سن ۱۹۵۷ سے لیکر سن ۱۹۶۷ تک کے دستاویزات کے بارے میں

وہ دستاویزات جن کی تحقیق زبانی تاریخ کیلئے اہمیت کی حامل ہے

اکرم دشتبان
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-06-23


زبانی تاریخ میں دستاویزات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے آثار تحریر کرنے والے کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ موضوع پر مکمل گرفت اور مہارت حاصل کرنے کے لئے معتبر دستاویزات کی طرف رجوع کرے۔ یعنی ایسی دستاویزات انتظامی اور سیکیورٹی اداروں یا پھر سیاسی دفاتر میں تیار کی گئی ہوں۔ اور یہ بات بھی مدنظر رہے کہ مذکورہ بالا نکتے کے ساتھ ساتھ دستاویز تیار کرنے والے ادارے نیز رپورٹ بنانے والے کا واقعہ سے دور یا  نزدیک ہونا اور اسی طرح موردِ مطالعہ موضوع۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ پر زبانی تاریخ میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں۔ تاریخ کے ماہر اور لکھاری  جناب رحیم نیک بخت نے "علوم انسانی تحقیقی سنٹر "اور "ثقافتی مطالعات" میں تحریر  کردہ ایک مقالے میں اس موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

زبانی تاریخ میں کسی واقعے کے رونما ہونے کی جگہ اور وقت، افراد کی پیچان، مہم زاویوں کا کھوج لگانے اور پھر تمام نکات کی طبقہ بندی کرنے میں اسناد کا دائرہ کار انتہائی اہمیت کا  حامل ہے۔  کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ واقعات عینی شاہدین کے  صفحہ یادداشت سے مٹ جاتے ہیں یا پھر ماند پڑ جاتے ہیں دستاویزات کی ایک اہم ذمہ داری انہی فراموش شدہ واقعات پر تحقیقات کرنا ہے اور افکار و اذہان میں دھندلے رہ جانے والے واقعات کو شفاف کرکے اور نکھار کر سامنے لانے کا سہرا بھی "دستاویز" ہی کے سر ہے۔

آج بہت سے کتب "دستاویز" کی بنیاد پر قارئین کے ہاتھوں تک  پہنچتی ہیں اور کتاب "پہلوی حکومت کے دوسرے دورے میں سماجی و ثقافتی سیاست کی اسناد: روزانہ کے مسائل کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی کی نشتوں کی رپورٹ" اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب  سن ۱۹۵۷ سے ۱۹۶۷ تک  کی دستاویز پر مشتمل ہے۔ یہ دستاویز دو جلدوں میں تیار کی گئی ہیں۔ اور دستاویزات سنبھالنے کے ماہرین جناب بہنام صدری اور علی رضا اسماعیلی اور اسی طرح صدر مملکت کے دفتر کے مواصلات اور اطلاعات کے ادارے کے ریسرچ اور دستاویزات کے مرکز کی زیر نگرانی اکٹھا ہوئے تھےاور انہی کی انتھک کوششوں سے یہ قیمتی کتاب سامنے آئی جسے ناشر "خانہ کتاب" نے زیور طبع سے آراستہ کرکے بازار کی زینت بنایا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جس نے محقق حضرات کی توجہ کو اچھا خاصا مبذول کیا اور بہت زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں  میں سے ایک قرار پائی ہے۔

اس کتاب کے مقدمے میں پوری کتاب  کے متن پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے اور پھر دو جلدوں میں تدوین کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے۔  اسی کے متن سے لیے گئے اقتباس کے چند جملے ملاحظہ فرمائیے:ایک وہ وقت بھی تھا جب پیغام رسانی کی واحد شکل کتاب ہی ہوا کرتی تھی۔ اور پھر رفتہ رفتہ اخبارات چھپنے لگے اور ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی منظر عام پر آگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب کے چھپنے کی تعداد  اور موضوعات کے تنوع میں نمایاں کمی آگئی اور وہ سب کچھ جو کتاب کے اختیار میں تھا میڈیا کے دیگر نئے مصادیق کے ہاتھوں میں  چلا گیا اور یوں سماجی ثقافتی سرگرمیوں پر کام کرنے والے ذمہ دار افراد بھی کف افسوس ملتے رہ گئے۔ ایران میں اخبارات کا سینسر اس ذریعہ ابلاغ کی ابتدا سے ہی ہمزاد کی طرح موجود رہا۔ وہ یوں کہ ناصری چاپخانے کی سب سے اہم ذمہ داری اس وقت کی چند انگشت شمار مطبوعات کی نگرانی کرنا تھی لیکن ۵ جون ۱۹۶۳ ء کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کے بعد حکومت اور مذہبی گروہوں میں نمایاں فاصلہ پیدا ہوگیا  اور پھر عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ نے پہلوی حکومت کے سیاست دانوں کو پریشان کرکے رکھ دیا کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے مخالف طاقتیں خصوصاً مذہبی گروہ از سر نو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے  اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔ اس وجہ سے "اطلاعات اور تبلیغات" کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا گیا جس کا کام عمومی اذہان و افکان کو کنٹرول کرنا تھا۔ پھر اس ادارے کا نام تبدیل کرکے "روزمرہ کے مسائل پر تحقیقاتی کمیشن" رکھا گیا اور پہلے سے زیادہ ذمہ داری اس ادارے کو سونپی گئی۔  اس کمیشن کی نشستوں اور جلسات کی تحریری گزارش سے جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ یہ کمیشن مختلف ثقافتی، سماجی مسائل پر کڑی نگرانی میں مصروف ہے۔ اور اس بات کو اُجاگر کر رہی ہے حکومت اراکین معاشرے کی حقیقت کی پر مبنی چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کو سینسر کر رہے ہیں۔مذکورہ بالا کتاب میں اس کمیشن کی نشتوں کی رپورٹ نشر کی گئی ہے جو اُس دور میں پہلوی حکومت کی سماجی – ثقافتی سرگرمیوں سے بطریق احسن پردہ اٹھاتی ہے اور انتہائی چھوٹے چھوٹے معاملات اور امور پر کڑی نگرانی نیز حکومتی اہل کاروں کی معاشرتی حقائق سے جدائی کی عکاسی کرتی ہے۔

مثال کے طور پر کتاب کی دستاویز نمبر ۶۰۱ میں" پہلوی حکومت کے دوسرے دورے میں  سماجی – ثقافتی سیاست کی دستاویز: روزانہ کے مسائل کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ" کے عنوان کے تحت ہمیں یہ تحریر پڑھنے کو ملتی ہے کہ : پہلوی حکومت کی وزارت اطلاعات و سیاحت نے ۱۱ ستمبر ۱۹۷۴ کو شام پانچ بجے ایک میٹنگ رکھی جس میں روزمرہ مسائل پر بحث کرنے کے لئے وزارت امور خارجہ، وزارت ثقافت و ہنر کے سربراہ، پولیس کے نمائندے، اطلاعات و سیاحت کے دو معاون وزراء، ریڈیو اور ٹی وی کے نمائندے،  داخلی مطبوعات کے مدیر کل اور پارس نیوز ایجنسی کے سربراہ جیسی اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ۔

اس میٹنگ میں شرکت کرنے والے تمام افراد نے اپنی اپنی  آراء پیش کیں۔ جیسے وزارت فرہنگ و ہنر کے نمائندے نے بتایا کہ "افریقہ کے آج کے مسائل "نامی کتاب جو "ایوان ایزوسمویچ" نے لکھی اور چاپخانہ آفتاب نے اس کے ۲۲۰۰ نسخے چھاپے، بازار میں آنے کی صلاحیت نہیں رکھتی لہذا اسے اٹھا لینا چاہیے۔ ساواک ایجنسی کے نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ روزنامہ "اطلاعات"اخبار نے مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۷۴ کو ایک تصویر شائع کی جس کا عنوان تھا "حکومتی آٹے کا کوٹہ کم ہے" جب کہ ایسی تصاویر کا شائع کرنا اور اس طرح کے عناوین دینا مناسب نہیں اور پھر اسی میٹنگ میں یہ طے پایا کہ متعلقہ مسئولین کو ادارہ کل مطبوعات کی جانب سے تنبیہ ملنی چاہیے۔

یہ کتاب ۶۴۲ صفحات پر مشتمل ہے جن میں ۱۲۵۶ دستاویزات کو ذکر کیا گیا ہے اور کتاب کے آخر میں دستاویزات کی اصلی تصاویر بھی نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔



 
صارفین کی تعداد: 159


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں