تنہائی والے سال – سترہواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسین زیدی

2018-06-23


ہم ۸۱ لوگوں کے درمیان ہر کسی کے عقائد مختلف تھے جو ہمارے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کا باعث بنتے۔ مثلاًٍ آزر جو دبلے پتلے جسم اور متوسط قد کا مالک تھا، وہ کہتا میں شاہ کے گارڈ دستے  کا  افسر رہا ہوں اور رشوت کی خاطر کچھ عرصہ تک جیل میں رہا ،  جیل میں اپنی سزا کاٹنے کے بعد میں رضاکارانہ طور پر محاذپہ آیا ہوں تاکہ میں اپنی شرافت اور ملک کا دفاع کروں!وہ جو واقعاً ایک ہوشیار انسان تھا، ملی ترانے پڑھ کر یہ سمجھتا تھا کہ میں اپنے قوم پرستی والے نظریہ کو بیان کر رہا ہوں اور وہ آشکار و واضح طور پر اسلامی حکومت سے راضی نہ ہونے کو بیان کرتا تھا اور وہ افراد جو حکومت کے طرفدار تھے، اُن کا مذاق اڑاتا اور انہیں تنگ کرتا تھا۔

ایک اور آدمی جو پہلے شاہ کے دربار میں محافظ اور نگہبان تھا، وہ ابھی تک اُن کو القابات کے ساتھ یاد کرتا ، اُسے مواقع کی بہت اچھی پہچان تھی اور وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتا۔ کردستان میں اپنی تماشائی کارکردگی کی وجہ سے اُس نے ایک تشویقی درجہ حاصل کرلیا تھا۔ وہ "بھاگنے کے منصوبہ" کے بارے میں بہت باتیں کرتا اور اُس نے کچھ لوگوں کو بغیر کسی چون و چرا کے اپنا اور آزر کا تابع بنالیا تھا کہ وہ جو بھی کہتے ، آنکھیں بند کرکے اور کبھی منطق کے خلاف انجام دیتے۔

بحری افواج سے ایک ڈاکٹر، پولیس کے شعبے سے ایشیا ویٹ لفٹنگ کے چیمپئن  جناب "والی" اور بری افواج میں عقیدتی- سیاسی ڈویژن کے ایک افسر جیسے لوگ بھی ہم ۸۱ لوگوں کے درمیان بہت ہی زیادہ مومن ، خدا پسند ، حکومت کے پابند اور معتقد افراد تھے۔

کچھ اور ساتھی بھی ایسے تھے جو عہد پورا کرنے والے اور اسلامی حکومت کے طرفدار تھے جو مذہبی پروگرام ، اُسی چھوٹے سے قرآن کے ساتھ جلسہ قرآن اور نماز جماعت کیلئے بہت زیادہ کوششیں کرتے تھے۔

اس بات کا ذکر کرنا یہاں پر برا نہیں ہوگا کہ وہ معلومات جو آزر نے باہر سے حاصل کی تھیں اور کچھ لوگوں کو بتا بھی دی تھیں، یہ تھیں کہ وہ زندان جہاں ہمیں رکھا گیا ہے وہ بغداد سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ، جس کا نام "ابو غریب" اور یہ پولیس شعبہ سے مربوط ہے  جسے انھوں نے عراقی انٹیلی جنس کے حوالے کردیا ہے اور ہمیں وہاں اُن کے زیر نظر کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

جس طرح کہ ہم نے بیان کیا، میرے لیے سب سے اہم ترین اور تلخ ترین واقعہ ، کچھ اسیروں کا عراقی بعثیوں سے تعاون کرنے والا مسئلہ تھا ، جس میں اُن کا قصد ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنا تھا۔

ایک دن نگہبان آزر کے پاس آیا اور اُسے اپنے ساتھ لے گیا، وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور واضح طور پر کہا:

۹۲ ویں ڈویژن کے دو فراری افسر، انقلاب کے زمانے میں فرار کرنے والے افسر مجھ سے ملنے آئے تھے اور وہ  ۹۲ ویں ڈویژن کے کچھ افسروں کے مسائل کے بارے میں مجھ سے بات چیت کرنا چاہ رہے تھے!

اُس میٹنگ میں جو بعد میں رکھی گئی، ہمیں پتہ چلا کہ فرار کرنے والے افسروں نے اسیروں کو ایک بغاوت کرنے کیلئے کہا ہے ، طے پایا ہے کہ اُس کا فوجی ونگ اسیر اور منافقین سے تشکیل دیا جائے! رضاکارانہ افراد کے انتخاب کے بعد، وہ عراق کی کسی ایک چھاؤنی میں ضروری ٹریننگ حاصل کریں گے اور پھر مقررہ موقع پر، عراقی سرزمین یا شاید کسی اور ہمسایہ ملک سے، ایران پر حملہ آور ہوں گے، ملک کے حساس مقامات پر بکے ہوئے  اور داخلی حکومت کے مخالف افراد کے تعاون سے قبضہ کرلیں گے!

میرے لیے تو روز روشن کی طرح عیاں تھا وہ لوگ یہ نقشہ بنا رہے ہیں اور ایسے مسائل کے درپے ہیں جو انقلاب کی اندرونی طاقت اور امام کی استثنائی رہبری کے بارے میں سوائے ظاہری شکل کے کچھ نہیں جانتے  اور اُن کی قدرت کو درک کرنا ان کے بس میں نہیں اور اس کا نتیجہ شکست اور پشیمانی ہے اور بس۔ لیکن خیانت کو کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔

یہ بات سامنے آنے اور لوگوں کی آزر اور اس کے چیلوں سے مخالفت  کے اعلان  کے بعد، کیمپ میں ایک عجیب جوش و ولولہ وجود میں آگیا اور ایسے مسائل کا باعث بنا جس سے دشمن کو سوء استفادہ کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔

سب سے بڑی مشکل، ضعیف افراد تھے جو آزر کے گروپ کی طرف سے  ہونے والے خالی خولی اور حقیقت سے دور پروپیگنڈے کی وجہ سے  اُن کی طرف جھک جاتے تھے۔ عام طور سے یہ وہ لوگ تھے جن کی فکر بنیادی طور پر اسلامی نہیں تھی اور صرف ایک تشویق یا ایک ظاہری دلیل، اُنہیں کسی بھی طرف کھینچ کر لے جاتی اور جوان افسروں میں سے بھی کچھ لوگ  پیسے، عہدے اور کرسی کی لالچ کے وعدے میں آگئے تھے اور یہی چیز خطرناک تھی۔

بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ آزر جب چاہتا، نگہبان کو آواز دیتا اور آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر زندان سے باہر نکل جاتا اور ہم پر دروازہ بند کر دیتا۔ کبھی وہ دوسرے کیمپ بھی چلا جاتا اور ایرانیوں کو بغاوت کرنے پر اُکساتا۔

کیمپ  کا ماحول بہت خراب ہوچکا تھا، آزر اور اُس کے ساتھیوں کا زہریلا اور اسلام مخالف پروپیگنڈا، جنگ کاجاری رہنا، ایمان کی کمزوری اور ارادے کی سستی، بہت سے افراد کے خراب ہونے کی وجہ بنی۔

ایسے میں، مومن اور اسلامی جمہوری کے پابند افراد  ان تمام باتوں سے بہت پریشان تھے، لیکن اُن سے  کچھ بن نہیں پا رہا تھا، چونکہ عراقی آزر اور اُس کے گروہ کی حمایت کر رہے تھے۔

ہم نے اس معاملے میں لوگوں سے بہت زیادہ بات چیت کی لیکن متاسفانہ کوئی اہم کام انجام نہ دے سکے۔ جو لوگ شراب خوری، راتوں بھر جاگنے جیسی باتوں  میں خوش رہنا چاہتے تھے، اُن لوگوں نے اپنے عقیدے کے اظہار کیلئے اس وقت کو بہت ہی مناسب اور  حالات کے مطابق جانا۔

اُن میں سے ہر کسی نے آزر کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے ایک بہانہ  ڈھونڈ لیا تھا۔ یا دلیل کی جگہ بہانہ، کوئی کہتا:

-  اگر یہ لوگ کامیاب ہوگئے تو طے پایا ہے کہ مجھے کمانڈر بنائیں گے۔

ایک اور کہتا:

-  میرا اصل مقصد یہاں سے فرار کرنا ہے۔

دوسرا کہتا:

-  مجھے یہ حکومت (جمہوری اسلامی) اچھی نہیں لگتی۔

 کوئی اور:

-  مجھے عہدہ اور مقام چاہیے۔

و ۔۔۔خلاصہ یہ ہے کہ کچھ اپنی مرضی کے دلائل اور بہانوں سے اس گھٹیا حرکت کی طرف یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ خائن حرکت کی طرف مائل ہوگئے۔

میں نے محسوس کیا اگرچہ ممکن ہے  میں آزر اور دوسرے کچھ لوگوں کو اُن کے راستے سے ہٹانے کی قدرت نہیں رکھتا، لیکن شاید جو لوگ زیادہ جوان ہیں اُن کے میل و رغبت  میں رکاوٹ ایجاد کروں اور اُن کیلئے رکاوٹ بن جاؤں جو مخفی طور پر یہ کام انجام دیتے ہیں یا کم سے کم اُن پر حجت تمام  کردوں تاکہ اُنہیں پتہ چلے وہ کیا کام کر رہے ہیں اور لا علم رہنے کی بات نہ رہے۔

سب سے پہلا قدم یہ تھا کہ میں اچھی نیت اور قوی ارادے سے آزر کے پاس گیا اور اُس سے کہا:

-  میں تم سے ایک اہم موضوع کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں؛ البتہ حوصلہ اور سوچ و بچار کے ساتھ!

اُس نے قبول کرلیا اور ناشتہ کرنے کے بعد ہمارے گروپ کی طرف آیا۔

میں نے بات کو مقدمتاً جنگ، اسیری اور بعثی دشمن کی کارکردگی کے طریقے  سے شروع کیا  اور تقریباً شام کے پانچ بجے تک، بغیر اس کے کہ ہم میں سے کسی ایک نے حتی دوپہر کے کھانے کیلئے بات کو روکا ہو، گفتگو جاری رکھی۔ گفتگو  شروع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے  بعد کیمپ کے تمام افراد خاموش ہوگئے تھے اور باتوں کو سن رہے تھے۔

اس عرصے میں ، مجھ میں جتنی ہمت تھی، سب لوگوں کی بھلائی اور نیکی کو نظر میں رکھ کر ، میں نے اُس سے کہا؛ وہ تمام دلائل جو ہر کسی نے اس بے اثر حرکت میں شرکت کیلئے اپنی نظر میں رکھے ہوئے تھے، اُن سب کو بیان کیا اور اُنہیں رد کرنے کیلئے میں نے عقلی دلیل پیش کی اور میں نے ثابت کیا کہ دشمن  کا ساتھ دینے کیلئے کوئی بھی دلیل صحیح نہیں ہے۔ حتی اگر انسان قوم پرستی پر بھی اعتقاد رکھتا ہو، پھر بھی یہ کام حقیقی قوم پرستی اور قومی مفاد کے برخلاف ہے۔ اس راستے پر چلنے کیلئے صرف ایک قانع کنندہ دلیل موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان مان لے کہ وہ خیانت کرنا چاہتا ہے، یعنی جان لے کہ وہ خائن ہے اور پھر بھی اُس کے درپے رہے!

آخر میں، میں نے اُس سے اور اُن لوگوں سے جو اپنے راستے پر گامزن رہنے پر بضد تھے، اتمام حجت کرتے ہوئے صراحت سے کہا:

-  آپ لوگوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اگر اس نہ بھی پلٹیں تو کوئی مسئلہ نہیں ؛ صرف یہ بات نہ رہے کہ آپ کہیں ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا، میں جوان تھا،  کسی نے مجھے بتایا نہیں وغیرہ خلاصہ یہ کہ کسی کیلئے بھی کوئی بہانہ اور عذر باقی نہ رہے۔ اب اگر ان تمام باتوں کے باوجود اگر آپ لوگ یہی کام کرنا چاہتے ہیں، تو آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے یہ قدم اتھایا ہے اور آ پ لوگوں کیلئے کسی عذر خواہی کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

گفتگو کے آخر میں، سب لوگ میرے گرد جمع ہوگئے اور مجھ سے محبت کا اظہار کرنے لگے۔ بری فوج کے ایک افسر کرنل انصاری جنہیں آزر اور اُس کے ساتھیوں نے بہت زیادہ تکلیف اور زبانی زخم لگائے تھے ، وہ میرے پاس آئے اور بہت ہی  خوشی کے عالم  میں کہا:

-  آفرین ہو آپ پر شاباش! آپ بہت بڑا کام انجام دیا ہے، آپ نے  اسلامی ملک کے نام کو سربلند کردیا،  یہ قیمتی لوگوں کے آزمائش کی جگہ ہے۔

اور انھوں نے میرے ہاتھ کو چوما۔

اس دن کے بعد، بہت سے لوگوں کو بغاوت کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی جرأ ت نہ ہوئی؛ البتہ جو لوگ جوان تھے وہ مخفی صورت میں مشورہ کر رہے تھے۔ اس کے باوجود، کیمپ کا ماحول بدل گیا کہ جس میں آشکار، کھلم کھلا اور بے حیائی کے ساتھ حکومت اسلامی اور ملک کے خلاف  سازشیں کی جاتی تھیں۔ تاہم یہ بات آزر اور اُس کے ساتھیوں کیلئے پریشانی اور ناراحتی کا سبب بنی اور انھوں نے عراقی مسئولین سے میٹنگ رکھ کر کیمپ کے لوگوں کو دو گروپ میں تقسیم کردیا۔

ایک دن کیمپ کا دروازہ کھلا، ایک عراقی سپاہی اسلحے کے ساتھ اندر آیا اور بہت ہی غصیلے اور حکم دینے والے لہجے میں کہا:

-  سب دیوار کی طرف منہ کریں، ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہوجائیں!

دو دوسرے سپاہی جو بہت ہی بلند آواز میں چیخ پکار کر رہے تھے انھوں نے کہا:

-  اس سپاہی کو حکم ملا ہے کہ تم لوگوں کی بیجا حرکت پر فوراً گولی  چلا دے۔ کان کھول کر سنو؛ صرف وہ افراد جن کا نام پکارا جائے وہ اپنا سامان اٹھا کر دروازے کے سامنے لائن سے کھڑے ہوجائے۔

ہم ۲۱ لوگ تھے؛ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ہمیں زنجیر کی صورت میں ایک کے پیچھے ایک کرکے کھڑا کردیا گیا۔ اُس کے بعد گالیاں بکتے ہوئے ، مارو، نہ مارو کی آوازوں کے ساتھ ہمیں جیل کی اصلی راہداری کے احاطے کی طرف لے گئے۔ راستے بھٹکانے کیلئے دائیں بائیں کچھ چکر کاٹنے کے بعد ، ہمیں دوبارہ اُسی عمارت میں داخل کردیا گیا اور دوسرے طبقہ پر لے گئے۔

کمرے کی لمبائی چوڑائی اور شکل تہہ خانے والے کمرے کی طرح تھی، چھت پر ہوا کیلئے صرف ایک روشن دان بنا ہوا تھا، پرانے حماموں پر بنے ہوئے گنبد کی طرح جہاں سے روشنی اور ہوا آتی تھی۔

جاری ہے ...



 
صارفین کی تعداد: 160


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں