاقت کی،  میں اس کام کے بارے میں بھی چاہتی ہوں کہ آپ ساتھ دیں اور میرا ہاتھ تھام لیں۔" شاید آپ یقین نہ کریں تین سے چار دن کے اندر مسئلہ حل ہوگیا اور میں نے دوبارہ کام شروع کردیا۔

 

آپ نے انقلاب اسلامی کے تمام شہداء   میں سے، شہدائے مدافع حرم  کے بارے میں واقعات لکھنے کو کیوں انتخاب کیا؟

میں چاہتی تھی کہ میں حرم حضرت زینب سلام اللہ علیہا  کے مدافعین میں سے ایک ہوں۔ میرے اندر جنگی صلاحیت نہیں تھی کہ میں شام جاکر وہاں پر ایک فوجی کے عنوان سے لڑتی، اسی وجہ سے میرا دل چاہا کہ ان حالات میں  میرا بھی کچھ سہم ہونا چاہیے۔ ان کتابوں کو لکھنے کے ذریعے اور خاص طور سے ان شہداء کی مہارت پر توجہ کرتے ہوئے میں نے کوشش کہ اس معاشرے اور آئندہ آنے ولی نسل کو اُن سے آگاہ کروں اور اصل میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ایک سپاہی بنوں۔ ان کتابوں کو لکھنا اس راہ میں میری طرف سے سہم ہے۔

 

ہم اس بات پر آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنا وقت ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کے اختیار میں دیا۔



 
صارفین کی تعداد: 124


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں