زبانی تاریخ (ایران) :: دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

تنہائی والے سال – پندرھواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات


کاوش: رضا بندہ خدا
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-06-13


سارے نگہبان ذاتی تھے اور اُن میں سے بعض ہیڈ کوارٹر سے  آئے تھے، اُسی کمرے میں جس کا ایک دروازہ ہمارے ہال میں کھلتا تھا، وہ وہاں پر نگہبانی کرتے تھے اور ہم پر مکمل کنٹرول رکھنے کیلئے اور ہمیں دیکھنے کیلئے، ایک چھوٹے سے مربع کے  اندازے کے مطابق  شیشہ پر رنگ نہیں کیا ہوا تھا اور اپنی طرف سے ایک گتا چپکایا ہوا تھا تاکہ جب چاہیں ہمارا جائزہ لے سکیں ،  اور اُس گتے کو اوپراٹھاکر ہال کے اندر دیکھ سکیں۔

ہم لوگوں کے درمیان کچھ کرنل تھے؛ ایک بحری افواج کے ڈاکٹر، کچھ پولیس کے آفیسرز او ر اسی طرح ایشیا کے نمبر ون ویٹ لفٹر جناب "علی والی" جو رضاکارارانہ طور پر محاذ پر آئے تھے۔ درجے والے کچھ پرانے لوگ بھی تھے جو افسر بن گئے تھے اور وہ تجربہ اور ڈیوٹی میں  سینئر تھے۔ اُن میں سے ایک جو ساحلوں کی سیکیورٹی کے ادارے میں کام کرتے تھے، وہ باقی سب سے بڑے  تھے  اور اُن کا قد بلند تھا اور وہ دیکھنے میں لاغر نظر آتے تھے ، وہ علاقے سے گزرتے ہوئے پکڑے گئے اور قیدی بن گئے تھے۔

بحری افواج کے ایک افسر جو ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے، وہ ہلال احمر میں بھرتی ہوگئے تھے اور طبی امداد پہنچانے کے انچار ج تھے اور اس کے باوجود کے اُن کے ہیلی کاپٹر پر مخصوص آرم بنا ہوا تھا ، اُنہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مورد ہدف قرار دیکر قیدی بنالیا گیا تھا۔

ساحل کی حفاظت اور سیکیورٹی کا کام انجام دینے والوں کی تعداد  زیادہ تھی اور وہ بہت ہی ہوشیار اور تجربہ کار  دکھائی دیتے تھے۔ ایوی ایشن ادارے کے کچھ پائلٹ بھی موجود تھے۔

بری افواج کا ایک افسر جو پہلے "گارڈ" کا افسر تھا،وہ بہت فعال تھا اور تقریباً ہر معاملے میں رائے کا اظہار کرتا تھا۔ اُس کی پیش کردہ بہت سی تجاویز پر عمل کیا جاتا تھا۔ وہ بہت ہی باتونی اور جذباتی لگتا تھا اور وہ اپنے محاذ پر آنے کا انگیزہ اپنے وطن سے عشق و محبت بتاتا تھا۔

اُن ہی ابتدائی دنوں میں بہت زیادہ افراد نے کیمپ کے کمانڈر کو خبردار کیا کہ مختلف امور  کے بارے میں، صحیح سے فیصلہ  کرکے لوگوں تک خبر پہنچائی جائے ۔ انھوں نے سینئر افسران کو ایک جلسہ میں بلایا۔

اس جلسہ میں کہ جس میں تقریباً ہم دس لوگ تھے، فیصلہ کیا گیا کہ ہر سینئر افسر ایک گروپ کا کمانڈر بنے گا اور ہر گروپ میں سات سے دس افراد ہوں گے۔ اس طریقے سے تمام امور تمام گروپس کے کمانڈروں کے ذریعے تمام افراد تک پہنچ جاتے۔ گروپ کمانڈر بھی اپنے گروپ کے اراکین کے ساتھ مشورہ کرتا اور اُن کی تجاویز کو کیمپ کے کمانڈر تک پہنچا دیتا۔ اس کام کی وجہ سے سب لوگ کچھ معاملات میں جیسے جگہ کا تعین، کھانے کی تقسیم، مسائل کا حل اور نظم و سکون کا برقرار رہنا، ایک دوسرے سے مناسب تعاون کریں۔

ایک اہم وظیفہ کہ جسے حتماً مورد توجہ قرار پانا چاہیے تھا وہ زخمی اور بیمار ساتھیوں کی موجودگی تھی کہ جن میں سے بعض متاسفانہ اپنے ابتدائی اور ذاتی کام انجام دینے کے قابل نہیں تھے اور ان لوگوں کو کھانا بھی دوسرے کے وسیلہ سے دیا جاتا تھا، البتہ اس معاملے میں کوئی بھی کوتاہی سے کام نہیں لیتا تھا اور ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔

کیمپ میں ہم سب کی اجتماعی زندگی کی شروعات ایک دوسرے سے ملاقات اور دیدار کے شوق کی وجہ سے بہت اچھی اور محبت سے سرشار تھی اور ہم مسائل پر کم توجہ دیتے تھے، لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد، مسائل اور نقائص نے اپنے چہرہ دکھا دیا۔ سانس لینے کیلئے مناسب ہوا کا ماحول نہیں تھا اور تعفن کی بو پورے ماحول کو آلودہ کردیتی۔ متاسفانہ کھڑکیوں کو نہ صرف بند کیا ہوا تھا بلکہ اُن کے اوپر تختوں  کو بھی لگا دیا گیا تھا، اس طرح سے کہ ہوا آلودہ اور زہریلی تھی کہ جب نگہبان کمرے میں داخل ہوتے تھے، وہ اپنے منہ اور ناک پر رومال رکھ لیتے تھے اور ہم اُن کے  چہرے پر اُلٹی آنے جیسی حالت کا مشاہدہ کرسکتے تھے۔ اُدھر سے ٹوائلٹ کا کمرے سے ملا ہونا، ہوا کی آلودگی میں اور اضافہ کردیتا اور اس ۸۱ افراد کے بند کھڑکی دروازے والے کمرے میں کوئی روشندان بھی نہیں تھا۔

چند افراد بہت زیادہ بیمار اور زخمی تھے اور اُنہیں ڈاکٹر اور دوائی کی فوری ضرورت تھی اور ڈاکٹروں کو حتماً اُن کا علاج معالجہ کرنا چاہیےتھا۔ کچھ ایسے افراد تھے جن کیلئے پیٹ اور درد سے آرام کی دوائیاں ضروری تھیں۔ اگر کسی شخص کی حالت زیادہ خراب ہوتی ، نگہبان اُسے ایک گولی لاکر دیتا جس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ کس درد کیلئے فائدہ مند ہے، اور اُس گولی کو بھی اُسی نگہبان کے سامنے کھانا ہوتا تھااور اگر اتفاق سے اُسی وقت اور اُسی جگہ گولی نہیں کھاتا یا نگہبان نہیں دیکھتا تو اُسے شدت سے تنبیہ کی جاتی۔ متاسفانہ ایک دفعہ اس واقعہ نے ایک فرد کو بہت تکلیف پہنچائی۔

پانی کے حوالے سے بھی ہمیں بہت مشکلات کا سامنا تھا۔ پورے ۲۴ گھنٹوں میں تین سے چار بار ، نسبتاً ایک بڑے سے برتن میں کیمپ کے اندر پانی لایا جاتا جسے کیمپ کا کمانڈر تقسیم کرتا اور ہر گروپ کے کمانڈر کے حوالے کردیتا۔ ہر گروپ کے نصیب میں دو یا تین جگ پانی آتے جو تمام ضروریات، جیسے پینے، وضو کرنے، واش روم اور ٹوائلٹ کیلئے استعمال ہوتا۔ سات سے دس افراد کے گروپ کیلئے اتنی مقدار میں پانی، بہت ہی کم پانی تھا۔

صفائی ستھرائی کی چیزیں اور وسائل بہت کم اور نہ ہونے کی حد تک تھیں، اگر کسی چیز کی کمی تھی تو ہم اُسے اپنے ساتھ ہیڈکوارٹر سے لے آئے تھے؛ ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، پاؤڈر، صابن۔ سورج اور صاف ستھری کھلی ہوا کا اصلا کوئی خارجی وجود نہیں تھا۔ گندے اور صحت کیلئے مضر کمبل اور وہاں کا گندا ماحول، جوئیں پیدا ہونے اور اُن میں بہت زیادہ اضافے کا  باعث بن گیا تھا۔ اس طرح سے کہ ہماری ہر چیز میں جوئیں نظر آرہی ہوتی تھیں۔ وہ افراد جن کے ہاتھوں یا پیروں پر پلاستر چڑھا ہوا تھا پلاستر کے نیچے ہونے والے مسلسل خارج سے بہت زیادہ الجھن کا احساس کرتے تھے، بعد میں جب پلاستر ہٹایا گیا، اُس کے نیچے جوئیں بھری ہوئی تھی اور وہ جگہ خون چوسنے کی وجہ سے کالی پڑ گئی تھی۔

ہمارے معقول مطالبات  پر  نگہبانوں کا توجہ نہ کرنا اور  برے رویے سے پیش آناہمارے غصے میں اضافہ کر دیتا۔ لہذا کئی بار کیمپ کے کمانڈر سے درخواست کی کہ زندان کے مسئولین وہاں آئیں اور قریب سے حالات کا جائزہ لیں۔

بالآخر، ایک دن امنیتی ادارے جسے ہم عراق میں "استخبارات" کہتے تھے، کا ایک مسئول دو نگہبانوں کے ساتھ کیمپ میں داخل ہوا ۔ میں نے اُسے پہلے ہیڈکوارٹر  کے کمرے میں دیکھا ہوا تھا اور چونکہ اُس کے سر کے بال کم تھے اور ہمیں اُس کا نام بھی نہیں معلوم تھا اس لئے ہم اسے "گنجا" کہتے تھے۔

جناب دانشور، لوگوں کی نمائندگی اور گروپ کے سینئر کے عنوان سے آگے بڑھے اور اُن سے بات کی۔ جو جوابات گنجا دے رہا تھا وہ اصلاً ہمارے سوالوں سے مربوط نہیں تھے۔ کچھ منٹوں بعد، بغیر اس کے کہ کم سے کم ہمارے مطالبات کا جواب دیا ہوتا، اُس نے جانے کا ارادہ کرلیا۔ میں نے دیکھا وہ موجودہ مسائل پر توجہ کئے بغیر جانا چاہتا ہے، میں فوری طور پر غصے اور جلدی میں اُس گنجے اور جناب دانشور  کے پاس پہنچا اور کہا:

- آپ مجھے بات کرنے دیں۔

اور اجازت ملنے کا انتظار کئے بغیر ، میں نے مترجم سے کہا میں جو بھی کہہ رہا ہوں اس کا ترجمہ کرو۔ میں نے گنجے کی طرف رخ کرکے کہا:

- معاف کیجئے گا! مجھے نہیں پتہ آپ کون ہیں اور آپ کا کیا کام ہے، لیکن اس وقت میں آپ کو ایک مسئول کے عنوان سے پہچانتا ہوں، میں سوال کرتا ہوں کہ آپ کون سے قوانین کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا آپ اسلامی قوانین کو مانتے ہیں؟ اگر آپ اس کو مانتے ہیں تو اسیروں کو رکھنے کے طریقہ کو قرآن اور سنت سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیا حضرت علی (ع) نے اپنے افطار کے کھانے کو اسیر، فقیر اور پریشان حال کو نہیں دیا تھا؟ پس اگر آپ لوگ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، تو آپ کو اپنا  رویہ بدلنا چاہیے اور اگر آپ اسیروں کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین اور جنیوا قرار داد کو مانتے ہیں اورآپ بھی اُس پر دستخط کرنے والوں میں سے ایک تھے، اُس میں اسیروں کے بارے میں تمام چیزیں مشخص ہیں؛ چاہے وہ کھانا ہو اور اُس کے استعمال کا طریقہ، اسیر کا وقت، اُس کے حقوق، خطوط کا ردّ و بدل اور طبی و صفائی ستھرائی حوالے سے دیکھ بھال۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ اُس کے مطابق عمل کرتے ہیں، ایک انسان کی کم سے کم ضروریات زندگی کو اسیر کیلئے فراہم کریں کہ آپ نے اس پر بھی عمل نہیں کیا ہے، پس آپ لوگوں کے پاس ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ ، یہ ہے کہ آپ لوگ چاہتے ہیں ہم لوگوں کو چھپی ہوئی جھنگ کی طرح مورد آزار و اذیت قرار دیں۔ میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں ہم میں سے کوئی بھی آزار اور اذیت سے نہیں ڈرتا اور اس وقت میں اپنے تمام بھائیوں کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ ہم بغیر بھنوئیں چڑھائے حتی گولیاں کھانے کیلئے بھی تیار ہیں۔

جب میں نے اپنی باتیں کہہ ڈالی اور اس نے صحیح سے سن لیا تو  وہ جواب میں بولا:

- یہ باتیں جو تم کر رہے ہو، یہ اپنی جگہ درست۔ لیکن یہ وہی کام ہے جو ایرانی ہمارے اسیروں کے ساتھ کرتے ہیں اور ہم بھی یہاں اُن کے مقابلے میں اُن کی طرح انجام دیتے ہیں!

ہم سب کو پتہ تھا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میں نے کہا:

- مجھے یقین ہے کہ اس طرح نہیں ہے؛ لیکن چونکہ میں جو بھی دلیل دوں گا تم اُسے قبول نہیں کروگے، پھر بھی یہ فرض کرلیتے ہیں کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ پھر بھی جو میں نے قوانین آپ کو گنوائے ہیں ، کوئی بھی آپ کو اس رویے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ آپ کے اسیروں کے ساتھ ایران کا رویہ ایسا ہے جیسا کہ آپ دعویٰ کر رہے ہیں، پھر بھی آپ کا کام ایران سے زیادہ خراب تر ہے، چونکہ آپ انتقام کے بل بوتے پر یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی مرنے سے نہیں ڈرتا اور اُس کی دلیل، ہمارا جنگ میں شرکت کرنا ہے۔ میں اس وقت اعلان کرتا ہوں یا ہمارے ساتھ انسانی اور قانون کے مطابق سلوک کرو، یا ہم سے ہر ایک کو گولیوں سے چھلنی کردو۔

میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا کہ اُس کا کتنا دل چاہ رہا ہے اُن کی بھی آرزو تھی اور وہ اس پر خوش ہوکر بھروسہ کرسکتا تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا، اُس نے کہا:

- ہم قیدیوں کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کرتے ہیں، یہ ایران ہے جو ہماری قیدیوں کو محدود کرتا ہے اور اُن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اُنہیں جنگی محاذ پر پھانسی دیدی ہے، اُن کے کانوں میں سوراخ کرکے اُنہیں پیروں کے بل اُلٹا لٹکا دیا ہے! لیکن کیا آپ لوگوں نے اس طرح کے کسی رویہ کو دیکھا ہے؟ اس کے علاوہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے؟!

اب اور بحث کرنے کی ضرورت نہیں تھی، بعض ا فراد پیچھے سے میری قمیض کو کھینچ رہے تھے؛ یعنی پرسکون ہوجاؤ! میں نےکہا:

- ضرورت کے مطابق پانی، کھڑکیوں کو کھولنا، ڈاکٹر اور دوائی اور خاص طور سے زخمیوں کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی کا سامان، ہوا خوری اور ایسی چیزیں جو بہت ضروری اور بنیادی ہیں اور آپ کو خود مجھ سے بہتر پتہ ہے …

اُس نے اطراف میں نگاہ ڈالی اور کہا:

ٹھیک ہے! میں اس کا دستور دیتا ہوں۔

پھر اس کے بعد وہ نگہبانوں کے ساتھ ہال سے باہر نکل گیا۔

جاری ہے  …



 
صارفین کی تعداد: 127


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں