زبانی تاریخ (ایران) :: دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – اٹھارہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-07-14


جس وقت ہمیں اس کیمپ میں لایا جا رہا تھا، نگہبانوں کا ہم سے اچھا رویہ نہیں تھا  اور وہ ہمیں خمینی کا ساتھی کہہ کر پکارتے تھے۔ البتہ یہ بات افتخار اور عزت  کا باعث تھی  کہ دشمن ہمیں اسلامی حکومت اور امام کا معتقد اور حامی سمجھتا ہے، اگرچہ اس وجہ سے ہماری توہین ہوتی اور ہم پر سختی کی جاتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سال سے زیادہ عرصہ  تک ہمیں  ایک لحظہ کیلئے بھی کمرے سے باہر نہیں نکالا گیا کہ ہم براہ راست سورج  اور ہوا سے استفادہ کرلیتے!

البتہ اس وقت الگ ہونے والے تمام ۲۱ افراد کا عقیدہ ایک نہیں تھا اور کچھ لوگ اس بات سے خوش نہیں ہوتے تھے کہ اُنہیں خمینی کا  ساتھی کہا جاتا ہے  کہ ان لوگوں کی فکر وہی آزر والی فکر تھی۔ آزر نے اس وجہ سے کہ اُس کی اسیروں کو تقسیم کرنے والی سازش آشکار نہ ہوجائے، ایسے کچھ افراد کو ہمارے درمیان رہنے دیا تھا جو اپنے راستے کے انتخاب میں شک و تردید کا شکار تھے۔ اس کام میں، آزر کیلئے دو خوبیاں تھیں؛ پہلی بات تو یہ کہ کوئی سوچے بھی نہیں یہ کام اسُ کی وجہ سے ہوا ہے؛ دوسری بات، جو سختی اور دباؤ ہم لوگوں پر ڈالا جاتا تھا، اُس سے تردید کا شکار رہنے والوں کو  اپنے طرف  آنے  کی رغبت دلاتا، کہ ایسا ہوا بھی۔

جس وقت ہم ابھی اندر داخل ہو رہے تھے، ہمارا نگہبان اور انچارج جو ایکسچینج کا افسر تھا اور ہم اُسے اُس کے موٹے  اور باہر نکلے ہوئے پیٹ کی وجہ "موٹو" کہا کرتے تھے، وہ کمرے میں آیا اور احکامات جاری کرتے ہوئے، میرا کان پکڑ کے کہا:

-  ہوشنگ! تم اس گروپ کے انچارج ہو، اس بات کا دھیان رکھنا کہ کوڈ ورڈ ز میں باتیں نہ کرنا!

میں نے کہا:

-  جیسا کہ ہم فوجی لوگ ہیں، سینئر آدمی ہمارا انچارج ہے، میں نہیں۔ لیکن یہ جو تم کوڈ ورڈز کہہ رہے ہو مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ!

اُس نے مسکراتے ہوئے، دیوار پر مکا مارا اور کہا:

-  میرا مطلب یہ ہے!

بے شک، کوڈ ورڈز کے بارے میں آزر بتا چکا تھا۔

افراد کو اِدھر اُدھر کرنے کے بعد مشخص ہوگیا کہ ہم سب میں سینئر کرنل انصاری ہیں اور انھوں مجھ سے کہا اب تک جو مسائل پیش آئے ہیں اُن کی وجہ سے ، کیمپ کی مسئولیت میں اپنے ذمہ لے لوں۔ البتہ اس دفعہ جیسا کہ ایک دوسرے کی نسبت محبت ، ہمدلی اور فداکاری کی فضا موجود تھی، اس وجہ سے ہمیں قانون وغیرہ کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی۔

دوسری چھٹائی کے بعد، ہم نے سنجیدگی اور سب کی ہماہنگی سے "فرار کے احتمالی منصوبہ" کیلئے ضروری معلومات حاصل کرنے کیلئے راتوں کو کام کا آغاز کیا۔ ہم نے ڈیوٹی لگادی تاکہ کھڑکی کے اوپر لگے تختے کے روشندان سے عراقی نگہبانوں کو کنٹرول کیا جائے۔ ایک روشندان جو ٹوائلٹ میں بنایا گیا تھا وہ زندان کی چھت کی راہداری پر کھلتا تھا جہاں اُن لوگوں نے راتوں کو  نگہبان کھڑا کیا ہوا تھا۔ اُس نگہبان کی تمام حالتوں اور حرکتوں کا معائنہ کیا گیا؛ جیسے عمل میں دقت، ہر نگہبان کے ٹھہرنے کا وقت، چھت پر ٹہلنے کا وقت، دو نگہبانوں کی تبدیلی کے دوران کا فاصلہ، کونسا نگہبان سست ہے اور اپنی ڈیوٹی پہ آتے ہی فوراً سو جاتا ہے ، کونسا ۔۔۔

حتی ہم نے کمبل کے ذریعے رسی اور ٹوکری بنالی اور اُسے گنبد پر لگے روشندان میں ٹانگ دیا کہ ہمارا نگہبان اُس ٹوکری میں بیٹھ جاتا اور کھڑکی کے اوپر بنےہوا کے دریچے سے باہر کے حالات، جیل کی دیواروں، اطراف کے جنگلوں ، زندان کے باہر کے علاقے میں رفت و آمد اور دیواروں پر کھڑے نگہبانوں کو کنٹرول کرتا۔

ہم نے نگہبانی والے کمرے کی کھڑکی کے اوپر چند سوراخ بنالیے تھے تاکہ ہم اُن کے کمرے کو نگہبانوں کی تعداد، اسلحہ کی جگہ اور اُس کی تعداد اور نیز چابیاں رکھنے کی جگہ کے لحاظ میں بھی دقت سے دیکھ لیں۔

ہم ۱۷ افراد کے گروپ نے اس کام کو شیڈول کے ساتھ بغیر کسی وقفے کے دن رات انجام دیا تھا، اس حال میں بھی ہم دن میں کم از کم دو گھنٹے  کلاس منعقد کرتے تھے۔ اس کلاس میں، ایسے افراد سے استفادہ کیا جاتا جنہوں نے تن بہ تن لڑائی، رسی بنانا، مختلف گرہیں لگانا، خار دار تاروں سے گزرنا، پانی اور بیابان میں زندگی گزرانا وغیرہ کی ٹریننگ حاصل کی ہوئی تھی تاکہ ممکنہ منصوبہ پر عمل کرتے وقت کسی قسم کی  مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس کیمپ میں زیادہ کنٹرول ہونے کی وجہ سے، پرانے اخباروں کو حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ لہذا نگہبانی دینے اور نگہبانوں کے کمروں کو کنٹرول  کرنے کے مراحل میں، جو معلومات مجھ تک پہنچی اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے، خدا پر توکل کرتے ہوئے اور اُس کے مسلسل لطف و کرم سے ہم  "ریڈیو" اٹھانے کی فکر کرنے لگے!

مجھے گروپ کے انچارج کے عنوان سے اس بڑے خطرے لیکن ہمارے لئے بہت ہی اہم، کی ذمہ داری اور نتائج کو قبول کرنا تھا۔ دوسری طرف سے میں نہیں چاہ رہا تھا کہ اس کام کا راز فاش ہونے یا اس میں شکست سے دوچار ہونے کی صورت میں دوسرے افراد کو اس  میں کھینچا جائے  اور خدا نہ کرے بات شکنجوں اور کیمپ سے اخراج  کرنے وغیرہ  تک پہنچ جائے۔ اس حال میں بھی ، دوسری طرف سے حتی ایک بے خبر آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کام ایک آدمی  کے بس کی بات نہیں اور وہ دوسروں کی مدد کے بغیر اسے انجام نہیں دے سکتا۔ بہرحال کوئی چارہ نہیں تھا۔ سب افراد اس پر راضی ہوگئے، لیکن طے پایا کہ کام کے تمام پہلوؤں پر دقت کے ساتھ حتی المقدور  تحقیق کی جائے   اور حتی ہمارے منصوبہ میں ایک فیصد احتمال کو بھی پوشیدہ نہ رکھا جائے۔ ہم نے بسم اللہ سے کام کا آغاز کیا۔ نگہبانی والے کمرے کے راستے سے ہمارا گزر دو مرحلوں میں انجام پاتا تھا؛ ایک پانی لانے کیلئے، چونکہ واش روم اور حمام کے احاطے میں دھات کی نسبتاً بڑی ٹنکی  رکھی ہوئی تھی اور ہم نیچے سے پانی لاکر اُسے بھرتے تھے۔ دوسرا مرحلہ کھانا لانے کا تھا؛ چونکہ نچلے طبقے کی بالکونی میں، کھانے کو ایک دیگ میں ڈال دیتے تھے اور ہم نگہبانی والے کمرے سے گزر کر اُسے اوپر لاتے تھے۔

ہمارے منصوبے میں طے پایا نگہبانوں کا ریڈیو اُن کے تخت یا میز پر ہونے کی صورت میں، نیچے سے پانی لینے والوں میں سے ایک شخص، نگہبان کو آواز لگائے گا اور راستے میں موجود شخص جو پانی لا رہا ہوگا ، وہ نگہبانوں کے کمرے میں داخل ہوکر ریڈیو کو اپنی پینٹ میں چھپا کر کیمپ میں لے آئے گا۔

 

بالآخر کاروائی والا دن آ پہنچا۔

پہلے مرحلے میں پانی  لانے کے بارے میں مجھے مناسب صورتحال کی رپورٹ دی گئی۔ بعد والے مرحلے میں، سول ایوی ایشن کا ایک خلابان جو قدیمی اور بہت ہوشیار تھا، کپتان، ہلال احمر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ اور دیگر چار افراد کے ساتھ گیا۔

ہم نے طے کیا کپتان اور دیگر افراد میں سے ایک نچلے طبقہ پر خود کو پانی لانے کے آخری مرحلے میں قرار دیں اور دوسرے چار افراد، پانی کی بڑی بالٹیاں جسے دو افراد اٹھاتے تھے ، اُنہیں اٹھاکر بالائی طبقے پر لائیں اور جب وہ بالائی طبقے پر پہنچ جائیں تو کپتان نگہبانوں کو آواز لگائے۔ ایک نگہبان سیڑھیوں پر تھا، ایک نیچے والے دروازے کے سامنے اور ایک نگہبان اوپر بھی تھا یعنی نگہبانی والے کمرے کے سامنے جو ہمارے کیمپ کی طرف کھلتا تھا اور وہ نگہبان پانی لانے والے افراد کیلئے  دروازے کو کھولتا اور بند کرتا تھا۔

کپتان کے آواز لگانے کی وجہ سے، نگہبانوں کی توجہ اُن کی طرف چلی گئی اور ایک چھوٹی سی ، استثنائی فرصت  میں منصوبہ مکمل کامیابی  سے ہمکنار ہوگیا اور خداوند متعال کی مدد سے ریڈیو کیمپ کے اندر پہنچ گیا!

ہم نے اُسے فوراً پہلے سے تیار کی ہوئی ایک پلاسٹک میں لپیٹ دیا اور ٹوائلٹ  میں پہلے سے کئے گئے ایک سوراخ میں جہاں پانی بھر جاتا تھا، چھپا دیا۔

خوشی کے مارے کوئی بھی چین و سکون میں نہیں تھا اور ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اُس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ بہرحال جو ہوسکتا  ہے ہو، ہم نے تو جان و دل کی بازی لگادی تھی، اب انتظار کرنے لگے…

ہم نے تقریباً ۲۴ گھنٹے تک ریڈیو کو مخفی گاہ سے باہر نہیں نکالا، لیکن کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جس نگہبان کا ریڈیو تھا، اُس نے مسئولین کو ریڈیو گم ہونے کی اطلاع نہیں دی  ہے۔ چونکہ سب سے پہلے جس سے تفتیش کی جاتی ، خود وہ نگہبان ہوتا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اُس نے خاموشی سے اس بات کو بھلا دیا ہے ۔ خدا کا شکر ہے!

۲۴ گھنٹے بعد،  ہم نے ریڈیو ایوی ایشن کے خلاء بان برادر "بابا جانی" کے سپرد کردیا؛ وہ بابل کا رہنے والا تھا اور اُن کے والد ریڈیو ٹھیک کرتے تھے اور انھوں نے خود بھی الیکٹریشن میں ڈپلومہ کیا ہوا تھا اور وہ ریڈیو کی سروس اور تعمیر کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے تھے۔

پہلے مرحلے میں ریڈیو کا استعمال کمبل کے نیچے اور بابا جانی کے توسط سے انجام پایا اور سب کیلئے براہ راست استعمال کرنا  ممکن نہیں تھا۔ ریڈیو سے نکلنے والی ہلکی سی آواز، ممکن تھا  نگہبان کے کانوں تک پہنچ جائے۔ ہم سب کا ایک جگہ جمع ہونا بھی شک و شبہ میں پڑ جانے کا باعث تھا۔ ریڈیو اور اُس کے مطالب کے بارے میں بات کرنا بھی خطرناک ہوسکتی تھی چونکہ بعض نگہبانوں کو فارسی آتی تھی۔ اس وجہ سے ہم نے ہر مسئلے  کی روک تھام کیلئے ، چاہے وہ ریڈیو کا خراب ہونا یا راز فاش ہونا ہو ، کچھ قواعد و ضوابط بنائے۔

شروع میں میکروفون کے ذریعے جو ہم نے نچلے طبقے کی دیوار سے حاصل کئے تھے ، برادر بابا جانی نے ایک فون بنایا۔ ریڈیو سے نشر ہونے والی باتیں کمبل  کے نیچے بابا جانی کے ذریعے سنی جاتیں اور وہ کسی دوسرے شخص کو بتاتے تاکہ وہ لکھ لے اور پھر بعد میں تمام ا فراد کیلئے پڑھا جائے۔

جب ہم نئے نئے بالائی طبقہ پر آئے تھے، ہمیں کچھ کاپیاں اور بال پین دیئے گئے تھے  کہ جنہیں ہم دیوار پر چپکانے والے اخبار بنانے  کیلئے استعمال میں لاتے تھے۔ یہ دیواری اخبار بابا جانی کی خلاقیت کی وجہ سے وجود میں آئے، جو بہت ہی مومن ، جوش و جذبہ والا اور فعال جوان تھا  اور ہر وقت کوئی نئی چیز بنانے اور اختراع کرنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔ ہر کوئی اپنی معلومات اور ذوق کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی مطلب لکھتا  اور بابا جانی اُسے اخبار پر سیٹ کردیتا۔ جدول کی صورت میں مطالب، ادبی ٹکڑے، کارٹون، انقلابی اشعار اور دعا وغیرہ کہ جس سے لوگوں کا وقت بھی گزر جاتا اور بہت فائدہ مند بھی تھا، لیکن ایک دفعہ جب زندان کے مسئولین نے دورہ کیا، انھوں نے یہ تصور کیا کہ صدام اور خود اُن لوگوں کا مذاق اُڑانے کیلئے کارٹون بنائے گئے ہیں، اسی طرح انھوں نے انقلابی اشعار پر بھی اعتراض کیا اور اُن کے دستور پر  بوڑد جمع کر لئے گئے  اور کاغذ و قلم دینا بھی ممنوع ہوگیا۔

یہ ممنوعیت لوگوں کے اندر بہت دلچسپ خلاقیت  پیدا ہونے کا سبب بنی۔ بطور مثال، ہم نے استعمال شدہ سرنگ – جو کبھی بیماری کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچ جاتی – سے فاؤنٹین پین بنائے اور انار کے چھلکے سے سیاہی! یعنی ہم انار  کے چھلکے کو پانی میں ڈبو دیتے  اور کچھ کیلیں یا کسی دھات کا ایک ٹکڑا اُس کے اندر ڈال دیتے ، چند دن گزرنے کے بعد سیاہی تیار ہوجاتی تھی۔

ہاتھ سے بنائی جانے والی ان چیزوں کی کیفیت آہستہ آہستہ بہتر ہوتی چلی گئی، اس حد تک کہ وہ اصل کی برابری کرنے کے قابل ہوگئی تھیں۔

سب کو ریڈیو کی آواز سننے کا اشتیاق تھا، لیکن قوانین، سب کو اس لذت سے بہرہ مند ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

جاری ہے …



 
صارفین کی تعداد: 82


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں