اقلیمہ جاہدی سے ہونے والی گفتگو

محاذ پر جہادی سرگرمیاں

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-06-19


آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران، جب مردحضرات دشمن سے فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہوتے، خواتین گھروں ، مساجد اور ثقافتی و مذہبی مراکز میں جمع ہوجاتیں اور غذا تیار کرنا، سپاہیوں کیلئے لباس اور دوسری ضرورت کی چیزوں کو فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی رہتیں۔ اقلیمہ جاہدی اُن خواتین میں سے ہیں جنہوں آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران، سپاہیوں کی ضرورت کی چیزیں  آمادہ کرنے میں کوششیں کی اور صوبہ البرز کی بہت سی خواتین کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔ ایرانی اورل ہسٹری سائٹ نے اُن سالوں کی باتیں جاننے کیلئے  اُن کے ساتھ ایک نشست رکھی۔

 

آپ نے محاذ پر لاجیسٹکس اور سپورٹ کی سرگرمیاں کب سے شروع کیں؟

جب میں تہران میں رہتی تھی میں جہاد نامی فلاحی ادارے کی کارکن تھی۔ انقلاب کے شروع میں جب امام خمینی کے فرمان کے مطابق اس ادارے کو بنایا گیا تھا میں نے ایک دن تہران کی دیوار پر لکھا ہوا دیکھا، یہ جہاد کا مرکزی سنٹر ہے۔ میں وہاں گئی اور میں نے اُن کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ شروع میں ہم نے شاہراہ انقلاب پر خیمہ لگایا اور وہاں پر  اپنا کام شروع کردیا۔ ہم چار لوگ تھے۔ بعد میں ایک مسجد نے اپنا ایک کمرا ہمارے اختیار میں دیدیا پھر ہم وہاں کام کرنے لگے۔ میں گھر کی سرپرست خواتین کو جن کے شوہروں کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی، موتی لگانا سکھاتی تھی۔ جب وہ لباس پر موتیوں کو لگاتیں،میں لباسوں کو بازار لے جاتی۔ اُن کے پیسے ہر مہینے کے شروع میں لیکر اُنہیں دے دیتی۔ ہم مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے دو سال  بعد کرج (حالیہ: صوبہ البرز کا مرکز) ہجرت کرگئے۔ تہران کے فلاحی ادارے نے مجھے کرج کے فلاحی ادارے متعارف کروا دیا جو شاہراہ طالقانی پر تھا۔

 

آپ جہاد فلاحی ادارے میں محاذ کیلئے کیا سرگرمیاں انجام دیتی تھیں؟

میں خواتین کو جمع کرتی  اور ہم ایک بڑے سے گھر میں کام کرتے تھے۔ ہم سپاہیوں کیلئے کپڑے سیتے تھے، مربا اور آچار بناتے تھے۔ زخمیوں کے خون لگے کپڑے جو محاذ سے ٹرک پر آتے تھے، اُنہیں دھوتے تھے۔

 

کیا آپ سپاہیوں کیلئے کپڑے بھی سیتی تھیں؟

جی۔ تقریباً ۱۵ خواتین اپنے گھروں سے سلائی مشین لے آئی تھیں۔ ہم پینٹ اور بنیان سیتے تھے یا ادھڑے ہوئے کپڑوں کی سلائی کرتے تھے۔

 

آپ کے ساتھ جو خواتین کام کرتی تھیں ان کی تعداد کتنی تھیں؟

تقریباً دو سو، تین سو کے قریب تھیں۔  میں اپنے اطراف کے لوگوں کو محاذ پر مدد کرنے کیلئے تیار کرتی تھی۔ میرے گھر سے ، میری بہن میرے ساتھ تھی۔ حتی تہران میں رہنے والی خواتین جو مجھے پہچانتی تھیں، ہفتہ میں ایک سے دو دفعہ، وہاں میری مدد کرنے آتی تھیں۔ میں نے لوگوں کو جمع کرنےکیلئے بہت پروپیگنڈہ کیا تھا۔ البتہ ہم جہاد فلاحی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ  سپاہ پاسدارن کے ساتھ بھی تعاون کرتے تھے۔

 

آپ خواتین کو محاذ کیلئے کام کرنے پرکس طرح تشویق اور ترغیب دلاتی تھیں؟

میں خواتین کے مذہبی پروگرام اور مجالس میں جاتی اور خواتین سے کہتی: "ہم محاذ کیلئے کام کرتے ہیں، آپ بھی ہماری مدد کریں۔"

 

وہ خواتین جو آپ کے ساتھ کام کرتی تھیں اُن کی عمریں کتنی تھیں؟

جوان، ادھیڑ عمر، ضعیف خواتین؛ بعض خواتین مالی لحاظ سے خود تو کمزور تھیں اور فقیرانہ زندگی گزارتی تھیں لیکن دفاع مقدس کی مدد کیلئے کوششیں کرتی تھیں۔ ایک خاتون کی مالی حالت بہت خراب تھی۔ میں نے اُس سے کہا: "آپ پر دوسروں کی مدد کرنا ضروری نہیں ہے۔ آپ اپنی مسائل حل کرنے کی فکر میں رہیں۔" وہ کہتیں: "نہیں، میں بھی مدد کرنا چاہتی ہوں تاکہ ملک اور انقلاب کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔"

 

آپ محاذ کی مدد کیلئے  پیسے بھی جمع کرتی تھیں؟

نہیں، بالکل نہیں۔ مربا اور آچار کیلئے سامان جہاد فلاحی ادارہ یا سپاہ لے آتی تھی۔ ادارے کی طرف سے جو شکر آتی تھی ہم اس سے مربا بناتے تھے۔

 

آپ کے گروپ کا کوئی خاص نام تھا؟

نہیں۔ ہم صرف ادارے اور سپاہ کیلئے کام کرتے تھے۔ سپاہ نے مجھ سے کہا کہ جہاد فلاحی ادارے کے کام کو چھوڑ دوں اور اُن کے ساتھ کام کرنے لگوں۔ وہ مجھے اپنے پاس بھرتی کرکے مجھے تنخواہ دینا چاہتے تھے، لیکن میرے شوہر نے اجازت نہیں دی اور کہا: "تمہارا کام فی سبیل اللہ اور صرف خدا کی رضا کیلئے ہونا چاہیے۔" میں نے سپاہ سے کہا: "میں ایک جہادی کارکن ہوں اور میں کسی دوسری جگہ بھرتی ہونا نہیں چاہتی۔"

 

آپ ہفتے میں کتنے دن کام کرتی تھیں؟

ہم روزانہ صبح سے رات تک کام کرتے تھے۔

 

آپ اپنی سرگرمیوں کو اپنے گروپ کے اراکین کے گھر وں میں انجام دیتی تھیں؟

نہیں، صرف چند لوگوں کے گھروں میں کہ اُن سب کے نام مجھے یاد نہیں ہیں۔ ایک گھر ہم جس میں جاتے تھے وہ حسین آباد میں محترمہ ترابی کا گھر تھا۔ وہاں لباسوں کی سلائی، مربہ اور آچار بنانے کے علاوہ دوسرے کام بھی انجام دیتے تھے، کچھ عرصہ بعد سپاہیوں کو روٹی فراہم کرنے کیلئے، ہم نے زمینی تندور بنائے۔ ہم ایک محلے سے دوسرے محلے گئے اور ہم نے خواتین سے پوچھا: "کس کو روٹی پکانی آتی ہے؟ تقریباً تیس لوگوں نے کہا: "ہمیں آتی ہے۔"

 

آپ نے تندور کیسے بنایا؟

بعض دیہاتی خواتین کو گیلی مٹی سے تندور بنانا آتا تھا۔ ہم نے اُن کیلئے مٹی کا بندوبست کیا اور انھوں نے یہ کام انجام دیا۔

 

کتنے تندور بنائے گئے؟

تندوروں کی تعداد سولہ تھی۔ ہم نے ایک ساتھ تین سے چاردیہاتوں میں تندور بنائے ہوئے تھے۔ حسین آباد میں آق تپہ نام  کی ایک روڈ تھی کہ اب اُس کا نام شاہراہ ولی عصر (عج) ہے، ہم نے وہاں تندور بنایا۔ آٹھ دنوں میں تندور کی مٹی سوکھ گئی۔ مردآباد اور ہشتگرد، یہ دوسرے دیہات تھے جہاں ہم نے تندور بنائے تھے۔ ہم تندور میں جلنے والی لکڑی جمع کرنے کیلئے باغوں میں جاتے۔ چادروں کو گلے میں لٹکالیتے اور سوکھی ہوئی شاخوں کو جمع کرتے۔ جہاں روٹی پکائی جاتی تھی وہاں صبح کی نماز کے بعد جاتے اور میرے بعد ایک ایک کرکے دوسری خواتین بھی آجاتیں۔ اس گروپ کی مسئولیت میرے پاس تھی۔ میں تندور کے پاس خواتین کی مختلف ذمہ داریاں لگا دیتی ۔ وہ لوگ آٹا گوندھتیں۔ ایک پیڑے بناتی، ایک تندور میں لگاتی، ایک روٹیاں جمع کرتی اور اُس کے بعد روٹیوں کو ہوا لگا تے تھے۔

 

روٹیاں پہنچانے کا وقت کب ہوتا تھا؟

ہر ایک دن چھوڑ کر اور کبھی کبھار ہم روزانہ جنگی علاقوں میں روٹیاں بھیجتے تھے۔ جہاد ادارے یا سپاہ کی طرف سے ٹرک آتا تھا، روٹیوں کو لیکر محاذ پر چلا جاتا تھا۔ ہم سپاہیوں کیلئے خط لکھتے اور روٹیوں کے تھیلے میں ڈال دیتے۔ ہم اُنہیں اُمید دلاتے تھے اور اُن سے کہتے تھے ہم آپ کے حامی اور مددگار ہیں، کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ وہ بھی خط کا جواب دیتے تھے۔ کچھ عرصے بعد، ہم سے کہا گیا: "محاذ پر کیمیائی بمب سے حملہ ہو رہا ہے اور سپاہی کیمیائی ہو رہے ہیں۔" ہمیں ایک مواد دیا گیا اور کہا گیا: "انہیں کپڑوں پر لگا دیں۔" ہم نے ایک ایسی جگہ بنائی ہوئی تھی جہاں ہم صرف کیمیائی بمب کے مقابلے میں لڑنوں کے لباس تیار کرتے تھے۔ لباسوں کی سلائی کے بعد  ہم اُس مواد کو لباسوں پر لگا دیتے تاکہ سپاہی کیمیائی نہ ہوں۔ ایک دن امام کے نمائندہ جناب سعادتی ہمارا کام دیکھنے آئے اور ہمارا بہت شکریہ ادا کیا۔ میں نے ان سے کہا: "مجھے شکریہ کی ضرورت نہیں ہے، میں خدا ،ملک اور شہید ہونے والے جوانوں کیلئے کام کر رہی ہوں۔" مجھے شہادت کی آرزو ہے۔ میں نے کہا: "جنابعالی، کاش ہمیں بھی شہادت نصیب ہوتی۔" انھوں نےکہا: "محترمہ مگر کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ سب شہید ہوجائیں؟ کچھ لوگوں کو محاذوں کو مضبوط کرنے کیلئے رہنا چاہیے۔"

 

دفاع مقدس کے سالوں میں آپ کی سرگرمیاں انہی کاموں تک محدود رہیں؟

نہیں۔ اس کے علاوہ میرا ایک کام یہ تھا کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے  کہ کسانوں میں سے کون کون محاذ پر گیا ہوا ہے اور فصل کاٹنے کا وقت ہوگیا ہے؟ ہم سے کہا جاتا: " فلاں کا شوہر محاذ پر ہے۔" کسان اپنی زمینوں پر چنے، مونگ کی دال، جو اور گندم بو کر محاذ پر چلے گئے تھے۔ بہت بڑی بڑی زمینیں تھیں اور  اگر فصلیں ایسی رہتیں تو تباہ ہوجاتیں۔ ہم خواتین سے کہتے: "چلیں ہم لوگ چل کر اُن کی فصل کو جمع کرتے ہیں کہیں خراب نہ ہوجائے۔" ہم خواتین کو کھیت میں لے آتے۔ ہاتھوں میں دستانے پہن کر فصلوں کو جمع کرتے اور اُن کی بیویوں کے حوالے کردیتے۔ البتہ یہ کام جہاد فلاحی ادارے یا سپاہ سے مربوط نہیں تھا ، یہ کام ذاتی تھا۔ میرے شوہر مالی امداد کرتے اور ہم لوگ مورد نظر دیہاتوں کی طرف چلے جاتے۔ میں اپنے ذاتی خرچہ پر بہت ساری روٹیاں اور تربوز خرید لیتی اور اپنی ساتھیوں کو دیتی۔

 

فصلیں جمع کرنے کے کام میں کتنا وقت لگ جاتا تھا؟

بہت زیادہ۔ ہم تقریباً تیس زمینوں سے فصلوں کو جمع کرتے تھے۔ ایک زمین سے فصل جمع کرنے میں صبح سے رات ہوجاتی تھی۔ فصلیں جمع کرنےمیں تقریباً دو مہینے لگ جاتے۔ ہم نظر آباد کی طرف جاتے جو قریب تھا۔ کرج کے اطراف میں حتی گاڑی میں قزوین تک بھی جاتے۔

 

آپ کے شوہر نے آپ کی سرگرمیوں سے مخالفت نہیں کی؟

نہیں۔ میرے شوہر، جناب کریم  نے بہت سی سرگرمیوں میں میرا بہت ساتھ دیا۔

 

کیا وہ بھی اس سلسلہ میں کام کرتے تھے؟

نہیں۔ مالی حوالے سے ہماری مدد کرتے اور ہمیں آنے جانے کا  کرایہ دیتے تھے۔

 

اتنے کاموں کے ساتھ آپ اپنی ذاتی زندگی کو کس طرح چلاتی تھیں؟

میرے سات بیٹے ہیں۔ اُس زمانے میں میرا بڑا بیٹا چودہ سال کا تھا۔ میں چوبیس گھنٹوں میں بہت کم سویا کرتی تھی۔ میں آدھی رات کو اٹھ کر گھر کے کام انجام دیتی تھی۔ میں مٹی کے تیل سے جلنے والے چولھے پر کھانا پکاتی تھی۔ میں نے بچوں کو تاکید کی ہوئی تھے کہ جب تک میں نہ آجاؤں چولھے کو ہاتھ نہ لگائیں۔ دن میں کسی وقت گھر پر چکر لگاتی۔ اُس زمانے میں میرا زیادہ تر وقت محاذ کی مدد کرنے میں گزرا اس کے باوجود آج میرے بچے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور سب کے سب تعلیم یافتہ ہیں۔

 

کیا آپ صرف محاذ کے پیچھے رہ کر کام کرتی تھیں؟

میں ایک دفعہ جنگ کے دوران، سرپل ذھاب گئی۔ ہم نے فوجیوں کیلئے کپڑے تیار کئے تھے اور ایک ٹرک کے برابر بغیر ٹھہرے ہوئے آٹے کی روٹیاں بنائی تھیں۔ ہم جہاد ادارے کی طرف سے پانچ ، چھ خواتین کے ساتھ وہاں  گئے ہوئے تھے تاکہ اُس علاقے اور فوجیوں کو نزدیک سے دیکھیں۔ سپاہیوں کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی خوشی کے مارے رونے لگتے۔ ایک سپاہی جو فوجیوں کیلئے نوحہ خوانی کرتا تھا، میں نے اُس سے کہا کہ ہمیں بھی نوحہ سناؤ۔ اُس نے میرے لئے بھی امام حسین (ع) اور امام خمینی کے بارے میں اشعار پڑھے۔ اُس کے بعد سپاہی بیٹھ گئے اور میں نے اُن سے خطاب کیا۔

 

ان تمام کوششوں او ر محاذ کی مدد کا مقصد کیا تھا؟

سب سے پہلے تو خدا کی خاطر تھا۔ ملک کی حفاظت کیلئے تھا کہ ہم کہیں اسے کھو نہ دیں اور شہداء کا خون ضائع نہ ہو، اسلامی انقلاب اور امام خمینی کی خاطر تھا۔ ہم امام کو بہت پسند کرتے تھے۔ میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ، محرم میں عزاداری کے دنوں میں، ادربیلیوں کی طرح اپنے گھر میں طشت گزاری کی تقریب کرتی تھی اور مجھے یہ تقریب بہت اچھی لگتی تھی۔ چونکہ میں اردبیل کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی تھی اور اصل میں ہم لوگ وہاں کے رہنے والے تھے۔شاہ کی طرف سے زمینوں کی نا عادلانہ تقسیم کے بعد، میرے والد جو زمینوں کے مالک تھے اُن سے اُن کی زمینیں چھن گئیں۔ اُس واقعہ کے بعد ہم نے تہران ہجرت کرلی  اور بازار بزرگ کے قریب شاہراہ گلوبندک پہ رہنے لگے۔ اُس وقت میری عمر دو سال تھی۔ شادی کے بعد ہمارا گھر خراسان تہران چوک پر تھا۔ میں عزاداری کے پروگرام میں انقلاب اور امام کی نشرو اشاعت کیلئے پمفلٹ تقسیم کرتی تھی۔ بتایا گیا: "عراقی حکومت نے امام کو عراق سے نکال دیا ہے اور وہ فرانس کے شہر نوفل لوشاتو چلے گئے ہیں۔" بعض علماء دین جو آج سیاسی عہدوں پر فائز ہیں، ہمارے گھر تقریر کرنے اور مجلس پڑھنے آتے تھے۔ شاہ کی حکومت کو پتہ چل گیا کہ ہمارے گھر سے انقلاب کی تبلیغ  ہوتی ہے۔ پولیس والے آئے، مجھے اور میرے شوہر کو تھانے میں حاضر ہونے کا کہا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا: "جناب عالی مجھے  تھانے جاتے ہوئے شرم آتی ہے، آپ جائیں۔" جب وہ گئے تو اُن سے پوچھا گیا: "جو لوگ تمہارے گھر پر تقریر کرنے آتے ہیں حتماً اُن لوگوں کے نام بتاؤ کہ وہ کون لوگ ہیں؟" میرے  شوہر نے جواب دیا: "ہم امام حسین (ع) کیلئے مجلس منعقد کرتے ہیں، ہمیں کسی سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ لوگ بھی مجلس پڑھنے آتے ہیں اور انہیں بھی کسی  سے کوئی سروکار نہیں۔"

 

جو خواتین آپ کے ساتھ تعاون کرتی تھیں آپ نے اُن کیلئے کوئی ثقافتی یا تشویقی پروگرام نہیں  کئے؟

کیوں نہیں، میں نے جہاد ادارے سے تقاضا کیا کہ جو خواتین ہمارے ساتھ کام کرتی ہیں اُنہیں تشویق دلانے کیلئے مشہد لے جایا جائے۔ وہ لوگ راضی ہوگئے۔ ہم لوگ پانچ، چھ دنوں کیلئے منی بس پر مشہد گئے۔ دو مرتبہ تقریباً تیس خواتین کو بھی ہم امام سے ملانے کیلئے جماران لے گئے۔

 

جو لوگ آپ کے ساتھ تعاون کرتے تھے اُن کی تعداد تقریباً دوسو تھی، اُن میں سے آپ صرف ان افراد کو کیسے امام کی ملاقات کیلئے لے گئیں؟

یہ لوگ ہر روز ہمارے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی بعض خواتین اپنے شوہروں یا دوسرے افراد کے ساتھ امام کی ملاقات پر چلی جاتی تھیں، لیکن یہ خواتین جنہیں میں جماران لے گئی تھیں ان کی امام تک رسائی نہیں تھی۔ ایک دفعہ میں خود لے گئی اور ایک دفعہ ہم جہاد ادارے کی طرف سے گئے۔ جس دن ہم امام سے ملاقات کیلئے جماران گئے تھے  میں نے دیکھا ایک گاڑی اُسی طرف جا رہی ہے۔ میں اُس کے اندر دیکھا تو امام خمینی کے فرزند جناب احمد خمینی گاڑی چلا رہے ہیں۔ میں نے سلام کیا، انھوں نے بھی سر ہلایا۔ پھر میں دفتر کے اندر گئی، وہ بھی وہاں تھے۔ ہمارے علاوہ دوسرے افراد بھی امام سے ملاقات کیلئے آئے ہوئے تھے۔ مرد حضرات پہلی منزل پر اور خواتین دوسری منزل پر تھیں۔

 

آپ کی سرگرمیاں کس زمانے تک جاری رہیں؟

ہم نے جنگ ختم ہونے کے ایک سال بعد تک اپنے افراد کو روکے رکھا۔ جو خواتین ہمارے ساتھ کام کرتی تھیں میں نے اُن سے کہا: "صدام دیوانہ ہے۔ ممکن ہے دوبارہ آجائے۔ اُس وقت میں آپ لوگوں کو اکٹھا نہیں کرسکتی۔" پھر جب جنگ ختم ہوگئی، ہمارا کام بھی ختم ہوگیا۔

 

ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کو اپنا وقت دیا۔



 
صارفین کی تعداد: 264


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں