مختصر زبانی تاریخ

ڈاکٹر مرتضی نواریی

مترجم : سید نعیم حسین شاہ

2018-07-07


وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی علوم کی پیدائش نہ صرف جدید انداز کو اپنائے ہوئے ہے بلکہ مسلسل رشد و ارتقاء کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ بدلتے زمانے کے جدید تقاضوں نے زبان اور زبان سے بیان ہونے والی رواتیوں ، حکاتیوں اور واقعات کو نئی نسلوں کی استعداد اور حوصلے کو سامنے رکھتے ہوئے علوم انسانی کے احاطے میں رہ کر موثر مفید اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ آج تاریخ اپنے بڑھتے ہوئے ارتقائی سفر میں ہر سوال کا جواب ساتھ لیے چل رہی ہے ۔ اگر ایک عام شہری کی فکری سطح بلند کرنے والا نظام خود ہی مشکلات سے دوچار ہوجائے تو  پھر اس کی تمام تر کوششیں اور کاوشیں رایگان چلی جائیں گی ۔

مخاطبین کی تعداد میں اضافہ کرنا، تاریخ کے زیر سایہ رہ کر مخاطبین کی تعداد کو بڑھانا، اور امور کے نتائج میں سرعت اور دقت کو مدنظر رکھنا بغیر نظر ثانی ، اصلاحات اور پھر مزید اصلاحات کے ممکن نہیں۔  زبانی تاریخ کی تحریک نے ہر زوایے سے ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھا ہے اور یہ تقاضے ہمیشہ ایک سے نہیں رہے بلکہ جب یہ تقاضے جدید سے جدید تر ہوتے چلے گئے تو طور سلیقوں اور چارہ جوئیوں میں بھی خود بخود تبدیلی آتی چلی گئی۔ اس کام کو  تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ "مختصر تاریخ نگاری" کی  کارکردگی کو "زبانی تاریخ " پر لاگو کیا  جائے تاکہ "زبانی تاریخ" جمود کا شکار ہوکر آثار قدیمہ کی زینت بننے کے بجائے اپنے محققین اور شائقین  کے زیر سایہ ترقی کی منزلیں طے کرتی رہے۔

 

مختصر تاریخ نویسی کے مرکزی نکات

۱۔ اس تاریخ نویسی کے عناوین میں مختصر موضوعات کو زینب بنایا گیا ہے۔

۲۔ غیر ضروری نئے نتائج جو باقاعدہ تاریخی مطالعات میں تو چندان اہمیت کے حامل نہیں لیکن کہیں بھی بڑے تاریخی سوالات کا جواب بن کر سامنے آر ہے ہوتے ہیں۔" مٹھی  میں کوئی مقدار یا کوزہ میں سمندر! "

۳۔ وہ موضوعات جو آئیڈیالوجیکل اور سیاسی عناوین کے حاشیے کی دانستہ یا نادانستہ طور پر زینت بنا دیئے جاتے ہیں درحقیقت وہ مکمل باقاعدہ موضوعات یا کسی حد تک باقاعدہ موضوعات کا حصہ  ہوتے ہیں لیکن انہیں "غیر ضروری" قرار دے دیا جاتا ہے۔

۴۔ اختصار نویسی کی تاریخ کے لیے موضوع کے حصول میں تمرکز کا دارو مدار، تاریخی اصطلاحات کے دو پہلووں، تنوع پسندی اور تاریخی معارف کی آئیڈیالوجی کے خاتمے پر منحصر ہے۔

ظاہراً یوں لگتا ہے کہ  تاریخی میدان میں یہ منابع تحرک بخش اہمیت کے حامل ہیں۔ اور بلاشک و شبہ "مختصر تاریخ نویسی" بھی  اس میں گامزن رہے گی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ حالیہ تحقیقات میں مہم افراد اور مہم عناوین میں قارئین کے لئے مطالعہ کا ذوق بڑھانے کا زمینہ ہموار کرتے ہیں۔  زبانی تاریخ کا پلیٹ فارم عام لوگوں کے لیے ہے، اب یہ عام لوگ کسی حد تک ایران کی زبانی تاریخ کے حالیہ موضوعات پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں؟ یا بہ الفاظ دیگر موضوع کا تبادلہ اور غیر اہم افراد کا معاملہ بذات خود اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی اور حال میں جو لوگ زندگی گزارتے چلے آئے ہیں وہ مبنائی ر وایات کے اسیر نہیں ہیں جو پسند آئیڈیالوجی  پڑھنا پسند کرتے ہوں۔ بلکہ وہ لوگ استقلالی شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ خود شناس اداکار بھی ہیں جنہوں نے اپنے لیے خود ہی ان راستوں کا انتخاب کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں تاریخ کے چھوٹے عناصر قطعی طور پر تاریخ کے جبری راوی نہیں۔ اور نہ ہی راوی کی گذشتہ زندگی میں ان عناصر کا مجموعہ  ایک بڑے تاریخی چکر کا راستہ قرار پائے گا۔

زبانی تاریخ مختلف اور ایک جیسے پہلووں میں قابل بحث قرار پائی ہے اور اُن سے مختلف نتائج حاصل کرتی ہے:

- موضوع: چھوٹے موضوعات کی شرح اور حاشیہ بہت وسیع ہوتا ہے اور یہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اور مختصر بجٹ اور باقاعدہ پڑھائے جانے کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ موضوعات انتظار کی صف میں لگے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نویسی کے اس عمل میں بے لوث خدمت اور رضا کارانہ جذبے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور پھر  اس بنا پر تاریخ کے عاشق اور موثق حضرات کے لیے یہ موضوعات پیدا ہوسکتے ہیں۔

- روش: آج لوگ اضافی اوقات میں مختصر نویسی کے مطالعے سے محظوظ ہوتے ہیں  یوں لگتا ہے جیسے طولانی متون اور عقل و فکر رشد عوام کے کسی خاص طبقے کے ساتھ خاص نہیں اور ہر شخص مورّخ کا مخاطب قرار پاسکتا ہے۔ تاریخ کا مغز و نچوڑ اخلاق ہے اسی بنا پر وہ کوشش جو زیادہ تر عوام کی توجہ مبذول کرالے وہ فائدہ سے خالی نہیں۔ بڑے منصوبے،  وسیع وقت اور بہترین کیفیت سراہے جانے کے لائق ہیں۔ تنوع اگر آج دیکھنا ہو تو دلچسپ اور مختلف متون میں ملے گا۔ تو پس ماضی میں اختصار نویسی گزرے وقت کا تقاضا تھی ۔ یہ واضح سی بات ہے کہ اختصار نویسی اگرچہ اختصار نویسی ہے لیکن اس کے پس منظر میں معمول کے مطابق تحقیقی علمی مواد اور منبع ایک لازمی امر ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اختصار نویسی اگرچہ کم نویسی کے مساوی ہیں لیکن متون کا نصاب اختصار نویسی  کا محتاج اور  مجبور ہے اور نیز یہ کہ اجتماعی موضوعات زبانی مورخ پر نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام حسین (ع) چوک -  آزادی چوک روٹ کی بس کے مسافروں کی زبانی تاریخ کو بس میں ہی محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کی دستاویزات بنائی جاتی ہیں اور یہ سب کا سب صرف موبائل کے ذریعے کیا گیا۔ اور سب مخاطبین بھی اتفاقیہ طور پر مل گئے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے کی لغات میں خاص قسم کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کھلے سوالوں کا بستہ، انٹرویو ہونے والے شخص کے سن  و سال کے مطابق سوالات کو تیار کرنا ۔ایک بزرگ فرما رہے تھے کہ انھوں نے بس میں سفر کے دوران کافی زیادہ مطالعہ کیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک خاص وقت میں ا چھا خاصا   متن تیار کیا جاسکتا ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کیا یہ سب اضافی وقت ہے؟

- آلات: معلومات اکٹھی کرنے کے لیے آلات کوئی سے بھی ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن سرعت اور وقت  کے موضوعات کی و سعت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کو اہم عنصر قرار دیا جاسکتا ہے اور ایک خاص ہدف کے تحت یادگار و اقعات کو محفوظ کرنے کی خاطر موجودہ آلات سے مدد لی جاسکتی ہے۔ آج ہر شخص کے پاس بہرحال ریکارڈ محفوظ کرنے والے آلات موجود ہیں۔  تاریخ کے محاذ پر مورخ کے پاس جدید آلات ہوں تو وہ مختصر اور چھوٹے  موضوعات کو دلچسپ اور پرکشش بنا سکتا ہے اور و اضح سی بات ہے کہ اس انداز میں محفوظ شدہ مواد اور متن حقیقت  کے قریب تر ہے۔ آج مائیکروفون کہیں بھی اور کسی بھی فرد کے اختیار میں دیا جاسکتا ہے۔ ماحول کا موضوع اور موضوع کا ماحول بناوٹی نہیں ہوتا۔ ہر موضوع کے اوپر ایک اور موضوع ہوتا ہے اور ایک خاص فضا تک خود مورخ بھی موضوع کا پیروکار ہوتا ہے۔یہ وہی چیز ہے جسے زمانے کی ضرورت ہے۔ اور آسان موضوعات کو پڑھنے اور سننے ولے زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ لا یعنی گفتگو میں اور اُس میں فرق یہ ہے کہ زبانی تاریخ اور تاریخی فکر کے دائرہ کار میں محفوظ شدہ متن کے ذریعے تحقیقی سفر طے ہوتا ہے اور اس کا  اخبار نویسی اورخبر نگاری سے بھی گہرا ربط ہے لیکن گذشتہ زمانے میں موضوع کو زنگ لگ گیا ہے۔ برف کی گولی والا طریقہ یا کوئی اور بہتر طریقہ کارآمد ہوگا۔ آج کام  کو اندارج کرنے کیلئے سرعت کے وسائل اور آلات موجود ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 256


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں